ذہن سازی کی صنعت ——- خضرحیات

0
  • 12
    Shares

اور جب وباء کی صورت چہارسُو پھیل جانے والی ایک مخصوص لہر نے مغالطوں کے جال پھینک کر تمام خلقت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تو متاثرین کے مرئی اور غیر مرئی وجود چند واضح تبدیلیوں کے اشتہار دکھائی دینے لگے۔ سب سے پہلا حملہ سماعت پر ہوا۔ اس سے پہلے سماعتیں جس طرح کا اور جتنا سچ سننے کی عادی تھیں اب اس سچ کی ہئیت و نوعیت میں تبدیلی واقع ہونے لگی لہٰذا یہ نہایت ضروری تھا کہ سماعتوں کی سُرنگ کے راستے میں بھی کچھ تبدیلیاں برپا کی جائیں۔ سماعتیں جب یرغمال بنائی جا چکیں تو بصارتوں پر دھند کے جال اوڑھائے جانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نگاہوں کے انداز بدلتے چلے گئے اور دیکھنے کے زاویئے پلٹ گئے۔ سننا اور دیکھنا جب قبضے میں لیا جا چکا تو اس حصار بند سماعت و بصارت نے سب سے پہلا اٹیک تخیل اور سوچ کے پُرزوں پر کیا۔ کانوں اور آنکھوں کے راستے دماغ تک بہنے والی جنس نے سوچ کے عمل کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ ذہن میں محفوظ الفاظ اور تراکیب کا ذخیرہ نئی نویلی اصطلاحوں سے تبدیل ہوتا چلا گیا۔ سوچ نے راستہ بدلا تو حوالہ جات بھی بدل گئے۔ پسند و ناپسند کے مزار و مرقد دوبارہ سے ترتیب پانے لگے۔ فریب اس قدر شاطر دماغ تھا کہ اس نے فکر و دانش کی چُولیں ہلا کے رکھ دیں اور سوچ میں سراب بھر دیئے۔ حافظہ اب پرانی چیزوں کو سنبھالنے کا کام بھولتا چلا گیا۔ اسے محض قریب کی چیزیں ہی یاد رہنے لگیں یا یوں کہیں کہ صرف وہی کچھ یاد رہنے لگا جو اسے یاد کروایا جاتا رہا۔ باقی چیزوں کو غیر ضروری سمجھ کے حافظہ ذہن کے ذخیروں سے اٹھا اٹھا کے باہر پھینکتا رہا۔ اب یادداشت زیادہ تر پچھلے ایک دن یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے واقعات کو سنبھالنے جوگی رہ گئی تھی۔ اس سے زیادہ یاد رکھنا جہاں مشکل بنا دیا گیا تھا وہاں غیر ضروری بھی لگنے لگا تھا۔ تو صورتحال کچھ اس طرح کی بن چکی تھی کہ آنکھیں اب وہی کچھ دیکھ رہی تھیں جو دکھایا جا رہا تھا، کان وہی کچھ سن رہے تھے جو سنایا جا رہا تھا اور ذہن انہی زاوئیوں کی پگڈنڈی کو پکڑ کر سوچ رہا تھا جس پگڈنڈی کا امکان کانوں اور آنکھوں کے راستے اس میں داخل کیا جا چکا تھا۔ حافظے کی تھیلی سُکڑ کر محض چند دنوں کی مٹھی میں آ گئی تھی۔

عہدِ جدید کی اس وباء نے ایک ایسی پُراسرار فضا تخلیق کر دی کہ جس کا اثر نہ صرف مخلوق کے دیکھنے، سننے اور سوچنے کو تبدیل کرتا گیا بلکہ ظاہری وجود بھی اپنے پرانے نین نقشے سے منحرف ہوتے گئے۔ وباء کے زیراثر لوگوں کی رنگت بدلنے لگی۔ اعصاب نے تنائو سمندر میں چھلانگیں لگائیں تو چہرے بدلے بدلے دکھائی دینے لگے۔ ازلی ساخت کی پیروی کرتے گول مٹول سر بھی چوکور ڈبوں میں ڈھلنے لگے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ واقعہ ہوا کہ چہرے فق رہنے لگے، لباس بدل گئے، انداز بدل گئے، تیور بگڑ گئے، بحث کے معیار بدلے، اختلاف کے اصول کہیں کھائیوں میں جا گرے اور جینے کے انداز ایسے بدلے کہ پہچان کی پکڑ سے بھی آزاد ہونے لگے۔ اور یُوں اس نئی فضا نے کچھ ہی عرصے میں لوگوں کی ایک واضح اکثریت کو مکمل طور پر بدل کے رکھ دیا۔ رُبع صدی پہلے کے زمان و مکاں سے گزرا ہوا کوئی انسان اگر زندہ ہو جاتا تو آج کے انسانوں کو پہچاننے سے ہی انکاری ہو جاتا۔

بدل جانے والوں کو اپنے اندر پیدا ہونے والا یہ بدلائو شروع میں تو کچھ کچھ عجب لگا مگر پھر آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہوتے چلے گئے۔ انہیں یہ تبدیلی اس لئے بھی معمول ہی کی کوئی چیز لگی کیونکہ یہ بدلائو اکثریت کے نین نقشوں اور فکر و عمل میں داخل ہو چکا تھا اور تبدیل ہو کے وہ سب اب ایک مرتبہ پھر ایک جیسے ہو گئے تھے، ایک بدلے ہوئے اور نئے روپ میں ایک جیسے، یکساں۔ اب اس قماش کے تمام لوگ ایک ہی طرح دیکھتے، ایک ہی طرح سنتے اور ایک ہی طرح سوچتے۔ انہیں اب دنیا یا ریالٹی جس شکل اور جس رنگ میں بھی دکھائی گئی وہ اسی رنگ میں دیکھ کر اثر قبول کرتے گئے اور یوں ایک خاص ترتیب سے تبدیل ہوتے گئے۔

اس تمام جھکّڑ اور طوفان کا نشان ملتے ہی بستی کے چند لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے خود کو کسی نہ کسی طرح اس نئی لہر، وباء یا مرض سے محفوظ رکھنے کا سامان تیار کر لیا۔ ان مُٹھی بھر انسانوں کو کسی انجانے احساس نے یہ اشارہ دیا کہ یہ تبدیلی خودکار اور فطری نہیں ہے بلکہ یہ مصنوعی اور انجینئرڈ قسم کی تبدیلی ہے جس کا اگر ممکن ہے تو راستہ روک دینا چاہئیے اور اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو خود کو اس سے بچا لینا چاہئیے۔ تعداد میں کم ہونے کے باعث وہ اس منہ زور وباء کا منہ تو نہ باندھ سکے لہٰذا اس گروہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بھاگ کر اپنی وضع قطع اور سوچ کو بدلنے سے محفوظ بنا لیں۔ چنانچہ جو جو ان کے ساتھ ملا انہوں نے جنگل کا رخ کیا۔ یہاں کی فضا قدرے مختلف تھی اور یہاں ابھی وباء کے اثرات نہیں پہنچ پائے تھے۔ انہوں نے اپنے اوپر جنگل اور غار اوڑھ لئے اور باقی دنیا سے الگ تھلگ ہوکے رہنے لگے۔ انہیں اگرچہ تنہا ہونے کا احساس کبھی کبھار ستانے لگتا تھا مگر اپنی وضع قطع اور سوچ کو محفوظ رکھنے کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ انہوں نے غاروں میں ہی پڑے رہنے کو دانشمندی سمجھا اور ڈٹے رہے۔ ان کے پاس چونکہ وقت ہی وقت تھا لہٰذا وہ اضافی وقت کے اس بے پناہ خلا کو رنگ برنگی کتابوں کے مطالعے سے بھرنے میں لگے رہے۔ انہیں شروع سے اپنی قوت مشاہدہ پر یقین تھا اور یہاں بھی اردگرد کی دنیا سے رابطے کا ان کا سب سے معتبر ذریعہ ان کا ذاتی مشاہدہ ہی تھا۔ وہ سنی سنائی پر کم سے کم یقین کرتے اور کسی بھی بات کو ماننے کیلئے حقائق کی کھوج لگاتے اور ان کی تصدیق کی جوت میں لگے رہتے۔

اس سب تگ و دو کا نتیجہ یہ نکلا کہ غاروں میں چُھپی اس مخلوق کی جسمانی و ذہنی ساخت میں صرف اسی قدر تبدیلی رونما ہو سکی جتنی انہوں نے خود واقع ہونے دی یا جو فطرت کے قانون کے مطابق تھی۔ یعنی بال بڑھ گئے مگر بالوں میں چھپے سر کی ساخت بدستور پہلے جیسی گول اور نیم گول ہی رہی۔ رنگت بھی وہی، قد کاٹھ بھی وہی، آنکھیں بھی ویسی ہی اور دیکھنے کے انداز بھی۔ تعصب ان پر حاوی ہونے میں ناکام رہا۔ سینکڑوں سالوں بعد جب یہ لوگ غاروں سے نکلے تو باہر کی دنیا یکسر بدل چکی تھی۔ لوگوں کی ہئیت و ساخت میں واضح تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ اس دنیا میں شامل ہونے والے انسانوں کو سب سے زیادہ کوفت جس رویئے پہ ہوئی وہ یہ تھا کہ مکمل طور پر تبدیل ہو جانے والوں کو اپنی اس تبدیلی کے محرکات اور اسباب کا سرے سے کوئی اندازہ ہی نہیں تھا۔ وہ اسے عین فطری تبدیلی سمجھ کر قبول کر بیٹھے تھے۔ انہیں قطعاً یہ احساس نہیں تھا کہ ایک خاص قسم کی وباء جو سینکڑوں سال پہلے پھوٹ پڑی تھی، نے انہیں بدل کے رکھ دیا تھا۔ الٹا یہ بدلے ہوئے رویئوں، چہروں، نگاہوں، سوچوں، زاویوں والے لوگ غاروں میں رہنے والوں کو کسی اور ہی دنیا کی مخلوق سمجھ کر انہیں حقیر جاننے لگے اور ان سے فاصلہ رکھنے لگے۔

دونوں گروپ مخالف قطبین کی حیثیت میں نمودار ہوئے۔ دونوں گروہوں کے نزدیک ریالٹی کی تشکیل اور تفہیم ایک دوسرے سے نہایت مختلف تھی۔ دونوں کیمپوں میں انتہائی مختلف موضوعات پر بحث مباحثے ہوتے۔ یہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے غیر مشابہ تھیں۔ جو اتنے برسوں سے باہر رہ رہے تھے وہ غار کے اندر والوں کو نادان اور کسی دوسری دنیا کے باشندے سمجھتے تھے جبکہ اندر والوں کو باہر والوں کی حالت پہ ترس آتا تھا۔ اس قدر مختلف ساختیات کے زیراثر ان دونوں گروہوں کی آپس میں بننی تھی اور نہ ہی بنی۔ دونوں اپنی اپنی دنیا میں مست رہنے لگے۔

مگر یہ الگ الگ دنیائیں زیادہ دیر تک پرامن طریقے سے آباد نہ رہ سکیں۔ آہستہ آہستہ دونوں میں بحث مباحثے ہونے لگے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کو ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی پاداش میں نفرت کی کھونٹی پر ٹانکنے لگے۔ کچھ مزید وقت گزرا تو یہ نفرت عملی صورت میں بھی ظاہر ہونے لگی۔ غصہ جب مجسم صورت میں سامنے آیا تو آستینیں پھاڑنے لگا اور گریبان چیرنے لگا۔ بات یہیں تک رک جاتی تو بھی اطمینان تھا مگر غصے والا جن ایک دفعہ بوتل سے باہر آ جائے تو اسے واپس ڈالنا ناممکن ہو جاتا ہے چنانچہ یہاں بھی یہی ہوا اور غصہ جو شروع میں دونوں گروہوں کو آپس میں محض الجھا رہا تھا اب وہ دونوں طرف کے انسانوں کو گولیوں بندوقوں کا نشانہ بنانے لگا۔ بحث و مباحثہ کی قیمت جان دے کر چکانی پڑتی اور اختلافِ رائے خون میں نہلایا جانے لگا۔

ستم یہ تھا کہ دونوں گروہ ہی خود کو درست سمجھتے تھے۔ وضع قطع مختلف ہونے کے باعث اندر والے پرانے اور پتھر کے زمانے کے لوگ کہلائے جبکہ باہر والے بدلی ہوئی صورتوں اور سوچوں والے موجودہ زمانے کی چال سے قدم ملا کر چلنے والے کہلائے۔ اب صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے دائرے میں ہیں اور ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہیں۔ یہ دونوں گروہ ندی کے دو الگ کناروں کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں کے بیچ میں بہنے والا انفارمیشن کا منہ زور سیلاب اس خلیج کو مزید چوڑا کر رہا ہے۔

ایک اکیلا واقعہ پوری پوری زندگیوں پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے اور پھر یہی واقعہ تاریخ کے دھارے کو بھی موڑتا چلا جاتا ہے۔ آزاد اور خودمختار میڈیا کی وہ ایک لہر جو انفارمیشن کا سیلاب اپنے ساتھ بہا کر لائی، ایک وباء ہی تو تھی جس کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پھوڑا گیا۔ جس نے اکثریتی آبادی کو ایک خاص ڈگر پر سوچنے کا عادی بنا دیا۔ چیختی چنگھاڑتی ٹیلی ویژن سکرینوں نے گھر گھر کوئی کم ہیجان تو نہیں تقسیم کیا تھا جو سوشل میڈیا بھی اس دوڑ میں شامل ہو گیا۔ اس طوفانِ بدتمیزی نے لوگوں کے دیکھنے، سوچنے، سمجھنے، اتفاق یا اختلاف کرنے کے انداز، المختصر سب کچھ بدل کے رکھ دیا اور چالاکی دیکھئے کہ جن کی سوچ سمجھ ہئیت وضع قطع ساخت سب کچھ اس لہر نے بدل دیا ہے انہیں کسی قسم کا کوئی احساسِ زیاں بھی نہیں ہے۔

یہی وہ لہر تھی جس نے خود سے سوچنے والوں اور کسی کی طرف دیکھ کے سوچنے والوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کر دی۔ خود سے سوچنے والے لوگ بے بسی کا نمونہ بن کر اندرخانوں کے غاروں میں جا کے چھپ کر بیٹھ گئے جبکہ دوسروں کی طرف دیکھ کر سوچنے اور سنی سنائی پر یقین کرنے والی اکثریتی آبادی کو اس لہر نے اپنی ڈگڈی پر نچانا شروع کر دیا۔ چنانچہ اس وباء کے ہتھے چڑھنے والے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو کسی انجانی مجبوری میں اپنے اذہان میڈیا کے پاس رہن رکھ دینے پڑے اور اب ان لوگوں کو دن رات خبروں کے سُلگتے اور آگ، نفرت، حسد، بداعتمادی، بے سکونی برساتے کانٹوں بھرے جنگل سے گزارا جاتا ہے اور ہر گزرتا دن ان کی روحوں کو مزید لہولہان کر جاتا ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا کے جہالت بھرے جوہڑ نے پوری کر رکھی ہے۔ غیر معیاری ڈرامے اور ہیجان انگیز تبصرے دکھا اور سنا کے آزاد سوچ کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا جاتا ہے۔ ذہن میں اتنی جگہ ہی نہیں چھوڑی جاتی کہ جہاں کوئی تازہ یا خودکار خیال پناہ لے سکے۔ ذہن کے کونے کُھدرے بھی خبروں کے خون آلود اور نفرت انگیز چھینٹوں سے آلودہ کر دیئے جاتے ہیں۔

خود سے سوچنے والے لوگوں کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے مگر ایک امید ابھی بھی زندہ ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب خود سے سوچنا ہی سب سے پاپولر فیشن بن جائے گا اور لوگ ذہنی و نفسیاتی غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔ شاید یہی وہ دن ہوگا جب دنیا کو غاروں میں پناہ لینے والوں کی دانشمندی پر رشک آئے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: