الطاف، ملالہ اور جماعت اسلامی: پاکستان کے کلٹ —– نبیلہ کامرانی

4
  • 119
    Shares

19 نومبر 1978 کی صبح عام صبحوں سے مختلف تھی، اس روز جم جونز نے اپنے 900 ساتھیوں سمیت خودکشی کی، خودکشی دو مراحل میں تھی پہلے والدین نے اپنے ہاتھوں سے بالٹیوں میں زہر پھلوں کے رس میں گھولا اور اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پلایا۔ دوسرا مرحلہ والدین کی خودکشی کا تھا، والدین نے ایک دوسرے کو زہر کے انجیکشن لگاے اور کچھ افراد مع جم جونز، فائرنگ سے مرے اس طرح نو سو افراد ایک روز میں پیپلز ٹیمپل میں موت کی نیند سو گئے۔ اس واقعے کو “Jonestown Massacre” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وہ تمام افراد جو اس روز مرے وہ جم جونز کے پیروکار تھے، جم جونز ایک مذہبی کلٹ (فرقہ ) کا بانی تھا، اس قسم کے کئ گروہ دنیا بھر میں موجود ہیں، یہ عام طور پر خفیہ ہوتے ہیں، ایسے بہت سے گروہ ابھی بھی پاکستان اور بھارت میں موجود ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ایک ساتھ کئی ایک کلٹ اپنے ایجنڈے پر کام کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور انکے پیروکار بھی جم جونز کے پیروکار کی طرح ہی پورے ایمان کے ساتھ اپنے اپنے کلٹ کے لیے جان نثار کرنے کو تیار ہے۔

جب سے میری تحریریں مختلف فورمز پہ شائع ہونا شروع ہوئیں اس وقت سے مجھے مختلف کلٹز کا سامنا ہوا، آج میں آپ سب پڑھنے والوں سے ان کلٹ (فرقہ) کے متعلق اپنا تجربہ شئیر کروں گی۔

جب میں اس دنیا میں آئی وہ وقت الطاف حسین کا تھا، اور میرے انتہائی بچپن میں ہی وہ پاکستان چھوڑ انگلینڈ کے مکین ھوچکے تھے، یعنی جب میں نے بھی انھیں پاکستان میں نہیں دیکھا تو آج میرے بھانجے کا انیس سالہ ہم جماعت میری ایک تحریر کے نیچے کمنٹ میں لکھتا ہے کہ “کچھ بھی کر لیں کہیں سے بغض الطاف تحریر میں آ ہی جاتا ہے۔” جبکہ وہ تحریر آسان اور مشکل شکار کے حوالے سے موجودہ جنسی ہراسانی کے موضوع پہ تھی۔ میرے نزدیک یہ بات حیرت انگیز تھی کہ جب ہماری جنریشن کو الطاف حسین یاد نہیں اوراب جبکہ ایم کیو ایم چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی، تو یہ کل کا بچہ کیسے یہ زبان بول سکتا ہے؟

دوسرے کلٹ کا تعلق ہمارے روشن خیال طبقے سے ہے۔ پاکستانی روشن خیال امریکہ کے معیار کے مطابق سچے پکے conservative  ہیں۔ یعنی یہ طبقہ مکالمے کا قائل ہی نہیں ہے، اور بزدل اس درجے کے ہیں کہ اپنے فیس بک پروفائل بھی جعلی استعمال کرتے ہیں، انکی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ فورم پہ بلاگ کے ذیل میں اپنی راۓ نہیں دیتے، بلکہ کوئی ایک روشن خیال تحریر کو اپنی وال پے لگاتا ہے اور پھر سارے روشن خیال ہوم گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں، اس کلٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ جو بھی مذہب و ملت کو گالی دے وہ انکا “جم جونز” بن جاتا ہے، آج کل یہ سب ملالہ یوسف زئی کو اپنی روحانی ماں مانتے ہیں، میری ایک تحریر کا مفہوم یہ تھا، کہ جب مذہب و ملت کو بیچنے والی کو نوبل پرائز مل سکتا ہے تو جسم فروش کو کیوں نہیں؟ اس تحریر پہ اس قدر فساد برپا ہوا کہ وہ فورم سے وہ تحریر ہٹادی گئی۔

حال ہی میں جماعت اسلامی کے حوالے سے میری ایک سادہ سی تحریر جو میرے ذاتی مشاہدے پہ مبنی تھی، شائع ہوئی۔ وہ محض ایک واقعہ تھا، میرے پاس ایسی کئی کہانیاں ہیں، لیکن کیا کہیں کہ آ ئینہ انکو دکھایا تو برا مان گئے۔ جواباً دو تحاریر بھی شائع ہوئیں، مسئلہ یہ ہے کہ محنت مزدوری کے لیے گھر سے نکلنے والی عورت مجبور ہے، کیوں کہ وہ دوہری چکی میں پس رہی ہوتی ہے، لیکن پیسے والے گھروں کی پیٹ بھری خواتین جو شوقیہ بچوں کو گھر پے چھوڑ کے جاتی ہیں یہ انکی ذاتی نوعیت کی تفریح کے علاؤہ کچھ بھی نہیں، اور اگر مذہبی نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو مجھے تو کوئی مثال نہیں ملتی کہ صحابیات گھر گھر دعوت تبلیغ کے لیے جایا کرتی تھیں؟

عزیز قارئین!!!

الطاف حسین، ملالہ، جماعتِ اسلامی اور بے شمار لوگوں کے حوالے سے اور بھی کئی سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سب موضوعات پہ بات کرنا گناہ کبیرہ ہیں، اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اگر ایک عمرانیات کا طالب علم کلٹ (فرقے) پے ریسرچ کرنے کی کوشش کرے تو کیا اسے کلٹ کے رکن زندہ چھوڑیں گے؟؟ یا انکا جم جونز مجھے زہر کا پیالہ پلا دے گا؟

یہ بھی پڑھیئے: جنسی ہراسانی،جامعہ کراچی کے اساتذہ اور شکاری میڈیا

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. یہ ایک الطاف کا کلٹ نہیں تو اور کیا ہے جو ایک عورت کی تحریر پر طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہے جو سننا ہی نہیں چاہتے کہ اصل میں وہ بغض ہے یا کسی فرد کی سوچ ہے جو اُس گروہ،جماعت یا کلٹ کے متعلق ہے جسکا اس معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے باقی عزیزان من دانش والوں کو چاہیے کہ وہ سہاگ رات کا منظر یا پھر جنسی تحریریں ہی شائع کریں تاکے ہماری سوشیلائز بہنیں اپنے کمنٹ لکھ کراپنے مہذب ہونے ثبوت پیش کرسکیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: