ضلع دیر میں “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کی سراج الحق کے خلاف بغاوت — ضیاء الرحمان

0
  • 252
    Shares

Zia ur Rahman Farooqi

دیر کی سیاسی ڈائری:
دیر کے سیاسی افق پر گزشتہ پانچ دہایئوں سے جماعت اسلامی کا ستارہ مجموعی طور پر جگمگاتا رہا ہے۔ لیکن گزشتہ پندرہ بیس دنوں کے دوران سیاسی ماحول میں کافی گرما گرمی اور اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے کو ملی ہے۔ جماعت کے کئی نامور ناموں نے پارلیمانی بورڈ کے فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے آزاد امیدواروں کے حیثیت سے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں زور آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ دیر کے چار صوبائی اور ایک قومی حلقوں سے “جماعت اسلامی بچاو” تحریک کی طرف سے صوبائی اور قومی اسمبلی کیلئے امیدوارں کے نام سامنے آئے ہیں۔

جماعت اسلامی کے ضلعی سطح کی لیڈرشپ میں سے نامی گرامی اشخاص نے پچھلے ہفتہ “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے نام سے ایک جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جماعت نظریاتی خطوط کے بجائے دوسری سمت میں روبہ سفر ہے، ان کا خیال ہے کہ جماعت بد ترین قسم کے شخصیت پرستی کا شکار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم میں سے کسی کو ٹکٹ نہیں دیا جائے لیکن جن خاص اشخاص کو ٹکٹ دیا گیا ہے وہ اس منصب کیلئے کسی بھی صورت اہل نہیں ہے لہذا ان کے بجائے دوسرے بہتر اشخاص میدان میں اتارے جائیں۔

جماعت اسلامی کے ضلعی سطح کی لیڈرشپ میں سے نامی گرامی اشخاص نے پچھلے ہفتہ “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے نام سے جدوجہد کا اعلان کیا ہے

 این اے 7 :
جماعت کے طرف سے این اے 7 سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب امیدوار ہے۔ لیکن اس حلقے کیلئے ضلعی شوری کے رکن اور جماعت اسلامی دیر کے جنرل سیکٹری شفیع اللہ خان نے کاغذات جمع کرائے ہے۔ شفیع اللہ خان زمانہ طالب علمی سے جمیعت اور جماعت کے سرگرم کارکن ہے، اور علاقے کے نامی گرامی شخصیت ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں سراج الحق صاحب کے روم میٹ تھے۔ گزشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس حلقے میں کانٹے کا مقابلہ کرچکے ہیں، اور بہت تھوڑی لیڈ سے جماعت کے صاحبزادہ یعقوب جیت سکے تھے۔ اس دفعہ چونکہ جماعت کے امیدوار سراج الحق ہیں تو جیت کے امکانات زیادہ تھے لیکن شفیع اللہ صاحب کے میدان میں اترنے کے بعد جماعت کو ٹف ٹائم ضرور ملے گا۔ شفیع اللہ خان کا اختلاف سراج صاحب کے ٹکٹ پر نہیں ہے۔ وہ پی کے 14 کیلئے مظفر سید کے نامزدگی پر اختلاف رکھتے ہیں جو، ان کے بقول دیانت دار نہیں ہیں۔

پی کے 14:
یہ ادینزئی کا حلقہ ہے۔ اس حلقے سے گزشتہ انتخابات میں بخت بیدرار خان کامیاب کامیاب ہوئے تھے۔ اس دفعہ جماعت کے کامیابی کے چانسز تھے لیکن جماعت نے اپنے ارکان کے کثرت رائے کے خلاف پی پی پی سے آئے ہوئے ڈاکٹر ذاکر اللہ کو ٹکٹ جاری کیا جس پر صوبائی شوری کے رکن اور سابق تحصیل امیر ڈاکٹر بشیر نے ازاد حیثیت میں احتجاجا کاغذات جمع کرائے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر اللہ نے جماعت اسلامی سے 2008 میں پیپلز پارٹی کے طرف اڑان بھری تھی اور دو مرتبہ انہی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا لیکن ناکام قرار پائے۔ مقامی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جماعت کے تقریبا 90 فیصد ارکان و کارکنان اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ ڈاکٹر بشیر کو موجودہ تحصیل امیر اور خاصی تعداد میں دوسرے ارکان کی اعلانیہ حمایت حاصل ہے۔ اگر جماعت اسلامی اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرتی تو مقابلہ پیپلز پارٹی کے بخت بیدار خان اور “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے ڈاکٹر بشیر کے درمیان ہوگا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جماعت اسلامی کا مسقبل، جے یو آئی سے زیادہ روشن ۔۔۔ حمزہ صیاد

 

پی کے 13:
اس حلقہ کیلئے “جماعت اسلامی بچاو” تحریک کی طرف سے حاجی داود سید کا نام سامنے آیا ہے۔ داود سید عوامی حلقوں میں جانے پہچانے شخصیت اور ضلعی شوری کے رکن رہے ہیں، 1982 سے ڈسٹرکٹ ممبر چلے آ رہے ہے۔ علاقے میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان کے کثرات رائے داود سید ہی کے لئے آئی تھی لیکن ٹکٹ شاد نواز خان کو دیا گیا۔ جس پر جماعتی حلقوں میں کھلے عام تنقید ہو رہی ہے اسی وجہ سے ایک طرف تو کافی سارا جماعتی ووٹ داود سید کو ملے گا دوسری طرف وہ اپنا شخصی ووٹ بھی کافی رکھتا ہے۔ ساتھ ساتھ نیشل پارٹی کے اندرونی خلفشار کا فائدہ بھی حاجی داود سید کو ملے گا۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں حاجی داود سید کا پلڑا بھاری ہے۔ زمینی حقائق حاجی داود سید کو ہی ایلکٹبل تسلیم کر رہے ہیں۔

پی کے 16:
یہاں سے جماعت کے امیدوار اعزاز المک افکاری ہیں۔ اس حلقے کے سیاسی بہاو میں شانتی محسوس ہورہی ہے۔ اور میرے خیال میں اعزاز المک افکاری ہی مرد میدان قرار پایئں گے۔

پی کے 14:
یہ وہ حلقہ ہے جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے تمام حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس حلقے کے جماعتی کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام بھی مظفر سید کی کارکردگی سے مایوس نظر آ رہے ہیں۔ ارکان کی ایک غالب اکثریت کافی عرصے سے اسی کوشش میں تھیں کہ دوبارہ مظفر سید کو ٹکٹ نہ دیا جائے اور کسی بھی اور شخص کو ازمایا جائے لیکن پارلیمانی بورڈ کی نظر انتخاب بہرحال مظفر سید ہی ٹھہر چکی ہے۔ “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے طرف سے محمد قاسم اور نور محمد ہمدرد کے نام سامنے آئے ہیں۔ پی پی پی کے طرف سی سابق صوبائی وزیر محمود زیب خان امیدوار ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں مظفر سید کے یونین کونسل شاہی خیل سے پہلے جماعت اسلامی کا امیدوار کامیاب ہوا تھا لیکن بعد میں پھر ضمنی انتخابات میں دو دفعہ پی پی پی بازی لے چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے اندرونی خلفشار اور عوامی حلقوں کی رائے کی ہوا محمود زیب کے حق میں چل رہی ہے۔ اگر ایک دفعہ یہ حلقہ جماعت کے ہاتھ سے نکل گیا پھر جماعت اسلامی بچاو تحریک کو راضی کرنے کے علاوہ کسی صورت یہ جماعت کے ہاتھ میں نہیں آسکتا۔

اگر جماعت اسلامی اور “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے درمیان مصالحتی کوششیں ناکام ثابت ہوتی ہے، تو ایک طرف 2018 کے الیکشن جماعت اسلامی دیر لویئر سے ہاتھ دھو بیٹھے گی تو دوسری طرف جماعت اسلامی کو دوبارہ ہولڈ حاصل کرنے کیلئے انتھک محنت اور کافی زیادہ عرصہ درکار ہوگا جو کہ موجوہ صورتحال میں ناممکن نظر اتا ہے۔

پی کے 17:
اس حلقہ میں گزشتہ ایک سال سے جماعت کے اندر ایک اور گروہ اٹھا ہے جن کا نعرہ ہے “پہلے احتساب پھر انتخاب”۔ اس گروہ نے مولانا عزیز الرحمن کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے سامنے کیا ہے۔ مولانا صاحب کافی فصیح زبان اور علاقے کے عمائدین میں شمار ہوتے ہے۔ جندول کے نئے شامل ہونے والے تین یونین کونسلز میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ علاقہ میدان میں جماعت اسلامی کے سعید گل کا پلڑا بھاری ہے۔ لیکن فی الحال اس حلقے کی سیاسی فضاء تحریک انصاف کے اندرونی خلفشار کی وجہ سے دھندلی نظر آرہی ہے۔ اگر مستقبل قریب میں تحریک انصاف کے دھڑے آپس میں شیر و شکر ہوجاتے ہے تو پھر کانٹے کی مقابلہ دیکھنے کو ملی گی۔ کیونکہ ایک طرف جماعت اسلامی کا کافی ووٹ مولانا کے حق میں جائے گا تو دوسری طرف تحریک انصاف کا ووٹ بھی کافی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے طرف سے ملک لیاقت کو ٹکٹ دیا گیا ہے جو کافی منجھے ہوئے سیاستدان ہے۔

این اے 6:
یہاں سے جماعت اسلامی کے امیدوار ضلعی امیر مولانا اسد اللہ اور پیپلز پارٹی کے طرف سے احمد حسن خان انتخابات کے اکھاڑے میں موجود ہیں۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے میں پی کے 14، پی کے 15 اور پی کے 13 کے کچھ علاقے شامل ہیں اور ان تینوں صوبائی حلقوں میں جماعت تاریخ کے بد ترین اندورنی اختلافات کا شکار ہے۔ دوسری طرف پی پی پی کے امیدوار کا قد کاٹھ بھی کافی اونچا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں انہی وجوھات کے بناء پر 2018 کے الیکشن میں احمد حسن خان فیورٹ امیدوار ہے۔

جماعت اسلامی کے طرف سے مصالحتی کوششیں جاری ہیں اور اب تک مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں۔ جماعت کے طرف سے فی الحال ایک نکاتی ایجنڈا سامنے آیا ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر سراج الحق کے مقابلے میں شفیع اللہ خان کو بٹھایا جائے۔ جو ان کے خیال میں اگر میڈیا کے نظروں میں آگیا تو یہ ملکی سطح پر جماعت کے انتخابی کمپئین کو متاثر کر سکتی ہے۔ جواب میں “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے طرف بھی ایک نکاتی ایجنڈا سامنے آیا ہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے مقابلے میں تب ہی شفیع اللہ خان کاغذات نامزدگی واپس لینگے اگر جماعت اسلامی پی کے 14 سے مظفر سید کی نامزدگی سے دست بردار ہوجائیں۔ ان سطروں کے لکھتے وقت تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

اگر جماعت اسلامی اور “جماعت اسلامی بچاو تحریک” کے درمیان مصالحتی کوششیں ناکام ثابت ہوتی ہے، تو ایک طرف 2018 کے الیکشن جماعت اسلامی دیر لویئر سے ہاتھ دھو بیٹھے گی تو دوسری طرف جماعت اسلامی کو دوبارہ ہولڈ حاصل کرنے کیلئے انتھک محنت اور کافی زیادہ عرصہ درکار ہوگا جو کہ موجوہ صورتحال میں ناممکن نظر اتا ہے۔

یہ بھی دیکھئے: سیاسی جماعت اسلامی اور “اصلی” جماعت اسلامی — ضیاء الرحمن فاروق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: