محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم: سید فرقان حیدر

0
  • 1
    Share

حمد اسکی جسے رحمان کہا جاتا ہے
عادل و خالق و میزان کہا جاتا ہے
بعد اس ذات کے توصیف کے قابل ہے وہ نور
جسکو تخلیق کا عنوان کہا جاتا ہے

انسان کی خلقت کا مقصد اللہ تعالی’ کی عبادت ہے اور زندگی کا مقصد آفاق اور نفوس و ارواح میں اللہ کی نشانیوں کو تلاش کرنا ہے تاکہ اسے معرفت ہو کہ خالق کیا ہے۔
انسان کیا ہے, انسان وہ اشرف المخلوقات کی صنف ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز و ممیز کرتی ہے۔
یہ عقل_ سلیم رکھنے والی مخلوق ہے,ورنہ یہ دوسرے حیوانات کی طرح ایک مخلوق ہوتا۔
اگرچہ یہ حیوان_ ناطق ہے لیکن اپنی صفات کی وجہ سے خن و ملائکہ سے بھی افضل ہے۔
پیدائش کے اعتبار سے احسن_ تقویم مخلوق ہے۔

درد_دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے خور و بیاں

تاریخ انسان کی ابتداء ایک ایسے انسان سے ہوتی ہے جو ایک نبی ع بھی ہے اور بغیر ماں باپ کے پیدا ہونے والا انسان بھی۔
اماں حوا اور باوا آدم سے نسل_ انسانی چلتی ہے۔
اسی نسل سے انسان_ بد صفت پیدا ہوتے رہے اور اسی نسل_پاک سے (حامل_ انسانیت) انسان پیدا ہوتے رہے اور انبیاء و اوصیاء اپنا فرض نبھاتے رہے۔
انسان کی مطالعہ کے لیئے حکماء نے انسان کو چار گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔
(1) انسان_ ناقص (2) انسان_ طبعی (3) انسان_ نفسی اور (4) انسان_ کامل

فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت ذیادہ

بحثیت خلقت تو سب انسان ہیں۔ لیکن صفات کے اعتبار سے وہ انسان جو نفس کی شہوتوں سے مغلوب ہو گئے شیطان کے بہکاوے میں آتے گئے اور انبیاء کی تبلیغ سے منحرف ہوگئے ان کی تعداد زیادہ ہوتی گئی اور جنہوں نے اللہ کے بندوں کا دامن تھامے رکھااور نفس کو عقل_سلیم کے تابع کر دیا,ان کی تعداد ہر دور میں کم ہوتی گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم محسن_انسانیت تو صرف چند لوگوں کے لیئے ہیں یا کثرت کے لیئے,,,,,?

جواب سیدھا ہے, اصطلاحا“
خلقت کے اعتبار سے تو گمراہ انسان بھی انسانیت رکھتے تھے۔
اور نیک انسان تو معنوی اور حقیقی انسانیت کی حامل تھے,

جب اسلام کی تعلیم بھلا دی گئی تو کسی نے پتھروں,درختوں,سانپوں,آگ وغیرہ کی پوجا شروع کر دی اور کسی نے اپنے جیسے انسانوں کے بت بنا لئیے,,
کوئی خود خدا بن بیٹھا اور کسی نے خود کو آزاد سمجھ لیا, اور اپنی مرضی کو نہ صرف اپنے لئیے پیمانہ مقرر لیا
بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنی مرضی سے چلانے کے لیئے’جبر’ اور ہر طرح کا حربہ استعمال کیا۔
تو خالق نے اصل انسانیت کی حامل اقلیت کی رہنمائی وحی و شریعت سے کی۔
اگرچہ وحی کے حامل اللہ کے بندوں کا سلسلہ پہلے بھی موجود تھا,
لیکن وہ پیغمبر اپنی اپنی قوم اور بستیوں کی اکثریت کوخدا کا دین سکھاتے رہے۔
اور دین و انسانیت کی جماعت کی تکمیل ابھی باقی تھی اور اس سب کا انتظام theoretically اور practically دونوں طرح کرنا تھا
تاکہ خالق کائنات نے جناب آدم سے لیکر جناب عیسی’ علیہ السلام تک تمام صحائف اور شریعتیں اس کی آخری شریعت میں ضم کرنا تھی اور حقیقی انسانیت کے تمام فضائل و صفات اس ہستی میں موجود ہوں۔
جو اسی شریعت کے تابع رہ کر انسانیت کے لیئے ایسے لوگوں کی کھیپ بھی تیار کرے جو اس ہستی کے جانے کے بعد سلسلہ درسلسلہ اللہ تعالی’ کے دین کی حفاظت کرتی رہے۔
لہذا اببانگ دہل کیا جاسکتا ہے کہ گمراہ اکثریت کو قتل یا ختم کر دینا بہتر فتح نہیں بلکہ اس کی اصلاح کر کے دین و انسانیت کی خدمت پر لگا دینا جناب سرور کائنات فخر موجودات ,جناب محمد مصطفی’ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانیت پر احسان ہے۔
نیک اور صالح انسانیتکے لیئے آپ کی ذات انسان_ کامل بھی ہے اور قابل_عمل و اتباء بھی اخلاقیات کے مجسموں کے لیئے آپ تمام مکارم_اخلاق کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔
انسان_نفسی اور طبعی جو ساری عمر نفس کی ریاضتوں میں گزارتے رہے, متقی بن گئے مگر وحی کی ہدایت سے محروم تھے۔
کبھی کشف و الہام اور کبھی خواب و ضیال کی صحیح تشریح نہ سمجھنے کی وجہ سے دین سے دور ہو گئے۔
“ثما یوحون علیھم الشیطان” کے مصداق بن گئے,
ایسے متقی لوگوں کے لیئے آپ پر اترنے والی کتاب ہدایت ہے۔
اور انسان_ناقص دینی محافل میں شرکت کر کے آپ کا ذکر سن کر رقت آمیز ہو جاتا ہے اور اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے۔
تاریخ انسانیت میں 22سال 6ماہ 22 دن کے قلیل عرصہ میں آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی نے اپنے شہربالخصوص مکہ میں تمام قریش و عرب جیسی اکھڑ قوم کو مسلمان بنا دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یثرب کو مدینتہ النبی قرار دیا اور سلطنت و حکومت کے تصور کو خلافت میں بدل دیا۔
مال وند کو جمع کرنا حرام قرار دیا گیا۔
اور سودی نظام کا خاتمہ کر دیا۔
فقراء,غرباء,یتامی’,مساکیین, ابن البیل کے حقوق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیے تاریخ انسانیت میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔
عرب معاشرہ میں بالخصوص اور دوسرے معاشروں میں بالعموم عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہ تھے جن کی وہ مستحق ہیں۔
نیک اور فانبردار بیوی کو اپنے شوہر کے ایمان کی حصہ دار قرار دیا۔
ماں کے قدموں تلے جنت کو قرار بخشا بشرطیکہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن نہ ہو۔
بیٹی کو باپ کی آنکھوں کا نور اور جائیداد کی بقدرحصہ وارث قرار دیا۔
اور اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل بیٹی سے رواں دواں رکھی۔
بہن کے کردار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جناب زینب و کلثوم سلام اللہ علیھما آپ کی تربیت نے ادا کردیا۔
شہادت کے درجہ کو آپ کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ایسا کردار ادا کیا کہ تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
تو مجھے کہنے دیجئے !
انسان کی کون سی قسم ہے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان نہیں ہے۔
انسانیت کی اصطلاحی تعریف کی جائے تو عربوں کے معاشرہ میں ذہانت کے ساتھ ساتھ کیا ایسی ایسی معاشرتی اور انفرادی برائیاں موجود نہ تھیں جو یونان و روم کی تہذیبوں میں بھی موجود نہ تھیں ,,,?
سب کو مسلمان بنایا آخرت میں کامیابی و کامرانی کے لیئے ملت_ اسلامیہ کا ممبر بنا دیا۔
اب جو کامیاب ہو حجت کے ساتھ اور ناکام ہو تو حجت کے ساتھ۔
انسانیت کی اصل معنی و مفہوم میں تعریف کی جائے تو انسانی فضائل اربعہ حکمت,شجاعت,عصمت و عفت اور عدالت کائنات میں اللہ تعالی’ کے بعد جن و انس,حور و ملائکہ سب سب مخلوقات میں بدرجہء اتم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود تھیں۔

یتیم اہل زمیں کو وہ کر گیا ہوتا
اگر وہ نور خلا میں اتر گیا ہوتا
زمیں پر آنا تو احسان ہے محمد ص کا
وگرنہ دین تو بے موت مر گیا ہوتا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: