آخر عمران خان کی حمایت کیوں؟ — حمزہ سید

0
  • 43
    Shares

میں عمران خان صاحب کی حمایت جن وجوہات کی بنیاد پر کرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

1 : نظام کی درستگی کی بات:
خان صاحب کو سپورٹ کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد سیاست دان ہے جو پاکستان میں نظام کی درستگی کی بات کرتا ہے۔ ہمارے مسائل کی بڑی وجہ نظام کی خرابی ہے۔ ریاست کی کہیں رٹ نظر نہیں آ رہی صرف بجلی کی مثال لے لیجیے کہ پاکستان میں بڑی تعداد بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتی جس کا نقصان یہ ہے کہ حکومت کے پاس مطلوبہ رقم جمع نہیں ہوتی جو وہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو دے چناچہ وہ ہمارے ٹیکسوں سے جمع شدہ سرمایہ نجی کمپنیوں کے حوالے کرتی ہے۔ اسی طرح نظام شفاف نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے۔ جتنے بھی بھی سرکاری ادارے ہیں سب خسارے میں ہیں۔ اندرون سندھ، بلوچستان اور بعض دوسری جگہوں پر سرکاری سکول بند پڑے ہیں۔ ریاستی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی چودھری اور وڈیرے دانستہ طور پر تعلیم کا دروازہ غریبوں پر بند رکھتے ہیں تاکہ یہ کبھی باشعور نہ ہو سکیں اور نسل در نسل ہمارے غلام رہیں۔ روایتی سیاسی جماعتیں بھی ایسے باثر افراد سے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نہیں چھیڑتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی افسوسناک ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری روایتی سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں ان میں سے ایک چیز بھی نہیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جو میں نے نظام کی خرابی کے حوالے سے دی ہیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ جب تک ریاستی ڈھانچہ درست نہیں ہوتا، قانون کی بالادستی نہیں ہوتی تب تک کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی بے شک حکومت جتنا بھی کام کرے۔ عمران خان نے محدود سطح پر ہی سہی لیکن خیبر پختونخواہ میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کر کے اپنی ترجیحات کا اظہار کیا ہے۔

2:  بلند ہمتی اور بلند فکری:
دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں بعض لوگ کم ہمت ہوتے ہیں اور بعض باحوصلہ اور عالی ہمت۔ عمران خان کی پوری زندگی اور سیاسی جدوجہد اس پر شاہد ہے کہ یہ بلند ہمت آدمی ہے۔ باقی سیاست دانوں کی سوچ محدود ہے وہ بس اپنی سیٹ پکی کرنے کے لیے کام کرتے ہیں لیکن خان صاحب ملکی اور بین الاقوامی سطح کی سوچ رکھتے ہیں اور وہ ایک عرصہ ترقی یافتہ ممالک میں رہے ہیں، بڑی جہاندیدہ سردگرم چشیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ ایسے لوگ ہی اپنی اقوام کو آگے لے جاتے ہیں۔ جو لوگ لوکل سطح کی سوچ رکھتے وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ خان صاحب میں وہ چنگاری نظر آتی ہے جو طیب اردگان جیسے لوگوں میں ہے جنہوں نے ترکی کے فرسودہ نظام کا پورا رخ بدل کر اسے اقوام عالم میں ایک باعزت مقام دلوایا۔

3 : مذہب سے دلچسپی اور اعلی سطحی فکر:
تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مرکزی سیاست دانوں میں یہ واحد سیاست دان ہے جو مذہب سے گہری دلچسپی کے ساتھ ساتھ اعلی سطحی فکر بھی رکھتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ مذہبی جماعتوں نے اپنی سیاست کی خاطر عمران خان کو یہودی ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ کہا لیکن جو لوگ پروپیگنڈہ کی فضاء سے بلند ہو کر دیکھیں گے انہیں صاف نظر آئے گا کہ یہی وہ واحد سیاست دان ہے جس نے بارہا دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے بڑی سنجیدگی سے گفتگو کی ہے ۔ دیسی لبرل مولانا فضل الرحمن صاحب سے خوش ہیں اور عمران خان کے مخالف اس میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن صاحب خود روشن خیال ہیں لیکن اپنے کارکنوں کو تاریکی میں رکھتے ہیں اور ہمیشہ انہیں سازشی تھیوریوں کی پیچھے لگائے رکھتے ہیں جو ہہت بڑا جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر ان کے کارکنوں کو منتقل نہ ہو سکی۔ سب سے زیادہ کنفیوز کارکن جے یو آئی کے ہیں۔ مولانا نے شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ اہل مدارس کبھی قومی دھارے میں شامل نہ ہوں اس لیے کہ یہ اگر قومی دھارے میں شامل ہوئے تو مولانا کا منجن پھر نہیں بکے گا۔ مولانا نے حکومتوں سے جو چاہا لیا لیکن علماء کرام کے بارہا مطالبے کے باوجود آج تک مدارس کے طلباء کی اسناد کو وہ مقام نہ دلوایا جس کے وہ مستحق تھے۔ HEC کی طرف سے ایک مساوی سرٹیفکیٹ ملتا ہے جس میں نمبرات تک نہیں ہوتے۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف عمران خان وہ شخص ہے جو مولانا کی بلیک میلنگ سے بچ کر براہ راست اہل مدارس سے رابطہ کر کے کوئی حل نکال سکتا ہے ورنہ باقی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے مولانا نے مدارس کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ بعض مدارس سے مولانا ناراض بھی ہوئے جنہوں نے براہ راست حکومتی لوگوں سے رابطہ کیا۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

 

الیکٹ ایبلز کا مسئلہ:
آخر میں الیکٹ ایبلز کے حوالے سے عرض ہے کہ میرے نزدیک الیکٹ ایبلز عمران خان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ الیکٹ ایبلز کو مقامی سیاست سے دلچسپی ہوتی ہے اور انہیں اپنے فنڈز سے غرض ہوتی۔ باقی جو بڑے منصوبے ہیں اور نظام کی بہتری کے لیے جو قانون سازی ہو گی اس سے ان الیکٹ ایبلز کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا انہوں نے بس ووٹ ڈالنا ہوتا۔ کام قیادت نے کرنے ہوتے ہیں اور قیادت ہی اپنی جماعت کی سمت متعین کرتی ہے۔ ۔ ویسے بھی اہم وزراتیں اسی ٹیم کے پاس ہوں گی جو اس وقت خیبر پختونخواہ میں ہے یا پھر ایک طویل عرصے سے تحریک انصاف میں ہیں۔

میرا ماننا یہ ہے کہ مسئلہ تحریک انصاف یا عمران خان میں نہیں ہے مسئلہ ہمارے معاشرے کا ہے۔ ہمارا معاشرہ پسماندہ ہے اس لیے یہاں تحریک انصاف جیسی اصولی اور روشن خیال جماعتوں کے لیے کامیابی مشکل ہے اگر وہ الیکٹ ایبلز کا سہارا نہ لیں ۔ ترکی میں طیب اردگان کامیاب ہوا ایک شہر کی کارگردگی پر لیکن یہاں اگر کوئی سیاست دان ایک شہر کیا ایک صوبے میں بھی کارگردگی دکھائے تب بھی کامیاب نہیں ہو سکتا اس لیے کہ ہمارا معاشرہ اپنی اصل میں ترکی کی طرح جدت پسند نہیں بلکہ پسماندہ ہے۔ مصر میں جماعت اسلامی طرز کی جماعت اخوان المسلمین کامیاب ہو جاتی ہے لیکن یہاں جماعت اسلامی ناکام رہتی ہے وجہ وہی پے کہ ہمارا معاشرہ مصر کی طرح جدت پسند نہیں کہ یہاں جماعت اسلامی جیسی ماڈرن اسلامی جماعت کامیاب ہو۔ ہمارے معاشرے پر دیہاتی ایلیٹ کا قبضہ ہے اور شہری آبادی بھی اپنے مسائل کے لیے دیہاتی ایلیٹ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ مسئلہ تحریک انصاف یا جماعت اسلامی میں نہیں مسئلہ سماج میں ہے۔ میرا ماننا یہ پے کہ جوں جوں دیہاتوں سے شہروں کی طرف آبادی منتقل ہو گی اور شہروں پر سے دیہاتی ایلیٹ کا اثر و رسوخ ختم ہو گا توں توں جماعت اسلامی کے ووٹوں میں اضافہ ہوتا جائے گا بشرطیکہ جماعت اسلامی جمعیت علماء اسلام کی طرح روایتی سیاست نہ کرے بلکہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تحریک انصاف الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ نہ دیتی وہ اپنے تمام تر خوبیوں کے باوجود ناکام ہو جاتی وجہ وہی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس سطح پر نہیں کہ تحریک انصاف یہاں پر ترقی یافتہ ممالک کی طرح خالص اصولی سیاست کر کے اقتدار حاصل کر سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: