جماعت اسلامی والوں کے بیٹے : ڈاکٹر عزیزہ انجم

0
  • 47
    Shares

دانش پہ شائع ہونے والی محترمہ نبیلہ کامرانی کی تحریر جماعتِ اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟ کے جواب میں ڈاکٹر عزیزہ کی پرلطف تحریر پیش خدمت ہے۔


بیٹے کیسے نٹ کھٹ ہوتے ہیں۔ اکڑے اکڑے اکھڑے اکھڑے۔ جوان ہوجائیں کندھوں سے اونچے ہو جائیں پھر تو بادشاہی آجاتی ہے مزاج میں باپ کی نہیں سنتے ماں بیچاری کی کیا سنیں گے۔ کبھی کبھی تو مائیں جوان گھبرو جوان بیٹوں کے آگے بہن لگنے لگتی ہیں۔ میرا نواسا بارہ تیرہ سال کا قد کیا نکال لیا آگے چلتے ہیں ہر بات میں، کہتے ہیں تو کیا ہوا۔ لفٹ میں میری گھبراہٹ سے محضوظ ہوتے ہیں جان بوجھ کر لفٹ پوری رکے بغیر باہر نکلتے ہیں اور میری پریشانی پر مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں لفٹ گرے گی تو کیا ہوگا کچھ نہیں۔

اسپتال میں اکثر خواتین کم عمر بیٹوں کے ساتھ آتی ہیں اور وہ محترم آگے یوں چلتے ہیں گویا بہت بڑے اور ذمہ دار ہوں۔
ایک پندرہ سالہ خفا خفا بیٹے کو ماں لیکر آئیں۔ پرانی مریضہ تھیں اعتماد کا تعلق تھا اصرار تھا کہ بیٹے کو میں ہی دیکھوں بیٹا تیز بخار میں مبتلا گردن ٹیڑھی کئے بیٹھا تھا۔ دوا لینے کے ساتھ انکی شکایتیں جاری تھیں سنتا نہیں ہے اپنی کرتا ہے۔ بات آگے بڑھی تو کہنے لگیں روزے پورے رکھ رہا ہے نمازیں جماعت سے پڑھ رہا ہے بس رات بھر کرکٹ کھیلتا ہے میں نے کہا چھوڑیں کھیلنے دیں کرکٹ۔ کرکٹ نہیں کھیلے گا تو کیا کرے گا۔

بیٹے ہوں یا بیٹیاں سب دیکھتے ہیں ماں کیا کر رہی ہے، باپ کی کیا مصروفیت ہے اور وہ ماں باپ جو اللہ کے دین کی دعوت گھر گھر گلیوں گلیوں پہنچاتے ہیں دروازے کھٹکھٹائے ہیں بیٹے وہ بھی دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ قبول نہیں کرتے مزاجا ہلا گلا پسند کرتے ہیں اور دیکھنے والے جلدی میں غلط تاثر لیتے ہیں اور اس تاثر کو حتمی رائے بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ دعوت دین دینے والوں کو گھر میں ناکامی ہوئی ہے۔

بس بات یہ ہے کہ بیٹے نخرے زیادہ دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی بظاہر آپکے مخالف چلنے میں اپنے أپ کو ہیرو سمجھتے ہیں۔

قاری صاحب کی پوری فیملی کلینک آتی تھی۔ ماشااللّہ کثیر ا لعیا ل ہیں گورنمنٹ جاب ہے، مدرسہ چلاتے ہیں، جماعت کے کارکن بھی ہیں بیوی عام ذہنی سطح کی گھریلو خاتون۔ قاضی صاحب کے زمانے میں جب ملین مارچ ہوا کرتے تھے سب بچے خوش خوش ملین مارچ میں جاتے اور اپنی خوشی کا فخر یہ اظہار بھی کرتے ہم تو اب کے ساتھ ملین مارچ میں جا رہے ہیں۔

میڈیکل کالج میں بدر بہت عزیز دوست تھی اب بھی ہے ابا انتہائی قابل، پی ایچ ڈی، کتابوں کے مصنف پر جوش جماعتی۔ اس کا چہیتا بھائی مسعود انٹر کا طالب علم، این ایس ایف کا لیڈر تھا۔ اکثر پریشانی کا اظہار کرتی۔ مہران یونیورسٹی نوابشاہ میں داخلہ ہوا جماعت کے مصاحب علی ندوی کی صحبت ملی۔ انکی درویشی ایسی بھائی کہ ابا کی جماعت کے اسیر ہوگئے۔ الحمدللّٰہ اب بھی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: خامہ فرسائیاں — شادی، بیوہ اور رنڈوے : سحرش عثمان

 

ان دنوں فیس بک پر جس جوان خوش خصال کا چرچا ہے، جسکی جراتوں کی کہانیا ں ہیں، جسکی پیشانی پر پاکستان کی خوش قسمتی کی لکیر نظر آرہی ہے، بڑی حیرت سے میں نے دیکھا یہ کون ہے، معلوم ہوا سلمان بٹ کا بیٹا ہے، وہی پریم والے سلمان بٹ۔

سراج الحق کا جواں سال بیٹا ابا کی جماعت میں کارکن کی حیثیت سے کا م کرتا زمانے بھر کو دکھائی دے رہا ہے اور قاضی صاحب کے بیٹے بیٹی کی تو مثال ہی کیا، دلوں کو شاد کر دیتی ہیں انکی سرگرمیاں۔

اور وہ سیاہ برقعوں میں ملبوس چہرے پر نقاب گرائی ہوئی گھر گھر دعوت دیتی عورتیں جنکی چپلیں گھس گئیں برقعے پرانے ہو گئے، قویٰ کمزور ہو گئے مگر حق کا فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں ہوئی، انکے گھروں میں فرشتے پروان نہیں چڑھے انسانوں کے بچے پروان چڑھے۔ اپنے اپنے مزاج اور خو بو کے مالک جو زمانے کے سرد گرم سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اماں کا دامن نہیں چھوڑتے۔ بس بات یہ ہے کہ بیٹے نخرے زیادہ دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی بظاہر آپکے مخالف چلنے میں اپنے أپ کو ہیرو سمجھتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے بیٹے ہوں یا اس قوم کے سارے بیٹے اللہ انہیں سلامت رکھے یہ کہیں بھی جائیں اس دین اس ملک کی شان بړ‎ھائیں مان بڑھائیں۔
یہ ہمارے بھی ہیں اس ملک کے بھی اس دین کے بھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سیاسی جماعت اسلامی اور “اصلی” جماعت اسلامی — ضیاء الرحمن فاروق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: