خیبر پختونخواہ : محکمہ آبپاشی کے تیار کردہ ڈیمز —- ظہیر تاج

0
  • 250
    Shares

تقریباً تمام ہی عالمی اور مقامی اداروں کے مطابق پاکستان مستقبل میں پانی کے شدید بحران کا شکار ہونے والا ہے۔ تربیلا اور منگلا جیسے آبی ذخائر ڈید لیول تک پہنچ چکے ہیں۔ ہندوستان کی جارحانہ آبی پالیسی ہمارے سامنے ہے۔ آجکل اچانک کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا بہت شور و غوغا ہے،حالانکہ ہمارا میڈیا، دانشور اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس ایشو پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔مستقبل قریب میں کالا باغ پر اتفاق رائے ممکن نظر نہیں آتا اس لئے جو چھوٹے ڈیم بن سکتے تھے ان پر کام ہونا چاہیئے تھا لیکن ن لیگ کی وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ کوئی ظاہری اقدام بھی نظر نہیں آتا، کسی مجوزہ ڈیم پر کوئی میٹنگ، کوئی ایسا قدم جس سے پتہ چلتا کہ ہم پانی کے بحران پر سنجیدہ ہیں۔ دریائے نیلم پر بھارت کے تعمیر کردہ ڈیم پر عالمی فورم پر صرف کاغذی کروائیاں کرتے رہ گئے اور بدترین حزیمت اٹھانی پڑی۔ جس صوبے میں وہ دس سال حکمران رہے ادھر بھی کوئی بھی پانی کا بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا۔

Zaheer Taj

پی ٹی آئی نے بہرحال اپنے پانچ سالہ دور میں چھوٹے ڈیمز پر خاطر خواہ کام کیا ہے۔اس مضمون میں آپ کے سامنے پختونخواہ کے کچھ آبی منصوبے جو محکمہ آبپاشی نے شروع کئیے ان کی تفصلات آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

8 سمال ڈیم سو فیصد مکمل ہیں اور ان کے ذریعے کاشت کیا جانے والا رقبہ 16710 ایکڑ ہے۔ یہ ڈیم ہری پور، کرک، چارسدہ، نوشہرہ اور کوہاٹ کے اضلاع میں تعمیر کئے گئے ہیں۔

باقی 17 منصوبےایسے ہیں جو 50 ہزار 80 ایکڑ رقبے کو سیراب کریں گے۔ ان 17 میں سے 9 منصوبے تکمیل کے بالکل قریب ہیں۔ یہ منصوبے نوشہرہ، ایبٹ آباد ہری پور، صوابی، کوہاٹ، کرک، دیر، مانسہرہ اور بنوں میں واقع ہیں۔

ان میں سے تین منصوبے جو میرے ضلع ہری پور کے ہیں۔میں تینوں کے بارے میں مستند معلومات لے چکا ہوں کیونکہ میرے دوست رشتے دار انہی علاقوں کے باسی ہیں۔ان کی تفصیلات میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

گدوالیاں میں 3700 ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے والا پراجیکٹ آخری مراحل میں ہے۔ اس سے تین نہریں نکل رہی ہیں جو پنیاں، بکہ اور بھیرہ کے دیہاتوں کو سیراب کریں گی۔ دوسرا جھنگڑا ہے جو ایبٹ آباد اور ہری پور کے بارڈر پر واقع ہے۔ یہ پراجیکٹ 1800 ایکٹر رقبے کو سیراب کرے گا۔ تیسرا پراجیکٹ خیربارہ، تحصیل غازی میں واقع ہے۔خیر بارہ پراجکٹ سو فیصد مکمل ہے اور 1600 ایکڑ رقبے کا سیراب کرے گا۔ (یہ تمام معلومات میں اپنے زرائع سے تصدیق کر چکا ہوں)۔

میرا یہ مضمون ایک شہر تک محدود ہوتا نظر آتا ہے لیکن کچھ تاریخی حقائق بیان کرنا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے کئی حکومتیں گزریں لیکن مجھے یاد نہیں کے پچھلے پچیس سالوں میں کوئی بھی نیا آبی منصوبہ شروع کیا گیا ہو۔ تربیلا ایوب خان کے دور میں بنا، خانپور ڈیم بھی اسی دور میں بنا، کاہل ڈیم اور پٹڑی ڈیم یہ تمام منصوبے بھی دہائیوں پہلے بنے. اس لئے اس ابتدا پر پی ٹی آئی حکومت کی تعریف بنتی ہے کہ کسی سطح پر ہی سہی لیکن کچھ عملی کام تو ہوا ہے۔

کے پی حکومت کے 356 منی /مائیکرو پاور پراجیکٹس کے پر میں تفصیلی پوسٹس لکھ چکا ہوں۔ ان پاور پراجیکٹس میں بھی دیہات میں رہنے والے عام آدمی کو فائدہ ہوا ہے اور اب یہ آبی منصوبے بھی کسان کو براہ راست فائدہ دیں گے. ان منصوبوں سے پہلے کسان کا تمام تر انحصار بارش پر تھا اور بارانی علاقے کے کسان کو ہر وقت خدشات ہی گھیرے رہتے ہیں کہ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوئی تو مسئلہ یا پھر بے وقت بارش کھڑی فصل کو تباہ کر سکتی ہے لیکن ان منصوبوں کے بعد اب کسان کو پانی کے متبادل ذرائع بھی میسر ہیں۔

پختونخواہ میں لوگ پی ٹی آئی کی حقیقی کارکردگی سے واقف ہیں لیکن اب ان کو اپنا کام باقی پاکستانیوں کے سامنے رکھنا چاہئے۔ کیونکہ ن لیگ کا سارا زور اسی پر ہے کہ پی ٹی آئی ناتجربہ کار ہے اور انہوں نے یہ بیانیہ کافی حد تک لوگوں کے ذہن میں بٹھا بھی دیا ہے۔اس بات کا چرچا کیا گیا ہے کہ پرویز خٹک کی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے تعلیم، صحت، پٹوار، بلدیات، پاور پراجیکٹس اور اب یہ آبپاشی کے تمام منصوبوں سے عام شہری کو مستفید کیا ہے۔ پی ٹی ائی کو اپنی حقیقی کارکردگی بہتر انداز میں عوام کے سامنے رکھنی چاہیئے اور یہ کام اب نہیں کیا تو کب کریں گے؟

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عوام اور صحت: کے پی کے ایم ٹی ایکٹ 2015 —- عماد بزدار

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: