امیدواروں کے سستے اثاثے ——- لالہ صحرائی

0
  • 111
    Shares

الیکشن کے امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی کیساتھ جو پراپرٹی ڈیکلئیریشنز داخل کی ہیں ان کی مالیت پر کافی جرح ہو رہی ہے۔

عوام کیلئے حیرانی کی پہلی بات یہ ہے کہ جس سیاستدان کے درجنوں صنعتی ادارے اور شوگر ملیں وغیرہ ہوں وہ ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا نہیں کرتا جبکہ عام آدمی جس کا ایک ہی کارخانہ ہو اسے لاکھوں روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

بزنس ہولڈر سیاستدان اور عام بزنس مین کے درمیان یہ تقابل سیاستدانوں کی سینٹ پرسینٹ ٹیکس چوری اور عام بزنس۔مین کیساتھ ٹیکس سسٹم کا ظلمِ عظیم نظر آتا ہے، جبکہ ایسا ہے نہیں۔

دوسری حیرانی اس بات پر ہے کہ درجنوں ایکڑ پر محیط محل سرائے، فارم ہاؤسز اور سینکڑوں ایکڑ زرعی و کمرشل اراضی رکھنے والے سیاستدان یہ اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں کوڑیوں کے مول کیوں دکھا رہے ہیں۔

بزنس انٹرپرائزز اور پراپرٹی ہولڈنگ لاز سے لاعلمی کی موجودگی میں یہ دونوں سوال عوام کیلئے کسی قدر حیرانی کا باعث ضرور ہو سکتے ہیں مگر اس میں غیر قانونی کچھ بھی نہیں۔

اس بات کو سمجھنے کیلئے ان دونوں پراپرٹیز کی قانونی حیثیت کو سمجھنا پڑے گا، پہلے ہم بزنس کی بات کرتے ہیں۔

ڈاکومنٹڈ بزنس سیکٹر اور ٹیکس سسٹم میں بزنس کی چار اقسام ہوتی ہیں:

پہلا انفرادی بزنس یا پروپرائیٹرشپ ہے۔
وہ کسی بھی قسم کی انڈسٹری جو کسی فرد واحد کی ملکیت ہو اور وہ اسے بلاشرکتِ غیرے اپنی مرضی سے چلاتا ہو تو یہ ایک انفرادی بزنس کہلائے گا، ایسا بزنس رکھنے کیلئے فرد واحد کو صرف اپنا ذاتی این۔ٹی۔این درکار ہوتا ہے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس سسٹم میں بزنس۔مین کو ہی ٹیکس گزار قرار دیا جاتا ہے، وہ بندہ اپنی کمپنی کے سالانہ منافع پر انکم ٹیکس مقررہ ریٹ کے مطابق اپنے نام سے جمع کراتا ہے لہذا اس کا ادا کیا ہوا ٹیکس اس کی ذات کے حوالے سے ٹیکس سسٹم پر بھی نظر آتا ہے۔

دوسرا اے۔او۔پی بزنس ہے۔
جہاں کسی کمپنی کے دو یا دو سے زیادہ مالکان ہوں اسے ایسوسی ایشن آف پرسنز یا عرف عام میں شراکت داری فرم کہا جاتا ہے۔

یہ فرم انفرادی مرضی اور حکم کے تحت نہیں چلائی جاتی بلکہ اس کا طریقہ کار یا ٹرم اینڈ کنڈیشنز پارٹنرشپ ڈِیڈ میں وضع کی جاتی ہیں کہ کس حصے دار کی کتنی انویسٹمنٹ ہے، اس کا شرح منافع اور ذمہ داریاں کیا کیا ہوں گی۔

یہ پارٹنر شپ ڈِیڈ کمپنی رجسٹرار آفس میں رجسٹر کرالیں تو اسے رجسٹرڈ پارٹنرشپ کہا جائے گا، نہ کرائیں تو اسے ان۔رجسٹرڈ پارٹنر شپ کہا جائے گا، ان دونوں صورتوں میں اس دستاویز کی قانونی حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اگر کوئی فرق پڑتا ہے تو بس اتنا کہ کوئی سرکاری ادارہ یا مالیاتی ادارہ ان۔رجسٹرڈ پارٹنرشپ کی بجائے رجسٹرڈ پارٹنرشپ فرم کیساتھ کام کرنے میں زیادہ کمفرٹیبل محسوس کرے گا۔

تیسری قسم پرائیویٹ لمیٹڈ کی ہے۔
یہ بھی شراکت داری فرم ہوتی ہے، اور اے۔او۔پی کی طرح ہی کام کرتی ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ ان میں پارٹنرشپ ڈِیڈ کی بجائے میمورینڈم اینڈ آرٹیکل آف ایسوسی ایشن بنتا ہے جو لازمی طور پر ایس۔ای۔سی۔پی میں رجسٹرڈ کرانا پڑتا ہے۔

میمورینڈم اس کمپنی کے اغراض و مقاصد اور کمپنی کا بزنس فریمورک بیان کرتا ہے اور آرٹیکل اپنے حصہ داروں کیلئے شراکت داری کی شرائط و انتظامی آئین وضع کرتا ہے۔

چوتھی قسم پبلک لمیٹڈ کمپنیز کی ہے۔
یہ بھی ہوبہو پرائیویٹ کمپنی کی طرح ہوتی ہے، فرق بس اتنا ہے کہ اس کمپنی کو اسٹاک ایکسچینج میں بھی رجسٹر ہونا پڑتا ہے، اس کے بعد یہ کمپنی عام پبلک کو بھی اپنے حصص بیچ سکتی ہے۔

ٹیکسیشن کا نظام
دوسری، تیسری اور چوتھی قسم کی کمپنیوں کا ٹیکس ادا کرنے کا نظام ایک جیسا ہے، ان میں حصہ داروں کے علاوہ کمپنی کا اپنا این۔ٹی۔این بھی بنتا ہے کیونکہ اس کمپنی کے ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری متعدد حصے داروں پر ڈالنے کی بجائے صرف کمپنی کے اوپر ڈالی جاتی ہے لہذا سال کے بعد کمپنی اپنے منافع پر مقررہ شرح سے ٹیکس ادا کرے گی جو ٹیکس سسٹم میں کمپنی کی طرف سے ادا کیا ہوا نظر آئے گا۔

ٹیکس ادا کرنے کے بعد جو نفع باقی بچے گا وہ حصے داروں کو ٹرانسفر کر دیا جائے گا، اب حصے دار مزید ٹیکس ادا نہیں کریں گے، وہ اپنی ریٹرن میں صرف یہ ظاہر کر دیں گے کہ ہمیں اتنی اتنی رقم فلاں فلاں کمپنی سے پرافٹ شئیر کے طور پر وصول ہوئی ہے جس پر انکم ٹیکس دیا جا چکا ہے۔

اب وہ سیاستدان جو انفرادی بزنس کیٹگری میں ایک شوگر مل کا مالک ہے اس کا ٹیکس اس کے ذاتی نام سے جائے گا اور وہ سیاستدان جو دس شوگر ملوں میں ڈائریکٹر ہے اس کا ٹیکس وہ دس کمپنیاں ادا کریں گی کیونکہ وہاں ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری فرد پر نہیں بلکہ کمپنی پر ہے۔

لیکن نتیجے میں یہ دونوں افراد بالکل ایک جیسے ہیں، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بزنس پروپرائیٹر ٹیکس گزار ہے اور بزنس پارٹنر یا ڈائریکٹر ٹیکس چور ہے کیونکہ یہ دونوں بندے صرف وہی منافع گھر لے کے جا رہے ہیں جس پر انکم ٹیکس کسی نہ کسی کے نام سے بہرحال ادا ہو چکا ہے۔

ٹیکس ڈیکلئیریشن کے بعد اگلا مرحلہ ویلتھ ڈیکلئیریشن کا ہے، اس کے نو دس میجر اجزاء میں بزنس کیپیٹل، شئیرز، اراضی، بینک بیلنس، نقدی، گاڑیاں، زیورات، گھر کا سامان اور کسی سے ادھار لیا ہوا یا دیا ہوا وغیرہ شامل ہیں۔

پہلا ہے بزنس کیپیٹل، یہ وہ سرمایہ ہے جو اس نے مختلف کمپنیوں میں لگا رکھا ہے، یہ رقم سیاستدان کو بہرحال اپنی ویلتھ میں ڈیکلئیر کرنی پڑتی ہے، جو نہ ڈیکلئیر کرے وہ مجرم ہے۔

مگر یہ خیال رکھیں کہ یہ رقم کوئی اربوں کھربوں میں نہیں ہوتی بلکہ ان پرائیویٹ کمپنیز کا پیڈ۔اپ کیپیٹل صرف لاکھوں یا کروڑوں میں ہوتا ہے بیشک ان کا بزنس ٹرن۔اوور اربوں روپے میں ہی کیوں نہ ہو۔

عموماً یہ چند ایک کروڑ سے بزنس کمپنی کھڑی کرتے ہیں، باقی وہ اکرُووَل اور لون سے چلتی ہے، اس کی تفصیل میں نہیں جاتے یہ سیاستدان و غیرسیاستدان سب کیلئے ایک جیسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد اپنے بینک اکاؤنٹس اور پرسنل والٹ یا کیش۔ان۔ہینڈ میں موجود رقم بھی ویلتھ کا حصہ بنتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ان دو جگہ پر لازمی کوئی بڑی رقم موجود ہو۔

اگلا آئیٹم کمپنیز سے حاصل ہونے والا پرافٹ بھی ذاتی اخراجات منہا کرکے باقی ویلتھ میں جمع ہوگا لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اس پرافٹ کو لازمی ویلتھ میں ڈال دے، وہ اپنا خرچہ دکھا کے اس رقم کو ختم کرنے میں بھی قانونی طور پر آزاد ہے۔

کسی کمپنی کا ڈائریکٹر اپنی کمپنی سے اگر کوئی لون لیتا ہے یا اسے لون دیتا ہے تو بھی کوائیٹ لیگل ہے، کسی کی ویلتھ میں ایسی اینٹریز کا موجود ہونا اسے مشکوک قرار نہیں دیتا۔

پھر گاڑیاں اگر ہوں تو وہ بھی ویلتھ میں جمع ہوں گی لیکن بیشتر بڑے لوگ اپنے پرافٹ کو کسی رشتے دار یا ملازم کے نام گفٹ کرکے ان کے نام سے گاڑیاں یا جائیداد خرید لیتے ہیں تاکہ کہیں کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے یا کوئی اور قانونی معاملہ کھڑا ہو جائے تو ان کا نام نہ آئے یا مالک ہونے کی حیثیت سے قانونی کاروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس ارینجمنٹ کو لیگل ایویژن کہتے ہیں اور یہ ساری دنیا میں جائز سمجھی جاتی ہے، اس پر اعتراض بلاجواز ہے، اس کی مزید تشریح آخر میں بیان کر دیں گے۔

اس کے بعد زرعی، تجارتی اور رہائشی زمین کی مالیت بھی ویلتھ کا حصہ بنتی ہے، اس معاملے پر آٹھ روپے مرلہ جیسے شگوفے سنائے جا رہے ہیں حالانکہ یہ ویلیو بھی غلط نہیں اسلئے کہ ہر طرح کی زمین کے تین قسم کے ریٹ ہوتے ہیں جن میں بک۔ویلیو ہی کسی جائیداد کی بنیادی قیمت قرار پاتی ہے۔

پہلا اور بنیادی ریٹ وہ ہے جس ریٹ پر یہ زمینیں سرکار سے خریدی جاتی ہیں، یہ درجنوں سینما ہاوسز جو توڑ کے پلازے بنا دئے گئے ہیں یہ جگہیں عوامی اینٹرٹینمنٹ کے نام پہ سرکار سے کوڑیوں کے مول خریدی گئی تھیں، انٹرٹینمنٹ، ہسپتال اور رفاح عام کیلئے کوئی بھی تنظیم آج بھی چند روپے فی مرلہ کے بھاؤ سے سرکاری زمین خرید سکتی ہے بشرطیکہ سرکار اسے مطلوبہ جگہ دینے پر رضامند ہو تو اسی ریٹ پر ہی دے گی۔

دوسری قیمت وہ ہوتی ہے جو ٹرانسفر رجسٹری کے وقت ٹیکس کلیکشن کیلئے مختص کی گئی ہوتی ہے، یہ قیمت خرید ہے نہ قیمت فروخت ہے بلکہ یہ مختلف کیٹگریز میں مختلف ریٹس صرف ٹیکس کلیکشن کی حد تک ہوتے ہیں۔

تیسری قیمت وہ ہے جسے ہم مارکیٹ پرائس کہتے ہیں، یہ قیمت لینڈ مافیاز، رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی ڈیلرز اور بلڈرز کی مہربانی سے آسمانوں کو چھو رہی ہے لہذا یہ ویلتھ پرپز میں فیک قیمت سمجھی جاتی ہے، اس کے مقابلے میں ویلتھ کے اندر کسی بھی جائیداد کی بک۔ویلیو کو ہی کاؤنٹ کیا جاتا ہے، یہ ایک یونیورسل اصول ہے تاہم مالک اگر اسے مارکیٹ ویلیو سے ڈکلئیر کرنا چاہے تو یہ اس کا ذاتی آپشن ہے مینڈیٹری ہرگز نہیں اسلئے وہ اپنی جائیداد کی بک۔ویلیو ہی شو کرتا ہے۔

بالفرض یہ اپنی جائیداد کی وہ قیمت شو کرے جو کرنٹ مارکیٹ میں ہے تو ویلتھ اپنے ان۔فلو اور آؤٹ۔فلو کیساتھ ٹیلی ہی نہیں ہو پائے گی، یہ ایک بڑا ٹیکنیکل مسئلہ ہے جو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔

فرض کریں ایک سیاستدان نے دس سال پہلے سرکاری ریٹ پر حکومت سے سو روپے فی مرلہ کے حساب سے پچاس ایکڑ زمین خریدی تھی، اس وقت اس کی کل قیمت خرید محض آٹھ لاکھ روپے بنتی تھی۔

اس نے دس سال پہلے کی ویلتھ ریٹرن میں اپنا نفع پچاس لاکھ روپے بتایا، اس میں سے بیالیس لاکھ اپنا ذاتی خرچہ شو کیا اور آٹھ لاکھ کی زمین دکھا دی جو اس زمین کی بک۔ویلیو کہلائے گی لہذا ان۔فلو اور آؤٹ فلو آپس میں ٹیلی ہو گئے، اس کے بعد یہ زمین ہر سال اس کی ویلتھ میں شامل چلی آرہی ہے۔

اب دس سال بعد اس زمین کی مارکیٹ ویلیو اگر پچاس کروڑ ہے تو اسے ہم آہنگ کرنے کیلئے وہ انچاس کروڑ بانوے لاکھ روپیہ کہاں سے آتا ہوا دکھائے جو ویلتھ ریٹرن کو بیلنس کر دے، بالفرض وہ اسے ایویلیوایٹ کرتا ہے تو کیپیٹل گین کا اپنا ایک قانون ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کسی پراپرٹی کی قیمت ایویلیوایٹ کریں گے تو مقررہ شرح سے ٹیکس ادا کریں گے جو اس کیس میں بارہ کروڑ تک بن جائے گا۔

اس بندے کی جگہ خود کو کھڑا کرکے دیکھیں زرا کہ ایک زمین جو آپ نے دس سال پہلے آٹھ لاکھ کی خریدی تھی اسے صرف کاغذات میں ایویلیوایٹ کرنے کیلئے آپ کم و بیش دس بارہ کروڑ روپے ٹیکس کیوں دیں گے؟

یہ سلسلہ یہاں پر رکے گا نہیں بلکہ اگلے پانچ سال بعد جب آپ دوبارہ الیکشن لڑنے کیلئے اسے پھر سے نئی قیمت کیساتھ اپ۔گریڈ کریں گے تو اس نئے اضافے کا چوتھا حصہ پھر ٹیکس دینا پڑ جائے گا، اب آپ اس پریکٹس پر کیسے کنوینس ہو سکتے ہیں جبکہ قانون آپ کو اپنی جائیداد بک۔ویلیو پر رکھنے کی اجازت بھی دیتا ہے لہذا یہ مس۔ڈیکلئیریشن یا حقیقی دھوکہ نہیں بلکہ یہ ایک لیگل ایویژن ہے۔

اگر کسی تیار جائیداد یعنی بنگلے یا محل کی صرف زمین کی بک۔ویلیو شو کی گئی ہے اور اس پر بنی ہوئی بلڈنگ کے سٹرکچر، فنشنگ، فرنیچر اینڈ فکسچر وغیرہ کی قیمت شامل نہیں کی گئی تو اس پر بھی اعتراض نہیں بنتا، اگر جواب مانگیں گے تو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے یہ بلڈنگ تھوڑی تھوڑی کرکے پرسنل ایکسپینسز یعنی اپنے ٹیکس پیڈ پرافٹ سے بنوائی تھی، شو اسلئے نہیں کی کہ اسے گرا کے پھر نئی بنانی ہے۔

اسی طرح وہ جاگیراد جو سینکڑوں ایکڑ اراضی کے مالک ہیں وہ بھی بک۔ویلیو پر تھوڑی سی زرعی زمین ڈیکلئیر کرتے ہیں کیونکہ وہ قانونی طور پر پچاس ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین کی ملکیت رکھ ہی نہیں سکتے، اس کے علاوہ جو بھی زمین ان کے قبضے میں ہوتی ہے وہ انہوں نے اپنے رشتے داروں یا کسانوں کے نام پہ رکھی ہوتی ہے، یہ بھی ایک لیگل ایویژن ہے اس کا بھی کوئی حل نہیں۔

آخری بات لیگل ایویژن سے متعلق ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ ایک کمپنی اپنے کسی ایگزیکٹیو کو دوسرے شہر جاکے کوئی کام نمٹانے کیلئے دو لاکھ روپے کا بجٹ دیتی ہے جس میں ہفتے بھر کا پی۔سی میں قیام و طعام، بائی ائیر دوطرفہ ٹکٹ اور دیگر اخراجات شامل ہیں تو وہ بندہ اگر سستی فلائیٹ، پی۔سی کی جگہ کسی سستے ہوٹل یا کسی رشتے دار کے گھر قیام کرکے کچھ رقم بچا لیتا ہے اور کمپنی کو اپنی کامیابی کے عوض اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تو یہ لیگل ایویژن کہلاتی ہے۔

اسی طرح بعض ایگزیکٹیوز جو اپنی ذاتی گاڑی پہ کمپنی کے کام کیلئے دوسرے شہروں کا سفر کرتے ہیں وہ کم و بیش بیس روپے پر کلومیٹر فیول چارج کرتے ہیں جس میں پٹرول، ٹائروں کی ڈیپریسئیشن و مرمت وغیرہ سب شامل ہوتی ہے، لیکن وہ بندہ اگر پیٹرول کی بجائے سی۔این۔جی پہ جائے اور سنبھال کے گاڑی چلائے تو کم و بیش آدھی رقم بچ جاتی ہے لیکن چونکہ یہ کمپنی کیساتھ ایک انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہوتا ہے اسلئے یہ لیگل ایویژن جائز ہے۔

اسی طرح سرکاری حساب کتاب رکھنے اور ٹیکسیشن کے معاملات میں بھی یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جو منیمم ریکوائرمنٹ ہے وہ پوری کردی جائے تو فرض ادا ہوا سمجھا جائے گا۔

ان حالات میں گزارش ہے کہ امیدوار خواہ کسی بھی پارٹی کا کیوں نہ ہو اس کا ان مذکورہ بنیادوں پر سوشل میڈیا ٹرائل کرنا اور اسے چور یا بد دیانت قرار دینا ہرگز مناسب اور مثبت رویہ نہیں، اس کی بجائے کسی بھی امیدوار کو سپورٹ کرنے یا رد کرنے کیلئے اسے اس کی پارٹی یا اس کے ذاتی کردار و منشور کے آئینے میں دیکھنے، پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کریں تو یہ زیادہ بہتر اور سلجھا ہوا رویہ ہے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: