ایسا کہاں سے لاؤں (راجیو چکرورتی کےلیے ایک اظہاریہ) : عزیز ابن الحسن

0
  • 162
    Shares

پچھلے دنوں ایک شذرے میں میں نے راجیو چکروتی کے بارے میں ایک اشارہ کیا تھا۔ فیسبک کے میرے کچھ احباب تو جناب چکرورتی صاحب سے بخوبی آگاہ ہیں مگر بہت سے شاید ان سے واقف نہیں انکے لیے چند تاثراتی کلمات لکھے جاتے ہیں۔ تاثراتی اسلیے کہ میری ان سے زیادہ واقفیت نہیں ہے۔ پہلے پہل ان سے آگاہی سال بھر پہلے ڈاکٹر خورشید عبداللہ کے فیسبک شیئرنگ پر ان کے تبصروں سے ہوئی تھی۔

جناب چکرورتی کا ذکرکیا جانا متعدد وجوہ کی بنا پر ضروری ہے۔ ہمارے ہاں شعر و ادب سے عمومی واقفیت کی تو کمی نہیں اور شعرا کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے موجود ہے مگر ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بنا پر عرض کرتا ہوں کہ یونی ورسٹیوں میں اردو ادب کے طلبا ہی میں نہیں بلکہ بعض مشاعرہ باز شاعروں تک میں اپنے کلاسیکی شعری ورثے سے افسوسناک لاعلمی اور بے رغبتی اور کسی حد تک اس کی بےتوقیری کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہ تو ہم اردو والوں کا حال ہے دیگر زبانوں کی ادبیات میں بھی جدید ادبی تھیوریز کے زیرِ اثر (یا کسی بھی سبب سے) اپنے کلاسیکی ورثے (فارسی و اردو) سے نہ صرف لاتعلقی بلکہ قدرے تحقیر کا رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔ کچھ استثنائی صورتیں اگر کہیں موجود بھی ہیں تب بھی اپنی کلاسیکی شعریات سے ایسی طبعی مناسبت کہ جسمیں اس سرمائے کا ذوق، مطالعہ اور احترام کمال درجے کا ہو بہرحال بہت کم ہے۔ ہندوستان میں اردو والوں کی نوجوان نسل کا اپنے کلاسیکی سرمائے کی طرف عمومی رویہ کیا ہے میں اس سے قطعی لاعلم ہوں لیکن اتنا تو عمومی فضا سے بھی پتا چلتا ہے کہ ہندو اصحاب علم و ادب میں اردو زبان اور اسکے ادب سے ذوقی تو کیا علمی تعلق بھی اب بوجوہ تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اس پس منظر میں جناب راجیو چکرورتی کا ذکر بہت برمحل اور حیرت افزا ہوگا۔

ادھر اُدھر سے دیکھی سنی اور چنی معلومات کیمطابق چکرورتی صاحب جنوبی ہندوستان، شاید مہاراشٹر، کے رہنے والے ہیں انکی مادری زبان تیلگو ہے اور پیشے کے اعتبار سے انجنیئر ہیں۔ نہ معلوم کب سے، مگر آجکل وہ ٹیکساس، امریکہ میں مقیم ہیں۔ اس میں بظاہر کوئی بات بھی انہونی یا عجیب نہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ راجیو صاحب نے نہایت کم عرصے میں، اور اپنی ذاتی لگن اور شوق سے نہ صرف اردو بلکہ فارسی زبان الف ب پ کی سطح سے سیکھی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اردو اور فارسی کی جدید و قدیم شاعری میں اس حد تک دستگاه بہم پہنچائی ہے کہ ہند+ایرانی+اسلامی شعری روایت کے خاصے رمز شناس بھی ہوگئے ہیں اور خود اردو میں کلاسیکی وضع کی شاعری بھی کرنے لگے ہیں۔ ان کی غزل میں استادانہ رنگ محض قدامت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ وہ اردو فارسی لفظیات کے تخلیقی برتاؤ اور فنی مہارت کے ساتھ کلاسیکی رنگ میں بالکل مختلف انداز کی شاعری کرتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان پر گرفت، قوافی کے استعمال کا انداز اور مضمون باندھنے کا ڈھنگ ایک ایسی ریاضت کا پتہ دیتا ہے کہ گویا انہوں نے زمانی قلت کو تپسیا اور گیان کی آرادھنا سے پورا کیا ہے۔

غزلیہ شاعری کے ساتھ ساتھ بلکہ اسی ہیئت میں نعت بھی کہتے ہیں اور اسمیں بھی وہ سبھاؤ ہے کہ الفاظ کے دروبست اور بند شہائے تراکیب میں مضمون آرائی کے ساتھ ساتھ معنئ بلند میں ادب و احتیاط اور تعظیم و آداب کے جملہ تہذیبی قرینوں کا بھی پورا خیال رکھتےہیں۔ انکی نعت گوئی میں محض عقیدت کا ہی اظہار نہیں بلکہ فنی کمال، دل گدازی اور ذوق کی سیرابی کا بھی پورا سامان ہوتا ہے۔ ان کی ایک نعت نے جناب احمد جاوید کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے نعتیہ شاعری پر گفتگو کے ایک سلسلے میں اس نعت کے شعری محاسن اور حفظِ ادب کے قرینوں پر پورا ایک پروگرام کیا ہے۔

راجیو صاحب علمِ موسیقی، ہندستانی و کرناٹکی، پر بھی بڑی نظر رکھتے ہیں اور مزید درحیرت انداخت انداز کی بات یہ ہے کہ اردو و فارسی عروض اور فنی باریکیوں پر بھی قبلہ کو اچھی خاصی دستگاه ہے۔ جب اپنا اردو کلام سناتے ہیں تو انکے ادائگئ تلفظ کا وضعدارانہ انداز نہ صرف انہیں سننے، بلکہ انہیں پڑھتے دیکھنے کے پر بھی مائل کرتا ہے۔ یو ٹیوب پر انکی شاعری اچھی خاصی دستیاب ہے۔ ہمارے چکرورتی بھائی میں اگلا گُن ان کا حد کمال کو پہنچا ہوا عجز اور بلندیوں کو چھوتا انکسار ہے۔ جب بھی بات کرتے ہیں یا فیسبک پہ کوئ تبصرہ ارشاد کرتے ہیں تو حرف حرف سے شائستگی چھلکتی اور ایک ایک ادا میں خوش وضعی محسوس ہوتی ہے۔

فارسی شاعری سے انکی رغبت کا یہ عالم ہے کہ آئے روز فیسبک پر فارسی اساتذہ کے کلام کا بہترین انتخاب، انٹرنیٹ پر دستیاب اسکے مختلف ورژن مع انگریزی ترجمے کے پیش کیا کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان اشعار سے مناسبت رکھنے والے فنکار اساتذہ کے دلکش مصورانہ مرقعے بھی آپ کو انہی کے صفحے پر نظر آئیں گے۔ تس پہ متعلقہ غزل کی ایرانی و فارسی گائکی، گلوکارانہ(vocal) رنگت میں بھی، اور سازینہ ہائے چنگ و رباب کی سنگت میں بھی، ہمارے محترم چکروتی صاحب ہی پیش کر رہے ہوتے ہیں۔

مختصر یہ کہ جنابِ راجیو چکرورتی کی صورت میں کتاب چہرے کو ایک نہایت حسین تہذیبی چہرہ دستیاب ہے جس کے طفیل یہاں ہمیں کم و بیش روزانہ ہی فارسی شاعری کا بہترین انتخاب مع اوراقِ مصوِّر و اصواتِ شیریں دیکھنے سننے کو مل رہا ہوتا ہے۔

وہ لوگ جو فیسبک پہ راجیو جی کیساتھ جڑے ہوئے ہیں انکی مہیا کردہ چیزیں دیکھ پڑھ کر خوش وقت ہوتے ہیں۔ اور میں تو اس اعتبار سے بھی خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں کہ میرے فارسی شعر و زبان کے مٹتے بجھتے ذوق کیلیے راجیو صاحب کی پیش کردہ چیزیں ایک ذوقی سیرابی اور شوقی مہمیز کا کام کیا کرتی ہیں۔

میری خواہش تھی کہ اپنے فیسبک قارئین کیلیے چکرورتی صاحب کی شاعری کا کچھ نمونہ بھی پیش کروں۔ بہت پہلے کی طرح میں نے کل پھر ان سے گزارش کی تھی کہ اپنا کچھ کلام عنایت کریں مگر بقول ڈاکٹر خورشید عبداللہ “محترم راجیو چکرورتی جس نوع کی کسر نفسی کا شکار ہیں اس میں وہ اپنا کلام عطا فرمایں یہ ممکن کہاں” لہٰذا کچھ ڈاکٹر صاحب کی عطا اور کچھ یوٹیوب سے ان کے جستہ جستہ غزلیہ اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: امجد اسلام امجد کی ایک نظم: احمد جاوید ۔۔۔ حصہ اول

 

سب سے پہلے ایک حمدیہ غزل کے کچھ اشعار، پھر کچھ متفرق غزلوں کے چنیدہ اشعار پیش کیے جائیں گے۔

روشن کچھ اس طرح یہ دلِ داغدار ہو
تذکیرِ شان و سطوتِ پروردگار ہو

جس رہ پہ میں چلوں وہ گزرگاہِ یار ہو
ہر مظہر اس کے حسن کا آئینہ دار ہو

یوں زندگی دوام میری پُربہار ہو
میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہو

جس دل کا عشقِ یار پہ دارومدار ہو
نام اسکا کیوں نہ پھر بھلا شہرِ نگار ہو

شوقِ وصال و خواہشِ تسکینِ بندگی
مطلق نہ ان سے دل کبھی غفلت شعار ہو

اس مے کا جانے کب سے ہے شدت سے انتظار
عقبیٰ کا جس میں کیف و سرور و خمار ہو
فکرِ قبولیت کی ضرورت ہہ کس لئے
دست دعا کو چاہیے سرگرمِ کا رہو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
داغِ فراق یار ہے وجہِ قلق ہنوز
لیتا ہوں درسِ عشق سے غم کا سبق ہنوز

ہر شب شب ملال ہر اک صبح صبحِ یاس
یعنی سکوں کا دل ہے کہاں مستحق ہنوز

اس کا خیال، اس کا تصور، اسی کی فکر
پُر یوں بیاضِ دل ہے ورق در ورق ہنوز

وہ ساتھ تھا تو ساتھ رہا موسم بہار
وہ کیا گیا کہ رنگِ گلستاں ہے فق ہنوز
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہر آن نیا زخم نئی سینہ زنی ہے
اے قہرِ غمِ ہجر میری جاں پہ بنی ہے

اندوہ و محن رنج و الم تہمت و بہتان
کیا دل کی تجارت میں یہی آمدنی ہے

اک وصل کی حسرت ہے سو وہ دل میں ہے پنہاں
اُس چیز کا کیا ذکر کہ جو ناشدنی ہے

پُژمرد شجر، زرد کلی، شاخ بریدہ
گلشن میں عجب منظرِ بے پیرہنی ہے

اس شہر کا ساکن ہوں جہاں حسب قوانین
جو طالب حق ہے وہی گردن زدنی ہے

میں شیفتۂ خاکِ رہِ قریۂ جاناں
دنیا کو گماں یہ کہ محب الوطنی ہے

کس طرح اثر لائیے ہر شعر میں ناداں
یہ کارِ سخن سلسلۂ کوہ کنی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رہزنِ عقل ہیں جنابِ شیخ
دشمنِ دل ہیں مولوی صاحب
روز و شب ان سے کیا گلہ کیجے
اس سے بہتر ہے خامشی صاحب
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ سَودا، کیا خبر تھی اِس طرَح کرتا مُجھے مجنُوں
بناتا قلب کو دوزخ، بہاتا چشم سے جیحُوں

نہ پُوچھو قتل گاہِ جِسم میں اُس پَل کا سنّاٹا
تمنّائیں ہُوئیں جِس دَم غریقِ قُلزُمِ پُر خُوں

سمجھ ہی میں نہیں آتا کہاں ہے اِبتداء اِس کی
بیاں کیا کیجیئے افسانۂ کربِ دلِ محزُوں

بِناۓ زیست گر غم ہے، تو پِھر غم سے مَفَرّ کیسا
مگر اِک مرگ ہے، جو ہے دَواۓ دردِ روز افزُوں

دَواتِ عِشق و قِرطاسِ خلُوص و کِلکِ حقّ گوئی
بَہَم گر ہوں، تو ہوتا ہے ہر اِک حرفِ سُخن موزُوں

وہی اِک فرد ہے تا حال میرے غم سے ناواقِف
ہے جِس پَر ہَر غزل میری، ہے جِس پَر میرا ہَر مضمُوں

عجب کیا، زندگی گر مُستقِل بے رنگ ہی ٹھہری
کہاں بختِ سِیہ میرا، کہاں وہ عارضِ گُلگُوں

نہ ہوتا درد تو کِس شَے کو کہتا عُمر کا حاصِل
یہی بس اِک مزار خاک، زیرِ گُنبدِ گردُوں

گداۓ کُوۓ خیراتِ مُحبّت کیا بھَلا کرتا
بہ جُز وِردِ صِفاتِ یار و تحقیرِ جہانِ دُوں

شرابِ عِشق سے پُر ساغرِ دِل ہو، تو بھاتا ہے
نہ شان و شَوکتِ قیصرؔ، نہ مال و دولتِ قاروںؔ

خُلاصہ یہ کہ ہُوں وہ رِند جِس کے واسطے، ناداںؔ
ہے ذِکر دوست ہی نشّہ، ہے فِکرِ یار ہی افیُوں

{نذرِ مولاناؔ جلال‌الدین محمد بلخى رُوم

چه دانستم که این سودا مرا زین سان کند مجنون
دلم را دوزخی سازد دو چشمم را کند جیحون}

درج بالا غزلیں اور انکے اشعار میرا انتخاب ہیں جبکہ آخری غزل ڈاکٹر خورشید عبداللہ صاحب سے مجھے ملی ہے۔ مجھے یہ کاوش اس لیے کرنی پڑی کہ جناب چکرورتی صاحب باوجود بار بار کی عرض گزاری کے کسی طرح بھی اپنے اشعار دینے پر راضی نہ ہوئے۔ بس انکا یہی کہنا رہا کہ

“ذاتی تجربات اور ناپختہ خیالات کی سرِعام نمائش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا”

میں نے بھی پھر مزید اصرار مناسب نہ سمجھا اور خود ہی کچھ انتخاب کی کچھ کدوکاوش کی۔ اب ان تاثراتی کلمات پر ان کا ردِعمل نہ جانے کیا ہوگا۔ زیادہ ہوا تو کچھ ڈانٹ وانٹ لیں گے۔

باآنکہ خوش آید از تو، اے یار، جفا

ان چیدہ اشعار سے قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چکرورتی صاحب نے اساتذہ کا رنگِ سخن آزمانے میں کتنی خلاقی کا ثبوت دیا ہے۔ اساتذہ کی زمینوں میں غزل کہنا اور انکی سی مضمون آرائ کرنا جہاں ایک طرف ان سے اظہارِ عقیدت ہوتا ہے وہاں اپنی طبیعت کو کچھ مخصوص سانچوں سے آزاد کر کے قدرتِ کلام حاصل کرنے کی ایک ریاضت بھی ہوتی ہے۔ ہماری کلاسیکی روایت میں مصرعۂ طرح پر غزلیں کہنے کا مقصد مزاج اور طبیعت کو کچھ بنی بنائ پابند ساختوں سے ہٹا کر اسے آزاد تخلیقی عمل کے قابل بنانا ہوتا تھا تاکہ شاعر کچھ مخصوص لفظیات اور تراکیب کے دروبست میں اٹک کر دہراؤ کا زندانی نہ ہوجائے بلکہ زبان و بیان اور اظہار پر اسکی گرفت اتنی مکمل ہو کہ جب چاہے اور جیسے چاہے زبان سے تخلیقی “کھیل” کھیل سکے۔ راجیو صاحب کے رنگِ سخن کی اس جہت سے ہمیں یہ سب بھی سمجھنا چاہیے اور ایک غیر زبان اور بالکل اجنبی تہذیبی پس منظر رکھنے کے باوجود فارسی و اردو شعری روایت کے انجذاب کی جس طرح مہم انہوں نے سر کر دکھائی ہے اس میں بھی ہم اردو والوں کے سیکھنے اور تخلیقی تحریک پانے کا بہت سامان ہے۔

آخر میں ختمِ کلام کے طور پر چکرورتی صاحب کے چند نعتیہ اشعار

ہوا ہے افشا یہ راز مجھ پر سبب ہے کیا دل کی بے کلی کا
نہ جانے کس دن ملے گا موقع جوار رحمت میں حاضری کا

غرور ہے جس کو مال و زر پر و جس کو ہے زعم خسروی کا
کبھی تو ان کی گلی میں جاۓ مزہ تو چکھے گداگری کا

صبا سے کوئی تو آج کہہ دے نویدِ شہرِ جمیل لا دے
وگرنہ گلزارِ دل میں اب تو ہر ایک گل کا ہے رنگ پھیکا۔

حضور والا کی شانِ اقدس کا تذکرہ گر نہیں تو ناداں
نہ گفتگو کا ہے کوئی مطلب نہ کوئی مقصد ہے شاعری کا

آخر میں مکرر عرض کے کہ جن احباب کو فارسی شاعری کا ذوق ہو اور وہ فیس بک پر اساتذہ کے اعلا درجے کے کلام سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہوں انہیں جناب ڈاکٹر خورشید عبداللہ اور ان سے بھی زیادہ محترم راجیو چکرورتی کے کتابی چہرے کو اپنا قبلہ بنانا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: