لوٹے اور لوٹا کریسی: ہر جماعت میں —- رئیس احمد صمدانی

0
  • 43
    Shares

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر چھوٹے میاں صاحب نے فرمایا کہ’ نیازی نے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے اور زرداری سے کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں اور یہ کہ آئندہ انتخابات میں وہ نیازی زرداری کی سیاست کو ختم کردیں گے‘۔کتنا اچھا ہوتا کہ چھوٹے میاں صاحب یہ بھی بتا دیتے کہ نون لیگ نے کن کن فرشتوں کو ٹکٹ جاری کیے۔وہ یہ کہنا شاید بھول گئے نون لیگ کے سامنے تو لوگ لائن لگائے کھڑے ہیں ٹکٹ لینے کے لیے؟ ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا کہ تنازعے شروع ہوگئے۔ یہ کوئی خاص بات بھی نہیں عام انتخابات میں اس مرحلے میں اَیسا ہی ہوا کرتا ہے جو اِس وقت بڑی سیاسی جماعتوں میں ہورہا ہے۔ جنہیں کسی وجہ سے بھی ٹکٹ نہیں ملتا وہ واویلا مچاتے ہیں، شور کرتے ہیں، اپنی پارسائی، سینیارٹی، پارٹی سے اپنی وابستگی اور خدمات کی ایک طویل فہرست سامنے لے آتے ہیںاور جس پارٹی میں وہ بڑی امیدوں سے بھرتی ہوئے تھے اس کے سربراہ کو دہائی دے رہے ہوتے ہیں۔ بھنگڑا ڈالنے والے ایسے سیاسی لوگ پارٹی سے مخلص نہیں ہوتے، انہوں نے پارٹی میں شمولیت صرف اس وجہ سے کی ہوتی ہے کہ ٹکٹ ملے گا، فاتح قرار پائیں گے، پھر جھنڈے والی گاڑی ملے گی، پروٹوکول ملے گا، وزارت بھی ایسی چھانٹ کر لے گا کہ جس میں خوب مال بنے۔ ایسی سوچ و فکر رکھنے والے نہ تو پارٹی سے مخلص ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کے، ان کا مفاد کسی بھی طرح وزارت کی کرسی قابو کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر چھوٹے میاں صاحب نے فرمایا کہ’ نیازی نے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے اور زرداری سے کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں اور یہ کہ آئندہ انتخابات میں وہ نیازی زرداری کی سیاست کو ختم کردیں گے‘۔کتنا اچھا ہوتا کہ چھوٹے میاں صاحب یہ بھی بتا دیتے کہ نون لیگ نے کن کن فرشتوں کو ٹکٹ جاری کیے۔وہ یہ کہنا شاید بھول گئے نون لیگ کے سامنے تو لوگ لائن لگائے کھڑے ہیں ٹکٹ لینے کے لیے؟ ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا کہ تنازعے شروع ہوگئے۔ یہ کوئی خاص بات بھی نہیں عام انتخابات میں اس مرحلے میں اَیسا ہی ہوا کرتا ہے جو اِس وقت بڑی سیاسی جماعتوں میں ہورہا ہے۔ جنہیں کسی وجہ سے بھی ٹکٹ نہیں ملتا وہ واویلا مچاتے ہیں، شور کرتے ہیں، اپنی پارسائی، سینیارٹی، پارٹی سے اپنی وابستگی اور خدمات کی ایک طویل فہرست سامنے لے آتے ہیںاور جس پارٹی میں وہ بڑی امیدوں سے بھرتی ہوئے تھے اس کے سربراہ کو دہائی دے رہے ہوتے ہیں۔ بھنگڑا ڈالنے والے ایسے سیاسی لوگ پارٹی سے مخلص نہیں ہوتے، انہوں نے پارٹی میں شمولیت صرف اس وجہ سے کی ہوتی ہے کہ ٹکٹ ملے گا، فاتح قرار پائیں گے، پھر جھنڈے والی گاڑی ملے گی، پروٹوکول ملے گا، وزارت بھی ایسی چھانٹ کر لے گا کہ جس میں خوب مال بنے۔ ایسی سوچ و فکر رکھنے والے نہ تو پارٹی سے مخلص ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کے، ان کا مفاد کسی بھی طرح وزارت کی کرسی قابو کرنا ہوتا ہے۔

انتخابات 2018ء کی گہما گہمی شروع ہوچکی ہے، کاغذاتِ نامذگی جمع کرنے کا عمل جاری ہے، دوسری جانب سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے، بہت سے جماعتوں نے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے، کچھ حتمی فیصلے کرنے جارہی ہیں۔ سیاست کے کھلاڑی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مہارت دکھارہے ہیں، ٹکٹوں کی تقسیم پر ہر جماعت میں تنازعہ شروع ہوچکے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کے معاملات اچھال رہا ہے اس طرح کہ جیسے خود دودھ میں نہایا ہوا ہو۔ جیسے میاں شہباز شریف نے فرمایا کہ’ نیازی نے لوٹوں کو ٹکٹ دیے اور زرداری سے کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں‘۔ مکمل سین کی تشریح اس طرح مناسب ہوگی کہ ’عمران نے لوٹوں کو، زرداری نے کھوٹوں کو اور شہباز نے پیادوں، خوشامدیوں، درباریوں کو ٹکٹ دے رہے ہیں‘۔ لوٹے کس جماعت میں نہیں، نون لیگ لوٹوں سے مبرا ہے، اس میں مسلم لیگ (ق)، تحریک انصاف اور پی پی میں لوٹے نہیں، کس کو نہیں معلوم کہ ایک بڑی تعداد ان لوٹوں کی ہے جو کسی اور جماعت سے نون لیگ میں شامل ہوئے، یہی صورت حال تحریک انصاف کا بھی ہوچکا ہے، اس میں نون لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے لوگ بڑی تعداد میں شامل ہوچکے ہیں، انہیں کیا نام دیا جائے گا، یہ بھی تو لوٹے ہی کہلائیں گے، پیپلز پارٹی کا گراف کچھ نیچے ہے، اس میں دیگر جماعتوں کے کم کم لوگ شامل ہوئے جب کے اس کا دامن اپنے چاہنے والوں سے خالی زیادہ ہوا جیسے شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر عاشق اعوان، ندیم افضل چن، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین، راجہ ریاض، نذر محمد گوندل، غلام مرتضیٰ ستی، سید صمصام علی شاہ، نور عالم خان، غلام مصطفی کھر، حناربانی کھر، ذوالفقار مرزا، فہمیدہ مرزا اور دیگر بے شمار تحریک انصاف اور دیگر جماتوں میں اس طرح شامل ہوچکے ہیں جیسے کبھی بھٹو صاحب کے دور میں لوگ پیپلز پارٹی میں، ضیاء الحق کے دور میں جونیجوگروپ میں، پرویز مشرف کے دور میں ق لیگ میں شامل ہوئے تھے، خود نون لیگ کا قیام ادھر ادھر کے لوٹوں پر ہی تو عمل میں آیا تھا۔ اس وقت نون لیگ سب سے زیادہ خسارے میں دکھائی دے رہی ہے ا س کے پیادے (بقول چودھری نثار) بڑی تعدادا میں تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہیں عمران خان نے ٹکٹ بھی دیے۔ انتخابات کے نذدیک جوسیاسی جماعت مستقبل میں اقتدار میںآتی نظر آتی ہے، مختلف ذرائع اور تعلق کے حوالے سے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ مستقبل فلاں جماعت کا ہے تو، وقت کے پچاری، لوٹے، سیاسی بٹیرے، مفاد پرست، چڑھتے سورج کے پجاری اپنی جماعت کو چھوڑ چھاڑ مقناطیسی کشش والی جماعت کا رخ کرتے ہیں۔ سابقہ ادوار میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، نون لیگ اس دور سے گزر چکی ہیں۔ اب تک کے حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ انتخابات 2018 ء عمران خان کی پارٹی اپنے نام کرنے جارہی ہے، اقتدار کے ایوانوں میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا بول بالا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاست لمحوں میں پلٹا کھاجاتی ہے، دکھائی کچھ دے رہا ہوتا ہے پر سامنے کچھ اور آجاتا ہے۔

سیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں لوٹے شامل نہیں ہوتے لیکن جماعت کت بعض اہم لیڈر دیگر جماعتوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ بڑے بڑے نام لیے جاسکتے ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور وہ جماعت چھوڑ کے دیگر جماعتوں میں شامل ہوئے اور اہم کردار ادا کیا، بعض نے مذہبی جماعت اپنی الگ بنالی، بعض دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے، جیسے تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید، مولانا کوثر نیازی پیپلز پارٹی کے ہو رہے، جاوید ہاشمی بھی جماعت کے تربیت یافتہ ہی ہیں۔انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت بھی محفوظ نہ رہ سکی، جو اختلافات سامنے آئے ان کے مطابق سراج الحق کے آبائی علاقے دیر لوئر میں ایک باغی گروپ سامنے آچکا ہے جس نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ’اصل جماعت اسلامی بحال کرو۔۔ جماعت اسلامی بچاؤ تحریک‘ کا اعلان کیا اور جماعت کے امیدواروں کے مقابلے میں کچھ امیدواروں نے الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کیا۔ شفیق اللہ خان، حاجی محمد داؤد سید، سیاست خان، محمد شیر خان، عبد اللہ خان اور کونسلر شفیع اللہ و دیگر نے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے اپنے قائدین پر مختلف قسم کے الزامات لگائے۔ اے این پی کا یہی حال ہے۔ مذہبی جماعتوں کا اتحادایم ایم اے پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔ یہ وہ نیم سیاسی نیم مذہبی جماعتیں ہیں جنہیں تن تنہا اقتدار کے منصب تک پہنچنے کی امید نہیں ہوتی، وہ ایک دوسرے کے سہارے ایوانوں میں پہنچنے کی سعی کرتے ہیں، مولانا قبلہ فضل رحمٰن صاحب اس عمل کے ذریعہ اقتدار میں شامل ہوہی جاتے ہیں۔ میاں صاحب کے اتحادی رہے، اب جب کہ میاں صاحب کی کشتی ڈول رہی ہے انہوں نے میاں صاحب سے اتحاد کرنے کے بجائے ایم ایم اے کو زندہ کرنا مناسب جانا۔کراچی کی سیاست کا رنگ ڈھنگ بالکل مختلف نظر آرہا ہے، سیاسی جماعتوں کے بڑے لیڈر کراچی کو فتح کرنے کی مہم شروع کرنے جارہے ہیں۔ ان میں سابق صدر پروی مشرف، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، ممکن ہے زرداری صاحب بھی ان میں شامل ہوں۔ ادھر متحدہ کے اندرونی اختلافات ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے، پی ایس پی مکمل تیاریوں میں ہے، پی آئی بی اور بہادر آباد الگ الگ الیکشن لڑیں گے یا ایک ہوجائیں گے کچھ کہا نہیں جاسکتا، جو صورت حال سامنے ہے اس سے متحدہ کا ووٹر مایوس اور دل شکستہ ہے، پارٹی بھی خسارے میں ہی رہے گی۔ مختصر یہ کہ کراچی میں کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں۔

انتخابات میں کارکردگی اور پارٹی کا منشور بنیادہونا چاہیے۔ شہبا ز شریف اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ نیازی اور زرداری پر تابڑ توڑ حملے کرنے اور اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں تن من دھم کی بازی لگارہے ہیں۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ پارٹی کے صدر وہ ضرور ہیں لیکن سیاست کے میدان میں بڑے میاں صاحب نے اپنی صاحبزادی کو آگے کیا ہوا ہے۔ شہباز شریف بیک فٹ پر جب کہ مریم نواز فرنٹ فٹ پر کھیلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پارٹیوں کو اپنے منشور کی بات کرنی چاہیے،اپنی کارکردگی کی بات کرنی چاہیے، پاکستان کو تعلیم، صحت، معیشت کے میدان میں آگے بڑھانے کے منصوبوں کی وضاحت کرنی چاہیے، عالمی سطح پر پاکستان کس طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے، ملک قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے، ہر پاکستان مقروض ہے، یہی نہیں بلکہ جو بچہ پیدا ہورہا ہے وہ مقروض ہوتا ہے، ملک کو قرضوں سے کیسے نجاد دلائی جاسکتی ہے، آخر یہ قرضے کس طرح اتارے جائیں گے۔ اس جانب اہم سیاسی جماعتوں کی توجہ نہیں، سیاسی مخالفین بلاوجہ کے الزامات لگا کر اپنی سیاست چمکارہے ہیں۔ جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملے ان کے واویلا سے کسی بھی سیاسی جماعت کو پریشان ہونے یا ان کے جوابات دینے میں اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہیے، صاف ستھری سیاست کے کلچر کو فروغ دیں، ایک دوسری کی ذات کو نشانہ بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ شہباز شریف کو یہ تو دکھائی دے گیا کہ زرداری سے کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں، عمران خان نے لوٹوں کو ٹکٹ دیے، قبلہ چھوٹے میاں صاحب یہ ان لوٹوں کی سیاسی پرورش آپ نے ہی تو کی ہے، کیا آپ لوگ آپ کے سامے لائن لگائے کھڑے ہیں ٹکٹ کی بھیک مانگ رہے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں، چھوٹے میاں صا حب آپ ان لوٹوں کی ایک فہرست جاری فرما دیں جو آپ سے فیض حاصل کر کے دیگر جماعتوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ دیگر کو چھوڑیے چودھری نثار کے بارے میں کیا خیال ہے، انہوں نے ابھی تک تو آپ سے ٹکٹ نہیں مانگا۔ نہ صرف یہ کہ ٹکٹ نہیں مانگا بلکہ انہوں نے این اے 63 (ٹیکسلا)، این اے 59(راولپنڈی)، پی ایس 12 اور10 سے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چودھری نثار نے یہ بھی کہا کہ’جاتی امراء والے ڈراموں اور بچکانہ حرکتوں سے اپنا مذاق اڑئیں نہ میری تضحیک کریں‘۔ انہوں نے یہاں اپنی پارٹی کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔ لوٹا کریسی ایسا گندہ عمل ہے جس نے پاکستان کی سیاست کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہے کہ وہ ایسے مفاد پرستوں کو اپنی صفوں میں شامل نہ ہونے دیں لیکن یہاں نظریہ ضرورت ان کی آنکھوں پر اقتدار کی پٹی باندھ دیتا ہے اور وہ مفاد پرست الیکٹ ٹیبلز کو اپنے سینے سے لگا کر اپنا سیاسی قد و کاٹ بڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود لوٹے پھر لوٹے ہوتے ہیں، لوٹا کریسی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ (11جون 2018ء)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: