رکشہ ایمبولینس اور بھاوا —- عابد آفریدی

0
  • 302
    Shares

گرمیوں میں روزے کیا آئے مساجد کو نمازیوں نے ریسٹ ہاؤس میں تبدیل کردیا، کچھ دن پہلے صدر کی ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو سب خوابیدہ نمازیوں نے سر اٹھا کر ہمیں یوں گھورا جیسے مسجد نماز ادا کرنے کی نہیں صرف سونے کی جگہ ہو۔
نماز ادا کرکے مسجد سے نکلا تو استاد گرامی بہاوالدین بھاوا کے گھر سے کال آئی۔ بھابھی نے مصیبت زدہ آواز میں اطلاع دی کہ “بھاوا کو ہیٹ اسٹروک ہوا ہے جلدی گھر پہنچو”!
یہ خبر میرے لئے کسی ہیٹ ویو سے کم نہ تھی، کیونکہ بھاوا کا پینسٹھ سالہ سوکھی ہڈیوں پر مشتمل بدن اور اس میں چوبیس گھنٹے بھرا ہوا غصہ! سورج کی ہیٹ تو کیا دو گز دور پڑی موم بتی کی تپش سہنے کی اہلیت سے بھی قاصر ہے۔ بقول ابو جان کے “تمھارے استاد بھاوا میں ہڈیوں اور لمبے لمبے بالوں کے سوا اور ہے ہی کیا؟”
فورا رکشہ ہائر کیا۔ رکشہ ڈرائیور کو بتایا کہ ہمارے استاد بھاوا کو ہیٹ اسٹروک ہوا ہے۔ جلدی نکلو، سمجھ لو پیچھے کوئی پسنجر نہیں بس ایک پرانا بستر پڑا ہوا ہے”۔
رکشہ ڈرائیور نے ہمارے اطمینان کے لئے کہا بے فکر ہو جاو صاحب “اگر پانچ منٹ میں نہ پہنچایا تو میرا نام مردان شاہ سے بدل کر حیوان رکھ دینا”۔
اس باکمال اور بد زبان پختون ڈرائیور نے بیشک ہمیں بستر سے زیادہ کچھ نہ سمجھا، جہاں ٹریفک کی بتی لال دیکھی وہی نظام ٹریفک اور ٹریفک اہلکاروں کو ایسی روزہ شکن گالیوں سے نوازتا کہ ہمارے جذبات و روزہ دونوں مجروح ہونے کی کفیت تک پہنچ جاتے۔ ہم سے کہتا “کیا کریں صاحب روزہ ہے دماغ کام نہیں کرتا (روزے کے ڈھیر سارے فوائد میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان کھل کے گالیاں دے سکتا ہے کیونکہ وہ روزے سے ہوتا ہے)۔

بھاوا کے گھر پہنچے تو ہم ابھی رکشے سے اترنے کے لیے بدن کو خاص زاویوں میں توڑ مروڑ کر نکل ہی رہے تھے کہ ہم سے پہلے رکشہ ڈرئیوار مردان، بھاوا کے گھر میں داخل ہوگیا اور اگلے ہی لمحے بھاوا کو کسی بوسیدہ بستر کی طرح کندھے پر ڈالے “ہٹو ہٹو” اور ہم سے “بیٹھو بیٹھو ” کہتے ہوئے رکشے کی پشت پر کھڑکی نما راستے سے انھیں اندر پھینکتے ہوئے کہا۔ ۔
“یہ لو صاحب۔ ۔ ۔ سنبھالو اپنے بھاوڑا کو”

کیا کریں صاحب روزہ ہے دماغ کام نہیں کرتا (روزے کے ڈھیر سارے فوائد میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان کھل کے گالیاں دے سکتا ہے کیونکہ وہ روزے سے ہوتا ہے)۔

بھاوا پوری طرح رکشے میں داخل نہ ہوئے تھے کہ مردان ہینڈل کھینچ کر جناح اسپتال روانہ ہوگیا، بھابھی بچے سب چھوڑ چھاڑ کر —ماسوائے ہمارے— کیونکہ ہم تاحال رکشے سے مکمل اترے نہیں تھے۔
اپنی اور بھاوا کی آدھی اندر آدھی باہر والی حالت دیکھی تو مردان شاہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا “گاڑی روکو بھائی بھاوا کی ٹانگیں ہوا میں ہیں”
پھرتی سے جواب دیا “صاحب گاڑی روک دی تو تمھارا یہ بھاوڑا بھی ہوا میں ہوگا۔ ۔ گزرا کرو۔ ۔ بس پہنچنے والے ہیں”
بھاوا جو الٹا پڑے ہمیں احتجاجی نظروں سے گھورے جارہے تھے۔ ۔ مردان شاہ کی یہ بات سن کر سنسکرت زبان میں گالیاں دینی شروع کردیں۔

آپ مکمل طور پر اندر آنے کی جتن میں دیر تک کھلی فضاؤں میں اپنی ٹانگیں جو رکشے کے رقبے سے متجاوز تھیں، چلاتے رہے۔ ۔ دو ایک بار لوگوں نے وڈیو بنانے کی کوشش بھی کی کہ شاید آپ کوئی کرتب دکھانا چارہے ہیں۔ ۔ ۔
نمائش چورنگی پہنچے تو مردان شاہ بول پڑا “آگیا “آگیا، سائڈ پر رکشہ لگایا سامنے لگے ہیٹ اسٹروک کیمپ سے پانی کی بالٹیاں لیکر آیا۔ ۔ بھاوا جو تاحال اسی پوزیشن یعنی دھڑ اندر ٹانگیں باہر الٹا پڑے تھے، مردان نے پہلی بالٹی ان کے پائنچے میں الٹ دی اور کہا۔ ۔ “اب نکالو بھاوڑا کو”
(مردان نے بتایا گزشتہ کئی دنوں سے انہی مریضوں سے سابقہ پڑتا آرہا ہے لہذا سب جانتا ہوں کہاں پانی مارنا ہے اور کونسے ہسپتال جانا ہے)
بھاوا کو ٹھنڈے پانی سے خوب نہلایا، تین بالٹیاں بھاوا پر ڈالی گئی اور پانچ بالٹی پانی سے مردان خود نہایا۔ اس غسل فٹ پاتھی کے بعد مردان کے سننے سمجھنے کی صلاحیت جبکہ بھاوا کی طبعیت بحال ہوگئی۔ ۔
بھاوا میرے ساتھ پچھلی سیٹ پر سکون سے بیٹھ گئےگیلے پن کی وجہ سے بھاوا کی بڑی بڑی زلفیں ان کے چہرے پر بکھر گئیں۔ ۔ مردان نے شیشہ درست کیا بھاوا کے چہرے کو ایک نظر غور سے دیکھا رکشہ زرا آھستہ کرکے بھاوا کو مخاطب کیا۔
“چاچا” برا مت مانے مگر اس وقت آپ بلکل کھل نائیک فلم کے سنجے دت لگ رہے ہیں”
اس سے پہلے کہ بھاوا ہمیں دوبارہ غضبناک نظروں سے دیکھتے ہم نے پہلے ہی چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔

ہسپتال پہنچ کر ہماری پریشانی اور بڑھ گئی۔ ۔ کوئی بیڈ خالی نہیں تھا۔ مریض کو زمین پر ہی لٹانا پڑا۔ اوپر سے ڈاکٹر انتہائی سبک خرام، ڈھیلے، بے پروا، احساسات سے عاری، جبکہ مریض کے ساتھ آئے ہوئے لوگ جلد باز، بے قرار!! چہروں پر گھائل تاثرات کبھی اس ڈاکٹر کے پیچھے تو کبھی اس ڈاکٹر کے پیچھے”۔
بھاوا نے بہت پہلے ہم سے کہا تھا “سرکاری ہسپتال میں” ڈاکٹرز مریض کو دیکھنے اس وقت ہی پاس آتے ہیں جب مریض کے ساتھ آئے ہوئے کسی ایک عزیز کو بے قراری کی وجہ سے ہارٹ اٹیک نہ ہوجائے”۔
جبکہ آج اسں نفسا نفسی کے عالم میں ایک بات ہم کو مردان نے بھی بتائی کہ “جب کسی محکمے، شخص، ادارے کے ساتھ لفظ “سرکاری” لگ جائے تو اس شخص، محکمے، اور ادارے سے بھلائی کی امید پر شکرگزار ہونا ایسا ہے “جیسے ہیرا منڈی کی کوئی رنڈی تم سے کہہ دے کہ میری زندگی میں تمھارے علاوہ اور کوئی نہیں” اور تم اس بات کو سچ سمجھ کر شکر ادا کرلو”۔

اس دوران بھابھی کی کال آگئی ان سے بات کرنے کے لئے ذرا دور ہٹا بھاوا کی طبعیت کے حوالے سے ان کو تسلیاں دیں کہ اچانک دھاڑیں مار کر رونے کی آواز سنائی دی، مڑ کر دیکھا تو اوسان خطا ہوگئے۔
مردان شاہ بیچ ایمرجنسی میں چپلیں پھینکے، پاوں پھیلائے زمین پر بیٹھے دھاڑ دھاڑ کر مدد مانگ رہا تھا۔ ۔ ہم سمجھے بجائے ہمیں ہارٹ اٹیک ہونے کے بھاوا کو ہی ہوگیا!!!
مگر پاس جاکر دیکھا تو آپ انتہائی پرسکون حالت میں لیٹے مردان کو ہی دیکھے جارہے تھے۔ ۔ نظریں اٹھا کر ہمیں بھی دیکھا۔ ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کہنا چارہے ہوں کہ “خدارا اس مردان نامی جانور سے ہماری جان چھڑوا دو۔ ۔ ہم اگلے ہی لمحے ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے”۔
مردان کی یہ ایکٹینگ کارگر ثابت ہوئی “ڈاکٹر ایکشن میں آگئے، ایک بیڈ خالی کروا کر بھاوا کو بیڈ پر لٹادیا۔ ۔ علاج شروع ہوا، ڈرپ چڑھائی گئی، ڈاکٹرز نے پرچی پر دوائیاں لکھ دیں، مردان کو دوہزار روپے دے کر دوائیاں لانے کا کہا۔ ۔ خود بھاوا کے سنگ اسٹول پر بیٹھ کر بھابھی کو فون کیا ان سے بھاوا کی بات کرائی”۔

مردان کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ کافی انتظار کے بعد اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ چمن میں لوگ افطاری کا ساماں چن کر بیٹھے تھے۔ نظر گھمائی تو ایک کونے میں مردان بھی بیٹھا نظر آیا، قریب جاکر دیکھا تو جناب سامنے رومال بچھائے اس پر فقط ایک عدد نسوار کی پڑیا دھرے اس عاجزانہ انداز میں دعا مانگ رہے تھے جیسے یہ اس کا آخری روزہ ہو”۔
مجھے دیکھ کر کہا “آو صاحب افطاری کرو۔ بھاوڑا کی دوائی بعد میں دیکھے گے، یہ کام پہلے ہے”۔
ہم نے پہلی بار اس کی اصلاح کی “بھاوڑا نہیں بھاوا”
ہنس کر جواب۔ ۔ “اس کوئلہ فلم کے امریش پوری کو بھاوا بولو یا بھاوڑا اس کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑھنے والا”
ہم نے پڑوسی دسترخوان سے اس کے لئے کچھ فروٹ اور پکوڑے لئے۔ ۔ مردان کو وہی چھوڑ کر دوائیاں لینے باہر نکل گیا۔
دوائیاں لی کیفے درخشاں میں بیٹھ کر آرام سے کھانا کھایا۔ بھاوا کے لئے کچھ سامان خورد و نوش لیا۔ ۔

گھنٹہ ڈیڑھ بعد ہسپتال میں داخل ہوا تو بھاوا کا بیڈ خالی نظر آیا۔ ۔
باہر چمن میں آیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، مردان بھاوا کو ڈرپ سمیت باہر لے آیا تھا اور اس کے سرہانے بیٹھ کر سگریٹ میں چرس بھر رہا تھا”
ہم نے احتجاج کرتے ہوئے پوچھا یہ کیا بکواس ہے؟ مردان نے ہمارے موجودگی اور احتجاج یوں نظر انداز کیا جیسے بھاوا میرا نہیں اس کا استاد ہو”
ہمیں بنا دیکھے ہی کہا “بکواس نہیں صاحب یہ دوائی ہے دوائی” دیکھنا دو سوٹوں کے بعد تمھارا یہ بھاوڑا کیسا متھن چکرورتی بنتا ہے”۔
ہم نے پھر احتجاج کیا “مگر یہاں!! یہ ہسپتال ہے” یہ سنتے ہی پشتو فلموں کے کسی موالی ہیرو کی طرح ہاتھ کے اشارے سے روک کر با آواز بلند کہا “بس صاحب بس، ہم جانتے ہیں کیسا ہسپتال ہے یہ” اس کے بعد ڈاکٹروں اور نرسوں کے ایسے ایسے راز اس انداز میں افشا کئے جیسے ہر گناہ میں آپ بطور سین ڈائریکٹر شامل رہے ہوں”۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سوٹوں کے بعد بھاوا کی طبعیت اتنی بحال ہوئی کہ ہم سے باتھ روم کا کہہ کر پیدل ہی گھر کو چلے گئے۔ دو گھنٹے بعد ہمیں فون پر اطلاع دی کہ خیریت سے گھر پہنچ گیا ہوں اب آپ دونوں بھی اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: