پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کرلیا؟ — قسط 2 —- محمد ندیم سرور

0
  • 42
    Shares

آنے والے انتخابات کے تناظر میں، پی ٹی آئی کی خیبر پختون خواہ کی حکومت کی کارکردگی کے جائزہ پہ مشتمل مضامین کی یہ سیریز ندیم سرور صاحب دانش کے قارئین کے لئے خصوصی طور پہ لکھ رہے ہیں۔
زیر نظر تحریر اس سلسلہ کا دوسرا مضمون ہے۔ پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔


پاکستان تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت کی صحت کے شعبے میں کارکردگی پر ہیرلڈ اور ایس ڈی پی آئی پاکستان کے کرائے گئے عوامی سروے کے نتائج پر قسط 1 میں بات کی تھی، اس سروے میں عوام نے صوبے کو صحت نے نظام میں نمبر ون قرار دیا تھا۔ ہمارے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ آخر دہشت گردی سے تباہ حال صوبے میں پی ٹی آئی نے ایسا کیا کیا کہ اس نے مستحکم صوبوں میں مسلسل دو باریاں لینے والی دونوں سیاسی جماعتوں، مرکزی حکومت اور خاص کر گورننس اور کارکردگی کے حوالے سے مشہور صوبہ پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ لیںے سے ہمیں مضبوط سول اداروں کے قیام کا عمل سمجھنے میں مدد ملے گی جو کہ پائیدار ترقی اور مضبوط جمہوریت کےلیے بنیادی قدم ہے۔

خیبر پختونخواہ حکومت نے ایک تو روایت سے ہٹ کر یہ کام کیا کہ اپنے نام کی تختیاں لگانے کے چکر میں دھڑا دھڑ نئے منصوبے شروع کرنے کی بجائے اپنی زیادہ توجہ پہلے سے موجود سیٹ اپ کو بہتر کرنے اور موجود سہولیات کو اپ گریڈ کرنے پر صرف کی۔ سب سے پہلے تو تمام بڑے ہسپتالوں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرتے ہوئے پروفیشنل بورڈز کے زیرانتظام لایا گیا اور ان بورڈ زکو ہسپتالوں کے مالی و انتظامی معاملات میں مکمل آزادی دی گئی۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا، صوبائی بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں نے بھی اس کام میں بہت روڑے اٹکائے کیونکہ نئے ایکٹ کے تحت، ڈاکٹرز سرکاری نہیں بلکہ ہسپتال کے ملازم تھے، انہیں ہسپتالوں میں پوری ڈیوٹی دینا تھی، پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی اور مریضوں سے ڈاکٹرز اور سٹاف کے رویے سے متعلق مسلسل معلومات لینے اور اس معلومات کی بنیاد پر مراعات میں اضافے یا کمی، حتیٰ کہ نوکری سے برخاستگی سے متعلق فیصلہ کرنے کا پورا نظام وضع کیا گیا۔ اپنے پیشے سے مخلص ڈاکٹروں کے لیے اس نظام میں بڑی کشش ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد نے جہاں اس نظام کو سراہا وہیں سفید کوٹ میں چھپی کالی بھیڑوں کو اس سے بہت تکلیف بھی ہوئی اور ہڑتالوں سے لیکر کورٹ کچہری تک، انہوں نے اس نظام کے خلاف دن رات کوششیں کی۔ اس سے نئے سسٹم کو نافذ کرنے میں تاخیر تو ہوئی مگر اللہ کے فضل سے یہ نظام نہ صرف نافذ ہوا بلکہ اب اس کے ثمرات بھی آنے شروع ہوگئے ہیں۔ اسی نئے ایکٹ کی بدولت لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بہت جلد نئے میڈیکل بلاکس بنے، نئی مشینری خریدی گئی، انتظامات بہتر ہوئے اور ڈاکٹروں کی حاضری، رویئے اور میڈیکل سروس  کی فراہمی میں نمایاں بہتری ہوئی۔

خیبر پختونخواہ حکومت نے ایک تو روایت سے ہٹ کر یہ کام کیا کہ اپنے نام کی تختیاں لگانے کے چکر میں دھڑا دھڑ نئے منصوبے شروع کرنے کی بجائے اپنی زیادہ توجہ پہلے سے موجود سیٹ اپ کو بہتر کرنے اور موجود سہولیات کو اپ گریڈ کرنے پر صرف کی۔

پہلے سے موجود ہسپتالوں میں سہولیات کا اضافہ کرنے، انہیں بہتر بنانے اور انکی استعداد کار پر مزید کام کرتے ہوئے ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ مختلف سطح کے دیگر ہسپتالوں میں گزشتہ پانچ سالوں میں 2085 بیڈز کا اضافہ کیا گیا، قریباً 13 ارب کی لاگت سے تمام مکمل شدہ ہسپتالوں کے لیے BP سیٹ سے لے کر MRI Machines, CT Scan اور کیتھ لیب تک کے آلات خریدے گئے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی صوبے کی حکومت کی طرف سے ہسپتالوں کےلیے ضروری آلات کی خریداری اتنی بڑی تعداد میں کبھی نہیں کی گئی۔ آلات اور ادویات کی خریداری میں کوالٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کےلیے 2016 میں پروکیورمنٹ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے یہ سب کام اتنے شفاف انداز میں کیا کہ آج تک کسی طرف سے انگلی اٹھنا تو دور کی بات، پنجاب کی نسبت مختلف ادویات 10 سے 70 فیصد تک سستی خریدنے کی خبریں قومی میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔ انہی خطوط پر کام کرتے ہوئے ان پانچ سالوں میں ہسپتالوں میں افرادی قوت کی کمی پورا کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی جس کا جائزہ اس جدول میں پیش کیا گیا ہے۔

افرادی قوت میں کمی کی ایک وجہ سرکاری شعبے میں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کی تنخواہوں کا پرائیویٹ سیکٹر سے کم ہونا تھی جس کی وجہ سے آئے روز عملہ سرکاری ہسپتاولوں سے پرائیویٹ کی طرف رخ کررہا تھا اور دور دراز کے علاقوں میں یہ مسئلہ نسبتاً زیادہ سنگین تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بنیادی قدم اٹھاتے ہوئے ڈاکڑوں اور سٹاف کے معاوضے میں واضح اضافہ کیا گیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

تنخواہوں اور مراعات میں اس بے مثال اضافے کے ساتھ ساتھ سپیشلسٹس، میڈیکل افسران اور ڈینٹل سرجنز کےلیے تین اور چار درجاتی فارمولے پر نظرثانی کرکے انکا درینہ مطالبہ پورا کردیا۔ ان اقدامات کی بدولت دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں اور عملے کی تنخواہوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوا یوں تمام صوبے کے تمام علاقوں میں ڈاکٹرز اور عملے کی عدم موجودگی کا مسئلہ بہت اچھے طریقے سے حل ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ یونین کونسل کی سطح تک صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے عوام کو سب سے کم شکایات صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہیں۔

مختلف سطح پر پہلے سے موجود سہولیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مختلف سطح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ، مالاکنڈ، صوابی، شانگلہ، نوشہرہ، ڈی آئی خان، ڈاگ اور پشاور سمیت سارے صوبے میں متعدد نئے منصوبے بھی شروع کیے گئے جن میں سے زیادہ تر مکمل ہوگئے ہیں جبکہ کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں اور آنے والے چند ماہ میں مکمل ہوجائیں گے جس سے مریضوں کے لیے موجود بیڈز کی تعداد میں 2626 کا مزید اضافہ ہوجائے گا۔

آخر میں ایک اور اہم بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں میڈیکل آلات کی فراہمی، ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے فراہمی، تنخواہوں میں اضافہ ممکن بنانے میں جہاں شفاف حکومتی نظام کا بہت بڑا ہاتھ تھا وہیں اس بات کی اہمیت بھی کم نہیں کہ صوبے کے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک صاحب نے پنجاب میں موجود اپنے ہم منصب کی روش کے برعکس، ایک ایک سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور ایکسرے مشین کی فراہمی کے موقع پر افتتاحی تقریب منعقد کرانے، سرکاری ہیلی کاپٹر کی سواری کرتے ہوئے خود جاکر فیتہ کاٹنے اور اپنی تصویر لگانے سے مکمل گریز گیا جس کی وجہ سے صوبے کو کروڑوں روپوں کی بچت ہوئی اور یہ تمام پیسہ عوام کے لیے سہولیات کی فراہمی میں خرچ ہوا۔ پرویز خٹک کی قائم کردہ اس شاندار روایت پر وزیر صحت محترم شہرام ترکئی نے بھی سختی سے عمل کیا اور صرف انتہائی ضروری تقریبات منعقد کرنے اور ان میں شرکت کرنے کی روش اختیار کی جس کی وجہ سے ترقی اشتہارات کی بجائے ہسپتالوں میں ہوئی۔

ان تمام اقدامات کے باوجود تمام ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز کو خودمختار کرنا اور صوبے میں سرکاری ہسپتالوں کو بین الاقوامی معیار تک لےجانے سمیت ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ امید ہے عمران خان، تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت، ڈاکٹر برکی، انصاف ڈاکٹرز فورم کے ذمہ داران اور 2018 کے الیکشن کے بعد بننے والی نئی صوبائی حکومت اس سلسلے میں نمایاں کوششیں کرےگی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ضلع دیر میں “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کی سراج الحق کے خلاف بغاوت — ضیاء الرحمان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: