جماعت اسلامی کے بچے —- ڈاکٹر ذکیہ اورنگزیب

2
  • 71
    Shares

جماعت اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟ مورخہ 9 جون 2018 کو نبیلہ کامرانی صاحبہ کے مضمون کا لنک کھولتے ہوئے خیال تھا کہ بڑی ریسرچ کر کے لکھی گئی کوئی وزن دار تحریر سامنے آئے گی، جس میں دلائل کے ساتھ موضوع کے حق میں بات کی گئی ہو گی، لیکن ابتدائی جملوں نے ہی مسکرانے پر مجبور کردیا، کچھ مضحکہ خیز دلچسپ نکات دیکھیئے جن کو بطور حقائق مصنفہ نے پیش کیا ہے، بچے صبح دس سے دوپہر دو بجے تک محترمہ کی سمع خراشی کا باعث بنتے تھے، یعنی اونچے سروں میں گانےگایا کرتے تھے، یعنی کہ ان کا کسی اسکول کالج وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ انکل موصوف بھی صبح کونے کھدرے کی جھاڑو لگایا کرتے تھے یعنی کہ وہ بھی کسی قسم کی نوکری یا روزگار سے وابستہ نہیں تھے؟ شام چار سے سات وہی بچے انڈین گانے سنتے پھر موصوفہ ہی کے بقول شام میں وہ کرکٹ کھیلنے نکل جاتے؟ آپ ہی اپنی یادداشت پہ ذرا غور کریں، سب سے مزے کی بات یہ کہ بچے خاموشی سے انڈین فلمیں دیکھتے لیکن محترمہ کو خاموشی سے دیکھی گئی فلم کی بھی آواز اپنے گھر میں سنائی دیتی۔ (اس سے کیا ہم یہ بھی نتیجہ اخذ کریں کہ انڈین فلمیں دیکھ کر بڑے ہونے والے افراد پی ٹی آئی کے ووٹر بن جاتے ہیں؟)

مولانا مودودی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب برتن کو بیسیوں ہاتھ مانجھنے لگیں تو وہ چمک جاتا ہے، جماعت اسلامی بھی ایسے ہی برتن کی مانند ہے، یوں تو مصنفہ نے نہایت ہی بے وزن قسم کی تنقید کی ہے، لیکن ایسا لگا کہ جیسے مجھ جیسی کئی خواتین کو اپنے دل کی بات کرنے کا راستہ دکھا گئی ہیں۔ آج تقریباً ہر عورت گھر سے نکل کر کام کر رہی ہے، میں خود ایک گائناکالوجسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ جماعت کی رکن بھی ہوں، مجھے او پی ڈی کے علاوہ آن کال مریضوں کی سرجری کے لیئے بھی جانا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ جماعت کی طرف سے ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہوں اور جیسا کہ مصنفہ نے بڑی دردمندی سے فرمایا، کبھی کبھار شہر سے باہر بھی جانا ہوتا ہے، الحمدللہ میری بچیاں میڈیکل کالج میں پڑھ رہی ہیں، باپردہ ہیں اور جماعت سے مکمل طور پر وابستہ ہیں، یہی نہیں جماعت کی ان کارکنان کی طویل فہرست ہے جن کے بچے نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اعلی کامیابیاں حاصل کرکے ملک کی خدمت کررہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ممکن ہے کہ بچے نظریاتی طور پر والدین سے الگ سوچ رکھتے ہوں، بچہ صبح ترو تازہ دماغ کے ساتھ اسکول جاتا ہے، پھر ٹیوشن،کھیل کود، انٹرنیٹ پہ لگایا گیا وقت، اس کے بعد والدین کو ایک ایسا تھکا ہوا دماغ ملتا ہے جس کی تربیت ماحول سے ہو چکی ہوتی ہے، اس صورتحال نے ہماری تہذیب کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں، پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی کو ووٹ دینا تو ایک ثانوی بات ہے، دردمند دل رکھنے والوں کو اس وقت یہ بات سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف معاشرے کا پس ماندہ طبقہ ہے جس کو عوام کالانعام کہہ دیا جاتا ہے، دوسری جانب اہلِ ثروت ہیں جن تک دین کا فہم نہیں پہنچ رہا ہے، اور متوسط طبقہ اور اس طبقے کی نوجون نسل جسے دین کا اصل سرمایہ بننا ہے وہ بھی لغویات کا شکار ہو رہی ہے، اس صورتحال میں جماعت اسلامی کی وہ خواتین جو اپنے گھروں کے محاذ پر ڈٹی ہوئی اپنا فرض جانتے ہوئے بچوں کی تربیت کر رہی ہیں، نیز معاشرے کی تبدیلی کے لیئے ایک دردمند دل کے ساتھ گھروں سے نکلتی ہیں اور معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتی ہیں، وہ تنقید کی نہیں بلکہ تعریف کی مستحق ہیں۔خصوصاً آج کے دور میں جب کہ ہماری پچاس فیصد سے زیادہ خواتین گھر کے محاذ کو چھوڑ چکی ہیں، جو صبح نوکری کے لیئے نکلتی ہیں اور شام کو تھکی ہاری گھر پہنچتی ہیں، ان کے مقابلے میں دین کے لیئے چند گھنٹے نکلنے والی خواتین پر تنقید کرنا کسی طور مناسب عمل نہیں ہے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ماشاء اللہ .ذکیہ بہت بہترین اور بروقت تحریر ہے اورمدلل جواب بھی ہے نبیلہ کامرانی کی تحریر کا.

Leave A Reply

%d bloggers like this: