جمہوریو! تم پورا سچ کب لکھو گے؟ —– شہزاد حسین

0
  • 7
    Shares

جمہوریوں کی تکنیک بڑی دلچسپ ہے۔ بات یہ ہے کوئی بھی انسان، ملک، ادارہ پرفیکٹ نہیں۔ اسی چیز کو بنیاد بنا کر پروپگینڈا کیا جاتا ہے، perception تخلیق کیے جاتے ہیں۔ اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں؛

میاں بیوی میں اگر جھگڑا ہوجائے تو ساس, اپنے بیٹے کی تمام برائیاں و حرکتوں کو اگنور کرتے ہوئے، بہو کی ان خامیوں کو پکڑ لے گی جو اس میں واقعی موجود ہوں۔ اب بہو پھنس گئی کیونکہ ساس جو جو الزامات لگارہی ہونگی وہ ہوں گے تو سچ، لیکن ان الزامات کے پیچھے ساس کی بدنیتی چھپی ہوگی۔

یہی کہانی جمہوریت اور آمریت کے معاملے کی بھی ہے۔ یہاں کئی فریق ہیں جیسے کہ فوج، سیاستدان، بھارت فیکٹر، افغانستان کی نیت، سب سے بڑھ کر امریکہ کا اس خطے میں کردار۔ ان میں سے ایک بھی دودھ کا دھلا نہیں بشمول فوج۔

اب جمہوری پورا زور فوج کو قصوروار ثابت کرنے پر لگاتے ہیں۔ کوئی نشاندہی کرے تو کہتے ہیں سیاستدانوں کا قصور اس لیے نہیں کہ وہ مقابلتاً کمزور فریق ہیں۔ میرے سیانے بھائی، اس طرح تو فوج بھی مقابلتاً کمزور فریق ہے عالمی کھلاڑیوں کے مقابلے، اپنی مظلوم فوج کے ساتھ کھڑے کیوں نہیں ہوجاتے؟

قصہ یہ ہے کہ دنیا میں صف بندی اچھائی یا برائی کی بنیاد پر نہیں، بیانیے کے بنیاد پر ہورہی ہے۔

کیا عالمی طاقتیں اور ان کے خطے میں کھیل پوتر ہیں؟
تو صرف فوج پر نشتر زنی کیوں؟

“صرف” کا لفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپ عالمی طاقتوں کے بیانیے کے ساتھ کیوں اور کس وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں؟

یاد رکھئیے، پروپگینڈے کی بنیاد “آدھے سچ” پر رکھی جاتی ہے۔ آپ اسی آدھے سچ کے داعی کیوں ہیں جو فوج کے خلاف جاتا ہو؟

ملکی سیاست کا ایک اہم میکینزم بتاتا چلوں۔ جیسے ایک ابھرتا ہوا کرکٹر پہلے اپنے لوکل کلب سے کھیلتا ہے۔ ملکی سطح یا عالمی سطح تک پہنچ جائے تو اسے لوکل کلب کی حاجت نہیں رہتی۔ پھر وہ انٹرنیشنل لیول کا کھلاڑی ہوجاتا ہے۔ یہی قصہ ہمارے سیاستدانوں کا ہے۔ انکی شروعات فوجی جرنیلوں کے گھر کے باہر مٹھائی کے ڈبے لیے کھڑے رہنے سے ہوتی ہے۔ اقتدار ہاتھ لگتے ہی، وہ پر پرزے نکالنے لگتے ہیں۔ “نظروں” میں آتے ہی، عالمی طاقتیں انکی طرف متوجہ ہوئے انکی بولیاں لگانا شروع کردیتی ہیں۔ یہی وہ “وقتِ آمد” ہوتا ہے جہاں سیاستدان “نظریاتی” ہونے کا دعویٰ کربیٹھتا ہے، کیونکہ دل ہی دل میں تاڑ چکا ہوتا ہے کہ عالمی منڈی سب سے بہترین بولی لگانے کی اہل ہے۔ اسکا رینک ملکی اسٹیبلشمنٹ کے “پالشی” سے ترقی پاکر عالمی طاقتوں کا “مالشی” تک بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں دانشوران ملت جوک در جوک اس کی جانب آلپکتے ہیں۔۔۔

جمہوریو، تم پورا سچ کب لکھو گے؟ ہمارے لیے ڈرونز کو چومنا مشکل، کلبھوشن کی بلائیں لینا وبال، بھارت کو مائی باپ ماننا ناممکن اور امریکی بدمعاشی کے آگے سربجود ہونا محال ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسے برے وچاروں کے ساتھ ہماری کچھ خلاصی ہوسکتی ہے؟

کوئی امکان؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: