خامہ فرسائیاں — پہلی قسط: سحرش عثمان

0
  • 56
    Shares

موسم نواز شریف ہوا تو ہم بھی کابینہ کے رکن ہی ہوگئے۔ جائز و ناجائز ہر فائدہ اٹھا لیا۔
مثلا دن چڑھے تک سوتے رہے۔ اٹھ کر درزی کے ہاں حاضری لگائی۔ ڈائر کو یاد دہانی کروائی۔ پیکو والے سے دوپٹے پیکو کروا کر جب گھر کی راہ لی، تو ہمیں دو سو فیصد یقین تھا کہ آنسہ کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر ہلکی پھلکی کمپیئن تو چلا ہی دی ہوگی۔
برنگ بیک آنسہ کی۔
کیونکہ ہمارا موبائل گھر پر تھا اور ہم پورے دو گھنٹے آف لائن رہے۔ پر وائے افسوس آنسہ کے دوست اتنے نظریے بیانیے نہ ہوئے۔

رنج، افسوس، دکھ، درد اور روزے کا لگنا اور دیگر سارے گلومی جذبات لئے، ہم اپنے دوستوں کی ماضی قریب و بعید میں روا رکھی جانے والی زیادتیوں پرمبنی ناروا سلوک کے واقعات یاد کر رہے تھے کہ ہمیں یاد آیا ہمارے دوست ہماری تحریروں کو بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے۔ سو، سوچا ایک طعنہ زنی والی تحریر لکھی جائے۔جو ان سب کے سارے پول کھول دے۔ لیکن خیال آیا اب ایسی بھی کیا افتاد ٹوٹ پڑی کہ ہم ریحام خان ہی بن بیٹھیں۔

ریحام بی بی کے نام سے ایک عدد فسادی خیال آیا۔ جسے ہم نے فورا جھٹک دیا۔ سوچا اس بی بی سے ہی دو چار سوال پوچھ لوں۔۔
لیکن پھر سوچا ایسا کیا کہہ گئی ہے۔ جو اس کو اہمیت دی جائے۔ یہ تو ہمارے ہاں دیہاتوں شہروں کی عورتیں ہر شادی پہ ڈھول پیٹ کر اور گلا پھاڑ کر اعلان فرماتی ہیں۔
“میں تیرے نال وسی آں، تے ہور کوئی وسے ای نہ۔”
لو دسو شاعر ایسے موقعوں پر فرما تے ہیں۔
اب اتنی سے بات پہ کون جینا حرام کرے۔
یوں بھی ایسی کسی بات کو توجہ دے کر ہم اپنی جنس کا مقدمہ کیوں کمزور کریں۔ جو پہلے ہی اس استحصالی نظام میں جکڑی، آزادی کے لیے کوشاں ہے۔

لیکن وہ دوستوں سے لڑائی۔۔ تو اچانک ذہن میں جھماکہ ہوا کہ۔ ہماری ایک تحریر پر دوست کچھ ججمنٹل ہوگئے تھے۔ سو آج اچھا موقع تھا۔ بلکہ رسم دنیا بھی تھی، موقع بھی تھا اور دستور بھی۔ لہذا اسی پوسٹ کو بنیاد بنا کر ہم نے انتقامی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

شادی کے حق میں تحریر لکھنے سے پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کہاں کہاں سے میسج آئیں گے۔
اندازہ درست ہوا۔ بہت سی دوستوں کے تپتے ان باکس میسجز موصول ہوئے۔
ہمارا شادی کا شوقین ثابت کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ تم جیسی لڑکیاں فینٹسی ورلڈ میں رہتی ہیں۔جن کو لگتا ہے شادی کے بعد سب کچھ ہرا ہرا ہی ہوتا ہے۔
اندازے کی درستگی پر داد کیا ملتی۔ الٹا طعنے ملنا شروع ہوگئے۔ جس پر کئی دن تک ہم نے خود ساختہ بائیکاٹ کئے رکھا کہ یہ سارے ہمارے دوست ہیں، انہیں ہمارے متعلق اتنا تو معلوم ہونا ہی چاہیے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس بات پر سستی شبنم بنے کل عالم میں اداسی کی نحوست پھیلائے رکھتے۔ ہم نے خود ہی خود کو ٹوکا۔
کہ بتا دینے میں، کہہ دینے میں کیا حرج ہے ؟ اپنا نکتہ نظر بیان کرنے میں کیا حرج ہے؟ اپنی پوزیشن کلئیر کرنے میں کیا بات آڑے آرہی ہے؟
ہماری انا؟
یا ہمارا کیمونیکیشن سکلز کا نہ ہونا یا پھر یہ سوچ کہ ہم ججمنٹل نہیں ہوتے تو دوسروں کو بھی نہیں ہونا چاہیئے۔

اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب لکھا جائے۔ جواز تراشا جائے۔ ایک اور بات ذہن میں آئی ہے کہ یہ ایگو ہمارا مسئلہ کہیں ٹیکینیکل فالٹ تو نہیں؟
صنفی فالٹ۔ ہماری صنف کی اکثریت یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہے کہ “اسے” نظر نہیں آتا۔
تو صاف سیدھا جواب تو یہ ہی ہے کہ نہیں۔
لیکن اگر نہیں۔ لکھ کر ہم نے بات ختم کردی تو آپ سب ہمیں “عظیم لکھاری” کیسے تسلیم کریں گے؟
لہذا منطقی گفتگو کرتے ہیں۔

ان وجوہات کو مخاطب کیجئے جن میں ساتھ رہنا، اس ساتھ کو اون کرنا، اس پر اطمینان و خوشی کا اظہار کرنا یا اس ساتھ کی خواہش کرنا گالی بن چکا ہے۔ آپ کی بچیاں شادی نہیں کرنا چاہتیں، بچے ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔

تو پیاری خواتین۔ چیزوں کو محسوس کرنے کی جو صلاحیت رب نے آپکو دی ہے وہ آپکی مخالف جینڈر کے پاس نہیں ہے۔ لہذا یہ دلیل ہی فضول ہے کہ آپ کے ڈس کمفرٹ کو محسوس کیا جائے اور اس کا سد باب کیا جائے۔ یا پھر آپ کے کچھ کہے بغیر ہی آپ کی دلیل کو تسلیم کیا جائے۔
خواتین آپ کو کہنا پڑے گا۔ سپیک آؤٹ لاؤڈ کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے پسندیدگی نا پسندیدگی کے متعلق بات کرنا پڑے گی۔اور یہ فارمولہ ہر تعلق ہر رشتے کے لیے ہے۔

بالکل اسی فارمولے کے تحت ہم بتا رہے ہیں کہ کیوں ہم شادی کے بغیر سماج کے ڈھانچے کی تکمیل کا کوئی نظریہ تسلیم نہیں کرتے۔
اس کا ایک سطری جواب تو یہ ہے کہ یہ رب کا قانون ہے۔ قانون فطرت جس سے فرار ممکن ہی نہیں ہے۔ انسٹنکٹ یعنی فطرت ہے نر اور مادہ کا ساتھ رہنا۔

اب آتے ہیں اس قانون کے سماجی پہلوؤں کی طرف۔
کوئی بھی معاشرہ فیملی یونٹ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ فرد سماج کی پہلی اکائی ہے اور خاندان اس کا بنیادی یونٹ۔ تو جب تک یونٹوں کا اجتماع نہ ہو سماج تشکیل نہیں پاسکتا۔
عموما اس نکتہ نظر کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ دنیا کے بہت سے معاشروں میں شادی کا سسٹم نہیں ہے تو کیا وہ معاشرے قائم نہیں۔
قائم ہیں یقینا قائم ہیں اور ہمارے جیسے معاشروں سے کہیں مضبوط بنیادوں پر قائم۔ لیکن شادی کے تعلقات استوار کئے بغیر نہیں۔

ہر معاشرے کے شادی نارمز الگ ہوتے ہیں۔
اور شادی سے مراد ساتھ ہی تو رہنا ہے؟
دل کی مرضی کا نام ہی تو نکاح ہے۔
اب آپ لوگ اس ساتھ رہنے کو شادی کہہ لیں لیکن لیونگ ادارہ تو آپ قائم کر ہی رہے ہیں نا؟ فیملی یونٹ۔
اور اس یونٹ کی تشکیل کے بغیر سماج ممکن نہیں۔ فیملی یونٹ ساتھ رہے بغیر ممکن نہیں۔ تو مختصر یہ کہ سماج کی تشکیل کے لیے فیملی یونٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔
اب اس وجہ کو دیکھا جانا چاہیئے کہ جس میں ہم لوگ شادی کو مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ساتھ رہنا تو فطری عمل ہے۔
اس کی وجوہات جانچنے کے لیے ہمیں سماجی روئیے جانچنے پڑیں گے۔

آپ لوگوں نے اکثر سنا ہوگا۔ کسی بیوہ کے متعلق کہ ایک سال کا بچہ تھا اس کے سر پہ ساری زندگی گزار دی۔ بڑی نیک عورت ہے۔
یہ بیٹی تو پیدا بھی نہیں ہوئی تھی جب شوہر گزر گیا۔ اب کیا بیٹی لے کر پرائے مرد کے ساتھ رہتی؟
بیچاری کے نصیب ہی ایسے ہیں۔
یا پھر یوں کہ۔۔ کیسا بے شرم ہے۔ بیوی کو گزرے سال بھی نہ ہوا اور نیا بیاہ رچا لیا۔
اس کے تو دیدوں کا پانی ڈھل گیا جوان اولاد کی موجودگی میں چہلم پر ہی کہنے لگا میری شادی کرائیں۔
یہ روزمرہ کے جملے ہیں جو ہم روٹین میں سنتےہیں۔ واقعہ کے مطابق دو منٹ اظہار افسوس لعن طعن اور صنفی فخر کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جو ہمارے پرہیز گاری کے خود ساختہ پیمانے پر پورا اترا ہے۔ اس کے دن کیسی مشکل سے گزر رہے ہیں۔
یا پھر جس پر ابھی ہم لعن طعن کر کے فارغ ہوئے ہیں۔ اس نے کوئی برائی نہیں کی بلکہ عین نیکی کی ہے۔

اس دور ابتلا میں جہاں ہر جگہ برائی گھات لگائے بیٹھی ہے اور ارزاں نرخوں پہ ہر شئے میسر ہے۔ وہاں کوئی نکاح کی بات کرتا ہے یا نکاح کا پیغام دیتا ہے تو وہ دراصل اپنا آدھا دین ہی مکمل کر رہا ہے، وہ نیکی ہی کررہا ہے۔ نفس کے ر ستے پر نہ چل کر اپنے فطری حق کے استعمال کررھا ہے۔
خدارا اگر خدا کو مانتے ہیں تو اس کا خوف کیجئے۔ اور اگر اس کی مانتے ہیں تو ایسے رویوں سے، ایسے جملوں سے پرہیز فرمائیے۔
یاکم از کم ان پر فخر کرنا ہی چھوڑ دیجئے۔
اور ان وجوہات کو مخاطب کیجئے جن میں ساتھ رہنا، اس ساتھ کو اون کرنا، اس پر اطمینان و خوشی کا اظہار کرنا یا اس ساتھ کی خواہش کرنا گالی بن چکا ہے۔ آپ کی بچیاں شادی نہیں کرنا چاہتیں، بچے ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔

کبھی کسی نے سوچا جواں سال بیوہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی؟کیا صرف وفا کی آپکی تشریح اور معیار پر پورا اترنے کے لیے؟
نہیں۔۔ شائد اس کے پیش نظر شادی شدہ زندگی کی مشکلات بھی ہوتی ہیں۔ وہ میاں بیوی کے مسائل کو عورت مرد کا ناقابل حل مسئلہ سمجھنے لگتی ہے۔ اس کے خیال میں دنیا کا کوئی شخص عورت کو نہیں سمجھ سکتا لہذا وہ اکیلے رہ جانا بہتر گردانتی ہے۔ کبھی کسی نے اس خیال کو جاننے بدلنے کی کوشش کی؟ کبھی کسی نے شادی کے بعد اپنے بچوں بچیوں کو بتایا ہے کہ ان کی زندگی کے مسائل جنس یا صنف کے مسائل نہیں فرد یا افراد کے مسائل ہیں۔ جنہیں مرد یا عورت کے خانے میں تقسیم ہوکر حل نہیں کیا جاسکتا۔
کیا میریج کونسلنگ کی کوئی شکل موجودہ ہے اس سماج میں؟ جو ایک دوسرے سے بیزار جوڑوں کو حل بتا سکے۔ بیزاری کا ان کو وے آؤٹ ہی بتا سکے کوئی اس مستقل آزاد سے۔

خیر اب آجائیے دوسری اہم ترین وجہ جس پر ہمارے معاشرے میں داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے کی حد ہوجاتی ہے۔اولاد کی خاطر زندگی گزار دی۔اولاد میں بیٹے ہوں توبیوہ کی شادی کا ایک آدھ فیصد امکان ہوتا ہے۔ لیکن اگر بیٹییاں ہوں تو سارے معاشرے کا تفکر ہوتا ہے کہ اب خاتون کو صدقات و خیرات کی ضرورت ہے شادی یا ساتھی کی نہیں۔
آرگیومنٹ بھی بہت دلچسپ دیا جاتا ہے اب کیا بیٹی کو لے کر پرائے مرد کے ساتھ رہنے لگے۔بیٹی کے معاملے میں کیسے بھروسہ کرلے پرائے مرد پر۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا سارا معاشرہ ریپیسٹ ہے؟ اگر ہے تو ایسے سماج پر اپنے اور اپنی بیٹی کے معاملے میں اعتبار کیوں کر رہی ہے؟ جو سماج اس کی نومولود کے لیے محفوظ نہیں وہ اس کے لیے کیوں کر محفوظ ہوگا؟
عجیب منطق ہے۔ رب اور اس کے رسول کو ضامن بنا کر کسی ایک شخص پر اعتبار نہ کرے۔ لیکن سارے سماج پر بغیر کسی ضمانت کےکر لے۔

اور مرد شادی کئے بغیر اکیلا رہ رہ کر نفسیاتی ہوجائے۔ بہوؤں، بیٹوں کی زندگی اجیرن کردے تو سب ٹھیک ہے لیکن اپنا گھر بسا لے تو کسی کو قبول نہیں۔
عجیب لوگ ہیں ہم والدین کے ادب و احترام کے حقوق پر بیویوں کو شب عروس پر دو گھنٹے کا لیکچر دے سکتے ہیں لیکن اسی باپ کے شادی کرنے کے فیصلے کے سب سے بڑے مخالف بن کر مرنے مارنے پر اترنے میں دو منٹ نہیں لگاتے۔
جائز شرعی اور فطری کاموں میں رکاوٹ ڈال کر ہم سو کالڈ رواجوں کے چنگل میں الجھ کر سماج کا ڈھانچہ بہتر کرنا چاہتے ہیں۔۔ ہم سا نادان بھی کہیں ہوگا؟

اگر کسی کو اس معاشرے کی بھلائی مقصود ہے تو اس کو ہندوانہ نظام کی ان “اچھائیوں” کو ترک کرنا ہوگا۔ وگرنہ یوں ہی شادی کے حق میں لکھنے پر ہمیں طعنے ملتے رہیں گے۔ اور ہم جواباََ یونہی لمبی لمبی تحریریں لکھتے رہیں گے۔کیونکہ کچھ اور کر جو نہیں سکتے۔خواب دیکھ سکتے ہیں سو دیکھتے ہیں اس سماج کی بہتری کے۔

اس بے اختیاری سے یاد آنے والا ایک شعر سنئے

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

میریج کونسلنگ شادی کی راہ میں رکاوٹ پر خامہ فرسائیاں کسی اگلی تحریر میں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پاکستانی سماج اورعورت  4 ۔۔۔ لڑکیو! تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ — نجیبہ عارف  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: