صوبہ: انتقامی، انتخابی اور سرسامی معاملہ —– محمد عثمان جامعی

0
  • 108
    Shares

صوبے کا قیام یوں تو انتظامی مسئلہ ہے لیکن ہمارے ہاں یہ انتقامی، احتجاجی اور سرسامی معاملہ بن جاتا ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ انتخابی نعرے کا روپ بھی دھار لیتا ہے۔ صوبہ بناکر زمین تقسیم کی جاتی ہے، لیکن صوبہ کا نعرہ لگاکر کسی سیاسی جماعت میں دراڑ ڈالی جاسکتی ہے، پھر اس دراڑ سے منتخب نمائندے اچھل اچھل، پھسل پھسل اور نکل نکل کر باہر آتے رہتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ”انتقامی معاملہ بہ نام صوبہ۔“ جب انتخابات سر پر ہوں اور ہاتھوں میں عوام کے لیے کسی خواب کی تعبیر نہ ہو، زبان پر کسی وعدے اور دعوے کے پورا ہونے کی خوش خبری نہ ہو، تو ہاتھوں کے توتے اُڑ جاتے ہیں، ایسے میں ظلم زیادتی کا رونا روکر ”صوبہ دے دو“ کے مطالبے کے ساتھ اپنے رائے دہندگان کو لُبھانے اور اُلو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ہوتا ہے ”انتخابی معاملہبہ نام صوبہ۔“ اور دوسری طرف جب اپنی جماعت کو ووٹ دینے والوں کو ”اجرک ٹوپی ڈے“ کی ٹوپی پہنانے کے علاوہ کچھ نہ دیا جاسکا ہو تو ”صوبہ دو“ کے کھوکھلے نعرے کے جواب میں شہنشاہِ جذبات بن کر دھرتی ماں سے وفاداری کی اداکاری کرتے ہوئے ایک انتظامی یونٹ کے مطالبے کو غداری قرار دیا جاتا اور لعنت بھیجی جاتی ہے، تاکہ لعنت ملامت کا یہ سلسلہ ”صوبہ بچاو“ کے خوف میں ڈھل کر ووٹوں کی صورت پائے اور ایک بار پھر اقتدار دلائے، یہ کہلاتا ہے ”سرسامی معاملہبہ نام صوبہ۔“

دوسرے ممالک میں صوبے اتنی آسانی سے بن جاتے ہیں جتنی سہولت سے ہمارے ہاں سڑک بھی نہیں بنتی۔ بات یوں ہے کہ ہم مشکل کرنے پر آئیں تو ستر سال میں کوئی نیا صوبہ بھی نہیں بنا پاتے لیکن ٹھان لیں تو چار صوبے ملاکر نیا صوبہ مغربی پاکستان بنا ڈالتے ہیں اور مہینوں میں مشرقی پاکستان کا صوبہ صوبائی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی جدوجہد کے بعد الگ دیش بن جاتا ہے، اسے کہیں گے ”ہنگامی معاملہ بہ نام صوبہ۔“

یہ سارے معاملات ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب صوبے کا تعلق ہے یہ انتقامی معاملے کے ساتھ ”انتظامی“ معاملہ بھی ہے، جس کے تحت ن لیگ کا ”انتظام“ کیا جارہا ہے۔

سندھ میں نئے صوبے کے ”انتخابی“ اور سرسامی معاملات وقتاً فوقتاً جنم لیتے ہیں لیکن کیوں کہ یہ نہ بھٹو کی طرح ہمیشہ زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ”جیے مہاجر“ اور ”جاگ مہاجر جاگ“ کے نعروں کی طرح گھوڑے بیچ کر سوجانے اور یکایک جاگ اٹھنے کی صفت کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے اپنی موت آپ مرجاتے ہیں، انھیں پھر نئے سرے سے خاصا درد سہہ کر پیدا کرنا پڑتا ہے۔

ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کا نعرہ باربار کیوں لگایا جاتا ہے۔ یہاں تو پہلے ہی دو صوبے قائم ہیں، ایک میں بھٹو زندہ ہے دوسرے میں ”زندہ ہے مہاجر زندہ ہے“ یعنی کچھ زیادہ ہی زندہ ہے۔

سندھ میں نئے صوبے کے قیام کا نعرہ عشروں سے طویل وقفوں کے ساتھ لگتا رہا ہے، یہ بڑی زور سے لگتا ہے مگر حالات بدلتے ہی پتا نہیں چلتا کہ کب خارج ہوا اور کہاں گیا۔ ایک زمانے میں کراچی کی دیواروں پر نعرہ آیا،”حالات کی مجبوری ہے، صوبہ بہت ضروری ہے۔“ اتنی بے بسی اور بے کسی پر مبنی اور ”امداد کرنا محتاج ہوں صاب“ جیسی فقیرانہ صدا سے نعرے کو سُن کر ہمارے جیسے نرم دل کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ دل تو چاہتا تھا کہ یہ نعرہ لگانے والوں کو اپنی جیب سے ایک عدد چھوٹا موٹا صوبہ دے کر کہیں،”معاف کرنا بابا! بس یہی کچھ ہے ہمارے کَنے“ لیکن پھر خیال آیا کہ ہمارے پاس تو کسی رہائشی منصوبے میں پلاٹ تک نہیں تو صوبہ کہاں سے لائیں گے۔ خیر کچھ عرصے بعد دیواریں یہ نعرہ کھا گئیں۔
اس کے بعد یہ ناچتا گاتا نعرہ آیا،”سندھ میں ہوگا کیسے گزارہ، آدھا ہمارا آدھا تمھارا۔“ پھر پرویزمشرف کی حکومت آگئی اور یہ نعرہ لگانے والوں کو صوبے کی جگہ ریاست کے اندر ریاست دے کر گزر اوقات کا مناسب انتظام کر دیا گیا، جس کے بعد ان کا اتنا اچھا گزارہ ہونے لگا کہ ان کے زیرانتظام کتنے ہی لوگ گزر گئےچلیے چھوڑیے، گزر گیا جو زمانہ اسے بھلا ہی دو۔ اس گزارے کے دوران صوبے کا خیال کسی کے دل ودماغ میں گزرا بھی نہیں۔

یہ زمانہ گزرا تو ایک بار پھر صوبے کا نعرہ جاگ اُٹھا، جس کی شکل اب تھی،”سندھ ون اور سندھ ٹو۔“ یعنی بہ الفاظ دیگر سندھ ایک نمبر اور سندھ دو نمبر، شاید معاملہ طے پاجاتا لیکن غالباً اس لیے طے نہ پاسکا کہ آصف زرداری اور الطاف بھائی میں اس پر ٹھن گئی کہ دو نمبر کس کا ہوگا! اگر یہ نمبردار صوبے وجود میں آجاتے تو ایک کا دارالحکومت لندن ہوتا دوسرے کا دبئی۔

اس سب کے دوران عرصہ پہلے مہاجر اتحاد تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سلیم حیدر نے ایک کتاب بھی لکھ ماری، جس کا عنوان تھا ”اب سندھ تقسیم ہوجانا چاہیے۔“ مصنف نے اس کتاب میں جس صوبے کا مطالبہ کیا تھا اس میں کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص کے ساتھ ان شہروں سے بہت دور واقع سکھر بھی شامل تھا۔ لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، موصوف کیوں کہ ڈاکٹر ہیں اس لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ عملِ جراحی کے ذریعے اردو بولنے والوں کے دور افتادہ شہروں کو اکھاڑ کر پیوندکاری کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان کہیں فِٹ کردیا جائے گا۔

ویسے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کا نعرہ باربار کیوں لگایا جاتا ہے۔ یہاں تو پہلے ہی دو صوبے قائم ہیں، ایک میں بھٹو زندہ ہے دوسرے میں ”زندہ ہے مہاجر زندہ ہے“ یعنی کچھ زیادہ ہی زندہ ہے۔ البتہ یہاں آباد سندھی اور اردو بولنے والے گولی، حالات اور صدمات کا شکار ہوکر مرتے رہتے ہیں۔ اب تک ایک صوبے میں برسراقتدار جماعت بارہ مئی سے چائنا کٹنگ تک جو چاہے کرتی رہی اور دوسرے میں حکم راں پارٹی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں کھربوں روپے بناتی رہی ہے۔ ایک صوبے میں ہر مرض کی دوا اور ہر مسئلے کا حل ”جیے بھٹو“ قرار دیا گیا، دوسرے میں ہر مشکل سے نجات کے لیے جیے الطاف اور جیے مہاجر کا امرت دھارا تجویز کیا گیا۔ ایک پر رابطہ کمیٹی کا راج تھا دوسرے پر امن کمیٹی کا۔ یہ تو رینجرز کے آپریشن کے بعد پتا چلا کہ کراچی کے علاقے کھوکھراپار سے تھر کے کھوکھراپار تک سارا سندھ ایک ہی ہے، شاہ لطیف کے سُروں کی طرح دُکھی اور خالدعلیگ کے شعروں کی طرح ظلم پر روتا ہوا۔ اس مشترکہ دکھ اور بین کو باہمی نفرت میں بدل کر رائے کی پرچی بنانے اور اس پرچی سے نوٹوں کی فصل اُگانے کے لیے صوبے کے نعرے اور نعرے پر لعنت کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ پُرانی فلم ہر انتخابات کے موقع پر ریلیز کی جاتی ہے، امید ہے کہ یہ گھسی پِِٹی فلم اس بار پِٹ جائے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: