اشتباۂ فہم ———— صائمہ نسیم بانو

1
  • 177
    Shares

تاریکی میں ڈوبے بال روم کے عین وسط میں لگا اینٹی کلاک وائز گھومتا بلوریں فانوس اپنے دھنک رنگ برقی قمقموں سے گاہے گاہے اندھیرے کا کلیجہ چھلنی کئے جاتا تھا۔ ریشم و اطلس کے سرسراتے رنگین لبادے ہر نظر کو خیرہ کیے دیتے، فضا مردانہ عطر کی دبیز مشک اور زنانہ خوشبو کی بھینی بھینی مہک سے معطر و مزین تھی۔ شربتِ انگبیں سے بھرے جامِ آبگیں کی کھنک، دھیمے سروں میں بجتی موسیقی اور شرکائے محفل کی سرگوشیاں ماحول پر طاری اسرار و سکوت کو مضطرب کئے دے رہی تھیں کہ یکایک ہلکی سی چرچراہٹ کی آواز کیساتھ صدر دروازہ کھلا تو آنکھوں میں حیرت و خوف لیے چوکھٹ پر کھڑی جواں سال خاتون پر سبھی کی نظریں جم گئیں۔ دہکتے ہوئے انگارے جیسے سرخ لبادے میں وہ آتشِ رواں کی مانند دم بھر کو ٹھہری، گل لالہ کیطرح قد آور، سرخ پوشاک سے ڈھنپے جسم پر اسکے کالے لانبے بال عجب سا سرور آفریں نظارہ پیش کر رہے تھے۔

سامنے دو الگ میزوں پر بیٹھے وہ دو نوجوان اس لالہ رخ کیطرف اشتیاق و دلداری سے تکے جاتے، ان میں سے ایک نے تو سلیقے سے بال جما رکھے تھے، کافوری ڈنر سوٹ کے ساتھ چمکتے سفید جوتے پہنے، فرشتوں کی سی معصومیت چہرے پہ سجائے وہ دھیمے دھیمے مسکرا رہا تھا اور دوسرا اپنے سرمئی رنگت کے چیکدار تھری پیس سوٹ میں قرینے سے بندھی میرون ٹائی اور شانوں تک لٹکتے ریشمی بالوں میں کسی دیوتا کیطرح اپنی ڈورے دار کھوجتی نگاہوں سے مسلسل اسے تکے جاتا تھا۔ کرسیوں کے پیچھے ہٹنے کی آواز کیساتھ وہ دونوں ہی ایکساتھ قدم بڑھاتےاس لالہ رخ تک پہنچے، ذرا قریب پہنچ کر سفید براق لباس میں ملبوس جوان لمحہ بھر کو ٹھٹھکا تو فورا ہی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمئی لباس میں ملبوس جوانمرد نے اپنے چمکتے میرون لیدر موکس سامنے دھر دیے اور عین اس دلربا کی نگاہوں میں جھانکتے اور ہلکا سا جھکتے ہوئے اسے ہاتھ کے اشارے سے آگے بڑھنے کی پیشکش کی، اپنی آنکھوں میں نرمی و حیرت سجائے سر جھٹکتے ہوئے وہ نازنیں اسکے ہمراہ ہو لی۔ سفید لباس میں ملبوس نوجوان اب مایوسی سے اپنی میز کی جانب جا چکا تھا اور سر جھکائے اپنے سامنے رکھے مشروب پر نظریں جمائے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

وہ دو اردگرد سے بے نیاز، یکسوئی سے لحظہ لحظہ ایک دوجے کو تکتے رہے کہ یکبارگی وہ بانکا اپنی گھمبیر آواز میں گویا ہوا۔ ۔ ۔

ا: آپ؟
ف: آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ ذہین آنکھوں میں اب گھبراہٹ کی جگہ تسکین لیے وہ مسکرا رہی تھی۔
ا: داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئی وہ جھینپ کر مسکراتے ہوئے بولا کچھ نام تو ہو گا؟
ف: ہم فہم ہیں۔
ا: کم فہم؟ اس بار اسکا سوال مد مقابل کو گڑبڑا دینے پر قادر تھا۔
ف: نہ۔ ۔ ۔ خوش فہم اور آپ؟ مسکرا تی نظروں سے اسےتکتی ہوئی وہ جواب کی منتظر تھی۔
ا: اسکےجواب پر بے ساختہ امڈ آنے والے قہقہے کو روکتے ہوئے اس نے کہ، ہم اشتباہ ہیں۔
ف: اشتباہٌ نظر؟ اس مرتبہ دلربا کا وار کاری تھا۔
ا: وہ بمشکل اپنا قہقہہ روک پایا۔ ۔ ۔ ” نہیں اشتباہٌ فہم۔ ”
ف: آں ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ا: ہاں ہاں۔ ۔ ۔ ۔

اشتباہ: آپ نے ہمیں چنا کیا خاص بات دکھی ہم میں؟
فہم: یہی کہ آپ عام نہیں
ا: عام نہ ہونے کی کیا کسوٹی ہو گی؟
ف: وہی جو میسر نہ ہو۔
ا: اچھا! ہمارے بارے میں مزید کہیے۔ ۔ ۔
ف: آپ دلاور ہیں دلیر بھی، سورنبیر اور رنبیر، عاشق اور دلدار بھی
ا: آں ہاں
ف: ہاں ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہماری ستائش کا اہتمام بھی تو ہو
ا: آپ خوش رو ہیں اور خوش گلو بھی، خوش وضع و خوش لباس، خوش اندام اور خوش فہم بھی
کیا رقص کیجیے گا ہمارے ساتھ؟
ف: رقص؟
(وہ متحیر و مشتاق سی اثبات میں سر ہلا رہی تھی)
فہم کےروبرو گھٹنوں پر ہلکا ساجھکتے ہوئے دایاں ہاتھ اسکے سامنے بڑھاتے
وہ دلداری سے اسے اک ٹک تک رہا تھا اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کیے وہ ڈانس فلور تک پہنچا۔

ا: ہمیں تھامیے شانوں سے
ف: آپکے شانے ہماری گرفت میں میں نہیں آتے، کیسے تھامیں وہ جھنجھلائی
ا: اچھا جھنجھلانا نہیں یہاں دیکھیے ہماری آنکھوں میں، ایسے

(اس نے اشارے سے سامنے کھڑے ویٹر کو بلایا تو وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ ایک گاؤن نما پوشاک اور ٹرے میں رکھا بال ماسک لے آیا)

ا: یہ خلعت اور یہ خول قبیل فرمائیے۔
ف: بخشش یا اکرام؟
ا: نذرانہ، ایک عاشق کی بھینٹ
ف: یہ کیا ہیں؟
ا: یہ خلعت خواہش کی شدت فزوں کر دے گی اور یہ خول طلب کو مہمیز کرنے پر قادر ہے۔
ف: خواہش، طلب۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ محبت کے نام ہیں ؟
ا: یہی سمجھ لیجیے۔ محبت لیکن ناقص
ف: محبت اور ناقص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیسی محبت ہے؟
ا: یہ خالص نہیں لیکن ہے محبت کی ہی ایک قسم، پٌر لطف
ف: محبت تو پرخلوص ہوتی ہے نا ایسی کوتاہ اور طلب کی ماری شے محبت کیونکر ہو گی۔
ا: فہم ہماری آنکھوں میں دیکھیے کیا نظر آتا ہے؟
ف: سراب۔ ۔ ۔ اس کے لہجے میں خوف چیخ رہا تھا۔
نقشین سینی میں دھرے نقرئی ماسک کو اپنے ہاتوں سے اسکی آنکھوں پر چاہ سے چڑھاتے ہوئےوہ پھر گویا ہوا
ا: اب دیکھیے اور کہیے ہماری آنکھوں میں کیا دکھائی دیا؟
ف: منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ خود سپردگی کے عالم میں ایک معمول کیطرح کہہ اٹھی۔
ا: سرخ جالی دار گاؤن اپنے ہاتھوں سے اسے پہنا کر کہا، “یہاں آئیے ہمارے قریب اب تھامیے ہمیں۔ ”
ف: آگئی، تھاما۔
ا: ہمارے شانے آپکو محسوس ہو رہے ہیں نا
ف: جی۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس خلعت اور خول میں ایسا کیا جادو تھا کہ جو عدم تھا وہ موجود ہوا۔
ا: یہ طلب اور خواہش کی دین ہے جو ایک توانا تخیل جنتی ہے۔
وہ بس سر ہلا کر رہ گئی، اسکے سامنے کھڑا اپالو جیسا جیتا جاگتا مجسمہ اسے اپنی پناہوں میں چھپائے جارہا تھا۔

ا: فہم! ہمارے ساتھ اڑان بھرئیے گا کیا؟
ف: ہمیں اڑنا نہیں آتا
ا: یہاں آجائیے ہمارے زانو پر جا ہے آپکے لیے۔
اپنا سر ٹکائیے ہمارے شانوں پر اور آنکھیں موند لیجے۔
ف: اشتباہ! آپ عدم ہیں اور ہم موجود آپ ہمارا بار نہ سہہ پائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ ہم گر جائیں گے
ا: نہ، نہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فہم ! ہم آپکو ہرگز گزند نہ پہنچائیں گے۔
دیکھیے ہر ہست کی ابتدا نیست سے ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ دیکھیے ہم نے آپکی کمر کے گرد بازو حمائل کیے،
آپ بس آنکھیں موند لیجیے اور جب تک ہم نہ کہیں کھولیے گا نہیں۔
ف: جی بہتر۔ ہم کہاں جائیں گے؟
ا: خوابیدہ وادیوں میں وہاں اونچے اونچے پہاڑ ہیں،
بادلوں سے کلام کرتے چنار اور گلوں کے رخ چومتے قطرہُُ شبِ نم
وہاں چندا ستاروں کے سنگ رقص کرتا ہےاور سورج کی کرنیں ہر صبح ملن کے گیت الاپتی ہیں۔
ہم نے کئی بار وہاں قوسِ قزح کو جلترنگ بجاتے سنا ہے۔ کیا آپ وہاں جانا پسند کیجے گا؟
(حیرت بھری نگاہ اور دل میں مچلتے لالچ کیساتھ اس نے سر اشتباہ کے شانے سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ )

ا: فہم ! جاگئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھئے ہم منزل پر آن پہنچے۔
(خمار بھری آنکھوں کو مسلتے ہوئے وہ انہیں کھولنے کی کوشش کرتی رہی، جب حواس بحال ہوئے تو شرمندگی سے کہا)
ف: ہم سو گئےتھے آپ جگا دیتے ہمارا بوجھ سہا آپ نے۔
ا: ارے آپ اتنا پیارا سو رہیں تھیں ہم کیسے اٹھاتے،
تمام رستے آپ کا خیال زور آور سے بار آور ہوا اور ہم گیت بٌنتے رہے۔
ف: آپ نے گیت بنے، ہمیں بھی سنائیے
ا: سناتے ہیں سناتے ہیں، صبر رکھیے۔ ابھی یہاں سے رستہ بہت طویل ہے اور ہمیں چڑھائی چڑھنا ہوگی
ف: اشتباہ ہم نہ چڑھ پائیں گے ایسا پر پیچ رستہ، یہ جادہ کہاں کو جاتا ہے اور ہم کیونکر پہنچیں گے۔
ا: فہم ! یہ رستہ عشقِ خام و ناتمام کا ہے۔
آپ فکر نہ کیجے ہم ایک ہاتھ سے ہائیکنگ سٹک اور دوجے سے آپکو تھامیں گے۔
ف: آپ پر بار ہو گا اور عشقِ لا حاصل کے واسطے ایسے جان جوکھم میں کاہے کو ڈالئے گا۔
ا: آئیے ہمارا ہاتھ تھامیے وہاں جگنوؤں نے روشنی سجائی ہے اور تتلیاں رنگ برسایا کرتی ہیں۔ کیا آپ وہاں کی ملکہ نہ بنیں گی اور ہمیں غلام نہ کیجیے گا۔
ف: جی بہتر۔
ا: کیا آپ جانتی ہیں آپ میں تسلیم کی خو ہے جو رضا کو جیت لیتی ہے۔
اشتباہ نے فہم کی چہرے پر گری لٹوں کو پیار سے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بہت جذب سے کہا تو وہ شرما گئی۔ اب وہ دونوں پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے تھے اور بلبل نغمہء وصل گنگنا رہی تھی، تتلیاں انکے گرد طواف کرتے نہ تھمتیں اور ڈوبتے سورج کی کرنیں مچل مچل کر ان دونوں کی پیشانی چومے چلی جاتی، ذرا دیر میں ایسی پروائی چلی کہ گلوں کے تن سے لپٹ لپٹ کر سارا منظر مہکا گئی۔ ڈھلتی شام نے دبیز اندھیرے کا آنچل اوڑھ لیا اور چاند ستارے روئے آسمان کو منور کرنے آن موجود ہوئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فہم اشتباہ کے شانے سے چپکی، طلب کے تخت پر براجمان، فطرت کے حسین رنگوں کو دیکھتی تھی۔

ا: اب آپکو علم ہے کہ ہم کہاں جائیں گے؟
ف: استفہامیہ انداز سے اشتباہ کو دیکھتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا
ا: ہم ایک اور پرواز بھریں گےاور ساحلوں تک جائیں گے
وہاں تاحدِ نگاہ سمندر ہے، سفینوں سے پرے افق کی اور
ف: ہمیں لہروں سے خوف آتا ہے وہ ظالم ہیں ڈبو دیتی ہیں۔
سمندر سب بہا لیجاتا ہے۔ جا بہ جا سرابِ ریگ کے ڈھیر، ایسے عشقِ غافل کی ہمیں چاہ نہیں۔
ا: فہم! یہ لیجیے، خول پہنیے اپنی آنکھوں کے گرد اسے جمائیےاب ہماری جانب دیکھیے۔
کہیے کیا نظر آتا ہے کیا سرابِ ریگ دکھا؟
ف: نہیں وہاں جزیرے ہیں اور ان میں زندگی رقصاں ہے۔
وہ خود سپردگی کے عالم میں اشتباہ کے شانے پر سر ٹکائے آنکھیں موندے، ایک اور پرواز بھرنے کو تیار بیٹھی تھی۔ جابجا سرابوں سے سجا ساحل، بپھری لہروں کے تھپیڑے، ساحلوں کی بے رخی، سفینوں کے بے پروائی مد وجزر کی بے لحاضی اور اشتباہ کے عدم التفات نے فہم کو نچوڑ کر رکھ دیا، وہ بلک اٹھی۔
ف: ہم نے کہا تھا کہ سمندر ہمیں راس نہیں یہ تغافل ہماری جان لے لے گا اشتباہ
آپ ہمیں یہاں لاکر عشقِ غافل ہوئے۔
ا: فہم اب واپسی کا سفر شروع ہوا۔ آپ کو لوٹنا ہوگا وہ دیکھیے سامنے ہمارا قلعہ ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ آپ وہاں نہ جاسکیں گی کہ آپ وجود ہیں اور ہم مفقود الوجود۔
ہمارا اور آپکا اتنا ہی ساتھ تھا لوٹ جائیے۔ یہ کہتے ہوئے اشتباہ لمبے لمبے قدم بھرتا اپنے قصرِ عدم کو روانہ ہوا۔
ف: ریتلی زمین پر گرتی پڑتی فہم اپنی کج فہمی اور خوش فہمی کو گھسیٹتے گھسیٹتے اس کے پیچھے پاگلوں کیطرح دوڑ رہی تھی۔ ہم یہاں سے کہاں جائیں گے، نہ ہمیں راستوں کا علم، نہ ہم پرواز بھر سکتے ہیں، رک جائیے۔ ہم برباد ہو جائیں گے۔
ا: ہم نے کہا تھا ہم عدم ہیں۔ ہم نے کہا تھا ہماری محبت ناقص ہے اور عشقِ خام و ناتمام
ف: ہاں لیکن آپ نے کہا تھا کہ یہ ایک طرح کی محبت ہی ہے۔
ا: ہم نے بہت سوچا کہ وہ کیا تھا، یقین جانیے وہ محض ہوس تھی ہوس۔
ف: جھوٹے ہیں آپ بکواس کرتے ہیں وہ ہوس نہ تھی آپ نے گیت بنے تھے، ساز چھیڑے تھے۔
ا: بس! وہ ان ہی لمحوں کا سچ تھا، بھول جائیے سب کچھ۔ کہا نا ہم نیست ہیں اور آپ ہست ہمیں جانا ہو گا
ف: اپ نیست نہیں ہست ہیں۔ واللہ! ہست ہیں۔ ہم نے چھو کر دیکھا ہے آپ کو اپنے ان ہاتھوں سے
ا: فہم۔ ۔ ۔ فہم۔ ۔ ۔ فہم۔ ۔ ۔ آپ کیوں خود کو دھوکہ دے رہیں ہیں، وہ تخیل تھا جس کی مدد سے آپ نے ہمیں چھوا
ہم تو مفقود الوجود ہیں ہم نابودیت ہیں۔ چھوڑئیے جانے دیجیے ہمیں فنا ہماری منتظر ہے۔
ف: آہ! وہ خلعت وہ خول وہ گیت وہ تخت وہ لمحے جو آپ نے بطور نذرانہ ہمیں عطا فرمائے، وہ سب کیا آپ ہم سے چھین لیں گے۔
ا: وہ کبھی آپکے تھے ہی نہیں۔ جو سچ تھا وہ ہم عرض کر چکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الوداع!

بے مائیگی اور تہی دستی کے بوجھ تلے دبی فہم جانے کتنی ساعتیں مبتلائے عزاداری اور محوِ ماتم رہی۔
دفعتاً وہی کافوری لباس والا نوجوان اسے دکھا۔ اس بار وہ اکیلا نہ تھا اس کی سنگت میں ایک سفید نورانی چہرے والی مطہر و پاکیزہ سی دوشیزہ بھی تھی۔

ف: کون ہیں آپ؟ کون ہیں آپ دونوں، یہاں کیسے آگئے؟
فہم نے اپنا آنسوؤں میں تر اور گیلی ریت سے لت پت ہوا چہرہ اوپر کرتے ہوئے سوال کیا۔

ص: ہم صدق ہیں اور یہ ہماری نصف بہتر خرد ہیں۔
ہم نے آپکو روکنا چاہا تھا لیکن آپکی کج فہمی نے آپکو اس وقت اندھا کر رکھا تھا فہم۔
ف: آپ ہمارا مذاق آڑانے آئے ہیں، دفعان ہو جائیے یہاں سے آپ دونوں۔

اس نے قریب پڑے پتھر کو آٹھا کر صدق کے جانب زور سے پھینکا
لیکن پتھر صدق کے شیشے سے شفاف وجود سے ٹکرا کر واپس لوٹا اور فہم کی پیشانی پر زخم کا داغ چھوڑ گیا۔

ص: ہم معذرت چاہتے ہیں آپکو تکلیف ہوئی لیکن شاید آپ نے یہ نہ بات سن نہ رکھی تھی کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ خ: آئیے ہم آپکا زخم پونچھ دیں، خون بہتا رہا تو درد کی شدت بڑھے گی۔ خرد اپنی چادر کے پلو سے اس کا زخم سہلانے لگی۔
ف: اس بار فہم خرد کی بانہوں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
خ: بہت دیر فہم کو بہلاتے رہنے کے بعد خرد قطعیت سے گویا ہوئی، چلیے ہم آپکو لینے آئے ہیں۔
ف: آپ کون ہیں؟ کس رشتے سے لینے آئی ہیں ہم کہاں جائیں۔
خ: ہم خرد ہیں، ہم اشتباہ سے حالتِ جنگ میں ہیں۔
ہم صدق کی منکوحہ اور آپکی ماں جائی ہیں۔ اٹھیے سفر لمبا ہے اور شام ہونے کو ہے۔
ہمیں نمودِ بے بود سے حی لا یموت تک کا سفر طے کرنا ہے۔
یہ جادہ نیست سے ہست کا ہے، یہ صراطِ مستقیم ہے۔
ف: خرد ! ہماری ماں جائی !!!!
ہم کیسے یہاں سے جاسکتے ہیں…..
دیکھئے یہاں خمار ہے، سرور ہے
یہاں کیفیت ہے، وجود ہے
فیضان ہے، عرفان ہے۔

خ: یہ کل بھی آپکے اندر بستا تھا یہ آج بھی آپ ہی میں رچا بسا ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسے اندر ہی تلاش کیجیے فہم۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کل تک آپ اسے اشتباہ میں تلاش کرتی تھیں اور آج کے بعد آپ ان سب کو ایمان میں پائیں گی
اور یہی اس کا درست ماخذ و مصدر ہے۔ کچھ دیر کو آج ہمارے کہنے سے اپنے باطن میں جھانکیے۔ ۔ ۔ ۔
دیکھیے آپکو کیا نظر آتا ہے؟
ف: یہ مظاہر تو پرکیف ہیں۔ زار زار روتی فہم اپنے باطن سے کالک کے نشان مٹاتی
کبھی مسکراتی تو کبھی بلکتی اور اک جذب کے عالم میں کہے جاتی تھی۔

واللہ !
خرد یہاں خمر ہے، یہاں سر ہے
یہاں کیف ہے، یہاں وجد ہے
یہاں فیض ہے، یہاں معرفت ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: