جماعتِ اسلامی کے بچے پی ٹی آئی کے ووٹر کیوں؟ —– نبیلہ کامرانی

4
  • 299
    Shares

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں گھروں کے نقشے اس انداز کے ہوتے ہیں جس میں بنا کسی کاوش کے آپ گھر بیٹھے پڑوسیوں کے گھر کی تمام آوازیں اپنے ٹی وی لاونج میں سننے پے مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر کا نقشہ بھی ویسا ہی تھا۔

صبح سے رات تک ہم دونوں ایک دوسرے کی ساری باتوں سے لطف لینے کے عادی تھے۔
پڑوسیوں کے گھر میں فقط چار افراد تھے، سب ہی اونچے سروں میں بولنے کے عادی، میاں بیوی دونوں کو ہی صفائی کا بے انتہا شوق تھا بیگم گھریلو ملازمہ سے گھر کے کونے کھدروں تک میں پوچھا لگواتیں۔ صبح سویرے پڑوسی انکل دھوتی کو مضبوطی سے گانٹھ باندھ کے ایک بالشت کے جھاڑو سے اپنے گھر کے چاروں طرف گھس گھس کے جھاڑو دیتے پھر کوڑا کرکٹ جمع کر کے ہمارے سبزے پہ پھینک دیا کرتے۔

بچے پڑھائی سے زیادہ گلوکاری کے شوقین تھے۔ چونکہ آواز پاٹ دار تھی اس لیے اونچے سروں میں تان لگاتے جو ہم تک آتی لیکن یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ گانے کا وقت صبح دس سے دوپہر کے دو اور شام چار سے سات کے درمیان تھا۔ صبح تو امی گھر پے موجود ہوتی تھیں، انکے جانے کے بعد وہ نئے گانوں کا ایک کیسٹ سنتا پھر وہی گانے گاتا۔ کچھ گانوں کے بول آج بھی یاد ہیں ، اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہیں لازمی ہے کہ تم مجھ سے پردہ کرو، میرا پاؤں بھاری ہو گیا، سولجر سولجر میٹھی باتیں بول کر، تیرا چہرہ حسین جادو کر گیا، وغیرہ وغیرہ۔ شام میں دونوں بھائی کرکٹ کھیلنے نکل جاتے یا خاموشی سے ایک ہندوستانی فلم دیکھتے۔

پڑوسن آنٹی جماعتِ اسلامی کی سکہ بند کارکن تھیں، تقریباً روز ہی وہ کہیں نہ کہیں درس پہ جاتیں اور مہینے میں ایک دو دن انکا نمبر ہوتا۔ پابندی سے درس کے کی دعوت دینا بھی انکی ڈیوٹی ہی تھا، اس قدر محبت اور دلجمعی کے ساتھ وہ دعوت دینے آتیں کے بہت بار ہم حیران رہ جاتے۔ جب بھی آنٹی ہمیں دعوت دینے آتیں پہلے پانچ سے دس منٹ دروازے پے باتیں ہوتی، پھر ہماری ضد پر گھر کے اندر اسکے بعد سارے جہاں کے قصے چائے ناشتے پے اختتام پذیر ہوا کرتے۔ آنٹی جاتے وقت ہمیشہ کہا کرتیں کے تم لوگوں کے گھر وقت کا بالکل پتا نہیں چلتا، آج تو صرف ایک ہی گھر ہو سکا۔ اچھا تم لوگوں نے آنا ضرور ہے۔ یوں مہینے کا کوٹہ پورا ہو جاتا۔

وہ سادگی کا دور تھا انٹرنیٹ مہنگا ہوا کرتا، سن 2000 سے 2010 تک میں موبائل بھی اسمارٹ نہیں ہوتے تھے وڈیو سینٹر سے فلم لا کے دیکھنا ایک پراجکٹ ہوا کرتا تھا، ایک حد سے زیادہ آگے جانا کافی مشکل کام تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پی ٹی آئی ٹائیگرز : اخلاقیات کا شکوہ — سمیع اللہ خان

 

کچھ عرصہ قبل ایک ٹریننگ پروگرام میں کئ سکہ بند کارکن خواتین سے ملاقات رہی، ان تمام کا بھی اپنے گھر کے علاؤہ ہر جگہ سے تعلق تھا۔ یہاں تک کے گھر میں بچوں کو چھوڑ کے دیگر شہروں میں بھی چلی جاتی ہیں۔ چونکہ انکی priority list میں جماعت اول نمبر پر ہے۔ ہماری ناقص معلومات میں عورت کی سب سے پہلی ترجیح اسکے بچے اور گھر ہوتے ہیں۔ آج کے تیز ترین دور میں جب تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی موجود ہے ایسے میں وہ بچے اپنی مرضی کے مالک ہیں کہ جہاں تک دل چاہے جائیں۔ اب نہ تو ویڈیو سینٹر جانے کی ضرورت ہے نہ ہی آڈیو کیسٹ خریدنے کی۔ بہرحال دوبارہ ہم آنٹی پڑوسن پہ آتے ہیں۔

نو سال قبل ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا اور آنٹی نے بیٹوں کی شادی کر دی یوں انہیں پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے ایک انٹر اور دوسرا بی کام کر کے ابو جی کی ہیلمٹ کی دکان میں بیٹھ گیا۔ ایک کی شادی بھانجی اور دوسرے کی شادی بھتیجی سے ہوئی۔ سب کچھ اچھا ہی ہے، مگر آنٹی پھر بھی پریشان۔ کچھ عرصہ قبل بازار میں ٹکراؤ ہوا، میاں اور بچوں کی تمام تفصیلات بتانے کے بعد آنٹی نے نہایت سنجیدگی اور پریشانی سے کہا “بیٹا کیا بتاؤں میرے بیٹے تو ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ اس بار دونوں نے پہلے ہی بول دیا ہے کہ ہمارے ووٹ صرف پی ٹی آئی کو جائیں گے، اب تم ہی کوئی مشورہ دو، ہم کیا کریں”۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. انٹی کو دلاسا دیا جاۓ ۔کہ اگر رہے جماعت اے اسلامی میں نہیں نا ۔ تو لوٹے دیکھ ٹکنا pti میں بھی نہیں ۔اب جتنے لوٹے لوٹ لوٹ کہ pti میں آ رہے ہیں ۔ pti کہ اصل لوگ اس طرح بھاگے گے جس طرح پتلی والی انے پہ لوگ ٹایلیٹ کی طرف بھاگتے ہیں ۔
    اب تو pti کا مطلب ہی پتلی والی i , ہے ۔

  2. ابو نسیبہ on

    واقعی ہمیں جماعت کے کام کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، بہترین یاد دہانی، جزاک الله خیر

  3. اگر اس مضمون کا نام چراغ تلے اندھیرا ہوتا تو شروع میں ہی سمجھ آجاتا کے کیا کہنا چاہ رہی ہے بحرالحال ماضی کی کٹھی میٹھی یادیں لاجوب تھی اور جو نقشہ کھینچا وہ قابل تعریف ہے دراصل آپ کا گھربہت خوبصورت تھا وہاں گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی پودوں سےملاقات ہوتی تھی جو احساس کراتی تھی کہ انسان اور قدرت کا کیا رشتہ ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک روشن سو چ رکھنے والے کلھے دل والے لوگ جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانا جانتے تھے اک کپ چائے کے بجٹ میں کتنی خوبصورت باتیں سیکھنے کو ملتی تھی اور کبھی کبھار آپکے تجربے کۓ ہوۓ سینڈوچ بھی مل جاتے تھے جواس وقت کسی نعمت سے کم نہ تھے اور فرخ کا اپنے حصے کا کھانا ایسے کھلانا جیسے وہ کھانا میرے لیے ہی لایا ہوں میرے لیے آپ لوگوں کاجا نا ایسے ہی ہے جیسے کسی پنچھی کا درخت کٹ جانا ہوں جہاں وہ اپنے خوبصورت لمحات گزارتا ہوں۔شکریہ

    • عدنان بھائی آپکا شکریہ، ہمارے نئے گھر کے درخت بھی اب بڑے ہو گئے ہیں، آپ آئیے اب مجھے اچھا کھانا بھی بنانا آگیا ہے ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: