کیا ودہولڈنگ ٹیکس ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچا سکے گا؟ نعمان علی خان

0
  • 59
    Shares

حضور مفادِ عامہ کے حق میں صرف ۱۰۰ روپے کے بدلے ۱۰۰ روپے کا بیلنس دلوا دینا ہی کوئی کارنامہ نہیں۔ مجھ سے اب تک جو ناجائز ٹیکس وصول کیا گیا ہے وہ سب واپس دلوایا جائے۔

میں اپنے خون پسینے کی جو کمائی بنک میں جمع کرواتا ہوں اس میں سے اگرچند ہزار بھی نکلوانا پڑیں تو ودہولڈنگ ٹیکس دئیے بغیر نہیں نکلوا سکتا۔ یکم رمضان سے اگر ایک دن پہلے بھی میں نے رقم اکاٰونٹ میں جمع کروائی ہو تو دوسرے دن ایک ناجائز زکوٰۃ اس رقم پر میرے اکاوٰنٹ سے کاٹ لی جائے گی؟ قبلہ معلوم کروائیے کہ یہ کون سا شرع ہے جس کی رو سے رقم اکاوٰنٹ میں ایک سال پورا نہ بھی کرے تب بھی قابلِ زکوٰۃ ہو جاتی ہے؟ اسلام کو بدنام ملا حضرات کررہے ہیں یا یہ ریاستی انتظامیہ؟ اورایسی ظالم اور خود غرض حکومتوں کو میں کیوں زکوٰۃ دوں جن کے انتخابات، اندرون و بیرونِ ملک دوروں اور میڈیکل کی سہولیات اور پارلیمنٹ لاجز کی عیاشیوں پر میرے خون پسینے کی کمائیاں صرف ہوتی ہیں؟ یہ جو اسلامی بنکوں کی بچت سکیمیں ہیں جن میں لوگ اپنی پنشن یا شادیوں کے زیور بیچ کر رقوم جمع کراتے ہیں کہ کچھ آمدنی ہو اور ماہانہ اخراجات پورے ہوں، یہ حرام خور انتظامیہ اس آمدنی میں سے بھی ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کے نام پر زیادہ بڑا حصہ لے اڑتی ہے؛ حضور کیا آپ کے علم میں یہ باتیں بھی وہی موبائل فون ٹیکس کی سوشل میڈیا کیمپین والے ہی لائیں گے تو تب ہی آپ کو علم ہوگا اورتب ہی آپ عدل و انصاف کے جھنڈے گاڑیں گے؟

جو حکومت مجھے ہر قدم پر ٹیکس لینے کے باوجود ایک ٹکے کے برابر بھی روزگار، ھیلتھ کئیر، اور دوسری بنیادی ضروریا ت مہیا نہیں کرتی اسے آپ نے یہ حق کیسے دیا ہوا ہے کہ وہ میرے خون پسینے کی حلال کمائی پر ناجائز ٹیکس کے ذریعئےڈکیتی کرے؟

جناب معلوم کروائیے کہ اس قوم کو ٹیکس فائلر اور نان فائلر میں کیوں تقسیم کیا گیا ہے؟ پاکستان کا ہر وہ شہری جو ایک وقت کی بھی روٹی خرید کر کھاتا ہے یا وہ این ایچ اے کی سڑک پر سال میں ایک دفعہ تیس روپے ٹول پلازہ پر دے کر گذرا ہے وہ ڈائریکٹ یا انڈائریکٹ ٹیکس پئیر ہے۔ یہ انتظامیہ اسے فائلر کیوں نہیں بناتی؟ اور فائلر ہونے کے “فوائد” سے اسے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟ کمال ہے جو لوگ اپنا ٹیکس پورا دے رہے ہیں وہ کسی گنتی میں نہیں اور جو اپنی فاضل آمدنی کو ٹیکس سے بچاتے ہیں ان کو مراعات کے پیکیج دئیے جارہے ہیں؟

حضور معلوم کیجئیے کہ اِس ملک کو کہیں یونان یا ارجنٹائین کی طرح دیوالیہ کروانے کی سازش تو نہیں ہورہی؟ اور کیا غریبوں پر یہ غیر نصابی ظالمانہ ٹیکسز بھی ہمیں دیوالیہ ہونے سے نہیں بچا پائیں گے؟

جنابِ عالی، ہوں گے انتخابات اِس وقت آپ کی، مغربی ممالک اور سٹیبلشمنٹ کی ترجیح لیکن پاکستانی قوم کی اصل ترجیح اس وقت انتخابات کا انعقاد نہیں بلکہ ان کے بحیثیت شہری وہ بنیادی ضروریات کے حقوق ہیں جو اس ملک کے آئین میں ریاست کے فرائض کے طور پردرج ہیں لیکن جن کو عملی طور ہمارے سیاسی اشرافیائی نظام نے مفلوج اور معطل کیا ہوا ہے۔ حضورِ اعلیٰ معلوم کروائیے کہ پاکستانیوں سے دراصل براہ راست اور باالواسطہ کل کتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، بیت المال، اقرا سرچارج، زکوٰۃ وغیرہ کی مدوں سمیت سرکار کو جو آمدنی ہوتی ہے اس سب کا حساب عوام کے سامنے لایا جائے۔ اور واضع طور پر بتایا جائے کہ اتنا ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عوام کو ھیلتھ کئیر کی معیاری سہولت کیوں نہیں میسر؟ انہیں روٹی کپڑا مکان اور تعلیم کیلئیے کیوں ترسایا جارہا ہے؟ عوام کی سیکیورٹی اور سوشل سیکیورٹی کیلئِے کیا کیا گیا ہے؟ آرٹیکل 29-سی، 37 اور 38 وغیرہ پر کیا عمل ہورہا ہے؟ معلوم کروائیں کہ کیا آئین کے اِن حصوں پر عملدرآمد نہ ہونا کسی خاموش مگر منظم سازش کا حصہ تو نہیں؟ اور اگر یہ سازش ہے تو آرٹیکل 6 کے باوجود آئین کو معطل کرنا ان لوگوں کیلئیے اتنا سہل کیوں ہے؟

صرف ایک دو بندوں کو سیاسی عہدوں کیلئِے نااہل قرار دلوا دینا کوئی عدل انصاف نہیں۔ جس کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے اس کرپشن کی جس قدر رقم ملک سے باہر گئی ہے، اس کا درست حساب عوام کوبتایا جائے اور وہ ساری رقم واپس لاکر ملک پرواجب تمام قرض اتارا جائے اوراسے عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔

عوام کو بتایا جائے یہ اگلے ماہ ہونے والے الیکشن انہیں کتنے میں پڑیں گے؛ جتنے میں بھی پڑیں مگر وہ ساری رقم سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں ہی سے وصول کی جائے اور اسے عوام کے فوری روٹی روزی کے مسائل حل کرنے پر صرف کیا جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: