ماہرؔ القادری کے تنقیدی اسلوب پر ایک نظر —- مراد علوی

0
  • 41
    Shares

تنقید کی فنی تعریف سے قطع نظر اس کا سادہ مفہوم یہ ہےکہ تنقید دراصل تخلیق کی چھان پھٹک اور اس کے محاسن و معائب کے بیان کا نام ہے۔ ہر ناقد زیر نقد وجود کے متعلق اپنا مخصوص نظریہ رکھتا ہے اور اسی رجحان کے زیر اثر وہ نقد کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر نقاد فن پارے کو اپنے علم و دانش کی حدود اور ذوق و وجدان کی کسوٹی پر ہی پرکھتا ہے۔

تھوڑے سے غور و فکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا اور انسانی طبائع اتنے اچھوتے بھی نہیں ہیں۔ کچھ اشیاء اور حقائق بالکل بدیہی ہوتے ہیں اور کم و بیش معاشرے کے تمام افراد ان کے متعلق یکساں سوچ اور زاویۂ نظر رکھتے ہیں۔ پس یہی وہ مقام ہے جہاں ابلاغ وجود میں آتا ہے۔

اگرچہ تنقید ایک دقیق فن ہے اور ہر کہ و مہ کے بس کی بات نہیں ! مگر نقدِ شعر دقیق تر ہے۔ بالغ نظری اوروسعتِ مطالعہ کی صفاتِ کے ساتھ وجدانِ صحیح کی صفت عالیہ بھی درکار ہوتی ہے۔ جس ناقد کو وجدانِ صحیح اور ذوقِ لطیف میسر نہیں وہ شعر کی حقیقت کو چھو نہیں سکتا کجا یہ کہ شعر کے محاسن و معائب کو پرکھ سکے۔ یہاں پر فریڈرک شلیگل کا ایک اقتباس ضروری معلوم ہوتا ہے جسے شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں نقل کیا ہے، فریڈرک لکھتے ہیں:

شعر کی تنقید صرف شعر ہی کے طرز اور شعر ہی کی راہ سے ہوسکتی ہے۔ کسی فن کارانہ تخلیق پر تنقیدی فیصلے کے کوئی بھی حقوق نہیں اگر وہ خود بھی فن پارہ نہ ہو۔ “

گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ شعر پر نقد بھی خود ایک تخلیقی کارگزاری ہے۔ اور ایک نقاد کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ خود نہ صرف ایک اچھا شاعر ہو بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ ایک عمدہ اور اعلٰی پایہ کا نثرنگار بھی ہو کہ اس کا تنقیدی اسلوب ایک تخلیقی نوعیت کا حامل ہو۔ سامنے کی بات ہے کہ جب ہم علامہ شبلی، مولانا حالی اور حسین آزاد کی تنقیدات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک تخلیقی شان کا احساس ہوتا ہے اور ایک صاحب ذوق قاری کا وجدان کیف و انبساط محسوس کرتا ہے۔

ماہرؔ القادری ایک عمدہ شاعر اور نقاد تھے۔ افسوس کہ بعض وجوہات کی بنا پر ان کی شہرت صرف ایک شاعر ہونے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی اور آج بہت کم لوگ اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ انہوں نے تین ہزار سے زائد کتابوں پر تنقدی تبصرے تحریر کیے جو کہ ان کے زیر ادارت طبع ہونے والے رسالہ “فاران” میں تیس سال کے عرصے میں “ہماری نظر میں” کے زیر عنوان شائع ہوئے، جن میں بیسیوں تنقیدی تبصرے مختلف شعری مجموعوں پر لکھے گئے۔ یہاں پر اختصار کے ساتھ ماہرؔ القادری کے تنقیدی اسلوب کا جائزہ پیش کیا جاے گا اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ ان کا تنقیدیا تنقیدی اسلوب کے متعلق کیا نظریہ تھا اور خود ان کی تنقیدات کا کیا رنگ ہے؟

ماہرؔ القادری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

شعر کا معاملہ بڑا نازک ہے، بال سے باریک اور تلوار سے تیز جس طرح آنکھ میں ذرہ کا سوواں حصہ بھی پڑ جائے تو آدمی بےچین ہوجاتا ہے، اسی طرح سے ذوقِ شاعرانہ اور دیدۂ سخن سنج کو شعر میں غلطی کا ایک شوشہ بھی کھٹکتا ہے۔ “

مزید لکھتے ہیں کہ:

شعر و ادب میں جہاں کہیں پستی نظر آتی ہے، بھرتی کے اشعار کاواک قسم کی عبارت اور روزمرہ کا غلط استعمال، بےلطف کلام، الجھا ہوا اسلوب وہاں ایک باذوق ناقد سے ضبطِ جذبات ہو ہی نہیں سکتا، نثر و نظم جتنی گھٹیا ہوگی، اسی اعتبار سے طنز تندوتیز اور چھبتی ہوئی ہوگی بلکہ بعض اوقات “حقارت آمیز” بھی۔ نوجوان شعراء اور ادیب اس اسلوب کی نقالی سے نفرت کریں!”

ایک اور جگہ رقم طراز ہیں:

اگر لغزش زیادہ سنگین اور غلطی شدید تر ہو تو تنقید کے انداز میں شدت اور طنز بھی روا رکھی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ “محمل کی گرانی” کے ساتھ “نوا” کی تیزی بڑھتی جاتی ہے۔ “ناقد” کا قلم ہر جگہ مرہم ہی کا کام نہیں کرتا، اسے نشتر فصاد بھی بن جانا پڑتا ہے۔

ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ ماہرؔ القادری فن پارے پر نقد کے معاملہ میں نہایت حساس اور متشدد ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نقاد صرف سرسری تبصرہ سے کام نہ لے بلکہ دقتِ نظر کے ساتھ تخلیق کی گہرایوں کا ادراک کرے۔ محاسن و معائب کا تذکرہ بےلطف اسلوب میں نہ ہو۔ نقد کا اسلوب ایسا ہو کہ وہ قاری کو اکسائے اور تحریک پیدا کرے۔ اگر فن پارے میں لغزشیں پائی جائیں اور کوتاہیاں اور غلطیاں طبیعت کو بےمزہ کرنے والی ہوں تو نقاد کا فرض ہے کہ وہ اس طرز کو اختیار کرے جس سے قاری کے دل میں اس کوتاہی سے بعد پیدا ہو۔ گویا کہ تنقید تخلیقی ہونے کے ساتھ فن پارے کے محاسن و معائب کے متعلق علم و اطلاع بھی فراہم کرے۔

ذیل میں ہم ماہرؔ القادری کے تنقیدوں سے اقتباس نقل کرتے ہیں، ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ ان کا ذوق شعر نہایت بلند پایہ اور پاکیزہ ہے، وہ ایک کھرے اور سچے نقاد ہیں۔ ماہرؔ القادری کی تنقیدیں ان کی سخن فہمی، دقتِ نظر اور زبان و بیان کی باریکیوں اور نزاکتوں سے ان کی گہری واقفیت کا پتا دیتی ہیں۔ وہ تنقید اس اسلوب میں قلم بند کرتے ہیں کہ قاری تخلیقی لطف کے ساتھ ادب پارے کے متعلق گہری واقفیت بھی حاصل کرتا جاتا ہے نیز لغزشوں اور کوتاہیوں پر ان کا قلم بڑی سخت گرفت کرتا ہے اور اس معاملہ میں وہ کسی بڑے سے بڑے شاعر سے بھی مرعوب نہیں ہوتے۔

جوشؔ ملیح آبادی کی شاعری پر نقد:

اطراف و جہات کو مرتب کرلوں
رودادِ حیاقت کو مرتب کرلوں
اس سے پہلے کہ بھول جائے سب کچھ
یادوں کی برات کو مرتب کرلوں

اس رباعی کے پہلے مصرعے میں بڑا تکلف پایا جاتا ہے!جوشؔ صاحب غالباً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ “لاؤ! میں اپنے ماحول کو مرتب کرلوں” یہ یوں ہوسکتا تھا:

ذات اور صفات کو مرتب کرلوں
گلشنِ زیست کے ہر پھول کی رنگینی میں
دجلہء خونِ رگِ جاں ہے کوئی کیا جانے

پھول کی رنگینی میں خونِ رگِ جاں کے “دجلہ” کا پایا جانا کتنا بےجا اور خلافِ واقعہ مبالغہ ہے!پھر موجِ خوں یا دجلہء خون، رگِ جاں میں رواں دواں ہوسکتا ہے مگر “رنگینی” کے ساتھ اس کی نسبت عجیب سی لگتی ہے!

ہم غریبوں کی زمینوں پر بصد ناز و غرور
چل چکا ہے بارہا کتنے امیروں کا غرور

“زمینوں” نہیں “زمین” کہنا چاہیے تھا۔ “زمینوں” اس وقت درت ہوسکتا ہے جب “غریبوں” سے صرف کاشتکار مراد لیے جائیں، “زمینوں” کھیتی باڑی کی اصطلاح ہے۔

عین مفتوحوں کی لاشوں پر برائے جشنِ عام
ہوچکے ہیں نصب کتنے فتحمندوں کے خیام

شعر میں کوئی غلطی نہیں ہے مگر جوشؔ جیسے قادرالکلام شاعر سے ہرگز اس کی توقع نہ تھی کہ وہ “عین” کو شعر میں اس طرح صرف کریں گے۔ دیدہ ور جوہری لڑیاں پروتے وقت موتیوں کے تناسب کا لحاظ رکھتے ہیں، اس تناسب میں جہاں کہیں بھی کمی نظر آئے گی، دیکھنے والی نگاہ کھٹک محسوس کرے گی۔

یہ وہ صہبا ہے جو پی لیتی ہے خود کو
صرف دیوتا ہضم کرسکتے ہیں اس طوفان کو

مصرعہ ثانی میں “دیوتا” نے پورے شعر کے لطف کو غارت کردیا۔ “دیوتا” پڑھنے میں زبان کو جھٹکا لگتا ہے۔ وجدان ناگواری محسوس کرتا ہے اور سامعہ الگ متوحش ہوتا ہے۔

علامہ اقبال کے اشعار پر :

تجسس کی راہیں بدلتی ہوئی
دمادم نگاہیں بدلتی ہوئی

“نگاہیں بدلنا” بےپروائی اور بےمروتی برتنے اور مخالف ہوجانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ “خودی” کے ساتھ “نگاہیں بدلنے” کا کیا جوڑ!

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزاد

“فریاد” پر کون داد دیتا ہے! اس شعر میں شعریت اتنی نہیں ہے جتنی اس غزل کے دوسرے شعروں میں ہے!

یہ مشتِ خاک، یہ صرصر یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذتِ ایجاد

کاش! لذت کی جگہ “صنعت” ہوتا۔

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی

مصرعہ ثانی میں “ذم” کی جھلک ملتی ہے! یہ مصرعہ سست بھی ہے۔

مشامِ تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوے تاتاری

“ظن” کے “ن” پر تشدید نہیں اور “تخمین” کے “ن” کا اعلان نہیں ہوتا، اس نے مصرعہ کی نغمگی اور روانی کو نقصان پہنچایا۔ علامہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آہوئے تاتاری (یعنی غزالِ مقصد و مراد) جدوجہد، دوڑ دھوپ اور ہاتھ پیر ہلائے بغیر باتوں سے اور خیالی پلاؤ پکانے سے ہاتھ نہیں آتا۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے انہوں نے “ظن و تخمیں” کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ۔ جو محلِ نظر ہیں!

فیض احمد فیضؔ کے اشعار پر نقد کی کچھ جھلکیاں:

ان(فیض احمد فیضؔ) کی مشہور نظم ہے:

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

یہ زبان و روزمرہ نہیں ہے، یوں کوئی نہیں بولتا کہ فلاں شخص، فلاں شحص سےمحبت مانگ رہا ہے شاعر کہنا یہ چاہتا ہے اور کہنا بھی چاہئے تھا۔ ۔ ۔ کہ میرے محبوب مجھ سے پہلی سی محبت کی امید نہ رکھ، یا اگلے دوستانہ روابط کا تقاضا نہ کر!

اس نظم کا سب سےاچھا شعر یہ ہے:

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

اور اس نظم کا اختتام جاذبِ توجہ ہے! باقی پوری کی پوری نظم پست اور سطحی ہے، اس کا پہلا بند ہے:

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
ترا غم ہے، تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے

دوسرا مصرعہ یوں ہونا چاہئے تھا:

ترا غم ہے تو غمِ دہر کی پروا کیا ہے

یہ مصرعہ:

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

بھلا کسی مشاق شاعر کو زیب دیتا ہے!پھر اس میں “دنیا” کا الف کس بری طرح دب رہا ہے۔

یوں تو سب کہتے ہیں کہ فلاں کام ہوجانے سے تقدیر جاگ اٹھی، قسمت کھل گئی، نصیبہ نے یاوری کی مگر اس طرح کوئی نہیں بولتا کہ محبوب کے مل جانے یا کسی مرحلہ میں عاشق کے کامیاب ہوجانے سے تقدیر سرنگوں ہوگئی اور مقدر شرمندہ ہوگیا! پھر ٹیپ کا یہ مصرعہ۔ ۔ ۔

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے

شاعری کے ساتھ ایک طرح کا مذاق ہے۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

طلسم کا “ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوانا” یہ آخر کیا اندازِ بیان اور اسلوبِ اظہار ہے پھر اطلس و کمخواب تو کپڑوں کے نام ہیں اور کوئی چیز تاروں اور دھاگوں سے بنی جاتی ہے، کپڑوں سے نہیں بنی جاتی!

“کوچہ و بازار میں جسم بکتے ہوئے” سے نہ جانے شاعر کی کیا مراد ہے، بازار میں جسم بکنے کا مطلب تو عصمت فروشی ہوتی ہےمگر جن عورتوں کے جسم خاک میں لتھڑے ہوئے اور خون میں نہائے ہوئے ہوں، ان کا کوئی ہوس پرست مول تول نہیں کرسکتا! اگر اس سے مزدور مراد ہیں تو یہ منظر انتہائی مبالغہ آمیز ہے، ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ مزدور خاک و خون میں لتھڑے اور نہائے ہوئے سرمایہ داروں کے جبر سے کام کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: