نین نقش —— لالہ صحرائی کا انشائیہ

0
  • 109
    Shares

پیدائش کے بعد انسان کا جن کاریگر ہستیوں سے واسطہ پڑتا ہے ان میں سر اور ناک بنانے والی خواتین سرفہرست ہوتی ہیں۔

ان میں اکثر کاریگر وہ ہوتی ہیں جن کے اپنے سر پھرے ہوئے ہوں لیکن چونکہ اپنے ایک دو بچوں کا سر اور ناک کامیابی سے بنا چکی ہوتی ہیں اسلئے کئی اوروں کا ناک نقشہ بنانا بھی انہی کے سر جا لگتا ہے۔

کاریگر خواتین نومولود کو اپنی نگرانی میں ایک ہفتہ دائیں کروٹ اور ایک ہفتہ بائیں کروٹ، پھر ایک ہفتہ سیدھا لٹاتی ہیں تاکہ بچے کے سر کا ڈیزائن نستعلیق شکل اختیار کر جائے اور ضمنی فائدے کے طور پر اسے خواتین کی نگرانی میں رہنے کی عادت بھی پختہ ہو جائے۔

بچے کا سر بنانا بہت ضروری ہوتا ہے اس کی پرائمری وجہ یہ ہے کہ بڑے ہو کر اس میں جو بہت سے سودے سمانے ہوتے ہیں وہ قرینے سے رکھے جا سکیں، اور پرائم۔ریزن یہ ہے کہ مستقبل میں جو اس کا سر کھانے کیلئے آئے گی اسے بھی کھانے کیلئے ایک دیدہ زیب چیز نصیب ہو جائے۔

ناک کا معاملہ زرا سیدھا سا ہے یعنی ناک جتنا ستواں ہوگا بچہ بڑا ہوکر اسے اتنا ہی اونچا رکھنے کی کوشش کرے گا، آئیڈیا برا نہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ ناک اونچی رکھنے کی کوشش میں انسان سر پہ جوتے کھا لیتا ہے اور سر اونچا رکھنے کے چکر میں ناک کٹوا بیٹھتا ہے۔

اچھے سر میں سودا بھی اچھا ہی سمانا چاہئے اسلئے اچھے سر ہمیشہ اچھے سودے میں اپنا آپ کھپاتے ہیں خواہ اس کیلئے کتنی ہی ناک کیوں نہ رگڑنی پڑے۔

جن کا ناک اور سر اچھا نہیں ہوتا وہ ناک اور سر اونچا رکھ بھی نہیں سکتے، ایسے لوگ بڑے ہوکر اپنے بچوں سے توقع لگا کے بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ ان کا سر اونچا کریں گے اور ان کی ناک نہیں کٹوائیں گے مگر ہوتا وہی ہے جو بچے کو منظور ہوتا ہے کیونکہ اس بیچارے نے بھی اپنا سر اور ناک اونچا رکھنا ہوتا ہے، وجہ وہی ہے کہ اس کا اپنا سر اور ناک بھی اسی مقصد کیلئے بنایا سنوارا گیا ہوتا ہے۔

انگریزوں کے ہاں یہ پنچایت نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایسے اعتقادی اقدامات کی بجائے مینجمنٹ پر زیادہ یقین رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود عقیدے کی عدم موجودگی میں ان کی ناک دنیا بھر میں کٹتی رہتی ہے، ہمارے ہاں تو خیر مس۔مینجنٹ کی وجہ سے کٹتی ہے پھر بھی اچھی بنی ہوئی ہو تو کٹی ہوئی محسوس نہیں ہوتی، جبھی پانچ چھ سو سال سے ہمیں کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا۔

بیشتر اقوام کو سر بنانے کی ضرورت اسلئے بھی درپیش نہیں کہ انہوں نے کونسا سہرا باندھنا ہوتا ہے، شادی پر تو خیر ہمارے ہاں بھی سہرا اب متروک ہی ہو چکا ہے مگر کامیابی کے سہرے کی امید تو جابجا رہتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ یہ بات بھی کبھی امید کی حد سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔

یورپین اقوام کا سر کسی رجعت پسند رواج کیلئے نہیں بنا ہوتا اسی لئے ان کے تن پر کوئی کپڑا نہیں ٹکتا اور ہمارا سر چونکہ اچھا بنا ہوا ہوتا ہے اسلئے ہمارے ہاں بااہتمام کپڑے پہنے جاتے ہیں بلکہ جن کا سر زیادہ ہی اچھا بنا ہوا ہو وہ جبہ و دستار کا اہتمام بھی کر لیتے ہیں۔

ہماری طرح دیگر قوموں میں باہمی سرپھٹول بھی نہیں ہوتی، وجہ وہی ہے کہ وہ صحیح طرح سے بنے ہوئے ہی نہیں ہوتے، دن رات کام، کام اور بس کام کے چکروں میں نہ کسی کو سر بنانے کا پتا ہے نہ ہی کوئی ناک ستواں کرنے کا ہوش ہے، جبھی ان کا شوبز ان کی ناک کٹوانے کی حد تک ترقی کر رہا ہے۔

ہمارے ہاں سر بنانا اسلئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ عام حالات میں ہمارے اوپر کوئی یقین نہیں کرتا، ایسے میں سر پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھانی پڑتی ہے لیکن جس کا سر اچھا نہ ہو اس پر کوئی قسم کھانے کو بھی ہاتھ نہیں رکھتا۔

نین نقش میں اگر آنکھیں اچھی ہوں تو بادام جیسی لگتی ہیں، دیکھ کر دماغ کو طاقت پہنچتی ہے، گال اچھے ہوں تو سیب جیسے لگتے ہیں، دیکھ کر دل کو تقویت ملتی ہے، چہرے پر تل ہو تو اعصاب کو سکون پہنچتا ہے untill کہ وہ تل سمیت اپنی فروٹ کی ریڑھی کہیں آگے نہ لے جائے۔

جس کسی کے نین نقش اچھے ہوں، لوگ اسے بار بار دیکھتے ہیں بلکہ خوبصورت چہرہ دیکھنے میں عام چہرے کی نسبت زیادہ وقت صرف ہوتا ہے کیونکہ ایسا چہرہ اس کے ماتھے سے لیکر ناف تک وسیع ہوتا ہے، بعض اوقات تو سائیڈوں پر بھی نکل جاتا ہے، کسی آتی ہوئی ذی روح کا چہرہ تو ہر کوئی دیکھتا ہے، بعض ایسے کاریگر بھی ہوتے ہیں جو جاتے ہوئے اجسام کا بھی چہرہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں، بیشتر فنکار اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔

جیسے نین نقش ہر انسان کو ایک علیحدہ پہچان بخشتے ہیں ایسے فنگر پرنٹس بھی یہ پہچان کراتے ہیں کہ کس چیز کو کس نے ہاتھ لگایا تھا، ہونٹوں پر لکیریں بھی شائد اسیلئے ہوتی ہیں تاکہ ٹریس ہو سکیں، لپ سٹک بھی اسی مقصد کیلئے لگائی جاتی ہے کہ بوقت ضرورت اپنی لکیروں کے نشانات پہچانے جا سکیں۔

مردوں کے نین نقش بس متوازن حد تک اچھے ہونے چاہئیں، ضرورت سے زیادہ اچھے ہوں تو خواتین کے علاوہ بندہ مردوں میں زیادہ مقبول ہو جاتا ہے جو عزت افزائی کی بات نہیں سمجھی جاتی، اس مسئلے کو متوازن کرنے کیلئے مردوں کو عموماً مونچھیں رکھنا پڑتی ہیں، ان حالات میں مونچھوں کا شمار بھی اب نین نقش ہی میں ہوتا ہے۔

ضمنی طور پر مونچھیں کمیونیکیشن کے کام بھی آتی ہیں، اس کے تاؤ سے پتا چلتا ہے کہ بندے میں کتناک دم ابھی باقی ہے، کلین شیو بھی ایک طرح کا پیغام ہی ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری کمیونیکیشن مکمل ہو چکی ہے، اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ کانفیڈینس کی علامت ہوتی ہے کہ ہونی کو جب مونچھیں نہیں ٹال سکتیں بلکہ آپ خود قبول کرکے اسے گھر لے آتے ہیں تو پھر خوامخواہ مونچھوں کو تاؤ دے کر اسے چبھونے کا کیا فائدہ۔

جو مخلوق مونچھوں پر تھریڈنگ کرتی ہے وہ بھی ایک طرح کی کمیونیکیشن ہی ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے ابھی تک ہار نہیں مانی، وہ ہار مان بھی کیسے سکتی ہے جس نے اچھے بھلے ناک اور کانوں میں جان بوجھ کے کچھ اضافی سوراخ کروا رکھے ہوں تاکہ مدمقابل غریب کا ان مقامات پر بھی دس بیس ہزار روپیہ لگوا دیا جائے۔

شادی سے پہلے دونوں اصناف کے سر میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوتا ہے کہ متوقع زوج کے نین نقش اچھے ہونے چاہئیں تاکہ بچوں کا ناک نقشہ اچھا نکلے مگر شادی کے بعد راہ سلوک کا نقشہ دیکھ کے طرفین بیچارے عمر بھر یہی سوچتے ہیں کہ ہمارا سر بھی اچھا بنا ہوا ہے پھر بھی کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔

شادی کے معاملے میں خواتین کا عمومی رجحان وردی والوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے، اسلئے کہ ان کے ناک نقشے پر ڈبل محنت لگی ہوتی ہے، سرکاری نائی کی بدولت سب سے نفیس اور خوشخط مانگ انہی کی نکلتی ہے، پھر اسی بنا پر مارکیٹ میں بھی ان کی مانگ زیادہ نکلتی ہے، دوسری وجہ یہ کہ انہیں دائیں مڑ، بائیں مڑ، سیدھا چل اور اباؤٹ ٹرن کی بڑی سخت مشقیں کرائی گئی ہوتی ہیں جس کی بدولت انہیں راہ سلوک کی منزلیں طے کرانا آسان رہتا ہے یعنی اپنی مرضی کے موڑ کٹوانے میں آسانی رہتی ہے۔

نین نقش پر قیافہ شناسوں کی ایک اپنی ہی دنیا ہے جو اپنے ناپ تول کے مطابق ہر ناک نقشے کے متعلق ایک مخصوص رائے رکھتی ہے، اس رائے کا شکار زیادہ تر ناٹے قد، دراز پا، فربہ جسم، کھڑکنے اور بھوری رنگت والوں کے علاوہ نیلی اور بھوری آنکھوں والے ہی بنتے ہیں۔

علم القیافہ کی تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ مردوں میں تیس ایسی علامات ہوتی ہیں جو ہر عورت کو پتا ہونی چاہئیں، ان علامات سے وہ کسی بھی انجان مرد کو دیکھ کر اس کے مزاج، پسند ناپسند، رویے اور اخلاق وغیرہ سمیت اس کی شخصیت کا مکمل احاطہ کر سکتی ہیں، پھر ایسی ہی تیس نشانیاں عورتوں کے متعلق بھی ہیں جن سے کسی بھی عورت کی مکمل شخصیت کا پورا پورا ادراک کیا جا سکتا ہے۔

شائد ان کمبختوں کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ علمی دنیا میں اس بات کا پورا پورا اہتمام موجود ہے کہ مرد و زن چاہیں تو ایکدوسرے کی حقیقت جان کر ایکدوسرے پر حروفِ اربعہ بھیج کے دائمی طور پر باہمی رفاقت سے لاتعلق ہو سکتے ہیں۔

ان کی بات ایک حد تک ٹھیک بھی ہے اسلئے کہ جو اس علم سے ناآشنا ہیں وہی لوگ ایک جگہ سے بریک۔اپ کے بعد ویسی ہی کسی دوسری جگہ پہ دل لگانے چل دیتے ہیں جو بعد میں پھر سے سینگ پھنسانے کے مترادف ہی ثابت ہوتا ہے، ان غریبوں کو یہ حقیقت کبھی معلوم نہیں ہو پاتی کہ اچھے نین نقش بھی پہاڑی چوٹیوں اور وادیوں کے حسین کمبینیشن کی طرح دلکش ضرور ہوتے ہیں مگر ان میں وولکینوز بھی چھپے ہوتے ہیں جو کہیں پر زرا سی کھرونچ لگنے سے آگ اور دھواں اگلنے بھی لگ سکتے ہیں۔

زمانہ قبل از جدید تعلیم صرف نین نقش ہی بنی نوع انسان کی دلچسپی کا محور تھے مگر مابعدالجدید تعلیم اب سارا زور فیگرز پر آگیا ہے۔

قسطنطنیئے اب نین نقش سے زیادہ سِکس۔پیک بنانے کیلئے جم جانے میں دلچسپی لیتے ہیں اور قسطنطاننیاں اب ہئیر اسٹائل اور فیگرز پر فوکس رکھتی ہیں، گو ہئیراسٹائل اور فیگرز کی اپنی اپنی کشش ہے اسلئے دونوں ہی کھلے رکھنے پڑتے ہیں مگر جس چیز کو ڈھانپ کے رکھنے سے جوئیں پڑنے کا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہو کم از کم اسے تو ضرور ڈھانپ لینا چاہئے، ویسے بھی دوپٹے کا وزن ہی کتنا ہوتا ہے۔

خیر یہ قسطنطنیہ والوں کا ذاتی مسئلہ ہے، ہمارا اس مسئلے سے کچھ لینا دینا نہیں کیونکہ ہم نین نقش کے متوالے آج بھی بابائے شیراز کے ہم ذوق ہیں جو ایک تل پہ ثمرقند و بخارا نچھاور کرنے کو ہر وقت تیار بیٹھتے ہوتے ہیں۔

بقول شیرازی صاحبؒ
اگر آں ترکِ شیرازی بدست آرد دلِ مارا
بخال ہندوش بخشم سمرقند و بخارا

اگر میرا محبوب میری دلداری پر آمادہ ہوجائے تو میں اس کے رخسار پر چمکنے والے تل پر سمرقند و بخارا نچھاور کردوں۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: