پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کرلیا؟ — قسط 1 —- محمد ندیم سرور

0
  • 98
    Shares

پی ٹی آئی نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں اپنے پانچ سالہ اقتدار میں جن شعبوں پر سب سے زیادہ توجہ دی ان میں سے ایک صحت کا شعبہ ہے۔ دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی 2013 سے پہلے زوال کا شکار تھا۔ صوبے میں صحت کے بہترین نظام کی عدم موجودگی اور سرکاری ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے عوام پرائیویٹ ڈاکٹر و ڈائگناسٹک مافیا کے ہاتھوں بے حال تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے جب اصلاحات کا آغاز کیا تو اسی مافیا نے ہڑتالوں اور سٹے آرڈرز کے ذریعے قدم قدم پر روڑے اٹکائے۔ مگر صوبائی حکومت اپنی کمٹمنٹس کے ایک قدم پیچھے نہ ہٹی اور عوام کی مدد سے بالاخر نئے ایکٹ کا نفاذ ممکن بنایا جس کے تحت سب سے پہلے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرکے انکا انتظام چلانے کےلیے پروفیشنل بورڈز بنائے، صحت کا بجٹ کئی گنا بڑھایا اور تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سروسز شروع کی۔ ان اقدامات کے نتائج کی تصدیق ہیرلڈ اور ایس ڈی پی آئی پاکستان کے حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ میں ہوئی جس میں انہوں نے 2013 سے 2017 کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے صحت کے شعبے میں کئے گئے کاموں پر عوام سے رائے لی۔ سروے کے نتائج کو گرافس کی مدد سے آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلا گراف صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے عوامی رائے کو ظاہر کرتا ہے جس میں لوگوں نے صحت کی سہولیات کو مناسب Average، اچھی Above Average or Excellent یا بری Below Average کی درجہ بندی دینا تھی۔ نتائج کے مطابق مناسب کیٹیگری میں خیبر پختونخواہ باقی تینوں صوبوں اور قومی سکور سے آگے ہے جبکہ اسی صوبے میں سب سے کم تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سہولیات کو برا بتایا ہے۔ یہ نتائج بلاشبہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی صوبہ پنجاب اور سندھ میں موجود 10، 10 سالہ حکومتوں کی کارکردگی کا پول کھولتے ہیں جنہیں پی ٹی آئی نے پہلی باری میں ہی پیچھے چھوڑ دیا۔ ان نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایک سی ٹی سکین و لیب کے افتتاح پر لاکھوں کی تقریبات منعقد کرکے پراپگینڈا کرنے، عوام عوام عوام کی گردان دہراتے رہنے اور اصل میں غریب و پسماندہ لوگوں کےلیے حقیقی معنوں میں کام کرنے میں بہت فرق ہے۔

صوبائی حکومت نے چارج سنبھالتے ہی صحت کے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا، اس کے خرچ کے نظام کو بہتر کیا، ڈاکٹر کی تعداد کو 3500 سے بڑھا کر قریباً 9000 کیا، پسماندہ اضلاع اور دیہات میں تعینات ڈاکٹرز کے لیے خصوصی الاونس کا اجراء کیا تاکہ تمام صوبے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے، ٹیسٹوں کی فیس کو انتہائی کم کیا گیا اور صوبے کے 60 فیصد سے زائد غریب گھرانوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کی انشورنس فراہم کی گئی جس کے تحت وہ کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال میں مفت علاج کراسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سروے میں جب عوام سے صحت کے شعبے میں بڑے مسائل پر رائے لی گئی تو پہلے تین سوالات یعنی یونین کونسل کی سطح پر صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی، صحت کی سہولیات کے حصول میں مشکل اور ادویات کی عدم فراہمی میں صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام نے اپنی حکومت سے سب سے کم شکایات کی۔ اسی ٖطرح کچھ عرصہ قبل جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ صوبہ پنجاب نے کئی ادویات صوبہ خیبرپختونخواہ سے دگنی یا تگنی قیمت پر خریدی ہیں تو ن لیگ نے روایتی پراپگینڈے کے ذریعے ان انکشافات کو دھول میں اڑانے کی کوشش کی تھی مگر اس سروے میں جب عوام سے صحت کے شعبے میں کرپشن کا پوچھا گیا تو سب سے کم کرپشن کے پی میں بتائی گئی۔ یہ نتائج آپ نیچے موجود دوسرے گراف میں دیکھ سکتے ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ تباہ حال صوبے میں ایک ہی حکومت ملنے پر ایسے شاندار نتائج دینے پر ہم عمران خان، پرویز خٹک، شہرام ترکئی، ڈاکٹر برکی، انصاف ڈاکٹرز فورم اور تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ ہم کے پی اور پارٹی کی مرکزی قیادت سے گزارش کرتے ہیں کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر اگلی باری میں خصوصی توجہ دی جائے اور تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کے میڈیا افسران کو خصوصی طور پر ہدایت کی جائے کہ اپنی تصاویر اپ لوڈ کرنے کی بجائے، سوشل میڈیا پر ہسپتال کی کارکردگی اپ لوڈ کریں اور کمنٹس، ای میل اور میسنجر پر پوچھے جانیوالے سوالات کے جواب دینے پر اپنی توانائیاں لگائیں۔ واضح رہے کہ صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی، پی ٹی آئی کے 11 نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس پر عمران خان نے لاہور میں اپنے تاریخی خطاب میں بات کی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: