عید کہانیاں ——- اے وسیم خٹک

0
  • 5
    Shares

یوں تو ہر گھرکی الگ الگ کہانی ہوتی ہے مگر جوں ہی رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے لگتا ہے عید کے لئے نئی نئی کہانیاں ہر گھر میں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ کہانیاں ماں باپ، بہن، بھائی، بیوی، بیٹوں اور بیٹیوں کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ مسلم خاندانوں میں عید کے لئے بس ایک جیسی کہانیاں ہوتی ہیں۔ پھر پاکستانی معاشرے میں پنپنے والی کہانیاں ایک جیسا رنگ رکھتی ہے۔ کہانیاں کہانیاں کہاں ہوتی ہیں۔ چلتی پھرتی معاشرے کی عکاس ہوتی ہیں جس میں معاشرے کی اچھائی اور برائی پیش کی جاتی ہے۔ نئے نئے چہرے دکھائے جاتے ہیں۔ تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں اور سبق حاصل کرسکیں مگر پھر بھی رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور کہانی بن جاتی ہے۔ آج کہ کہانیاں بھی چلتی پھرتی کہانیاں ہیں مگر ساری کہانیاں عید سے متعلق ہیں۔ جس میں ایک جگہ خوشی ہے تو دوسری جگہ غم ہے۔

پہلی کہانی ایک فوجی کے گھر کی ہے جو سرحد پر جنگ لڑنے گیا ہے اور بہت مشکل سے اُسے چھٹی ملی ہے۔ اور یہ چھٹی اُس کے لئے اس لئے باعث افتخار ہے کہ اس کے بیٹے کی سالگرہ عید کے دن پر آتی ہے اور وہ گزشتہ سات مہینوں سے سرحد پر ملک دشمن عناصر کے ساتھ گھتم گتھا ہے۔ اُس کا بیٹا اعجاز عید کے چاند سے زیادہ اپنے والد کے لئے خوش ہے کہ وہ وعدے مطابق سالگرہ منانے آئے گا، وہ بڑے چاؤ سے دل میں سوچ رہاہے کہ جب والد آئیں گے تو وہ کسی فوجی کی طرح بڑے فخر سے سیلوٹ کر کے خوشی کا اظہار کرے گا مگر عید سے کچھ روز قبل ہی اسے اطلاع ملتی ہے کہ سب کی چھٹی کینسل ہوگئی ہیں کیونکہ سرحد پر حالات خراب ہیں اور یوں سب خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں اور پھر عید اور سالگرہ کی مبارکباد صرف فون پر ہی دی جاتی ہے۔

دوسرا گھر ایک بزنس مین کا ہے جس کے بچے اپنے والد کے لئے انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ فارن ٹرپ سے آتے ہوئے آئی پیڈ لے کر آئیں گے۔ اور یوں اُن کی عید خوشگوار ہوجائے گی۔ باپ بھی سارے کام نمٹا کر عید منانے کے لئے وطن جانے کی تیاری میں ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے ملک میں بزنس سنبھالنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ٹکٹ وغیرہ سب اوکے ہوتے ہیں کہ اسے اطلاع ملتی ہے کہ اس کے بزنس پارٹنر نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ وہ گھر فون کرتا ہے کہ عید کے بعد واپسی ہوگی۔ بیوی اور بچوں کی فرمائش ہوتی ہے کہ وہ تحفے بجھوادیں خیر ہے آپ عید کے بعد آجائیں۔

تیسری عید کہانی مستری اکرام کی ہے جس کے بچے بہت خوش ہوتے ہیں کہ والد صاحب نے ان سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ اس سال اُن کے لئے نئے جوتے اور نئے کپڑے جبکہ کچھ کھلونے بھی خرید ے جاسکتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اسے کافی کام ملا تھا۔ جو کہ روزوں کی برکت تھی۔ وہ سرپرائز دینے کے لئے بچوں سے دور دور رہتا تھا کہ چاند رات پر انہیں خوش کروں گا۔ بچوں کی عید چاند رات پر ہی ہوجائے گی۔ اکرام صاحب یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اس دفعہ بچے بہت خوش ہوں گے جب وہ نئے نئے بینک کے نوٹ دیکھیں گے۔ اس سے بچوں کی خوشی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

اگلی کہانی ایک زمیندار کے ساتھ کام کرنے والے مزدور کی ہے جس کے بچے رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے سے ہی اپنے لئے عید کے جوڑوں کے لئے انتظار میں ہوتے ہیں اور سب بچے آپس میں لڑتے ہیں کہ اس سال سوٹ کی باری اُسکی ہے کیونکہ پچھلے سال عید پر چھوٹے کے کپڑے بنے تھے۔ مگر مزدور اس سوچ میں غلطاں ہوتا ہے کہ ساب سے کچھ ادھار لیا جائے تو عید ہو ورنہ یہ عید بھی یوں ہی گزر جائے گی۔ اور صرف ہمسایوں کے گھر سے کچھ لذیز کھانے کو آئے گا تو عید ہوجائے گی۔

آخری کہانی ایک صحافی کی ہے جو ایک غریب کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اور اسکی آواز کو بڑے ایوانوں تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ کیونکہ انصاف پہنچانا ہی مقصد ہوتا ہے۔ رات ایک سیاسی افطاری میں ایک سیاست دان کو کھری کھری سنادیتا ہے۔ اور اپنے صحافی دوستوں میں اپنی دھاک بیٹھادیتا ہے۔ ہوٹل سے واپسی کے بعد جب سٹوری فائل کرکے نکل جاتا ہے تو بیوی کی کال آتی ہے۔ عید میں تین دن رہ گئے ہیں بچوں کے لئے کوئی خریداری نہیں ہوئی۔ کیا آپ کی تنخواہ آگئی ہے۔ وہ اے ٹی ایم مشین چلا جاتا ہے۔ کئی بار کوشش کرتا ہے مگر اُسے جواب آتا ہے کہ سیلری ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ وہ ایک دوست کو فون کرتا ہے، وہ بھی یہی رونا روتا ہے کہ دوسروں کے لئے مسیحا کا روپ دھارنے والے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ وہیں پر دو موٹی موٹی گالیاں سسٹم اور چینل کے مالک کو دے کر گھر واپسی ہوتی ہے۔ بیوی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ سال بھی سہیلی سے قرض لے کر عید منائی جائے گی۔

یہ کہانیاں لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم جو عید منارہے ہیں کیا ہمیں یہ عید منانے کا حق ہے؟ اگر پڑوس میں کوئی غریب ہے تو خدارا اُس کی مدد کریں اِس سے پہلے کے چاند نکل آئے۔ مسجد کی تعمیر سے پہلے پڑو س کے چالیس مکانات کی تعمیر ہے مطلب اگر کوئی پڑوس میں بھوکا ہے اور آپ کے پاس سال بھر کا غلہ موجود ہے تو روز حشر حکمرانوں سے پہلے تمھیں سزا ہوگی۔ اگر معاشرے میں کوئی غریب ہے تو یہ اس کی سزا نہیں بلکہ یہ تمھاری سزا ہے اور اسکی غربت میں میں میرا اور آپ کا کردار ہے اس کی غربت کی وجہ ہم ہیں جو اُس کی نسل در نسل کو غریب رکھے ہوئے ہیں۔ عید سے پہلے کوئی سفید داڑھی والا ضعیف آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو اِس بڑی قیامت کوئی نہیں ہے شہر میں کسی غریب کے بچے بھوک سے مر رہے ہوں اور وہ بے بس آپ کو کھاتا دیکھیں تو اِس سے بڑی قیامت کوئی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: