تارڑ صاحب کے کالم اور جمہور کا فیصلہ —- اورنگ زیب نیازی

0
  • 96
    Shares

تارڑ صاحب نے برسوں پی ٹی وی پر صبح کی نشریات کی میزبانی کی۔ انھوں نے ہمیشہ رنگوں، تتلیوں اور پھولوں کی باتیں کیں، پیار، محبت، امن اور پاکستان کی باتیں کیں۔ میری نسل کے بیشتر لوگ ان کی باتوں کی پھوار میں بھیگتے ہوئے جوان ہوئے۔ انھوں نے بیسیوں کتابیں لکھیں، ان کے بیشتر ناول اور سفرنامے سپر ہٹ ہوئے، قیمت زیادہ ہونے کے باوجود بیسٹ سیلر ثابت ہوئے۔ ان کی شہرت اور مقبولیت ملکی سرحدوں سے باہر تک پہنچی کہ اچھا ادب جغرافیائی اور لسانی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ پچھلے کئی برس سے اخباروں میں کالم بھی لکھ رہے ہیں۔ ان سے اختلاف یا اتفاق کے باوجود ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا تا آنکہ انھوں نے وہ کالم نہیں لکھا جس کا عنوان تھا: ’’نواز شریف ہندوئوں کے بھگوان ہو گئے‘‘۔ کالم کا چھپنا تھا کہ ہر طرف غوغائے سگاں بلند ہوا۔ ’’نواز پرستوں‘‘ کا ٹولہ طنز و تعریض کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ان پر حملہ آور ہوا۔ کسی نے ان کے ایمان پر شک کیا، کسی نے ان کی جمہوریت پسندی پر سوال اٹھایا، کسی کو لفظ ہندوئوں کے بھگوان پر اعتراض ہوا تو کوئی دور کی کوڑی لایا اور ان کے فکشن اور سفر ناموں پر نکتہ چینی کرنے لگا۔ اور تو اور نواز شریف کو ’’وژنری لیڈر‘‘ اور عطاء الحق قاسمی کو پابلو نیرودا کہنے پر بھی بغلیں بجانے والے بھی تارڑ صاحب کو سرکاری وظیفہ خوار اور لفافہ صحافی کہنے لگے۔ بندہ پوچھے بھئی اخباروں میں روز بیسیوں کالم شایع ہوتے ہیں، کچھ ’’وژنری لیڈر‘‘ کے خلاف ہوتے ہیں اور کچھ اس کے حق میں۔ پھر اس ایک کالم پر اتنا ہنگامہ کیوں ؟کیا محض اس لیے کہ تارڑ صاحب کی آواز ملک کے طول و عرض میں سنی جاتی ہے؟ کل تک تو وہ ایک عظیم ناول نگار، عظیم سفر نامہ نگار، عظیم ادیب اور عظیم دانشور تھے، جیسے ہی انھوں نے آپ کے محبوب قائد کے بارے میں کچھ لکھا وہ زیرو ہوگئے۔

کچھ لکھے پڑھے (پڑھے کم، لکھے زیادہ) دوستوں نے اعتراض کیا کہ ایک ادیب کا کالم ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ادب اور کالم نگاری دو الگ شعبے ہیں۔ ان دونوں کے مابین ایک واضح حدِ فاصل موجود ہے۔ کالم اور ادبی فن پارہ اپنے موضوع، ہیئت، طرز بیان زبان کی بنیاد پر ایک دوسرے سے یک سر مختلف ہوتے ہیں۔ اعلٰی ادبی فن پارہ بڑے اور آفاقی مسائل کو مخاطب کرتا ہے، اس کا متن کثیر معنویت کا حامل ہوتا ہے، وہ براہ ِراست نہیں ہوتا، اس میں شخصی جذبات اور تاثرات کو کم دخل ہوتا ہے، جبکہ اخباری کالم واقعاتی اور تاثراتی ہوتا ہے، اس کا موضوع زمانہء حال کا کوئی واقعہ یا خبر ہوتی ہے۔ اس کی زبان سادہ ہوتی ہے اور وہ براہِ راست عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان مین حسن نثار، جاوید چودھری، ہارون الرشید اور ایاز امیر کے بجائے مقبول ترین کالم نگار وہ ٹائی پوش عالم نما کالم نگار ہوتا جس کا ہر کالم ’’ارسطو کی استخراجی منطق کی رو ‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور گوالمنڈی کی گلیوں سے ہوتا ہوا جاتی عمرہ کے دربار میں سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔

کسی معترض نے فرمایا، ادیب کا موضوع زیادہ انسانی ہونا چاہیے، انھوں نے بجا فرمایا مگر شاید وہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو حشرات الارض سمجھتے ہیں۔ شاید ان کے نزدیک یہ سسکتے، بلکتے، تڑپتے، غربت کے مارے، صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم لوگ وسیع انسانی اقلیم کا حصہ نہیں ہیں۔ تارڑ صاحب نے نواز شریف کے خلاف نہیں در حقیقت زندگی کو ترستے ان زندہ انسانوں کے حق میں لکھا ہے۔ پابلو نرودا (اصلی والے)، چنوا اچیبے، ساروویوا، ناظم حکمت اور رسول حمزہ توف اور انگریزی کے بیشتر بڑے ادیبوں کو غور سے پڑھیں، ان کے تخلیقی کارناموں کا محرک اول وطن اور وطن کے لوگوں سے محبت ہی ہے۔

اب تارڑ صاحب کا ایک اور کالم شایع ہوا ہے: ’’زرد چینی شہزادیوں کی لاہور میں آمد‘‘۔ یہ کالم نہیں ایک مختصر ادبی شاہکار ہے۔ انھوں املتاس کے پھولوں کے ساتھ بانو قدسیہ کو یاد کرتے ہوئے لاہوریوں کو نہاری اور سری پایے کا طعنہ دیا ہے۔ اب تارڑ صاحب کو کون بتائے دن رات گرد و غبار پھانکتے، صاف پانی کی بوند بوند کو ترستے لاہوریوں کے پاس اتنا فالتو وقت کہاں کہ وہ پارکوں میں جا کر زرد چینی شہزادیوں کا استقبال کرتے پھریں۔ نیم تعلیم یافتہ نا اہل وزیرِاعظم سے تارڑ صاحب کی یہ توقع بھی عبث ہے کہ وہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان چھوڑ کر امن، محبت اور پھولوں کی بات کرے۔ اس کالم پر غوغائے سگاں تو بلند نہیں ہوا مگر ’’مجھے کیوں نکالا‘ ‘کا ذکر کچھ طبائع نازک پر گراں ضرور گزرا ہے۔ ہر متن کی طرح تارڑ صاحب کا یہ متن بھی آزاد اور خود مختار ہے، کیوں کہ لکھت لکھتی ہے، لکھاری نہیں، آپ چاہیں تو اس کی ردِ تشکیل کریں، املتاس کے پھولوں کی مختصر بہار کو ’’جمہوریت کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی سازش‘‘ قرار دیں (ہمارے خیال میں تو یہ کرپٹ عناصر کا احتساب ہے اور اس بہار کو اپنا رنگ ضرور دکھانا چاہیے)، آپ کے حسن کرشمہ ساز کو کون روک سکتا ہے اگر آپ پلڈاٹ اور دی اکانومسٹ کے سرویز کو جمہور کا فیصلہ قرار دے دیں، فیصلہ پانچ دس ہزار لوگوں نے نہیں، بائیس کروڑ عوام نے کرنا ہے۔ انٹرنیشنل کمپنیز کے سرویز اور درانی کی کتاب کی ٹائمنگ میں پوشیدہ انٹرنیشنل اسٹبلشمنت کے راز کو آپ نہ سمجھیں تو آپ کو کون سمجھائے۔ جمہور نے تو اپنا فیصلہ ۲۸ جولائی ۲۰۱۷ء کو ہی دے دیا تھا۔ مرکز اور صوبے میں اقتدار ہونے کے باوجود شہر لاہور میں دیکھنے کو سڑکوں پر چار لوگ بھی نہیں نکلے۔ دس دن بعد لوگوں کو نکال لانے اور پہلے دن لوگوں کے خود نکلنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جی ٹی روڈ پر ایک سو بیس کی رفتار سے دوڑتی گاڑیاں بھی جمہور کا فیصلہ تھیں اور سوات، جہلم اور ملتان کے جلسے اور چنیوٹ میں منہ چڑاتی خالی کرسیاں بھی۔ اس کے باوجود آپ اعلانیہ کہتے پھریں کہ ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں نواز شریف کی جیت جمہور کا فیصلہ ہو گا اور اس کی ہار کسی کی سازش تو ہم آپ کو بس یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ اپنی آنکھوں سے مفادات کی کالی پٹی اتار کر تارڑ صاحب کی ہزار داستان پڑھیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: