عیدُ الفطر: شکر و مسرت کا مذہبی و ملی تہوار — ڈاکٹر رئیس صمدانی

0

عید خوشی و مسرت کے حسین جذبات سے منسوب ہے۔ اپنے پروردگار کا شکر بجالانے کا نام عید ہے کہ ُاس نے یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان المبارک کے روزے رکھے، عبادات کیں۔ پروردگار رمضان کا مقصدس مہینہ رخصت ہوچکا ہے نہیں معلوم آئندہ زندگی میں ہمیں یہ سعادت نصیب ہوگی بھی یا نہیں، ہماری عبادت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما لے۔ دعا کے ساتھ ساتھ ہم اس دن کا اظہار نئے کپڑے پہن کر، خوشبو لگا کر، ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں عید کی مبارک باد دیتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں میں اچھے اچھے کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔عزیز رشتہ داروں، پڑوسوں جاننے والوں کے گھر خوشی خوشی جاتے ہیں۔ بچوں کو عیدی دی جاتی ہے۔ عید تو در اصل بچوں کی خوشی سے ہی ہوتی ہے، عید کے دن اپنے بچوں، پوتے، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کو دیکھ کر خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ عید کے روز جب بچے خوبصورت، دیدہ زیب، رنگ برنگے کپڑے پہن کر، ہاتھ میں گھڑی، آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ، بچیوں کے گلے میں پرس، ہاتھوں میں چمکتی جھل مل کرتی چوڑیاں، بالوں میں حسین کلپس، کانوں میں رنگین ٹوپس، انگلیوں میں انگوٹھیاں، پیروں میں میچنگ کے سینڈل، تتلیوں کی مانند ادھر سے ادھر، سلام کرتے، عیدی وصول کرتے، دوڑتے پھرتے ہیں تو یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب ہر دیکھنے والے کی روح تازہ ہوجاتی ہے، خوشی کا احساس کئی گنا بڑھ جاتا ہے، ان معصوم سی، کومل سی،کلیوں اور پھولوں کو دیکھ کر خوشی کا اظہاز کیے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔ عید کے دن کا یہ منظر اس بات کا مظہر ہوتا ہے کہ عید خوشی کا دن ہے، شکر بجا لانے کا دن ہے، مسرت و شادمانی کا دن ہے۔

’عید الفطر‘ عربی زباکا کا لفظ ہے جو ’عید‘ اور ’فطر‘ سے مرکب ہے۔ ’عید ‘کے لفظی معنی توجہ کرنے، مسرت و انبساط اور خوشی و شادمانی کے ہیں۔ یہ خوشی،جشن، فرحت اور چہل پہل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض جگہ اس سے مراد لوٹنا، پلٹنا، واپس ہونا، پھر آنا کے بھی لیے گئے ہیں۔وجہ اس کی یہ بیان کی گی ہے کہ چونکہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اس کے لوٹ آنے سے اس کی فرحت و مسرت اور برکت و سعادت کے لمحات بھی اس کے ساتھ لوٹ آتے ہیں اس لیے اس دن کو عید کہا جاتا ہے۔ لفظ ’فطر‘ کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں یعنی روزہ توڑنا، ختم کرنا،یکم شوال کو روزوں کا سلسلہ اختتام کو پہنچتا ہے، فطر کا لفظ کسی کام کو از سرنو یا پہلی بار کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس روز اﷲ تعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادات رمضان کو ثواب عطا فرماتے ہیں اسی وجہ سے اس تہوار کو عید الفطر کہا گیا ہے۔ عیدا لفطر کو ’چھوٹی عید‘ یا ’میٹھی عید‘ بھی کہا جاتا ہے جب کہ عیدالضحیٰ کو ’بڑی عید‘ کہا جاتاہے۔ عید کی خوشیوں اور رسم و رواج کا آغاز یکم شوال یا عید کا چاند نظر آجانے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے، رمضام المبارک اسلامی مہینوں میں مبارک و برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے، جب کہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔ آخری روزے والے دن جوں ہی عید کا چاند نظر آتا ہے چھوٹے اپنے بڑوں کو چاند کا سلام کرتے اور بڑے ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں، اب چاند کی مبارک باد موبائل اور انٹر نیٹ، فیس بک، ای میل پر بھی ایک دوسرے کو دینے کی رسم نے مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ گھروں میں رات سے ہی صبح ہونے والی عید کی خوشیاں اور نماز عید کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہے۔ فجر کی نماز کے بعد عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہوجانے پر ہوتا ہے، ہر نماز سے پہلے اذان اور اقامت کہی جاتی ہے لیکن عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، عید کے نماز میں چھ اور جب کہ دوسرے مکتہ مفکر میں بارہ تکبیرات بھی ہوتی ہیں۔ صبح ہوتے ہی عید کی نماز کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں، غسل کے بعدنئے یا صاف ستھرے کپڑے پہن کر اور خوشبو لگاکر مرد حضرات اپنے بچوں کے ہمراہ مسجد یا عید گاہ کی جانب رواں دواں نظر آتے ہیں، مسواک کرنا بھی سنت ہے۔ راستے میں آہستہ آواز سے تکبیر ’ اﷲ اکبر اﷲ اکبر، لاالہ الا ﷲ، واﷲ اکبر اﷲ اکبر وللہ الحمد‘ کا ورد کرتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ عید کی نماز عید گاہ میں ادا فرمایا کرتے تے۔ بخاری و مسلم شریف کی حدیث ہے، حضرت ابو ہریرہؒ سے مرفوعاً روایت ہے کہ’ اپنی عیدوں کو بکثرت تکبیر سے مزین کرو ‘۔ نماز عید کے بعد احبا ب آپس میں گلے ملتے ہیں،ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں۔ نماز سے واپس گھر پہنچ کر اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ عید کی خوشیاں شیر کرتے ہیں۔ عیدی دینے اور لینے کی رسم ہوتی ہے، قریبی عزیز رشتہ داروں کے گھر جاتے ہیں، بعض احباب قبرستان جاتے ہیں اور دنیا سے رخصت ہوجانے والے اپنے عزیزوں کی قبور پر فاتح پڑتے ہیں۔ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا رکھنا حرام قرار دیا گیا ہے۔صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کرنے کے احکامات ہیں، صدقہ فطر ہر مسلمان، مرد، عورت، بچے، چھوٹے بڑے پر فرض ہے۔ اس کی ادائیگی نماز عیدسے قبل تک کر دینا چاہیے۔ اگر صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا نہ ہوا تو یہ عام صدقہ شمار ہوتا ہے۔ صدقہ فطر کی رقم اجناس کی نسبت سے مقرر کی جاتی ہے۔ عام طور پر سو یا دو سو روپے فی کس ہی ہوتی ہے۔

مختلف قوموں میں خوشیاں اور تہوار منانے کی روایت بہت قدیم ہے، ہر قوم اور ہر نبی کے زمانے میں خوشیاں منانے کی رسم موجود نظر آتی ہے، اس دن اس قوم کے لوگ حسب روایت اچھا لباس ذیب تن کیا کرتے، مزے مزے کے کھانے پکاتے، خود بھی کھاتے عزیز رشتہ داروں کو بھی کھلایا کرتے تھے۔ مختصر یہ کہ خوشی و شادمانی کا اظہار کیا کرتے۔ یہ خوشیاں مختلف مواقع پر منائی جایا کرتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشیاں منانا انسان کی فطرت ہے۔ تہوار مختلف قوموں کی تہذیب و معاشرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں، ہر قوم اپنے رسم و رواج، مذہبی شعار، معتقدات کے مطابق اپنے تہوار مناتی ہے۔یہ تہوار ان کی عید ہوتی ہے۔ جیسے عیسائیوں میں کرسمس، ہندوؤں میں ہولی، دیوالی، درگا پوجا، کرو ا چوتھ وغیرہ، سکھوں میں ویسا کی تہوار ان کے عید کے دن ہیں۔ اس دن وہ بھر پور طریقے سے خوشیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں عید کا تہوار اسلام کے مزاج اور مسلمانوں کی اخلاقی، تہذیبی، معاشرتی، تعلیمی و علمی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ہماری دینی و ملی اقدار کا آئینہ دار ہے۔ زکوٰۃاور صدقہ فطر کی ادئیگی سے عید کی بنیادی روح کی تکمیل ہوتی ہے۔

مسلمانوں میں نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺ نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور مسلمانوں کو عید الفطر اور عید الا ضحی کے دن خوشیاں منانے کی ہدایت فرمائی۔اس کا آغاز یکم شوال 2ہجری مطابق 27مارچ 624عیسوی سے ہوا۔ سنن ابی داؤد کی حدیث ہے، اسے مولانا محمد منظور نعمانی نے اپنی کتاب ’معارفِ الحدیث‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ’’ رسول اﷲ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ (جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کر چکی تھی) دو تہوار منایا کرتے تھے، اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسول اﷲ ﷺ نے ان سے پوچھا : یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے؟ (یعنی تمارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے؟) انہوں نے عرض کیا کہ: ہم جاہلیت میں (یعنی) اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے تمہارے ان دوتہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دودن تمہارے لیے مقرر کردیے ہیں (اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں) یوم عید الاضحی اور یوم عید الفطر‘‘۔ گویا رسول اﷲ ﷺ نے عہد جاہلیت کے تہواروں کو منانے سے منع فرمادیا اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔ عید الفطر کے دن ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے معمولات کے حوالے سے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث جسے ’معارف الحدیث ‘ میں نقل کیا گیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے رایو ہے کہ رسول اﷲ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔ سب سے پہلے آپﷺ نماز پڑھا کرتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے اور لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے تھے، پھر آپ ان کو خطبہ و نصیحت فرماتے تھے اور احکام دیتے تھے اور آپﷺ کا ارادہ کوئی لشکر یا دستہ تیار کرکے کسی طرف روانہ کرنے کا ہوتا تو آپ ﷺ (عیدین کی نماز کے بعد ) اس کو بھی روانہ فرماتے تھے یا کسی خاص چیز کے بارے میں آپؐ کو کوئی حکم دینا ہوتا تو اسی موقع پر وہ بھی دیتے تھے۔ پھر (ان سارے مہمات سے فارغ) آپؐ عید گاہ سے واپس ہوتے تھے‘‘۔

قرآن کریم کی سورۂ المائدہ کی آیت114میں حضرت عیسیٰ ؐ کی دعا کے حوالے سے عید کا تذکرہ آیا ہے۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ ابنِ مریم سے ان کے حواری ان سے خوایش کا اظہار کرتے ہیں کہ ’اے عیسیٰ ابنِ مریم! کیا آپ کا رب ہم سے آسمان سے کھانے کا ایک خوان اُتار سکتا ہے؟ تو حضرت عیسیٰؐ نے کہا: اﷲ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ اُنھوں نے کہا: ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں۔ اس پر عیسیٰ ابنِ مریم نے دُعا کی: اے اﷲ! ہمارے رب! ہم پر آسماں سے ایک خوان نازل کر، جو ہمارے لیے ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی (عربی میں لفظ’ عید‘ استعما ل ہوا ہے) کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تُو بہترین رازق ہے‘۔

عید سعید کے روز ہم جتنی بھی خوشیاں منائیں، جس جس طرح منائیں ہر صورت میں تہذیب، شائستگی، اسلامی اقدار اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ رمضام المبارک میں ہم نے جو نیک اعمال کیے، روزے رکھے، نماز پڑھی، صدقہ و خیرات کیا، زکوٰۃ دی، برے کاموں سے بچیں رہیں۔ رمضان لمبارک میں مساجد نمازیوں سے بھری رہتی ہیں، احتکام کرنے والے اعتکاف کرتے ہیں۔ الغرض نیکی اور اچھے اعمال کا یہ سلسلہ رمضا ن لمبارک کے بعد منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ عید ہمارے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا باعث تو ہو لیکن نیک اور اچھے اعمال کے منقطع ہونے کا باعث نا بنے۔ بقول شجاع خاور شاعر  ؎

آپ ادھر آئے ادھر دین اور ایمان گئے
عید کا چاند نظر آیا تو رمضان گئے

اکثر دیکھا گیا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ شروع ہوا ادھر بازاروں، شاپنگ سینٹرز میں خریداروں کا رش شروع ہوگیا، بازار اور شاپنگ سینٹرز رات رات پھر کھلے رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ آخری عیدہو اس کے بعد خریداری کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ عید کا مطلب ہر گز ہر گز فضول خرچی، بے جا اخراجات کرنا نہیں، قیمتی لباس پہننے کا نام نہیں،روزہ تو ہمیں صبر کا برداشت کا، اعتدال پسندی کا، سادگی کا، دوسروں کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ عید تو اﷲ کا شکر بجا لانے کا نام ہے، رمضان المبارک ساتھ خیریت سے گزر گیا، ہم نے تمام روزے رکھے اور نیک اعمال کیے ان کا شکر ادا کرنے کا نام عید ہے، عید فضول خرچی کرنے، لہو و لعب، بدعت و خرافات اور خرمستیوں کا نام نہیں۔ رمضام المبارک اور عید کا اہتمام کرلینے کے بعد شوال کے چھ روزوں کابہت ثواب ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ’جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوال کے چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہوگا‘۔ اس حدیث مبارکہ کی تشریح مولانا محمد منظور نعمانی نے ’معارفِ الحدیث ‘ میں یہ بیان کی ہے کہ رمضان کا مہینہ اگر 29ہی دن کا ہو تب بھی اﷲ تعالیٰ اپنے کرم سے 30روزوں کا ثواب دیتے ہیں اور شوال کے 6نفلی روزے شامل کرنے کے بعد روزوں کی تعداد 36 ہو جاتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے کریمانہ قانون ’’الحسنۃ بعشر امثالھا‘‘ ّایک نیکی کا ثواب دس گنا) کے مطابق 36کا دس گنا 360 ہو جاتا ہے اور پورے سال کے دن 360سے کم ہی ہوتے ہیں۔ پس جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں 6نفلی روزے رکھے وہ اس حساب سے 360روزوں کے ثواب کا مستحق ہوگا اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ ایسا ہی ہوا جیسے کوئی بندہ سال کے 360 دن برابر روزے رکھے‘۔بس ہمیں چاہیے کہ رمضام المبارک کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اپنی نمازوں کو قائم رکھیں، نیکی اور اچھائی کا سلسلہ جاری و ساری رکھیں۔ عید کے دن جہاں خوشیوں میں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں ضروری ہے کہ ہم اپنے ان احباب کو بھی یاد رکھیں جو گزشتہ عید پر تو ہمارے ساتھ تھے لیکن اس بار وہ ہمارے درمیان نہیں وہ اس دینا سے رخصت ہوچکے۔ ان کی مغفرت کی دعا ئیں کریں انہیں بھی اپنی خوشیوں میں یاد رکھیں۔ داغؔ کی غزل کا شعر  ؎

آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں
ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: