مجموعۂ جمال: اک چراغ جلتا ہے —– عزیز ابن الحسن

0
  • 95
    Shares

یہ ہمارے مبین مرزا بھی عجیب دوست نواز شخصیت ہیں۔
۱۹۸۸-۸۹ میں ان سے لاھور میں جو سلسلۂ مؤدت و انسیت بندھا تو وہ آج بھی قائم ہے۔ مرزا صاحب سراج منیر کی پُرنور شخصیت کے تار سے بندھے ملتان سے لاھور آئے تھے تو چند ماہ تک مجھے ان کے ساتھ “ہم کمرگی” کا موقع ملا تھا۔ اُن دنوں یہاں وہ ایم اے (انگریزی) کی ابتدائی تیاریوں مصروف تھے جس میں انہیں انگریزی ادب کے درّاک شناور اور انگریزی زبان کے برّاق مقرر سراج بھائی کی خصوصی توجہ حاصل رہی۔ معلوم نہیں کیوں مگر پھر اچانک انہوں نے کراچی کو اپنا مستقل ٹھکانہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ہمارے مرزا صاحب ایک روز چپکے سے کراچی سِدھار گئے۔

اپنی جدوجہد کے بل پر زندگی کے کڑے کوسوں میں اپنی جگہ بنانے والے اس دھان پان سے آدمی نے کراچی میں بھی بہت سے جوکھم سہے مگر مشفق خواجہ کی شفقتوں اور جمال پانی پتی کی جمال آگیں محبتوں نے اس بےخانماں کو وہاں پاؤں جمانے کے قابل بنا ہی دیا اور کیا ہی شاندار انداز میں قدم جمائے ہیں اس عزیز نے۔

جمال پانی پتی

کراچی میں مبین مرزا نے دو معرکے کے کام کئے: ایک تو “اکادمی بازیافت” کے عنوان سے اردو تنقید افسانہ و شاعری کی کتب کی اشاعت کا ایک منفرد ادارہ قائم کیا دوسرے یہاں سے اردو کے ایک انتہائی منفرد جریدے “مکالمہ” کا اجرا کیا جو گزشتہ پندرہ بیس سال سے اپنی تواترِ اشاعت اور شائع ہونے والے مواد کے اعتبار سے اس وقت دنیائے اردو ادب میں اپنا ایک انتہائی منفرد مقام بناچکا ہے۔ جس طرح “اکادمی بازیافت” محض ایک اشاعت گھر نہیں بلکہ کراچی میں مبین مرزا کے ہم ذوق ادیبوں کا ایک گھر ہے۔ اسی طرح رسالہ “مکالمہ” محض ایک ادبی پرچہ نہیں بلکہ محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کی ادبی نقوش ہائے سفر اور دکھائی منزل کا ایک اہم سنگِ میل بھی ہے۔ اس رسالے میں یوں تو ہر مزاج کے مضامین اور شاعری و افسانہ چھپتے ہیں مگر “مکالمہ” کے ادارئیے اپنے مدیر کے مخصوص ادبی مزاج کے سبب اس میں اشاعت پزیر دیگر تحریروں کو بھی ایک خاص جہت میں رکھنے اور ادبی سرگرمیوں کو رُخ دینے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی پچھلے ماہ ہی آنے والے مکالمہ کے خصوصی سالنامہ شمارے میں مبین مرزا نے ادب اور ادب کی سماجیات کے مسئلے پر جو اداریہ سپرد قلم کیا ہے اسمیں انہوں نے اجکل ادب کی آڑ میں جاری ان سرگرمیوں کی طرف توجہ دلائ ہے جو اس کاری گزاری میں شریک لوگوں کو ایک طرح کے ادبی التباس کے دھوکے میں رکھتی ہیں درانحالیکہ یہ سرگرمیاں ادب کے نام پر ایک اور طرح کی سرمایہ داری کی فروغ دہندہ ہیں۔ “مکالمہ” ہی کے سلسلے میں انہوں نے ایک انقلابی قدم یہ اٹھایا کہ مسلسل دس بارہ برس اسکے ضخیم شمارے نکالنے کے بعد اچانک گزشتہ برس اسے ماہانہ پرچہ بنادیا ہے اور کامیابی سے چلا بھی رہے ہیں۔

اپنی ان شخصی خوبیوں کی بنا پر ہمارے مبین مرزا کا ادارہ صرف ایک اشاعت گھر نہیں اور انکا پرچہ محض ایک بے رُخ رسالہ نہیں بلکہ روایتی ادبی تہذیب کا بازآفریں اور سمت نما بھی ہے۔ یوں کراچی میں اکادمی بازیافت سے شروع ہونے والا مبین مرزا کا سفر حقیقی معنی میں ادب میں کھوئے ہوئے افکار خیالات اور اقدار کی بازیافت کی کہانی ہے:
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

 

ابھی چند روز پہلے مجھے مبین مرزا کی محبت سے مکالمہ کا سالنامہ نمبر مع ایک افسانوی مجموعہ موصول ہوا تھا۔ ابھی اسی کی خوشیاں سمیٹ ہی رہا تھا کہ کل ایک اور ضخیم پیکٹ ملا۔ یہ تو دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ اکادمی بازیافت کی جاری عنایاتِ بے پایاں میں سے مزید کوئی شے ہے لیکن پیکٹ کھولا تو مسرتوں کی انتہا نہ رہی۔ جمال پانی پتی کا کل نثری سرمایہ یکجا دیکھ عجب وارفتگی طاری ہوگئ۔ جمال بھائی کی یادوں اور محبتوں کا ایک سیلاب سا آیا اور بہا لے گیا۔ ۸۳-۱۹۸۴ کا وہ دور آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب سہیل عمر کے رسالے “روایت” میں اول اول روایت اور جدیدیت کے مسئلے پر سراج بھائی اور جمال پانی پتی کے مضامین پڑھے تھے اور ان ہی مباحث کے سہارے قسمت مجھے الیکٹریکل انجنیئرنگ کا میدان چھڑوا کر سراج بھائ کے پاس لاھور لے آئ تھی۔ آج ان یادوں سے منور اور معطر ایک عالمِ کیف ہے جو اب بھی دل و دماغ کو شرشار کیے ہوئے ہے۔

اللہ مبین مرزا کو ہمیشہ تروتازہ رکھے کہ وہ “مضامینِ سلیم احمد” اور “مقالاتِ سراج منیر” کی اہم اشاعتوں کے بعد اُسی محبت سے اس خانوادے کے ادبی جمال کا اگلا نمونہ “مجموعہ جمال پانی پتی” سامنے لے آئے۔ انہوں نے کمال یہ کیا کہ جمال بھائ کی سابقہ چار کتب ہی شاملِ مجموعہ کرکے یکجا نہیں کیں بلکہ اسمیں ان کے چند نئے مضامین بھی مدون کر کے مجموعے کی افادیت میں کئ گنا اضافہ کر دیا ہے۔ مبین مرزا کی بے نفسی کا کمال دیکھئیے کہ آج جبکہ یار لوگوں نے ادھر ادھر سے دوسروں کے بے ربط مضامین اٹھاکر بے بصیرتی سے جمع کر کے شائع کرنے اور مصنف بننے کا آسان وطیرہ اختیار کر رکھا ہے ہمارے مرزا نے کتاب کو جمال پانی پتی ہی کے نام سے شائع کرکے اپنے “محقق” بننے کا موقع کس آسانی سے کھو دیا، اگر یہ ایسا نہ کرتے تو آج ادبی دنیا شاعر، افسانہ نگار، مترجم، نقاد، پبلشر اور مدیر مبین مرزا کے ساتھ “محقق و مدوِّن” مبین مرزا سے بھی آگاہ ہوتی۔

“مجموعۂ جمال پانی پتی” کے اکثر مضامین جمال بھائی کی محبتوں و شفقتوں کے طفیل پہلے ہی میرے پڑھے ہوئے ہیں کہ مرحوم اپنی ہر شائع ہونے والی کتاب بڑی محبت سے بھیجا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں مختلف موقعوں پر ان سے ہونے والی خط و کتابت کے سلسلے میں ان کے بہت سے خطوط جو میرے پاس محفوظ ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔ لیکن سچ جانئیے ان نئے مضامین کی اشاعت کے طفیل یہ مجموعہ اب میرے لئے ذاتی طور پر ایک نیا انکشاف بھی بن گیا ہے۔

جمال پانی پتی شاعر بھی تھے اور نقاد بھی۔ ایک زمانے میں کراچی کے مشاعرے انکے دل کو چھو لینے والی ترنم سے گونجا کرتے تھے۔ انگریزی اردو ادبیات افکار اور کلاسکی ہندی کے ادبی و فکری مسائل پر بھی انکی گہری نظر تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بطور نقاد انکا فکری سفر عسکری اور سلیم احمد کے جادۂ روایت پر ہی رہا ہے مگر عسکری اور سلیم احمد کے ہاں بعض بنیادی نکات کی توجیہ اور روایت کی جڑوں کو کھنگالنے کے جو کام ان کی عدم فرصتی یا اُس وقت تک بعض نئے چیلنج سامنے نہ آنے کے سبب کچھ تشنہ رہ گئیے تھے ان تفصیلات میں رنگ بھرنے اور بعض نئے سوالات کے جوابات اور انکی اطلاقی جہتیں فراہم کرنے کا کام جمال پانی پتی کے قلم کا محتاج رہا ہے۔ یہی نہیں بعد میں ایک قلمی معرکے میں جب سلیم احمد کو عسکری کا نرا مقلد کہا جانے لگا تو ایسے میں جمال بھائ کا قلم ایک نئ شان سے رواں ہوا اور سلیم احمد کی شخصیت اور کام کے ایسے بہت سے گوشے وا کرنے میں کامیاب رہا جو محض عسکری کا عکس نہیں تھے۔ اسی طرح ایک زمانے کے اردو مباحث میں جب رینے گینوں کے کچھ خیالات مسلسل سوالات کی زد میں آئے تو جمال پانی پتی نے گینوں کی اصل تحریروں کی روشنی میں انکا محاکمه کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اسی سلسلے کی اپنی بعض تحریروں میں عسکری اور سلیم احمد کے کچھ مؤقفات سے مخلتف رائے کا اظہار کر کے اپنے “مجتہد فی المذہب” ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بطور نقاد انکا فکری سفر عسکری اور سلیم احمد کے جادۂ روایت پر ہی رہا ہے مگر عسکری اور سلیم احمد کے ہاں بعض بنیادی نکات کی توجیہ اور روایت کی جڑوں کو کھنگالنے کے جو کام کچھ تشنہ رہ گئے تھے ان تفصیلات میں رنگ بھرنے اور بعض نئے سوالات کے جوابات اور انکی اطلاقی جہتیں فراہم کرنے کا کام جمال پانی پتی کے قلم کا محتاج رہا ہے۔

عسکری کے برعکس، اور سلیم احمد کی طرح، جمال بھائ کا تنقیدی سروکار فکشن کے بجائے زیادہ تر شاعری سے رہا ہے مگر سلیم احمد کی طرح وہ محض نظم اور غزل تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے اردو میں ہندی رنگ دوہا نگاری پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ جمیل الدین عالی اور نگار صہبائی پر ان کی تحریریں ہندی مزاج کی زمینی شاعری اور اس کے فنی لوازم ان کی طبیعت کے اس پہلو کے چوکھے رنگ سامنے لاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اقبال اور شکنر اچاریہ کے بعض پہلوؤں کا موازنہ بھی اسلامی و مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ ہندی گیان دھیان سے انکے گہرے شغف کا غماز ہے۔

پرانے شعرا پر اپنی توجہ صرف کرنے کے بجائے جمال پانی پتی نے اپنے معاصر شعرا پر زیادہ لکھا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے مضامین اگر دیکھے جائیں تو نظر آتا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر ان شعرا پر لکھا ہے جن کے بارے میں عام طور پر تنقیدی مضامیں کی شدید قلت رہی ہے۔ عزیز حامد مدنی محب عارفی رسا چغتائی اطہر نفیس نگار صہبائی فرید جاوید احسن سلیم ساقی فاروقی اور بابا ذہین شا تاجی پر انہوں نے بصیرت افروز نقد کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی نقاد کی تنقیدی بصیرت کا ایک امتحان معاصر ادب پر اسکی رائے سے بھی ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس منطقے پر بھی جمال پانی پتی نے بہت سے معرکے سر کیے اور نئے جھنڈے گاڑے ہیں۔

اردو ادب و تنقید کے وہ شائقین جو ادب کے تہذیبی سرچشموں سے سیرابی کو اہم جانتے ہیں “مجموعۂ جمال پانی پتی” کی اشاعت پر بہت خوشی محسوس کریں گے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سراج منیرکا تصور تہذیب (حصہ اول): عزیز ابن الحسن

 

اس زمانے میں کہ جب ناشرین کی فوجِ ظفر موج مقبولِ عام ادبی رجحانات کے دھارے میں بہے چلے جارہی ہے اور ہر طرح کی منفعت بخش کتابیں چھاپ کر یہ لوگ آنی جانی کو ثبات دے رہے ہیں، مبین مرزا ہمارے شکرئیے کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے ہاں سے شائع ہونے والی کتابوں کے موضوعات کی کڑی چھان بین بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کتاب سازی کے ظاہری حسن اور پروف خوانی پر خاص توجہ رکھ کے مصنف کے لکھے درست ترین متن کا تعین کرنے اور اسے مشینی کتابت کی بے احتیاط دستبردار سے محفوظ کر کے قاری تک پہنچانے کو بھی ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ورنہ آج اکثر اشاعتی اداروں کا کام تو بس اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ دھڑا دھڑ کتابیں شائع کر کے ڈھیر لگاتے جائیں اور مصنفین کرام کی ساکھ کو بھی ڈھیر کرتے جائیں۔

ایسے میں مبین مرزا جیسے لوگ بسا غنیمت ہیں کہ جو محض کتابوں کا کاروبار نہیں کرتے بلکہ ادب دوست اور کتاب شناس بھی ہیں۔ وہ افسانے بھی لکھتے ہیں اور شاعر بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک صاحبِ نظر نقاد بھی ہیں۔ ان کی ان مہارتوں کا اثر انکی شائع کردہ کتب میں بھی بہت واضح نظر آتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: