پاکستان سیکیوریٹیز و ایکسچینج کمیشن SECP کی کارکردگی — راو جاوید

0
  • 20
    Shares

مالیاتی تحفظ و تبادلہ کے وفاقی ادارے کی کارکردگی پر اپریل میں مضمون لکھنا شاید کچھ نامناسب ہو کیونکہ زیادہ تر ایسے مضامین سال کے شروع میں لکھے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے بوجوہ ایک ماہ کی تاخیر سے اس ادارے کی ویب گاہ دیکھنے کا موقع ملا جس میں بہت سے عدیم المثال نہ سہی اہم کام ضرور موجود ہیں۔ اس کام سے شاید یہ یقین جاگزیں ہوجائے کہ قومی ادارے کچھ نہ کچھ فعال ضرور ہیں۔ تحفظ و تبادلہ کا ادارہ سرمایہ داری نظام کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ موجودہ عالمی نظام کا اہم ترین رکن بھی ہے۔ لیکن معاشرے کی معاشی تنظیم سازی درحقیقت اسلام نے دی۔ اسلام نے معاشی اصول دئیے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ جیسے جید مجتہدین و ائمہ نے قرآن و سنت سے استنباط کرتے ہوئے عظیم معاشی قوانین بناکر دنیا کو دنگ کرکے رکھ دیا۔ حنفی فقہ کے امام کے قوانین آج بھی رائج ہیں۔ انہی کی بنیاد پر دنیا بھر کا کمپنی قانون وجود میں آیا۔ موجودہ افغان آئین بناتے ہوئے امریکیوں کو بھی شق نمبر 130 میں مجبورا تحریر کرنا پڑا کہ اگر جج کو کوئی قانون نہ ملے تو وہ حنفی فقہ کو ضرور لاگو کرسکتا ہے۔ اس سے قبل ظاہر شاہ کے دور تک رائج ہونے والے بظاہر انگریزی قوانین میں بھی معتد بہ امام ابوحنیفہ کے اصولوں کا انگریزی ترجہ ہی مانے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف پاکستانی جج ہی ازخود نوٹس لئے جارہے ہیں، تو یہ یکطرفہ داستان ہوگی۔ پاکستانی ادارے خاصا کام کررہے ہیں۔ اسلام آباد ائیر پورٹ کے ساتھ ساتھ ایس ای سی پی بھی فعال کرداار ادا کررہی ہے۔

بالکل حالیہ اقدام یہ ہے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا قانون تبدیل کیاجارہا ہے۔ پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کیلئے 1961 کا آرڈیننس پاس کیا گیا تھا۔ اسے ایک مکمل قانون میں تاحال ڈھالا نہیں جاسکا تھا۔ لیکن اب پہلی مرتبہ سیکیوریٹیز و ایکسچینج کمیشن نے اسے مکمل قانون کی شکل دینے کیلئے تیاری شروع کی ہے۔ صدارتی آرڈیننس اس لئے مکمل قانون شمار نہیں ہوتا کہ اسے صدرِ مملکت چار ماہ کیلئے نافذ کرتے ہیں۔ اگر مجلسِ شوریٰ (پارلیمان) اسے منظور نہ کرے تو یہ قانون مستقل حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔ اس بار پاکستان میں تحفظات و تبادلاتی ادارے نے ذمہ داری سے کام لیتے ہوئے اس قانون میں تبدیلی کرکے نئے قانون مجریہ 2018 کی تیاری شروع کی ہے۔ اس سے پاکستان کے اکاؤنٹس حسابات کے اداروں اور قانونی معاملات میں مثبت تبدیلی کی امید ہے۔ پاکستان میں حسابات کے قدیم قانون کی بنیادیں آج تک اس بناء پر تبدیل نہیں کی جاسکیں کہ ملک زیادہ تر ایڈہاک نظام کی بنیاد پر چلایا جاتا رہا تھا۔ اب جبکہ دو حکومتوں نے 5، 5 سال کی مدت مکمل کی ہے تو اس سے امید ہے کہ کچھ نہ کچھ استقلال واقع ہوگا۔ کچھ نظاموں میں پائیداری کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اگرچہ یہ جمہوریت کا موجودہ نظام بھی اسلامی نظاموں کی طرح سے انتہائی پائیدار نہیں۔ اسلامی نظام میں امیرالمؤمنین (الا ماشاء اللہ) تاحیات ہی رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی موجودہ صورتحال میں ملک کسی حد تک 5 سال کی پٹڑی پر چڑھ گیا ہے۔ ملک میں عدمِ استحکام میں کمی واقع ہونے کا امکان موجود ہے۔

ایس ای سی پی ملک کے بالکل بنیادی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے اسلامی معاشی اصولوں کو اپناکر اپنی ضرورت و اہمیت کے علاوہ توقیر میں بھی یقینا اضافہ کیا ہے۔ اس ادارے کی کارکردگی کی بناء پر ملک شدید ترین سیاسی بحرانات کے باوجود اہم مرحلے عبور کررہا ہے۔ پچھلے ہی دنوں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بالکل بنیادی لیکن ضروری اقدامات بھی اسی ادارے کے کہنے پر مکمل کئے گئے۔ سٹاک ایکسچینج کا انضمام ایک بڑا کام تھا، جسکی تکمیل کے بعد اس کے 40٪ حصص کو بیچا گیا اور اب حال ہی میں اسکے ڈائریکٹر کا تقرر کیا گیا۔ علاوہ ازیں بورڈ کے ممبران کا دوبارہ انتخاب کیا گیا۔ ایس ای سی پی نے سٹاک ایکسچینج جیسے بڑے ہاتھی کو کنٹرول میں لاکر قوانین کے ماتحت چلایا۔ اس سے ملکی استحکام کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی وقار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔لیکن موجودہ اقدام بڑا ہی اہم ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ملکی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ حساباتی ماہرین جس قدر معیاری کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، اسی قدر ملک پر عوامی و بیرونی اعتبار بڑھے گا۔ اس اعتبار سے 1961 کے پرانے قانون کی تبدیلی ایک خوش آئند اقدام ہونے کے علاوہ ملک کو جدید ترین رجحانات پر ڈھالنے میں بھی ممد و معاون ہوگی۔ اس قانون سے حساباتی ماہرین کے کام کا دائرہ کار بھی بڑھ جائیگا۔ وہ محدود شراکت پر کام کرسکیں گے۔ اس قانون کے تحت لائسنس کا اجراء کیا جائیگا اور لائسنس رکھنے والا ہی 2017 کے کمپنی ایکٹ کے تحت حسابات کی جانچ پڑتال اور جائزہ خدمات فراہم کرسکے گا۔ اس قانون کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (آئی کیپ) مزید مستحکم ہوگا اور معیارات پر عمل درآمد کرواسکے گا۔ اس کے ساتھ ایک بورڈ بھی قائم کیا جائیگا۔ اکاؤنٹنٹ کی رجسٹریشن اور تربیت کیلئے ضروری دفعات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ کونسل کے کردار و افعال کے بارے میں ضروری ترامیم کی جارہی ہیں۔ کچھ غیر ضروری دفعات کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ اکاؤنٹنگ کیلئے معیاراتی بورڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ ڈسپلن بورد کا قیام بھی تجویز کیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ میں اپیل کیلئے اتھارٹی بھی قائم کی جائیگی۔ جرمانے کرنے کی تجویز بھی قانون میں موجود ہے۔ اس سے قبل بڑے اداروں اور اہم ماہرین کیلئے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ جسکی بناء پر بڑی مچھلیاں قانون سے بچ نکلتی تھیں۔ پاکستان میں کاروباری کمپنیاں اور بڑے ادارے کسی بھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ اس بناء پر ملک میں سرمایہ کاری کرنیوالوں کو یقین دلانا مشکل ہوتا تھا۔ سرمایہ کار اکثر سرمایہ ڈبو کر خالی ہاتھ چلے جاتے تھے۔

ان اقدامات اور قوانین کی بدولت امید ہے کہ حساباتی ماہرین معیارات کے مطابق کام کرتے ہوئے مالی معاملات میں شرعی و ماہرانہ اقدامات کیساتھ ملک کو جدید انداز میں ڈھالیں گے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر سفر کرنے کے قابل ہوسکے گا۔ اس کے سوا ایس ای سی پی نے شرعی قانون سازی بھی شروع ہے۔ اس کام میں کچھ معاملات میں یہ ادارہ بنک دولت پاکستان سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ مثال کے طور پر مارچ کی ابتداء میں شریعہ گورننس ریگولیشن کو عوامی مشورے کیلئے جاری کردیا گیا۔ 2017 کے کمپنیز ایکٹ میں بھی شریعہ کے مالیاتی احکامات کا ضروری ذکر موجود ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق اسلامی مالیاتی کمپنیاں بنانا عین ممکن ہی نہیں آسان ترین ہوچکا ہے۔ اس سے ملکی مالیاتی قوانین کے مطابق مالیاتی اداروں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے میں حقیقتا بڑی مدد ملے گی۔ موجودہ شریعہ گورننس کا اجراء ایک بڑے دائرے میں اسلامی قوانین کا اطلاق کرتا ہے۔ شریعہ گورننس ریگولیش سے یہ ادارہ عالمی ریگولیٹری اداروں کے برابر جاپہنچے گا۔ اس سے طویل مدتی پائیدار مالیاتی بازاروں کا انتظام آسان ہوجائیگا۔اسلامی مالیاتی نظام کیلئے مالیاتی تحفظ و تبادلہ کے ادارے ایس ای سی پی نے حسابات و آڈت کے عالمی اسلامی مالیاتی ادارے  Accounting and Auditing Organization for Islamic Financial Institutions (AAOIFI) کے دئیے گئے معیارات پر عملدرآمد کیلئے خاصی تگ و دو کی ہے۔ ذیل میں ان شرعی اقدامات کی تفصیل موجود ہے:

شرعی اقدامات سالIFAS 1 اسلامی مالیاتی معیار نمبر1: مرابحہ 2005 IFAS 2  اسلامی مالیاتی معیار نمبر 2: اجارہ 2007IFAS 3 اسلامی مالیاتی معیار نمبر3 : ڈپازٹ پر نفع نقصان کی بنیاد پر شراکت بارے 2013عوفی کے سات عدد عالمی معیارات اس سے قبل نافذ کئے گئے تھے۔ شرعی معیار نمبر 3: مقروض کی نا دھندگی۔ شرعی معیار نمبر 8: مرابحہ خریداری نامہ۔شرعی معیار نمبر 9: اجارہ و اجارہ منتہیہ بالتملیک۔شرعی معیار نمبر 13: مضاربہ 2016شرعی معیار نمبر 21: معاشی کاغذات (سکوک اور حصص) شرعی معیار نمبر 27: انڈیکس (INDICES)شرعی معیار نمبر 30: تورق و کرنسی (MONETIZATION) شرعی معیار نمبر 44: لیکویڈیٹی کی وصولی و تبادلہشرعی معیار نمبر 45: سرمائے اور سرمایہ کاری کا تحفظ شرعی معیار نمبر 46: سرمایہ کاری کی وکالت (INVESTMENT AGENCY) شرعی معیار نمبر 53: عربون۔ (EARNEST MONEY)   اپریل 2018

پاکستان آج سے نہیں پہلے دن سے اسلامی مالیاتی نظام پر کام کرنے کیلئے تیار تھا۔ یہ اسلامی مالیاتی نظام ملکی مقاصد و عالمی قانون کے عین مطابق ہیں۔ ایسا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں خاصی دیر ہوئی جسکی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن آج جب قوم اس پٹڑی پر چڑھ چکی ہے تو اسے پھر سے صفر سے آغاز کروانے کی عظیم غلطی سے بچنا عوامی، ملکی، عالمی و اسلامی اداروں کی صحت کیلئے شین شرافت کا عین معیار ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: