‘‘سوسائٹی‘‘ کے اندر کی کہانیاں: ریحام کی کتاب —- سجاد میر

0
  • 55
    Shares
سیاست کے اس گنبدِ نیلو فری سے روز کچھ نہ کچھ اچھلتا رہتا ہے اور ہم اس کے نظارے میں محو ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ اصل نہیں ہے۔ اصل تو وہ باطنی کیفیت ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر ریحام خان کی کتاب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصل میں یہ سارے انکشافات اگر درست ہیں تو بھی کسی فرد کے بارے میں نہیں، بلکہ معاشرے کے ان پوشیدہ گوشوں کے بارے میں ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ خاص کر اشرافیہ کے اندر بعض ایسے طوفان اور ہیجان ہیں کہ طشت ازبام ہو جائیں تو ہم چکرا کر رہ جائیں۔ ایسے موقع پر مجھے انیسویں صدی کی ابتدا کا انگلستان یاد آتا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کا عہد بظاہر بڑی وضعداری اور جاہ و جلال کا دور تھا۔ مگر اندر وہ منافقتیں تھیں جن سے عام آدمی واقف نہ تھا اچانک وہ نامعلوم مصنفوں کی کتابوں میں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ وہ کتابیں چسکے کے لیے چھپ چھپ کر پڑھی جاتی تھیں۔ اگر تو وہ معاشرہ ایسا تھا کہ اس میں ڈی ایچ لارنس کی لیڈی چیڑلے لور جیسی کتاب پر بھی پابندی لگ جاتی تھی۔ جب ہم نے اپنی نوجوانی میں اس کتاب کو پڑھا تو حیرت ہوئی کہ اس پر انگریز نے کاہے کو پابندی لگائی تھی ایسے میں نستعلیق انگریز کے باطن کا انکشاف کرتی ہوئی یہ تحریریں ناقابل یقین دکھائی دیتی تھیں وہ اس طرح چھپ چھپا کر پڑھی جاتی ہوں گی جس طرح کوئی گناہ کیا جاتا ہے۔

ریحام خان کی کتاب میں انکشافات اگر درست ہیں تو بھی کسی فرد کے بارے میں نہیں بلکہ معاشرے کے ان پوشیدہ گوشوں کے بارے میں ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ خاص کر اشرافیہ کے اندر بعض ایسے طوفان اور ہیجان ہیں کہ طشت ازبام ہو جائیں تو ہم چکرا کر رہ جائیں۔

کیا انسان کے باطن میں جھانکنا ایک گناہ ہے اس سے یہ بھی سنا ہے کہ پرائیویسی کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے اپنے معاشرے کے اندر اتنا کچھ ہے کہ اگر وہ ظاہر ہو جائے تو اچھے خاصے با خبر لوگ گھبرا اٹھیں۔ خاص کر ہماری اشرافیہ اخلاقیات کی اس حد تک پہنچی ہے کہ ہمارے معاشرے کے لیے اس کا سامنا کرنا شاید اتنا مشکل ہے جتنا انیسویں صدی کے آغاز میں انگلستان میں تھا۔ یہ سب کچھ وہ تھا جو ادب نہ تھا ادب میں فحاشی نہیں ہوتی۔ ادب کا معیار یہ ہے کہ کوئی تحریر ادب ہوتی ہے یا غیر ادب۔ فحش اور غیر فحش کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ اردو کے سب سے بڑے نقاد حسن عسکری نے لکھا تھا کہ میرا پاکستان بن گیا تو فحش لکھنے کا مزہ بھی تب آئے گا۔ یہ وہ عسکری صاحب ہیں جنہوں نے پاکستان بننے پر پاکستانی ادب اور اسلامی ادب کے سوالات چھیڑے تھے۔ سو ادب میں کوئی چیز فحش نہیں ہوتی مگر جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت برطانوی ادب میں ابھی اتنی گنجائش اور سہار پیدا نہیں ہوئی تھی کہ وہ باطن کی غلاظتوں کو بیان کر سکے۔ اس لیے ان گندگیوں کا غیر ادبی تحریروں میں اظہار ہوا۔ منٹو کے زمانے میں شاید ہمارا ادب بھی اس کی سہار نہیں رکھتا تھا۔

آج تو میرا جی چاہتا ہے کہ ریحام خاں کی کتاب کا مبینہ مواد کاش کسی ادبی شاہکار میں ڈھل گیا ہو۔ اس لیے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم تاریخ کے اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جب صرف ادب ہی معاشرے کے باطن میں اتر کر ہمیں اس کا چہرہ دکھا سکتا ہے۔ انقلاب فرانس کے دنوں میں بڑی بات کیا تھی یہی نا کہ اس زمانے کی اشرافیہ کا چہرہ پوشیدہ نہ تھا۔ فرانسیسی ناول اور ادب میں انگریزوں سے بہت پہلے اس چہرے کو دیکھنے اور پہچاننے کا محاباپیدا ہو چکا تھا۔ فرانس میں ایک لفظ سوسائٹی استعمال کیا جاتا تھا۔ آج بھی ہمارے ہاں کبھی بولا اور برتا جاتا ہے اس طرح کی تفصیلات آتی ہیں فلاں جب پیرس پہنچا تو وہ سوسائٹی کا حصہ بن گیا۔ یہ سوسائٹی وہی ہے جسے آج کل اشرافیہ کہتے ہیں وہاں اسی کے مادام فلاں سے قریبی تعلقات ہوئے اس نے اسے آگے بڑھنے میں مدد ملی۔ اس کی راہیں ہموار ہونے لگیں۔ برا نہ مانیے ہمارے ہاں یہ سب کچھ نہیں ہو رہا۔ میں اس سوسائٹی کا حصہ نہیں رہا ہوں پھر بھی اسے اندر سے دیکھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ اپنی پوری دقیانوسیت کے باوجود نگاہیں پڑتی رہی ہیں، آدمی کا خون کھول اٹھتا ہے۔

ہم ان دنوں اپنے اہل سیاست کی صرف مالی کرپشن کا ذکر کرتے ہیں، اخلاقی کرپشن کو کرپشن ہی نہیں سمجھتے۔ اسے ذاتی زندگی اور نجی معاملات کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میڈیا پر اس کتاب کی جو تفصیل آ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ ہمارا مصنوعی معاشرہ تلملا اٹھا ہے۔ یہ سب ہو گا تو بھی یہ کچھ نہیں ہے۔ کاش ہمارے ادب میں اتنی سہار ہوتی اور کوئی لکھنے والا اس سوسائٹی کے اندر اتر کر اس کا اخلاقی نقشہ کھینچ سکتا۔ بعض باتیں تو ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہیں۔ اب شاید ہمت نہیں رہی وگرنہ میرا خیال ہے کہ کوئی ہماری اشرافیہ کے اندر اتر کر وہاں کی خبر دے تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔ شاید اردو ادب کا شاہکار ہو۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم ریحام خاں کی تحریروں پر چونکتے رہیں گے۔

یہ جو مالیاتی کرپشن ہے یہ بھی اس صنعتی سرمایہ دار معاشرے کا حصہ ہے جو دنیا میں سکۂ رائج الوقت ہے۔ اسے ہمارے ہاں آنا ہی تھا۔ فیوڈل معاشرے کی اخلاقیات اور بدکاریاں اپنی تھیں۔ اب جو بھی کارپوریٹ سیکٹر میں نام پیدا کرتا ہے اس کے مالیاتی اخلاق اپنے ہیں۔ اس طرح جو ہمارے بااثر معاشرے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ہم ابھی اسے برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

سچ کہوں ہم اپنے عہد کے اس باطن سے آنکھیں چار کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ ساری دنیا جسے آج کل سیلبرٹی کی دنیا کہا جا سکتا ہے وہ فرانس کے معاشرے سے گھنائونی ہے۔ فرانسیسی معاشرے میں تو بہت نزاکتیں تھیں۔ اس معاشرے میں تو وہ بھی نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں کہا جاتا تھا کہ امرا کے بچے طوائف کے کوٹھے پر تہذیب سیکھنے بھیجے جاتے تھے۔ اس تہذیب پر ہمارے ہاں خاصا کچھ آیا ہے۔ اب شاید تہذیب سیکھنے کے لیے اس اشرافیہ کا حصہ بننا پڑتا ہے جسے فرانس میں سوسائٹی کہتے تھے اور مجھے نہیں معلوم ہم اسے کیا کہیں۔ اس وقت ہم دراصل ایک اندرونی جنگ سے گزر رہے ہیں۔ یہ جو مالیاتی کرپشن ہے یہ بھی اس صنعتی سرمایہ دار معاشرے کا حصہ ہے جو دنیا میں سکۂ رائج الوقت ہے۔ اسے ہمارے ہاں آنا ہی تھا۔ فیوڈل معاشرے کی اخلاقیات اور بدکاریاں اپنی تھیں۔ اب جو بھی کارپوریٹ سیکٹر میں نام پیدا کرتا ہے اس کے مالیاتی اخلاق اپنے ہیں۔ اس طرح جو ہمارے بااثر معاشرے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ہم ابھی اسے برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ مجھے نہیں معلوم ریحام خاں نے کیا لکھا ہے یا جو لکھا ہے وہ سچ بھی ہے یا نہیں، اگر یہ صرف تخیل کی کرامت ہے تو بھی جان لو کہ ہمارے باطن میں وہ سوسائٹی کب کی جنم لے چکی ہے جس سے گزرے بغیر آپ ’’سیاست کے پیرس‘‘ کو مسخر نہیں کر سکتے۔ آپ کو تیار رہنا چاہیے، میرے خیال میں سب کچھ نہ عمران خان پر اثر ڈالے گا نہ تحریک انصاف پر نہ ان کرداروں پر جن کا اس میں ممکنہ طور پر تذکرہ ہو گا۔ میرے لیے تو صرف یہ وہ خام مواد ہے جو چاہے کسی کے ذہن کی پیداوار ہو جسے کسی لابی شہکار کی تلاش ہے۔ یہ سب کچھ چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہو سکتا ہے افراد کے نام غلط ہوں، ہو سکتا ہے واقعات حقیقت پر مبنی نہ ہوں مگر ہمارا باطن ایسا ہی ہے پوری اشرافیہ کا، اس کلچر کا جسے ہم اشرافیہ کا کلچر کہہ رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں برطانوی شہزادے کی ایک اداکارہ سے شادی کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے اس بات کا رونا رو دیا تھا کہ برطانیہ کی شاہی روایت میں اب امریکہ کی شوبز کا تڑکا لگے گا تو کیسا رہے گا۔ میں معاشرے کی اس تبدیلی کو روک نہیں سکتا برطانیہ کے محلات میں ہالی ووڈ آن براجاتو ہمارے ’’شاہی محلوں‘‘ میں بھی ہالی وڈ کا دور ہے اور یہ ہالی ووڈ صرف وہ نہیں ہے جو ہمیں فلموں میں نظر آتا ہے اس کے باطن میں بھی بہت کچھ ہے۔ اگر اسے ایک سیاست کے پس منظر میں دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کلچر کسی پارٹی تک محدود نہیں یہ ہماری اشرافیہ ہے۔ میرا مسئلہ تو صرف یہ ہے کہ فیوڈل، سرمایہ دارانہ اقدار کے ساتھ یہ جو ’’سوسائٹی‘‘ ہمارے ہاں جڑ پکڑ رہی ہے اس پر مجھے غور کرناہے۔ میرا ردعمل کیا ہو گا۔ فی الحال تو صرف اتنا کہ چاہے ترقی کے دور میں پیچھے رہ جاوں، مجھے اس اخلاقیات کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چلنا۔

میں معذرت خواہ ہوں‘ مجھے یہ کالم اس سے کہیں زیادہ بے باکی سے لکھنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ مجھ میں ابھی شاید اس کی ہمت نہیں ہے۔ تاہم ہمیں تیار رہنا چاہیے گنبد نیلو فری سے کچھ نہ کچھ اچھلتا رہے گا اور ہمیں اپنے باطن کی خبر دیتا رہے گا۔ آخر ہماری اشرافیہ یا سیاسی اشرافیہ کا باطن ہمارا باطن بھی تو ہے‘ مارکسٹ کہتے تھے کہ آدمی کی عزلت یہ ہے کہ آدمی اپنی کلاس کو تج دے، اس سے اوپر ہو کر سوچے۔ ہمارے ہاں مگر یہ ہوا کہ ہم نے خود کو ’’ڈی کلاس‘‘ کرنے کے بجائے اپ کلاس کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کلاس میں تو یہی کچھ ہے۔

(نوٹ) یہ تحریر کسی کتاب پر نہیں ہے اس کا حوالہ صرف بات کو سمجھنے کے لیے ہے۔ اس کو شہرت صرف اس لیے ملی کہ اس میں ذاتی حوالے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: