جدید علمِ عمرانیات : ایک تعارف — اسامہ ثالث

0
  • 20
    Shares

پیچیدگی تہذیب مغرب کا خاصہ ہے۔ کپارٹمینٹل آئزیشن آف نالج کی وجہ سے کسی بھی علم کی حقیقت و ماہیت پہ بات کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ ایسے میں عمرانیات کے تعارف پہ بات کرتے ہوئے ایک طالب علم یا محقق کے لئے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات کہاں سے شروع کرے۔ ہمارے خیال میں مغرب کی تمام سوشل سائنسز بشمول سوشیالوجی/عمرانیات کی جڑیں ماضی قریب کے دو اہم فلسفیوں، ایمانوئیل کانٹ اور جارج ہیگل کے افکارات میں پیوست ہیں۔ کانٹ اور ہیگل ایک خاص قسم کی معاشرت، جس کی تعمیر مغرب میں گزشتہ تقریبا ساڑھے تین سو سال سے ہو رہی تھی، کو مکمل کرتے ہیں۔ بظاہر انکے افکار میں ایک تضاد پایا جاتا ہے مگر اپنی حقیقت میں یہ  ایک دوسرے کا تکملہ کرنےوالے ہیں۔ ہماری نظر میں جدید عمرانیات کے دو اہم ستون کارل مارکس اور میکس ویبر ہیں۔ نظری اعتبار سے مارکس ہیگیلین اور ویبر کانٹین پیراڈائم کا آدمی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کے افکار میں جو جوہری فرق پایا جاتا ہے، جدید ریاستی ڈھانچہ اور سول سوسائٹی اس کو کمال خوبصورتی کے ساتھ گڈمڈ کرکے کر اختلاف کو باعث رحمت بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

نظری اور عملی عمرانیات میں جو فرق ہے، مغرب نے اس کو بھی جدید طریقہ ہائے تدریس/ طاقت کے دیومالائی میکنزم کے ذریعے مبہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ تقریبا ایک سو سال سے عمرانیات، پیچیدہ فلسفیانہ مباحث کو عام جنتا میں پھیلانے کے لئے ادب کو مات دے گیا ہے۔ جدید عمرانیات کو اگر ہم فلسفہ کی تلچھٹ کہیں تو یہ بےجا نہ ہوگا۔ صدیوں سے فلسفہ کے جو اہم مباحث رہے ہیں ایک حد تک عمرانیات نے اس کو عوامی بنادیا ہے۔

نظری عمرانیات کے اہم مباحث میں سے ایک سماجی تبدیلی (جو با لعموم ارتقاء کے ہم معنی سمجھی جاتی ہے) ہے، نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر دعویٰ کیا کہ جدید عمرانیات کے باوائے آدم مارکس اور ویبر ہیں، یہ دونوں ماہر عمرانیات(اگر یہ اصطلاح ان کے لئے مناسب ہے تو، ورنہ ہمارے خیال میں پیچیدگی کے اس دور میں عمرانیات کی علمی درماندگی کی یہ انتہاء ہے کہ اس کو ایسے دو بڑے آدمی نہیں ملے جو مکمل طور پر اس علم کو اوون کرتے ہوں، ہمارے اس دعویٰ پہ یقیناََ بہت سے لوگوں کو اعتراض ہو گا، لیکن ہماری گزارش ہے کہ نظری عمرانیات میں مارکس اور ویبر سے بڑا/ اہم کوئی دوسرا آدمی نہیں ہوا۔ اس پر ہم مضمون کے دوسرے حصہ میں بات کریں گے) ہماری نظر میں اس لئے اہم اور حقیقی ماہر عمرانیات ہیں کیونکہ سماجی تبدیلی پہ ان سے بہتر اور مربوط انداز میں کسی اور نے بات نہیں کی۔ مغرب میں معاشرہ جس عظیم سماجی تبدیلی کی لپیٹ میں آیا جسے ہم سرمایہ داریت/ مارکیٹ سوسائٹی/ سول سوسائٹی کے نام سے پکارتے ہیں (اس کی وجوہات پہ ہم آگے چل کر بات کریں گے) اس کا مفصل تجزیہ صرف انہی دو ماہر عمرانیات کے ہاں ملتا ہے۔ عمرانیات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ صرف مارکس اور ویبر ہی ایسے دو آدمی ہوگزرے ہیں جو عظیم سماجی تبدیلی (سرمایہ داریت/مارکیٹ سوسائٹی/سول سوسایٹی) سے پہلے کی کسی معاشرت پہ نہ صرف نظری و عملی یقین رکھتے ہیں بلکہ سرمایہ داریت کے بعد کے بھی کسی نظم معاشرت کے منکر نہیں۔  مارکس و ویبر کے علاوہ باقی تمام ماہر عمرانیات نہ صرف سرمایہ داریت سے پہلے کے کسی بھی طرح کے نظم معاشرت پہ بس نظری/خیالی قسم کا یقین رکھتے ہیں (اور ایک حد تک ان کی تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں) بلکہ سرمایہ داریت کے بعد کی کسی معاشرت کا خیال کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم واقع ہوئے ہیں۔ میکس ویبر کیپٹل ازم کو ایک حادثہ جانتا ہے، اس کے خیال میں جیسے معاشرہ سرمایہ دارانہ معاشرت میں تبدیل ہوا بالکل ویسے ہی کبھی یہ کسی اور شکل میں بھی ڈھل سکتا ہے۔ ویبر، سرمایہ دارانہ معاشرت کو حرف آخر/ انسانی سماج کی آخری ترقی یافتہ شکل نہیں سمجھتا۔ بالکل ایسے ہی مارکس بھی سرمایہ دارانہ معاشرت سے پہلے کسی معاشرتی صف بندی کی موجودگی کا قائل ہے اور سرمایہ داریت کے ختم ہونے کے بعد کسی دوسرے معاشرتی ڈھانچے پہ بھی نہ صرف مکمل یقین رکھتا ہے بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد بھی کرتا رہا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جدیدیت، سرمایہ داری اور فرد کی انانیت —- زید سرفراز

 

ان دو بڑے مفکرین کی فکر کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جدید عمرانیات صرف ماڈرن سوسائٹی کے مطالعہ کا نام ہے۔ ان دونوں مفکرین نے صرف سرمایہ دارانہ معاشرت کا مطالعہ کیا اور اس کی ترکیب، ساخت وغیرہ پہ بات کی۔ اس کے بعد آنےوالے ماہر عمرانیات بھی صرف اور صرف “سرمایہ دارانہ معاشرت” کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن افسوس! اس علم یعنی علم العمرانیات کی بابت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ “معاشرہ” کو سمجھنے کی سائنس ہے یعنی یہ وہ علم ہے جو “معاشرے” کی بناوٹ، ساخت، ارتقاء و دیگر خصوصیات سے بحث کرتا ہے۔ ہم نے یہ سلسلہ عمرانیات کی تفہیم کے لئے شروع کیا ہے۔ اس کی کوئی خاص ترتیب تو نہیں ہو گی البتہ ہماری کوشش ہو گی کہ مبادیاتِ عمرانیات پہ گفتگو کرنے کے بعد عمرانیات کےنظری مباحث مانند سوشل تھیوری  پہ سیر حاصل گفتگو کر لی جائے۔ اختلافِ رائے  کا احترام، مکالمہ کے بنیادی لوازمات میں سے ہے لیکن گزارش ہے کہ بحث کو موضوع تک محدود رکھا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کام کو احسن طریقہ سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: