مگر اقبال اور نہیں آیا کرتے۔۔۔ –عائشہ غازی

2
  • 14
    Shares

دیواروں کے کان ہوتے ہیں.. وہ اپنے مکینوں کی باتیں ، آہیں آہٹیں اور گنگناہٹیں سنتی ہیں ۰۰۰ دیواروں کے صرف کان نہیں آنکھیں بھی ہوتی ہیں جو مکینوں کو دیکھتی ہیں ، پہچانتی ہیں ، پڑھتی ہیں اور ہجرت کر گئے مکینوں کے لیئے روتی ہیں ۰۰ اور نئے آنے والے ان آنکھوں کے راستے ان کے دل میں نہ اتر سکیں تو دیواریں صدمے سے سکتے میں بھی چلی جایا کرتی ہیں ۰۰
میں نے صدمے سے خاموش دیواریں خود دیکھیں ہیں ۰۰ صرف دیواریں نہیں ، پورے کمرے، دالان ، دروازے ، گلیاں اور کبھی کبھی شہر ۰۰ میں نے شہروں کو روتے دیکھا ہے ۰۰ میں نے کمروں میں جالے جیسے تنے ہوئے سکتے کی گواہ ہوں ۰۰

بھاٹی گیٹ لاہور سے سیدھا اندر جائیں تو کوئی پانچ منٹ چلنے کے بعد تنگ گلی میں چائے کی دکان کے سامنے تنگ اور اونچی سیڑھیاں چڑھتی ہیں جن پر اوپر سے نیچے تک ایک موٹی رسی بندھی ہے تاکہ اوپر کی منزل پر رہتے ہوئے سکتے کو کھوجنے یا توڑنے کے لیے آنے والے اس کے سہارے اوپر چڑھ سکیں ۰۰ اوپر پہنچیں تو دروازہ ایک کمرے میں کھلتا ہے جس کے آگے گلی کی طرف کھلتی اتنی مختصر چوڑائی کے بالکونی ہے جس پر ایک وقت میں ایک شخص بیٹھ جائے تو دوسرا پیچھے سے گزر نہیں سکتا ۰۰

اور اس کمرے کے پیچھے ایک تاریک کمرہ ہے ۰۰ جس میں نہ کوئی کھڑکی ہے نہ روشندان ۰۰ بالکونی کی روشنی اور پچھلے کمرے کی گھٹا ٹوپ تاریکی کے درمیان ٹھہرے کمرے میں وہ حسرت رہتی ہے جو ان لوگوں سے پردہ کرتی ہے جن کے دل دیواروں کی آنکھیں نہیں  دیکھ سکتے ۰۰

اس کمرے میں کبھی مختصر وقت کے لیے اقبال کا قیام تھا ۰۰ شاید اس وقت جب وہ ایم اے او کالج سے  وابستہ تھے ۰۰ روشنی اور تاریکی کے درمیان یہ شاعر درویش اپنا وقت کبھی بالکونی میں بیٹھ کر گزارتا اور کبھی تاریک کمرہ میں جا بیٹھتا ۰۰ اب یہ کمرہ اور اس کی دیواریں اس طرح خاموش ہیں جیسے کوئی صدمے سے گزرنے کے بعد اپنی تقدیر پر سمجھوتہ کر لے اور اچھے وقت دوبارہ لوٹ آنے تک خود میں بند ہو جائے ۰۰ پھر اس میں جو رہے ، جو آئے جو گزرے ، اس پر ایک خاموش سمجھوتہ طاری رہتا ہے ۰۰

گھروں کے بھی بخت ہوتے ہیں اور قوموں، انسانوں  اور خاندانوں کی طرح ، گھروں اور کمروں کے بخت بدلتے رہتے ہیں ۰۰

آج یہ کمرہ اپنے اس بخت پر خاموشی سے نوحہ کناں ہے جو اس کمرے کے ساتھ ساتھ قوم سے ہو گزرا ۰۰۰ کبھی اس قوم میں اقبال رہا کرتے تھے تو تمام تنگیاں اور تاریکیاں وسعتوں اور روشنیوں کو تعبیر کرتی تھیں ۰۰۰  قوم کی طرح اس کمرے میں بھی کبھی اقبال رہا کرتے تھے۰۰ آج اس کمرے میں شادی بیاہ پر بینڈ باجے بجانے والا ہیرو بینڈ رہتا ہے ۰۰ ویسے ہی جیسے اب اس قوم سے اقبال چل دئیے اور اب یہاں ہر خوشی غمی پر اس کی مطابقت کا شور کرنے والا ہجوم رہتا ہے ۰۰حادثہ ہو یا واقعہ ، بغیر دل بھیگے آنکھیں روتی ہنستی ہیں ، شور مچاتی ہیں اور تھک کر سو جاتی ہیں ۰۰ اگلا دن شروع ہوتا ہے ، ہجوم آ کر اخبار ٹی وی کی بالکونی سے لٹک کر ہنسنے رونے کا نیا تماشہ ڈھونڈتا ہے کہ کہیں دماغ کو سوچ پر مائل کر دینے والی فراغت نہ میسر آ جائے ۰۰

کبھی اسی بالکنی سے وہ دو آنکھیں دیکھا کرتی تھیں جو اپنے زمانے کے آر پار بھی دیکھ سکتی تھیں اور اس کے حال کو بھی ۰۰۰ اب بالکونی خاموش کھڑی دیکھتی ہے ، کبھی نیچے گلی میں جھانک کر ، کبھی کمروں میں ۰۰ اب اقبال دیکھتے ہیں ۰۰ خاموش دیکھتے ہیں ۰۰ اور ان کے ساتھ کمرے میں لگا یہ پرانا لیمپ بھی ۰۰ کوئی اور اقبال آئے تو ان کی آہ سنے ۰۰ مگر اقبال اور نہیں آیا کرتے ۰۰

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. نعمان علی خان on

    عمدہ تحریر ہے۔ اگر صاحبہ تحریر کے قلم میں یہ خوش بیانی نہ ہوتی، تو لکھنے کو سوائے اس کے کچھ نہ ہوتا کہ انہوں نے لاھور میں اس مکان کا وزٹ کیا جہاں کچھ عرصہ علامہ اقبال رہے تھے۔ صاحبہ تحریر کو چاہئیے کہ اپنے پر اثر قلم سے اس قوم میں یہ اعتماد پیدا کریں کہ یہاں مزید اقبال اور بڑے لوگ پیدا ہوسکتے ہیں اگر یہاں کے عام ذہنوں سے کنفیوژن اوردانشوری میں سے نان-ایشوز پھیلانے کا رجحان ختم کردیا جائے۔

  2. ہمایوں مجاہد تارڑ on

    احساس جیسے hollow man کیطرح کا ایک ایسا بے جسم وجود ہو جسے ان گنت ابدان سے بھرے ، پُر ہجوم شہر میں بھی اپنے حصّے کا وجود دستیاب نہ ہو۔ من بھاتے لباس کی تلاش میں نکلے تو اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہنوں سے لدے، سجے بیسیوں شورُومز پر بھی اس کی تسکین کا سامان نہ ہو پائے۔ وہ بے مراد لوٹ آئے۔ تب کسی اداس شام، کسی ویرانے میں چہل قدمی کرتے، کسی کھیت اندر دور تک جاتی، اور پھر کھیت کے پار بچھے گھنے جنگل میں گم ہو جاتی پگڈنڈی پر محوِ خرام اچانک کوئی پری نمودار ہو جائے۔ وہ زیرِ لب تبسم کے ساتھ اسے اس کا مطلوبہ لباس بھی تھما دے، اور ساتھ میں یہ بھی کہے، کہ :
    چکاچوند روشنیوں بھرے شہروں کی زرق برق دکانوں اور آرائش گاہوں پر نہیں، بلکہ ایسے لباس خود احساس گاہوں میں میسر ہوا کرتے ہیں۔ یہ احساس گاہیں ویرانوں، اور تنہائیوں میں آباد ہیں۔ رقّتِ قلبی اِن کا ایندھن ہے۔ نیم شبی والی ساعتیں اِن کی روشنی، اِن کا اُجالا۔
    یہاں ہمیں عاشی غازی دنیائے احساس کی نمائندہ ، ایسی ہی ایک پری سی لگیں۔ وہ قلم و قرطاس کی سوپر نیچرل پاور ہمراہ لیے ایک ایسے ہی بے جسم وجود کو لفظوں کا پیراہن عطا کرتی ہیں۔ سینہ فگاروں کے لیے ایک خوبصورت سوغات!

Leave A Reply

%d bloggers like this: