کیا ہم حقیقی اسلامی جمہوری نظام کا حصہ ہیں؟ — نعمان کاکا خیل

0
  • 98
    Shares

ارتقاء نوعِ انسانی کے وقت انسان غاروں کے اندر زندگی بسر کرتے تھے۔ جہاں کسی نظام، کسی میونسپل کمیٹی یا پھر کسی قانون کی ضرورت نہیں تھی۔ ارتقائی دور سے تمدن کی طرف سفر کے دوران انسان کئی مختلف ادوار سے گزرا۔ آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل قبائلی نظام وجود میں آیا جب قبیلے کا تصور متعارف ہوا۔قبائلی نظام کے تحت انسان پابند ہو گیا کہ اپنے قبیلے کے رسم و رواج کو اپنائے اور اس کے اوپر عمل پیرا ہو۔
آگے بڑھتے ہوئے یہ سفر ایک شہری ریاست کی شکل اختیار کر گیا جہاں مختلف قبائل ایک ساتھ ایک علاقے یا شہر کے اندر آباد ہو کر گزر بسر کرنے لگے۔ لہذا کچھ اصول اور قوائد بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ انسانی زندگی کے اوپر قدغن کی پہلی سیڑھی تھی جہاں ایک قبیلے کو دوسرے قبیلے کے اوپر فوقیت حاصل تھی۔ جس کی مثال دور رسالت سے قبل مدینہ شہر کی شکل میں موجود تھی جب مدینہ کے اندر پانچ قبائل، اوس، خزرج، بنو قینقاع، بنو قریضہ اور بنو نذیر آباد تھے۔اوس و خزرج مدینہ کے مقامی قبائل تھے جو عرصہ دراز سے وہاں آباد تھے اور جس کو ـــ عرب العرباء کہا جاتا تھا۔ یہاں خزرجی قبیلے کے خون کو اوسی قبیلے کے اوپرتین گنا فوقیت حاصل تھی۔ گویا کہ یہ ایک امتیازی سلوک کے اوپر منحصر ایک استبدادی نظام تھا۔

یہ سلسلہ آگے بڑھتے ہوئے ریاستی شکل اختیار کر گیا جہاں بادشاہ مملکت جابرانہ نظام کے تحت اپنے رعایا کے خون پسینے کی کمائی کو ٹیکس کی شکل میں وصول کرتا۔ اس نظام کی بد ترین شکل مغربی علاقوں اور یورپ کے اندر موجود تھی جہاں ملک کی جوان دوشیزائیں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے بادشاہ سلامت کے دربار میں شب گزارتی تھیںاور جس کو شادی کے لئے ایک ضروری قانون کی حیثیت حاصل تھی۔ گویا کہ یہ نظام جابرانہ اور استحصالی نظام کا ایک نمونہ تھا۔

قریباً دو سو سال قبل سیاسی و سماجی و اقتصادی نظام (Socio-politico-economic system)کے تحت انسان کو گویا مزید جکڑ ا گیا۔کچھ جگہوں پر اس نظام کے اندر پچھلے دور کے تینوں عنصر یعنی استبدادی، جبری و استحصالی عنصر کسی نا کسی شکل میں موجودتھے۔ کچھ ہی عرصہ قبل دنیا کے اندر ایک ہی نظام (One World order)کے حوالے سے کوششوں کی عملی شکل کسی نا کسی درجے میں دکھائی دینے لگی ہے جس کے تحت انسانوں کی آزادی مکمل طور پر چھین لی گئی ہے۔ انسان خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہائش پذیر ہو یا کسی بھی ملک کا رہائشی ہو لیکن وہ اس نظام کے اثرات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہو رہا ہے۔ لہذا اس نظام کے اندر اگر استحصال ہوگا توکسی ایک انسان کے لئے بھی اس کے نرغے اور پنجے سے خلاصی ممکن نہیں ہے۔ انسان کا دل کرے یا نا کرے لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قوائد و ضوابط کے اوپر عمل پیرا ہو کر اور اس کو ماننا پڑے گا۔ اس سے قطع نظر کہ آیا وہ اصول اُس کے نظریات وعقائداور ملکی روایات کے ساتھ ہم آہنگی اور مطابقت رکھتے ہیں یا کہ نہیں۔

دور رسالت کے بعد چشم فلک نے وہ دور بھی دیکھا جب فارس سے ایک سفیر امیرالمومین عمر فاروق رضی اللہ عنہہ سے ملاقات کی خاطر آیا اور جب دریافت کیا گیا تو بتایا گیا کہ ــبیت المال کے کچھ اونٹ گھم ہوئے ہیں جس کو ڈھونڈنے امیر المومنین نکلے ہیں۔ یہ وہ خلیفہ تھے جن کے نام سے بڑے بڑے بادشاہوں کے ایوان تھرا جاتے تھے۔ امیر لمومنین کو ایک جھاڑی کے سائے میں ٹیک لگا دیکھ کر سفیر نے کہا کہ اے عمر! تم نے انصاف قائم کیا ہے اس لئے بلا خوف خطر زندگی گزار رہے ہو۔ ہمارے بادشاہ ظالم و جابر ہیں اس لئے اونچی فصیلوں، بلند و بالا و عالی شان عمارتوں اور محافظین کے حصار میں بھی خوف کے عالم میں رہتے ہیں۔

تاریخ کا نقشہ پیش کرنے کے پیچھے غرض و غایت صرف اور صرف محاسبہ تھا۔ 14 اگست 1947 کو زمین کا یہ ٹکڑا مملکت خداداد کی صورت میں ہمیں ملا۔ جہاں دنیا کو ایک مثالی نظام دینے کا ایک سنہری موقع مالک کائنات نے ہمیں عطا کیا۔ نام کے حد تک تو شائد اس کا حق کسی نا کسی درجے کے اندر ادا ہو گیا ہو لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اس اسلامی جمہوری ملک کے اندر اسلام اور جمہوریت کس حد تک عملی شکل کے اندر موجود ہے؟ آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود نام کووجود بخشنے اندر ترقی اور تگ و دو کتنی ہوئی ہے؟ کیا ہم جبر، استبداد، استحصال اور امتیازی سلوک کے مکمل خاتمے کے اندر کامیا ب ہوئے ہیں؟ کیا ہمارے سیاسی نعروں اور منشور کے اندر اس حوالے سے کوئی عنصر موجود ہے؟ کیا ہمیں لسانی، صوبائی،فرقہ وارانہ اور خاندانی چُنگل سے آزادی نصیب ہوئی ہے؟ کیا اس مملکت کے اندر ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق حاصل ہیں اور کیا ہر شہری کی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نہیں ہے تو پھر وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ہم خود کو اس قابل بنائیں کہ اس تمام مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی کے ساتھ سعی کریں۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ زبانی کلامی نعروں، ذاتی مفادات اور ہیینج ٹانگ کے ماحول سے نکل کرتخلیق ِ پاکستان کے بانیوں اور سرکردہ رہنماؤں کے خوا ب کو شرمندۂ تعبیر کریں۔ اور اس گلشن کے لئے جانوں اور عزتوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں اور ملک کی سرحدوں کو اپنے خون سے کھینچنے والو ں کے ساتھ وفا کر کے ملکی حدودِ گلشن کی تجدید کرکے اس کو مثالی ریاست کا نمونہ بنائیں۔


محمد نعمان کاکا خیل کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر جب کہ یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: