حقوق نسواں از علامہ اقبالؒ —– تالیف و تلخیص: لالۂ صحرائی

0
  • 210
    Shares

مسلم ایسوسی ایشن مدراس کے بانی سیٹھ محمد جمال صاحب کی دعوت پر علامہ صاحب نے اپنے دورۂ مدراس کے دوران انجمن اردو سوسائٹی، محمڈن کالج اور انجمن خواتین اسلام کے پلیٹ فارمز پر تین مختلف لیکچرز دیئے تھے۔
کوٹاس گارڈن میں انجمن خواتین اسلام نے 7 جنوری 1929 کو جو سپاسنامہ پیش کیا اس میں انہوں نے اپنے لئے “اسیرانِ قفس” کا لفظ استعمال کیا تھا، اس کے جواب میں “اسیرانِ قفس” کی تالیف قلب کیلئے علامہ صاحب نے شریعت اسلامی کی رُو سے حقوق نسواں پر ایک مفصل گفتگو کی تھی جو بعد میں دیگر لیکچرز کیساتھ “تشکیلِ جدید الہٰیاتِ اسلامیہ” کا جزو بھی بنی۔
زیر نظر مضمون علامہ صاحب کے اسی کلام سے چیدہ چیدہ نکات پر مبنی ہے لیکن اس تلخیص میں مقالے کی اصل روح، معنی و مفہوم میں کوئی فرق نہیں روا رکھا گیا، مکمل تقریر پڑھنے کے متمنی حضرات کیلئے حوالہ جات آخرت میں درج ہیں۔


علامہ اقبال علیہ رحمۃ کا خطاب:

میں آپ کے ایڈریس کا کس زبان سے شکریہ ادا کروں، ایمان کی بات تو یہ ہے کہ اگر میری تحریروں نے خواتین کے دل میں اسلامی روایات کا احترام پیدا کیا ہے تو رب کعبہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔

میرا یہ عقیدہ رہا ہے کہ کسی قوم کی بہترین روایات کا تحفظ صرف اس قوم کی خواتین ہی کر سکتی ہیں، اگرچہ انحطاط کے دور میں عورت کے حقوق سے بے پرواہی کی گئی ہے، مسلمان مردوں نے مسلمان عورتوں سے تغافل برتا ہے، لیکن عورت باوجود اس تغافل کے اپنا منصب پورا کرتی رہی ہے، آپ کے علم میں کوئی ایسا شخص نہ ہوگا جو اپنی ماں کی تربیت کے اثرات اپنی شخصیت میں نہ پاتا ہو یا اپنی بہنوں کی محبت اس کے دل پر اپنا نشان نہ چھوڑتی ہو اور وہ خوش نصیب شوہر جن کو نیک بیویاں ملی ہیں، وہ بھی خوب جانتے ہیں کہ عورت کی ذات مرد کی زندگی کے ارتقاء میں کس حد تک ممد و معاون ہے۔

مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اسلام میں مرد و زن میں قطعی مساوات ہے، میں نے قرآن پاک کی آیت سے یہی سمجھا ہے البتہ بعض علماء مرد کی فوقیت کے قائل ہیں، جس آیت سے یہ مفہوم اخذ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ۔ 
مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔

جبکہ عربی محاورے کی رو سے اس کی یہ تعریف صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے، عربی گرائمر کی رو سے قائم کا صلہ جب علیٰ پر آئے تو معنی محافظت کے ہو جاتے ہیں۔

ایک دوسری جگہ قرآن حکیم نے فرمایا ہے:
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ۔
وہ تمھارے لیے بمنزلۂ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلۂ لباس ہو۔

انسان کا لباس بھی محافظت کیلئے ہوتا ہے اس لحاظ سے دونوں ایکدوسرے کی محافظت میں برابر کا درجہ رکھتے ہیں، کوئی ادنیٰ و اعلیٰ نہیں۔

انسانی زندگی میں مرد و عورت کے فرائض اور دائرۂ کار مختلف ضرور ہیں مگر اس اختلاف کی بنیاد پر مساوات کا کلیہ تبدیل نہیں ہوتا کہ مرد اعلیٰ ہے اور عورت ادنیٰ ہے اسلئے کہ جب حقوق کی تقسیم پر نظر ڈالیں تو کہیں سے یہ نہیں لگتا کہ خواتین کو کوئی کمتر حقوق حاصل ہیں۔

سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ عورت بچوں کی وراثت کا حق رکھتی ہے، اسلام اسے اپنی جائداد رکھنے کا حق بھی دیتا ہے جو ابھی تک کئی مغربی ممالک کی خواتین کو بھی حاصل نہیں، 1875 تک انگلینڈ میں عورت جائداد کی مالک نہ تھی بلکہ شادی کے وقت اس کی دولت بھی مرد کی دولت میں جذب ہو جاتی تھی، اور اولاد کی ولایت کا حق بھی اسے حاصل نہ تھا، طلاق حاصل کرنا بھی انہیں مشکل تھا، پھر 1888 تک کوئی انگریز اپنی مرحومہ بیوی کی بہن سے شادی نہیں کر سکتا تھا، حالانکہ پرائی عورت کی بجائے پہلا حق مرحومہ کی بہن کا ہی ہونا چاہئے تاکہ مرحومہ کے بچوں کو اپنائیت دے سکے، جبکہ شریعت اسلامی میں ان تمام باتوں کی اجازت پہلے سے موجود ہے۔

ان تمام امور میں یورپی اقوام اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوئیں یا ان معاملات میں حسب ضرورت خود کوئی راہ نکالنا چاہی، جو بھی تھا، مگر اسلامی قوانین سے انہوں نے بھرپور رہنمائی ضرور حاصل کی ہے۔

مرد کے پاس طلاق کا حق برتری کی بنیاد پر نہیں بلکہ تحمل کی بنیاد پر ہے، ترکی میں بھی خواتین نے حق طلاق کیلئے احتجاج کیا تھا مگر علماء نے اس بات کی وضاحت کرنا مناسب نہیں سمجھی کہ طلاق کا حق مرد کے پاس کس مصلحت کی بنیاد پر ہے ورنہ شریعت کی رو سے بوقت نکاح عورت بھی یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ اسے طلاق کا حق دیا جائے یا ناگزیر حالات کی صورت میں تنسیخ نکاح کا حق اس کے ولی کے پاس رکھ دیا جائے اور نہ ہی کبھی خواتین نے خود ہی اس حق کو تلاش کرنے کی کوشش کی، پھر یہ بھی ہوا کہ یورپ میں عورت کو یہ حق ملنے کے بعد سب سے زیادہ عورتوں نے ہی تنسیخ نکاح کی درخواستیں دائر کیں حالانکہ مرد کو اس معاملے میں جلد باز سمجھا جاتا ہے۔

قرونِ اولیٰ میں تو آزادیٔ نسواں کی صورتحال یہ تھی کہ مسلمان عورتیں بھی جنگوں میں شریک ہوتی رہیں، حضرت عائشہؓ پردے میں رہ کے لوگوں کو درس اسلام فرماتی رہیں، خلفائے عباسی کے دور میں ایک خلیفہ کی بہن خود قاضی القضاہ کے منصب پر فائز تھیں اور وہ خود فتویٰ بھی صادر کیا کرتی تھیں۔

اب یہ مطالبہ بھی کرنا پڑ رہا ہے کہ عورت کو ووٹ کا حق ملنا چاہئے حالانکہ خلافت اسلامیہ کے دور میں خلیفہ کے انتخاب کیلئے مردوں کے علاوہ خواتین بھی رائے دینے کیلئے اپنی بھرپور آواز رکھتی تھیں۔

آپ نے اپنے ایڈریس میں اسیرانِ قفس کا لفظ استعمال کیا ہے اس سے مجھے یورپ اور ترکی کی وہ تحریک نسواں یاد آگئی جسے ایمنسیپیشن٭ یعنی مردوں کے غلبے سے آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جسے قیود کہا جاتا ہے کیا وہ حقیقی طور پر قیود ہیں بھی یا نہیں۔
*Emancipation

میں لڑکیوں کے باپوں کو الزام دوں گا کہ بوقت نکاح وہ لڑکیوں کے حقوق پر نگاہ کیوں نہیں رکھتے، اسی طرح یہ الزام خواتین کو دیئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ وہ اپنے بھائیوں سے جائیداد میں حصہ کیوں نہیں مانگتیں اور  قانونی طریقے سے اپنے حقوق کیوں نہیں مانگتیں۔

دراصل انبیاء اکرام کی تعلیمات بہت گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہیں کچھ چیزیں بظاہر قیود لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ قیود کی بجائے انسان کی حفاظت پر مبنی ہوتی ہیں، مرد و عورت کو ضرورتاً ایکدوسرے کے سامنے آنا پڑتا ہے اس وقت عورت کو پردے کا حکم دیا گیا کہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کرے اور مرد کو اس موقع پر غض بصر یعنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ غیر اخلاقی تعلقات کی راہ نہ پیدا ہوسکے۔

میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایمنسیپیشن کی تحریک جب کامیاب ہو گئی تو پھر ترکی کی خواتین میں خودکشی کا رجحان اور انگلستان کی عورت میں طلاق لینے کا رجحان کیوں بڑھ گیا، اس بحران پر قابو پانے کیلئے ترکی کو ایک کمیشن بٹھانا پڑا اور یہ اعلانات کرنے پڑے کی عورت زندگی کی علامت ہے جب وہی اپنی زندگی سے بیزار ہو جائے تو پھر دنیا کے آگے بڑھنے کے کیا امکانات باقی رہ جاتے ہیں۔

سماجی معاملات سے متعلق احکامات شریعت میں ہرجگہ ہمیشہ سہولت کا اصول روا رکھا گیا ہے، اس لحاظ سے بوقت ضرورت تعدد ازدواج کی گنجائش بھی رکھی گئی مگر یہ حکم نہیں تھا کہ لازمی پورا کیا جائے، اگر مردوں نے اس اجازت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تو اس میں قانون شریعت کا کیا قصور؟

جن سوسائیٹیز میں تعدد ازدواج کی اجازت نہ ہو ان کی مشکلات کا آپ اندازہ نہیں کرسکتے، ابھی جرمنی کو جب مردوں کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوا تو اسے عہدنامہ ویسٹ فیلیا٭ کے تحت بیس سال کیلئے مردوں کو تعدد ازدواج کی اجازت دینی پڑی جبکہ ایسے ہنگامی حالات کی صورت میں ہمیں شروع سے یہ اجازت نامہ حاصل ہے، مگر فقہ اسلامی میں فرض اور رخصت میں فرق رکھا گیا ہے کیونکہ فرض ترک نہیں کیا جا سکتا، رخصت ترک کی جا سکتی ہے۔

اب یہ تو مردوں کو چاہئے کہ رخصت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بوقت نکاح عورت اگر چاہے تو یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ مرد کو شرعاً جو رخصت حاصل ہے اسے میرے حق میں ترک کر دے، یعنی وہ شادی اس شرط پر کرے کہ مرد اس پر دوسری عورت نہیں لائے گا۔

میں اس سلسلے میں لڑکیوں کے باپوں کو یہ الزام دوں گا کہ بوقت نکاح وہ لڑکیوں کے حقوق پر نگاہ کیوں نہیں رکھتے، اسی طرح یہ الزام خواتین کو دیئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ وہ اپنے بھائیوں سے جائیداد میں حصہ کیوں نہیں مانگتیں اور جہاں ان کے حقوق سلب ہو رہے ہوں وہاں قانونی طریقے سے اپنے حقوق کیوں نہیں مانگتیں۔

افسوس کہ ہندوستان میں اسلامی قوانین کی عدالتیں نہیں، میں نے سر جان سائمن سے بھی کہا تھا کہ یہاں اسلامی عدالتیں قائم ہونی چاہئیں جو مسلمانوں کے خانگی معاملات کا فیصلہ شریعت اسلامی کیمطابق کریں مگر انگریز کیلئے شرعی قوانین کو سمجھنا بہت مشکل ہے، ہمارے ہاں بھی اس سلسلے میں جو فقہی قوانین موجود ہیں وہ پرانے زمانے کے حساب سے ہیں، ہمیں موجودہ زمانے کو مدنظر رکھ کے نئے قوانین بھی وضع کر لینے چاہئیں۔

آپ نے اپنے ایڈریس میں جو شکایات کی ہیں ان میں مردوں کا قصور ضرور ہے مگر کچھ آپ کا اپنا قصور بھی ہے، آپ اپنے حقوق طلب کیوں نہیں کرتیں، آپ چاہیں تو شوہر سے بچوں کو دودھ پلانے اور کھانا پکانے کی اجرت بھی طلب کر سکتی ہیں، الغرض مساوات سے لیکر عقل و انصاف پر مبنی وہ کونسا حق ہے جو آپ اپنے لئے چاہتی ہوں اور اسلام نے وہ پہلے ہی آپ کو تفویض نہ کر رکھا ہو، اگر آپ کو معلوم نہیں یا آپ اپنے حق کی حفاظت کیلئے کوشش نہیں کرتیں تو اس میں قرآن اور شریعت اسلام کا کوئی قصور نہیں۔

آپ ترکوں جیسی آزادی کو اپنا آئیڈیل نہ بنائیں، وہ فطرتاً سپاہیانہ ذہنیت رکھتے ہیں اسلئے فقہ کی کماحقہ تعبیرات کرنے سے قاصر ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تعبیرات سے بہت ٹھوکریں کھائی ہیں، مصطفےٰ کمال پاشا آپ کو ایسی کونسی آزادی دیں گے جو شریعت نے نہ دے رکھی ہو البتہ مادرپدر آزادی کی شریعت اسلام نے کبھی اجازت نہیں دی نہ ہی کوئی ہوش مند انسان کبھی اس کی خواہش ہی کرے گا، بیجا آزادی سے ترکی میں جو ناچ شروع ہوا تھا بلاخر مصطفےٰ کمال کو اسے حکماً بند کرانا پڑا۔

اب یہ تو مردوں کو چاہئے کہ رخصت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بوقت نکاح عورت اگر چاہے تو یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ مرد کو شرعاً جو رخصت حاصل ہے اسے میرے حق میں ترک کر دے، یعنی وہ شادی اس شرط پر کرے کہ مرد اس پر دوسری عورت نہیں لائے گا۔

دوسری طرف لالہ لاجپت رائے نے اپنی کتاب میں انگلستان کا وہ سرکلر نقل کیا ہے جس میں عورتوں کو کچھ چیزوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ان باتوں میں یہ بھی ہے کہ جوان عورتیں رات نو بجے کے بعد گھر سے باہر نہ نکلیں اور نکلنا ضروری ہو تو باپ یا بھائی کوئی نہ کوئی ان کیساتھ ہو، اسی طرح تھیٹر کے متعلق بھی کچھ ایسی ہی ہدایات ہیں، پھر یورپ کے دیگر ممالک کو بھی کچھ ایسی ہی ہدایات جاری کرنا پڑیں، آخر کیوں؟

اسلئے کہ جو فطری پردہ محرم و نامحرم میں ہونا چاہئے وہ ان میں نہ رہا اور آخر کار ان سرکلروں کا سہارا لینا پڑا۔

قانون پیشہ ہونے کی وجہ سے مجھے کئی بار عدالتوں میں لڑکیوں کے حقوق کیلئے لڑنا پڑا ہے، اور کئی بار یہ خدمت میں نے بغیر فیس کے بھی ادا کی ہے، اس دوران بعض اچھے اچھے گھروں کے لوگ بھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم رسم و رواج کے پابند ہیں شریعت کے پابند نہیں، محض اسلئے کہ بیٹیوں کو جائداد سے حصہ نہ دینا پڑے، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ شریعت کی بجائے ہم ان رواجوں کی قیود سے آزادی حاصل کریں۔

ہمیں چاہئے کہ جو حقوق اسلام نے دیئے ہیں ان پر اصرار کریں پھر کون سیاہ دل باپ، شوہر یا بھائی ایسا ہوگا جو آپ کے حقوق دینے سے انکار کرے گا بلکہ ہمیں تو ملک میں ایسی فضا پیدا کر دینی چاہئے کہ اس وقت تک نکاح نہ ہو جب تک کہ یہ متعین نہ کر دیا جائے کہ آئندہ زندگی میں لڑکی کو کون کون سے حقوق حاصل ہوں گے اور یہ تحریک بہت زور و شور سے شروع ہونی چاہئے۔

میرے خیال میں ایک مسلمان عورت کیلئے بہترین اسوۃ حضرت فاطمۃالزہراؓ ہیں، ان کی عظمت کیلئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ امام حسینؓ جیسی عظیم ہستی کی تربیت انہوں نے کی ہے، عورت کو اپنی انتہائی عظمت تک پہنچنے کیلئے حضرت فاطمہؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعی کرنی چاہئے، ان خیالات کا اظہار میں اسرار خودی میں بھی کر چکا ہوں۔

فطرتِ تو جذبہ ہا دارد بلند … چشمِ ہوش از اُسوۂ زہراؓ بلند
تا حسینے شاخ تو بار آورد … موسمِ پیشین بہ گلزار آورد

تیری فطرت کا جذبہ بہت بلند ہے، اپنے ہوش کو اسوۂ زہراؓ سے صحیح بلندی تک پہنچاؤ تاکہ تمہاری پرورش سے حسینؑ جیسے جوانمرد پیدا ہوں، اگر ایسا ہوگیا تو سمجھو کہ اس گلشن میں پھر ماضی جیسی بہار آجائے گی۔

الغرض یہ کہ آپ کو آزادی کے لفظ پر نہیں جانا چاہئے بلکہ آزادی کے صحیح مفہوم پر غور کرنا چاہئے، یورپ کی آزادی ہم خوب دیکھ چکے ہیں، یورپین تہذیب ابھی باہر سے ہی دیکھی جا رہی ہے، کبھی اندر سے دیکھیں گے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے ایڈریس کیا اور امید کرتا ہوں کہ جن خیالات کا اظہار میں نے کیا ہے آپ ان پر غور کرکے اسلام کی اعلیٰ تعلیمات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش فرمائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقدم ماخذ:
مقالاتِ اقبالؒ، مقالہ نمبر 30، صفحہ نمبر 318 تا 328.  مرتبہ سید عبدالواحد معینی و محمد عبداللہ قریشی
ایڈیشن سن 2011، مطبوعہ القمر انٹرپرائزز، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔

ضمنی ماخذات:
گفتارِ اقبال، صفحہ 74، 75۔
روزنامہ انقلاب، 20 فروری 1929۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ صاحبؒ کی یہ گفتگو پڑھ کے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان سوسائٹی آج بھی اسی جگہ پر کھڑی ہے جہاں انجمن خواتین اسلام خود کو اسیرانِ قفس سمجھتی تھی بلکہ شائد ہم اس سے بھی بری جگہ پہ پہنچ چکے ہیں۔

ایک طرف ہم ان سماجی رسوم سے رہائی حاصل نہیں کرسکے جو عورت کو باپ کی جائداد میں حصہ دلوا سکے تو دوسری طرف شادی کے موقعے پر عورت کے وہ حقوق متعین کرنے کیلئے اس کے شرعی استحقاق کو بھی پیش منظر میں نہیں لا سکے جو سسرال میں اس کا مقام، حقوق اور فرائض طے کر سکے، یہ سب معاملات ایک ان۔رِٹن لاء پر چلتے ہیں جو سسرال والے ہی طے کرتے ہیں اور خمیازہ بیچاری عورت کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

اس انتظامی کمزوری کا بڑا نقصان خاص طور پہ جدید سماج کی بڑھتی ہوئی ورکنگ وومین کلاس کو پہنچ رہا ہے، جسے اپنی عائلی زندگی میں حقوق اور فرائض میں تفاوت کا اس قدر سامنا ہے کہ گھریلو اختلافات اب فی الفور طلاق کی نوبت تک جا پہنچتے ہیں بلکہ ان معاملات کی وجہ سے سماج میں طلاق کی شرح بھی اپنے عروج تک پہنچی ہوئی ہے۔

ان عائلی معاملات سے نمٹنے کیلئے شریعت کورٹس تو اب موجود ہیں مگر سپیڈی ٹرائلز اور فقہی قوانین کی جدید تعبیرات اب بھی مفقود ہیں۔

ان سب معاملات کے اوپر ایک سلگتا ہوا پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو ادائیگیٔ حقوق کا وہ چارٹر سمجھا سکے ہیں اور نہ ہی آزادی اور قیود کا وہ فرق سمجھا سکے ہیں جو شریعت سے ہم آہنگ ہو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے موجودہ حالات میں ایمنسیپیشن کی جو تحریک موجود ہے وہ بہرصورت مغربی آزادی کے تصور کو ہی اپنی آزادی اور بقا کی اصل ضامن سمجھتی ہے۔

مغربی طرز کی آزادی کے مضمرات جانتے بوجھتے ہوئے بھی مسلم معاشرے کا جائز و شرعی حقوقِ نسواں کی ادائیگی میں پہلو تہی یا رجعت سے کام لینا اپنی نسلوں کو ایک ایسے ماحول میں دھکیلنے کے مترادف ہے جہاں سب کچھ مل تو جاتا ہے مگر وہ کوئی آبرومندانہ سیٹ۔اپ بہرحال نہیں ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: بیٹنگ ٹائم: ابنِ قاسمؒ کا گریبان —– لالہ صحرائی

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: