مغرب میں پذیرائی کا آسان فارمولا —— ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 87
    Shares

پچھلی صدی کی بات ہے ایڈولف ہٹلر نے جرمنی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ضعیف فون ہنڈن برگ کے ساتھ شراکت اقتدار میں آ گیا۔ کہاوت ہے کہ پوت کے پائوں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں۔ ہٹلر اقتدار میں آ کر جرمنی کو ایک عظیم ترین مملکت بنانا چاہتا ہے کہ جس کے زیر نگیں پورا یورپ ہی نہیں پوری دنیا ہو اور وہ اپنے مخالفین کے لئے ایک منصوبہ اپنے ذہن میں رکھتا ہے، یہ باتیں راز کی نہیں تھیں۔ تھوڑے ہی عرصے بعد فون ہنڈن برگ نے دار فانی سے کوچ کیا اور ایڈولف ہٹلر جرمنی کے ’’فیوہرر‘‘ بن گیا اور پھر پولینڈ اور دیگر ممالک پر ہٹلر کے مختلف بہانوں سے قبضے شروع ہوئے۔ ایسے میں اہل برطانیہ اور اہل فرانس وغیرہ میں سراسیمگی پھیل گئی۔وجہ یہ تھی کہ یہ وہی جرمنی تھا کہ جس کو انہوں نے محض 20 سال قبل زیر نگیں کیا تھا اور اس پر شدید پابندیاں عائد کی تھیں۔ پہلے ان ممالک نے شاہ جرمنی قیصر ولیم کو ہر برائی کی جڑ قرار دیا تھا۔ اب یہ سلسلہ ان ممالک کے اخبارات نے ایڈولف ہٹلر کے ساتھ اختیار کیا۔ یہ اخبارات ہٹلر کو ایک شیطان بنا کر اپنے عوام کے سامنے پیش کرتے اور جھوٹی سچی ہر نوع کی باتیں ہٹلر سے منسوب کرتے جاتے۔ ایسے میں ہٹلر کے ایک نکمے بھتیجے کو عجیب بات سوجھی۔ وہ اپنے چچا سے ملا اور خطیر رقم کا مطالبہ کیا۔ ہٹلر کے نظریات چاہے کچھ بھی ہوں مگر وہ بے حد ایماندار شخص تھا اور اس نے اپنے خاندان یا اپنی ذات کے لئے ایک پائی بھی نہ بنائی تھی۔ اس نے اپنے بھتیجے کو چلتا کر دیا۔ بھتیجے میاں نے سوچا کہ چچا کو سبق سکھایا جائے اور وہ برطانیہ اور بعد ازاں امریکا پہنچ گئے۔ یہاں مغرب میں ہونے والے ہٹلر کے بارے میں ہر ہر پروپیگنڈا کی تصدیق کی اور پریس والوں سے خوب خوب مال بنایا۔ بعد میں یہ شخص خود امریکی فوج میں بھرتی ہو گیا اور ایک نوع کا عوامی ہیرو بن گیا۔ امریکا برطانیہ میں اس شخص کو ایک عجوبے کے طور پر پیش کیا جاتا۔ یہ مزے کرتا اور خوب کماتا کھاتا پھر توجہ الگ ملتی۔مگر تاریخ بڑی ظالم شے ہے۔ یہ کبھی جھوٹ کو بہت دیر تک جینے نہیں دیتی۔ آج ہٹلر کے اس باغی بھتیجے کے بارے میں ساری تفصیلات اہل مغرب کے سامنے آچکی ہیں کہ یہ شخص کس طرح اپنے چچا سے پیسے وصول کرنا چاہتا تھا اور اتحادی ممالک میں اس کی آمد کسی نظریاتی وجوہ سے نہیں بلکہ پیسے، طاقت اور توجہ حاصل کرنے کے لئے تھی۔ آج جنگ عظیم کے خاتمے کے تقریباً 75 سال بعد کوئی بھی شخص ہٹلر کے اس بھتیجے کو اپنا ہیرو نہیں مانتا بلکہ سب کی نظر میں یہ شخص ایک ٹھگ کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک جانب اہل مغرب ایڈولف ہٹلر کے بھتیجے کو تو اب بالآخر پہچان گئے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی اس نوع کے باغیوں (جو کہ ان کے مخالفین سے ٹوٹ کر ان کے پاس پہنچ جائیں اور اپنے ہی اہل وطن کو اُن کی لے میں گالی بک سکیں) میں مغرب کی دلچسپی اور بڑھ گئی ہے۔ سرد جنگ کے عہد میں جوزف اسٹالن کی بیٹی اور اسی طرح کے بہت سے روس کو گالی بکنے والے امریکا اور مغربی یورپ پہنچتے اور ہیرو بن جاتے۔ ان لوگوں کے انٹرویو ہوتے، ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا اور ان کو بے حد مراعات ملتیں۔ رفتہ رفتہ یہی کام جزیر نما کوریا میں شروع ہو گیا۔ جنوبی کوریا میں شمالی کوریائی باشندے چھپتے چھپاتے پہنچ جاتے اور یہاں ان کو وہی ’’اسٹار‘‘ کا درجہ مل جاتا۔ اب یہ لوگ نت نئی خوفناک باتیں شمالی کوریا کے حوالے سے بتاتے، بعد میں ان میں سے چند لوگوں کو جب اپنے خوابوں کے مطابق مراعات جنوبی کوریا میں نہ ملیں تو حیرت انگیز طور پر ان میں سے بہت سے لوگ واپس شمالی کوریا چلے گئے اور وہاں جا کر ان لوگوں نے جنوبی کوریا کے خلاف بڑی شدید باتیں اپنی پریس کانفرنسوں میں بیان کیں۔

پاکستان بھارت تنازع میں بھی اس نوع کے چند کردار پیدا ہوئے۔ 80 کی دہائی میں فہمیدہ ریاض اور احمد فراز بھارت خود ساختہ جلاوطن ہو گئے تھے اور پاکستان کے حوالے سے رکیک باتیں انہوں نے وہاں کیں۔ کچھ عرصہ تو یہ وہاں اخبارات کی توجہ حاصل کر پائے مگر پھر بے شرمی کی چادر اوڑھ کر ان کو واپس وطن ہی آنا پڑا۔ اسی نوع کا ایک کردار جس کا نام طارق فتح کئی سال سے بھارت میں ہے۔ یہ بھی پاکستان کو گالی بکنے اور اسلام کے اوپر تنقید کے لئے بھارت میں بڑا مقبول ہے اور عموماً NDTV کے ارناب گوسوامی کے پروگراموں میں اس کو پاکستان کواور اسلام پر تنقید کرنے کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور امریکا کی بحیثیت اتحادی ممالک ایک پرانی تاریخ ہے مگر 11 ستمبر کے بعد حالات میں یہ اتحاد بڑی حد تک نام نہاد رہ گیا اور اب تو بڑی حد تک یہ مخاصمت صریح دشمنی کا رنگ اختیار کرتی ہی جاتی ہے۔ اس صورت حا ل میں بعض مفاد پرست پاکستانیوں نے ایسی ہی ضمیر فروشی کی دکانیں مغرب میں کھول لی ہیں۔ ان میں سب سے آگے آج کل حسین حقانی صاحب ہیں۔ پھر وہ لکھاری ہیں جو نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات میں مضامین لکھتے ہیں، پھر وہ سیاست دان ہیں جو جلاوطنی مغرب میں کاٹ رہے ہیں، ان سب افراد کی دکانیں پاکستان کو گالی بک کر چلتی ہیں۔ غیر ملکی اخبارات اور جرائد میں وہ مضامین بڑی جگہ لے کر چھپتے ہیں، جن میں کوئی پاکستانی پاکستان کو ظلم و بربریت، جہالت، دہشت اور ہرہر بری چیز کا مرکز ثابت کررہا ہو۔ ایسے ہرہر مضمون میں پاکستان کی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو پاکستان کے ہر ہر مسئلے کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ میرے ایک عزیز پاکستان کے ایک معروف انگریزی اخبار سے منسلک ہیں، انہوں نے چند سال قبل ایک بڑا دلچسپ واقعہ سنایا، ان کے ہی اخبار سے منسلک ایک خاتون کو ’’فل برائٹ‘‘ اسکالر شپ ملی اور وہ امریکا چلی گئیں، وہاں محترمہ نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک بڑا سخت مضمون لکھ دیا۔ محترمہ کی اس حرکت سے ان کا اخبار بڑی مشکل میں آ گیا، پھر محترمہ نے امریکا میں پناہ لے لی۔ اس لئے کہ پاکستان کے آہنی ڈھانچے کو گالی بک کر وہ پاکستان کیسے آتیں؟ اس طرح محترمہ کو چند سال امریکا میں قیام کی جگہ وہاں مستقل قیام کا موقع مل گیا۔ آخری اطلاعات تک وہ مریکا میں ہی ہیں۔

دنیا جب تک قائم رہے گی تب تک ملکوں اور قوموں میں تضادات اور ٹکرائو تو رہے گا ہی۔ ایسا تو ناممکن ہے کہ دنیا کی تمام ملتیں شیر و شکر ہو جائیں مگر اختلاف اور دشمنی کی ایک سطح ہوتی ہے۔ کبھی بھی جب کوئی ملک اپنے کسی دشمن کے اس باغی کی پیٹھ تھپک کر اسے انعام و اکرام سے نوازتا ہے تو دراصل وہ ایک اسفل اور گرے ہوئے طبقے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ افراد کسی بھی سماج کے ہیرو نہیں ہوتے، یہ اس لئے کسی کے خلاف نہیں بولتے کہ ان کو اس سے کوئی حقیقی اختلاف ہوتا ہے بلکہ ان کا مسئلہ دراصل روزی روٹی ہوتا ہے۔ جو چار پیسوں کے لئے اپنے وطن، اپنے عقیدے، اپنے نظریے سے بغاعت کر دے وہ آپ کا کیا ہو گا؟ فوری پذیرائی کا جو فارمولا مغرب نے وضع کیا ہے یہ دراصل حکمت سے دور ہے۔ حکایت میں ہے کہ چنگیز خان نے خوارزمیہ پر جب یورش کی تو ایک قلعے پر اسے کافی عرصہ محاصرہ رکھنا پڑا مگر وہ اہل قلعہ کو دروازہ کھولنے پر مجبور نہ کر سکا۔ اب اس سے ایک باغی نے اندر سے رابطہ کیا اور اپنی خدمات پیش کیں۔ چنگیز نے اس کی مدد سے قلعے کا دروازہ کھلوا لیا اور پھر قلعہ اس کے قبضے میں تھا۔ اب اس کے سپاہی جب سروں کے مینار بنا رہے تھے تو وہ باغی دوڑا ہوا چنگیز کے پاس آیا اور خوب چاپلوسی سے اپنے کارنامے پر چنگیز سے داد اور انعام طلب کیا۔ چنگیز مسکرایا اور کہا کہ اس کا سر کاٹ کر مینار کی چوٹی پر رکھ دو۔ یہ سن کر باغی چلانے، واویلا کرنے لگا، اس پر چنگیز نے وہ تاریخی جملہ کہا جو کہ بہت عظیم حقیقت ہے۔ ’’جو اپنوں کا نہ ہو وہ ہمارا کیا ہو گا؟‘‘ یہ حقیقت چنگیز جیسا جنگلی تو جانتا تھا مگر اہل مغرب تمام تر دعویٰ فراست کے باوجود اس سے بے بہرہ معلوم ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: