چودھری کا چاند ——- شفیق زادہ احمد کی تبسم ریز تحریر

1
  • 68
    Shares

عید سے ایک دن پہلے ہر وہ شخص جسے اپنی نظر کے بارے میں ’چھکّابٹا چھکّا ‘ یعنی سکس بائی سکس کا گمان بھی ہوتا ’وہ چاند تاڑی ‘ کے لئے پریشان پھرا کرتا۔ اب تو حال یہ ہو چلا ہے کہ نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز کی دوڑ کی طرح ملّا لوگ بھی زچّہ وارڈ کی فیملی نرس کی مانند نومولود چاند کی ’خوش خبری‘ سب سے پہلے دینے کے چکر میں عوام کا روزہ اور اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ ’رویت ہلال‘ کی صدیوں پرانی ایک روایت کو جس طرح مذہبی ’چاند ماری‘ (بندوق بازی) میں بدل دیا گیا ہے وہ اپنے تئیں عمرانیات کے طالبعلموں کے لئے ایک الگ دل چسپی ہو سکتی ہے۔ اب جن اقوام کے پاس تیل ہے وہ تیل کی دھار دکھا کر دیر سے روز ے شروع کرنے کا کفارہ ماہ صیام عجلت میں ختم کرنے کی کوشش سے کیا کرتے۔ چندا ماموں بھی اوپر سے نیچے دیکھ کر یہی کہتے ہوں گے ’مسلمانو! لگاؤ تکّا‘۔ بیچارے مسلمان اپنی اپنی آسانی اور بشری کمزوری کے مطابق کسی بھی مناسب بندوقی رویت ’حلال‘ کمیٹی کا کہا مان لیتے۔ ویسے ’بندوقی‘ کا عربی مطلب بہت ہی آئیں بائیں شائیں ہے، خلیج میں رہنے والے قاری اسے استعمال نہ کریں، تو افاقہ ہو گا، اگر نہیں بھی ہوا تو کم از کم نقصان سے بچے رہیں گے۔ ملک عزیز میں نئے صوبے نہ بننے کی ایک بڑی وجہ ’رویت حلال کمیٹیاں‘ بھی ہیں کہ کہیں پورا شوّال عیدیں بقرعیدیں مناتے ہی نہ گزر جائے۔

‘خیر یہ سب باتیں گھاتیں تو لگی رہیں گے، بات یہ ہے کہ اپنے چودھری گلفام میاں کو قبل از عید کئی طرح کی پریشانیاں لاحق تھے جن میں عید کے جوڑے، جوتے، جرابوں کے ساتھ بیگم کی جوئلری کی تیاریاں تو صرف سامنے کی چیزیں تھیں۔ جو مسائل نظر سے اوجھل تھے اس میں دور آسمانوں میں چاند تاکنا بھی شامل تھا۔ لڑکپن اور ابتدائی جوانی میں چاند رات کو چاند تاکنا اور چاند جیسے حسین چہرے تاڑنا بھی ایک طرح سے بعد از رمضان (غیر شرعی و شرّی) رسم تھی۔ جب تک ثُریّا بیگم سے ان کی شادی نہ ہوئی تھی تومحلے کی مہیلاؤں کو عید کارڈ بھیج کر شعروں کے ذریعے چھت پر آنے کا کہا کرتے اور ان پر نظر پڑنے کو ہی رویت ہلال سمجھتے۔ شاید ہی کوئی محلّاتی دوشیزہ رہی ہو جس کو چاند جان کر خوب اچھی طرح معائنہ کی کسوٹی سے گذارا نہ گیا ہو کہ ’ ناسا‘ کے اپالو خلائی جہازوں نے کیا چاند کو ایکسپلور کیا ہوگا۔ جب ہر کس و ناکس سر اُٹھائے آنکھوں پر ہاتھوں کا چھجّا بنائے نیم ملگجے میں چاند دیکھنے میں مصروف ہوتا تو یہ حضرت اپنے دوستوں کی ٹولی کے ساتھ زمین پر اتری اپسرائیں دیکھا کیا کرتے۔ لیکن شادی بندھن کے بندھتے ہی رویتِ چاند کی یہ رسم بھی ختم ہو گئی کہ بیگم ثُریّا نے اندھیرا پھیلنے کے بعد گھر سے باہر رہنے پر پابندی لگادی تھی، فرماتی تھیں کہ جِن چڑھ جاتے ہیں۔ ادھرچودھری سوچا کرتے چڑیل سے جن پھر بھی بہتر ہی ہوگا۔ ان کا ن شبھ نام بیگم کی مرتب کردہ ایگزٹ کنٹرول اور بلیک لسٹ میں مستقلاً شامل تھا۔ بنا داخلی اجازت گھر سے باہر اور اگر چلے گئے تو اندر نہ آسکتے تھے۔ پورا چاند دیکھے پورے دس برس ہو چلے تھے۔ اور تو اور وہ جو ہر مہینے کے شروع میں اَبرو کی ماند باریک سا ہوتا ہے، وہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ اب تو جورو کی صورت میں چلتا پھرتا میٹیور (جِرمِ فلکی) اور بہ صورت نظام شمشی نو بچّے گھر میں ہی موجود تھے جو ان کو دن میں بھی تارے دکھا کر دم دار ستارہ بنانے پر قادر تھے۔ یہ وہ چاند ہر گز نہ تھا جس میں کوئی دادی اماں چرخہ کاتا کرتی بلکہ اس گھریلو چاند تو نے ان کے پر تک کاٹ کر رکھ لئے تھے۔ اب وہ صرف گھر کی بند فضا میں ہی بیگم کے بصری ریڈار کے سامنے قابل پرواز تھے (اُسی طرح جیسے دھاگے میں بندھا پرندہ جسے بچے ایک دائرے میں گھما کر اڑایا کرتے ہیں، نہیں سمجھے؟ اچھا تو کبھی مٹھو پال کر دیکھیں، اگر حالت زار (اپنی) دیکھ کر آنکھ نہ بھر آئ تو ہمارا نام مٹھو سے بدل کر کچھ اور رکھ دیجئے گا)۔

اب جب کہ رمضان کے مقدس مہینے سے لمحات دھیرے دھیرے پھسل کر گذر گئے تو سالانہ یک ماہی شرافت کا ملمع بھی گرمی میں پگھلتے میک اپ کی مانند اترنے کو بے تاب تھا۔ چاند تاڑی کے لیئے ہُمکنا اسی بے قراری کا نقطہ آغاز تھا۔
تازہ ہوا خوری کے بہانے چپ چاپ کھسک کر چودھری چھت پر جا پہنچے تھے۔ اسّی اور سو گز کے گھروں کی چھتیں یوں ملی ہوتی ہیں جیسے رشوت خور پولس افسر اور مدّعی و ملزم کے وکلا، پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس کی جیب میں ہے یا کس کی جیب میں کون کون ہے۔ چہار طرف سے کبھی دھیمی کبھی بلند آواز سے زنانہ و مردانہ ’یہ رہا وہ رہا ‘ کی صدائیں کانوں میں پڑنے لگیں۔ انہوں نے ایک طائرانہ نظر دائیں سے لے کر بائیں تک دہرا کر دور تلک کی خبر لی۔ چھتیں لہراتے آنچلوں اور نمازی ٹوپیوں سے بھر ہوئی تھیں۔ ہائے کیا زمانہ تھا! انہیں کالج یونیورسٹی کے دن یاد آگئے جب چاند راتیں طارق روڈ کی گلیوں میں مٹر گشتی اور گاہے گاہے گشتی پولس کے ہاتھوں مرغا بن کر بانگ دینے کے باوجود صبح تک بس یہی کیا کرتے یعنی عاشقانہ کمال:
؏ تیرے کوچے ہربہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا

ان کے گھر کے عین مقابل دوسری منزل پر کچھ نئے لوگ آ بسے تھے۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک کہ ایک پری جمال سرپرقرینے سے دوپٹہ جمائے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہوئی منڈیر پر پہنچ کر رکی اور پھر وہی یعنی ہاتھوں کا چھجّا بنا کر رویت ہلال کی کوشش۔ اس منظر سے کشید خود فراموشی کے اس لمحے میں وہ تمام چاند یادوں کے سامنے سے گذرنے لگے جنہوں دور سے دیکھا کیے، کبھی ہنس کے، کبھی ہائے اور کبھی آہ کیے۔ وہ اس منظر میں اتنے محو تھے کہ زمان و مقام بھول گئے۔ ان کے زہن سے نکل گیا کہ بیگم نے چاند رات کو بھرپور نیکی کمانے کے لیے’ کوڑی پھیرا‘ کاموں کی ایک لسٹ پہلے ہی پتلون کی پچھلی جیب میں بتّی بنا کر ٹھونس دی تھی جس کی چبھن بھی اب محسوس ہونا بند ہو گئ تھی۔ وہ چاند راتری کاموں کی فہرست بھی فراموش کر بیٹھے تھے اور ثریّا بیگم کو بھی۔ کسی معمول کی طرح ان کے قدم چاند دِکھتی چنداکو قریب سے دیکھنے منڈیر کی جانب بڑھنے لگے کہ اچانک ثریّا بیگم بِلّی چال چلتی ہوئی ان کے نزدیک آئی اور اسن سےایک قدم کے فاصلے پررک کر سوال کیا ’ کدھر چلے‘؟ اس کی آواز سنتے ہی ان کی اپنی آواز حلق میں ہی کہیں پھنس گئ۔ پھنس گئے استاد! لگتا ہے چوری پکڑی گئی۔ ہلال دیکھنے کے چکر میں حلال ہونے کا وقت آگیا ہے۔ چاند رات میں اچھی خاصی ہائی کلاس بے عزتی ہونے کا ڈر بڑھنے لگا۔ اس کی طرف مڑ کر دیکھتے ہوئے یہ دل میں سوچنے لگے’ابے یار بیوی کو اتنا بھی گوگل نہ ہونا چاہئے کہ چہرہ تو چہرہ سوچ بھی پڑھ لے‘۔ ثریّا بیگم نے ایک بار پھر سوال کیا مگر کوئی لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ صرف سوالیہ ٹھوڑی ہلا کر۔ اس بارانہوں نے گھگیا کر بات بنائی ’ٹنکی کی چھت پر جا رہا ہوں، شاید چاند دِکھ جائے‘۔ ثریّابیگم نے ان کی طرف غور سے دیکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے سر پر منڈھی ہوئی کروشیا سے بنی ٹوپی کھسک کر سر سے اُتر جائیگی اور پرایا چاند دیکھنے کے چکر میں چندیا پر چپکے چار بال بھی ’چیل اُڑی کوّا اُڑا ‘ ہونے والے ہیں۔ شادی کے اتنے برسوں بعد بھی ثریّا بیگم کے اس شکّی انداز سے دیکھنے پر ان کو آزار بند کسنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی۔ پاجامہ ڈھیلا ٹوپی ٹائٹ والا معاملہ اکثر ہوجاتا، مگر نہ یہ بدلے نہ وہ بدلی۔

دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈالے چپ کھڑے اپناسچ دوسرے کا جھوٹ ڈھونڈ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ثریّا کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے، انکھ میں کم خوابی کی بنا پر سرخی اور اعضاء مضمحل سے۔انہیں یاد آنے لگا کہ صبح 3 بجے سے رات گیارہ بجے تک کا بیشتر حصہ گھر داری، گرہستی، سحری، افطار اور مہمان نوازی میں صرف ہو رہا تھا۔ پورا یک مہینہ ہو چلا تھا، اک مہینہ؟ نہیں پورا ایک سال، سال؟ نہیں بلکہ پورے دس سال صبح سے شام تک کم و بیش یہی معمول رہا ہے۔ انہیں جھرجھری آگئی، اگر مجھے اس طرح کولہو کے بیل کی طرح کھٹنا پڑے تو شاید چند مہینوں میں ہی سر پر خاک ڈال کر بیابان کی راہ لوں۔

ان کے دل میں ندامت نے جڑ پکڑنی شروع کی، انہوں نے ثریٗا بیگم کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے اور ان کو ہلکا سا دبایا ۔ پتہ نہیں منہ سے کیسے نکلا ’تھک گئی ہو!‘۔ یہ سنتے ہی ثریّا مسکرائی، وہی مسکراہٹ جسے آرسی مصحف کی رسم میں دیکھ کر ایسے لٹّو ہوئے تھے کہ آج تک کوئی اور نہ جچا۔ گلفام نے ثریّا کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا ’چلو دس سال سے گمشدہ چاند ڈھونڈتے ہیں‘۔ ثریّا نے ایک نظر آسمان اور دوسری نظر ان پر ڈالی اور کہا ’ دس سال ہوگئے، کوئی دن نہ گذرا کہ آنکھ کھولتے ہی اپناچاند نہ دیکھا ہو۔‘ یہ کہکر اس نے ان کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موندلیں۔ چوہدری کے تو آعصاب سُن ہو گئے تھے، جو روشنی وہ گھر سے باہر ڈھونڈتے ادھیڑ عمری کے زینے چڑھنے لگے تے وہ تو نظر کے سامنے ہی تھی اگرچہ وہ خود نظر بندی کا شکار رہے، تو اس میں اس نیک بخت کا کیا قصور؟
اچانک ہی ہوائی فائرنگ شروع ہو گئ جو کہ بدلتے زمانے میں رویت ہلال کا اشارہ تھا۔ ثریّا نے ہڑبڑا کر انکھیں کھولیں جیسے نیند ٹوٹی ہو، اس نے ایک نظر بھر کے انہیں غور سے دیکھا اور جلدی جلدی دوپٹہ درست کرتے ہوئی بولی ’ ارے میرا شیر خرمہ نہ جل جائے، ورنہ کل سسرالی جل بھن کر جلی کٹی سنائیں گے۔‘

یہ کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے کچن کو روانہ ہوئی، اور سیڑھی اترنے سے پہلے اس نے مڑ کر انہیں دیکھا اور کہا ’ آپ جب چاند دیکھ کر فارغ ہوجائیں تو، نیچےتشریف لے آئیے گا،کل مہمانوں کے لیے کچھ سودا سلف منگوانا ہے‘۔ وہ مسکرائی اور نیچے سیڑھیوں میں غائب ہو گئی۔

چوہدری گلفام اس کے جانے کے بعد کئ لمحوں تک نظر اس جگہ پر ہی جمائے کھڑ ے رہے جیسے کہ ثریّا ابھی تک وہیں پر ہو۔ تیز سے تیز تر ہوتی فائرنگ اور چاند مبارک عید مبارک کا شور انہیں واپس اپنی دنیا میں لے آیا۔ سامنے والے گھر کی چھت پر اب ایک نوجوان بھی موجود تھا اور دونوں کی نظریں چاند پر اور ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ چوہدری کی نگاہ بھی آسمان کی طرف اُٹھ گئ اور ساتھ دونوں ہاتھ بھی۔ زندگی میں پہلی بار چاند دیکھ کر کسی کے لیے دعا کر رہے تھے، انکھوں میں نمی اور قلب میں احسان مند محبت بھر کے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: