انتخابات 2018ء اور نگراں وزیر اعظم —- رئیس احمد صمدانی

0
  • 41
    Shares

لگاتار دوسری جمہوری حکومت نے الحمد اللہ31 مئی کو اپنی قانونی مدت پوری کی اور اس حکومت کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ لوٹ کے بدھے گھر کو پہنچے۔ حکومت کی کارکردگی کا تجزیہ ایک طویل موضوع ہے، پھر کسی وقت اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ملک میں نگراں حکومت قائم ہوچکی، ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک نے نگراں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ سابق وزیر اعظم ایوان وزیر اعظم سے رخصت ہوچکے۔ نون لیگ کی حکومت کا اختتام 31مئی کی شب بارہ بجے ہوگیا۔ نواز شریف کی نا اہلی سے نون لیگ کی حکومت ختم نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی حکومت نواز شریف کے احکامات کے بغیر کام کر رہی تھی۔ اس بات کا اعتراف شاہد خاقان عباسی نے کئی بار کیا کہ ہمارے وزیر اعظم تو نواز شریف ہیں۔ حکومت کے اختتام سے قبل نادیدہ قوتیں مختلف قسم کے اندیشوں اور خدشات کا اظہار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا خیال ہیں کہ جمہوری عمل کا آغاز ہی نہیں ہوگا۔ لیکن تمام خدشات اور وسوسے غلط ثابت ہونگے، نگراں وزیر اعظم نے حلف اٹھا لیا اور کام بھی شروع کردیا۔ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک پر حکومتی، حزب اختلاف اور تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد کا اظہار کیا ، کسی ایک نے بھی منفی بات نہیں کی۔ یہ عمل اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ نگراں وزیراعظم کوپوری پاکستانی قوم کی تائید وحمایت حاصل ہے۔سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، برقی میڈیا نے ہی نہیں بلکہ ہر شہری نے نگراں وزیر اعظم کی تقرری کو سراہا، اسے ملک و قوم کے مفاد میں تصور کیا۔ بلا شبہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک ایک غیر متنازع اور آئین و قانون پر یقین رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ بار اور بینچ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ بطور جج انہوں نے کئی اہم مقدمات کے فیصلے بھی کئے جنہیں قبول عام حاصل ہوا، وہ اس جوڈیشنل کمیشن کے سربراہ بھی تھے جس نے گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی تھی، وہ عبوری چیف الیکشن کمشنر کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ ان کی ان خصوصیات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں حیثیتوں میں ان کا تجربہ آنے والے انتخابات کو صاف شفاف بنانے میں مدد دے گا۔ اس لیے کہ وہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں، غلط کاموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک ان ججوں میں سے ہیں جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا اور پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا، جس کے نتیجے میں معزول قرارپائے تھے۔ ناصر الملک کا آبائی شہر خیبر پختونخواہ کا شہر سوات ہے، وہ 17اگست 1950ء کو پیدا ہوئے، انہوں نے جہانذیب کالج سے بی اے، پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور برطانیہ کے Inner Temple, England سے ایل ایل ایم اور بارایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی، وکیل کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا، وہ قانون کے استاد بھی رہے۔انہیں6 جولائی 2014ء کو پاکستان کا 22واں چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک خیبر پختونخواہ کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کامران خان 1973ء سے1977ء تک سینیٹر رہے، ان کے چھوٹے بھائی شجاع الملک 2003ء سے2009ء تک سینیٹر رہے۔ گویا ان کا دامن سیاست، اعلیٰ تعلی اور وسیع تجربے سے مالا مال ہے۔ لگاتار دوسری جمہوری حکومت نے الحمد اللہ 31 مئی کو اپنی قانونی مدت پوری کی اور اس حکومت کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ لوٹ کے بدھے گھر کو پہنچے۔ حکومت کی کارکردگی کا تجزیہ ایک طویل موضوع ہے، پھر کسی وقت اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ملک میں نگراں حکومت قائم ہو چکی، ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک نے نگراں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ سابق وزیر اعظم ایوان وزیر اعظم سے رخصت ہوچکے۔ نون لیگ کی حکومت کا اختتام 31مئی کی شب بارہ بجے ہوگیا۔ نواز شریف کی نااہلی سے نون لیگ کی حکومت ختم نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی حکومت نواز شریف کے احکامات کے بغیر کام کر رہی تھی۔ اس بات کا اعتراف شاہد خاقان عباسی نے کئی بار کیا کہ ہمارے وزیر اعظم تو نواز شریف ہیں۔ حکومت کے اختتام سے قبل نادیدہ قوتیں مختلف قسم کے اندیشوں اور خدشات کا اظہار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا خیال ہیں کہ جمہوری عمل کا آغاز ہی نہیں ہوگا۔ لیکن تمام خدشات اور وسوسے غلط ثابت ہونگے، نگراں وزیر اعظم نے حلف اٹھا لیا اور کام بھی شروع کردیا۔ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک پر حکومتی، حزب اختلاف اور تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد کا اظہار کیا ، کسی ایک نے بھی منفی بات نہیں کی۔ یہ عمل اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ نگراں وزیراعظم کو پوری پاکستانی قوم کی تائید وحمایت حاصل ہے۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، برقی میڈیا نے ہی نہیں بلکہ ہر شہری نے نگراں وزیر اعظم کی تقرری کو سراہا، اسے ملک و قوم کے مفاد میں تصور کیا۔ بلا شبہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک ایک غیر متنازع اور آئین و قانون پر یقین رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ بار اور بینچ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ بطور جج انہوں نے کئی اہم مقدمات کے فیصلے بھی کئے جنہیں قبول عام حاصل ہوا، وہ اس جوڈیشنل کمیشن کے سربراہ بھی تھے جس نے گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی تھی، وہ عبوری چیف الیکشن کمشنر کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ ان کی ان خصوصیات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں حیثیتوں میں ان کا تجربہ آنے والے انتخابات کو صاف شفاف بنانے میں مدد دے گا۔ اس لیے کہ وہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں، غلط کاموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک ان ججوں میں سے ہیں جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا اور پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا، جس کے نتیجے میں معزول قرارپائے تھے۔ ناصر الملک کا آبائی شہر خیبر پختونخواہ کا شہر سوات ہے، وہ 17اگست 1950ء کو پیدا ہوئے، انہوں نے جہانذیب کالج سے بی اے، پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور برطانیہ کے Inner Temple, England سے ایل ایل ایم اور بارایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی، وکیل کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا، وہ قانون کے استاد بھی رہے۔ انہیں 6 جولائی 2014ء کو پاکستان کا 22واں چیف جسٹس مقررکیا گیا۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک خیبر پختونخواہ کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کامران خان 1973ء سے1977ء تک سینیٹر رہے، ان کے چھوٹے بھائی شجاع الملک 2003ء سے2009ء تک سینیٹر رہے۔ گویا ان کا دامن سیاست، اعلیٰ تعلی اور وسیع تجربے سے مالا مال ہے۔  حلف اٹھانے کے بعد ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ ’’یادرکھیں انتخابات وقت پر ہوں گے، شفافیت کے لیے الیکشن کمیشن کی بھر پور مدد کی جائے گی، شفاف انتخابات کا انعقاد اولین ترجیح ہے‘، جو ذمہ داری ملی اسے پورا کریں گے، مینڈیٹ کے مطابق کام کروں گا، کابینہ مختصر رکھوں گا‘‘۔ نگراں وزیر اعظم کے جو بیانات سامنے آئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے اس بات کی قوی امید اورامکانات ہیں کہ جو لوگ انتخابات کے التوا کی باتیں کر رہے ہیں انہیں مایوسی ہوگی۔ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ’’انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کی گئی تو سپریم کورٹ حرکت میں آئیگی‘‘۔ صدر مملکت نے 25جولائی کو ملک میں عام انتخابات کی منظوری دیدی ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کی بھرپور تیاریاں بھی شروع کردیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق انتخابات 2018ء میں 10کروڑ 59 لاکھ 55ہزار 407 ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستیں منجمد کر دی ہیں اب ووٹرز کا اندراج اور اخراج نہیں ہو سکے گا، انتخابی فہرستیں جاری کردی ہیں جس کے مطابق ملک میں مرد و وٹرز کی کل تعداد 5کروڑ 92لاکھ 24 ہزار 262 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 145 ہوگئی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے چھ انتخابی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا، جب کے بلوچستان ہائیکورٹ کی دو رکنی بنچ نے کوئٹہ سے صوبائی اسمبلی کی 8حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس صورت حال نے الیکشن کمیشن کو کچھ مشکلات میں ضرور ڈالدیا ہے لیکن امید کی جارہی ہے کہ اس پیچیدگی پر الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت اپنی حکمت عملی سے قابو پا لے گی، اور انتخابات وقت پر ہوں گے۔

سب سے اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک سب کے لیے قابل قبول ہیں۔ اس وقت ملک تاریخ کے اہم موڑ پر ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک مضبوط ، تجربہ کار، دیانتدار، محب وطن ، آئین اور قانون کے ماہرین کے ہاتھوں میں ہے۔ سیاستدانوں نے ملک میں جس قسم کا خوف و ہراس پیداکیا ہوا تھا ، اس میں کسی قسم کی حقیقت اور سچائی نہیں تھی۔ ملک کے اہم ترین عہدوںپر فائز قابل احترام شخصیات انشاء اللہ ملک کو جمہوری اور ترقی کی راہ پر لے جائیں گی۔ ان اہم عہدوں میں نگراں وزیر اعظم ریٹائرڈ چیف جسٹس ناصر الملک ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار ، الیکشن کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس سردار رضا محمد خان، نیب کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی موجودگی میں پاکستان میں کسی بھی قسم کا انتشار ، انتخابات میں بد نظمی، بیہودگی، دھاندلی کے امکانات صفر نظر آرہے ہیں۔ کاش ماضی میں ہمارے ملک کو اگر ایسی تعلیم یافتہ، تجربہ کار، محب وطن، پاکستان کا درد رکھنے والی، پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھ نکال دینے والی ، ملک کو ترقی کی راہ پر گازن کرنے والے، ایماندار شخصیات میسر آجاتیں۔ نگراں وزیر اعظم سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ ہیں، انتخابات کا انعقاد تو ان کے فرائض کی بنیاد ہے ہی اگر وہ ’مثالی حکمرانی‘ کی بھی مثال قائم کرجائیں تو مستقبل کے جمہوری حاکموں کو شاید سہولت ہوجائے۔ جیسے کفایت شعاری، سادگی، پروٹوکول پر غیر ضروری اخراجات ، اعلیٰ عہدیداران کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے سیکیورٹی کے نام پر گاڑیوں کا ہجوم ، جیسا کہ ہمارے حکمرانوں کا دستور رہا ہے۔افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم صاحب حلف اٹھا نے کے بعد اپنے آبائی ضلع سوات اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے تشریف لے گئے، بہت اچھی بات تھی ، ایسا ہونا چاہیے تھا، کوئی بری بات نہیں ، لیکن وہ از خود ہیلی کاپٹر سے سوات تشریف لے گئے جب کے دیگر گاڑیوں کا قافلہ ان کے پروٹوکول کے لیے سوات پہنچا۔ سوشل میڈیا پر مسرت علی صاحب نے لکھا کہ ’’نگراں وزیر اعظم کے اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی مقروض قوم کو ساڑے6کروڑ میں پڑی‘‘۔جب کہ بانی ِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزارات پر ان کی حاضری یقینی ہونا ہے۔ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے، نگراں وزیرا عظم صاحب کے علم میں یقینا ہوگاکہ پاکستان کا ہر شہری اور وہ بچہ جو دنیا میں آئے گا ایک لاکھ سے زیادہ کا مقروض ہے۔ یہ 2008ء کے انتخابات کے بعد اور پھر2013ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں کاپاکستانی قوم کے لیے انمول تحفہ ہے۔ خاص طور پر سابقہ اشتہاری وزیر خزانہ کا ایسا کارنامہ ہے جسے پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ بات جمہوری حکومت کی کر رہا تھا اقبال نے ؔ مغربی جمہوریت کو برہنہ تلوار (تیغ بے نیامی) قرار دیا، ان کا کہنا تھا  ؎ ؎

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

انتخابات میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہوگا، جو ہار جائے اسے شکست کو خندہ پیشانی سے قبول کر لینا چاہیے لیکن ہمارے ملک میں ایسی روایت نہیں ، شکست کھانے والے دوسروں پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہیں اور ان کا تمام وقت اسی شور غل میں گزرجاتا ہے۔ انتخابات کے لیے تقریباً دو ماہ کا وقت ہے جو کافی ہے لیکن کچھ پیچیدگیاں اور قانونی مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جن پر نگراں حکومت فوری توجہ دے رہی ہے۔ایک جانب حلقہ بندیوں کے مسائل ہیں تو دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ریفارم ایکٹ، کاغذات نامزدگی میں پارلیمنٹ کی ترامیم کو مسترد کرنے کا فیصلہ اور پھر سپریم کورٹ کا اس فیصلے کو معطل کر کے نامزدگی فارم بحال کردینا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں کاغذات نامز دگی فارم وصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ البتہ امیدواروں کی نیب، ایف آئی اے سے جانچ پڑتال کرائی جائیگی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گنجائش نہیں رہ جاتی کہ کوئی بات کی جائے لیکن لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر انتخابات میں تاخیر کا کوئی سبب دکھائی نہیں دیتا۔ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ اس حوالے سے اچھی روایات نہیں۔

سیاستداں انتخابات کو زندگی اور موت بنا لیتے ہیں۔ جلسوں ، جلوسوں میں اس قدر جذباتی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی، ذاتی حملے کرتے ہیں کہ سیاسی ماحول پراگندہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ جلسے جلوسوں کے علاوہ ٹی وی ٹاک شوز میں بعض سیاست داں اس قدر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں کہ اس بات کا بھی لحاظ نہیں کرتے کہ ان کی گفتگو ان کے اپنے گھر کی خواتین اوران کے بچے بھی دیکھ اور سن رہے ہیں، ان لوگوں کے نام لینے کی ضرورت نہیں سب کو علم ہے کہ وہ بیہودہ لوگ کون ہیں۔ جنہیں نہ اپنی عزت کا پاس ہے اور نہ ہی دوسروں کی عزت کا خیال۔کسی سیاسی پارٹی کا اپنے چاہنے والوں کے اعتبار سے حجم بڑھ رہا ہے، کسی کا گراف نیچے کی جانب ہے، جن جماعتوں کا گراف تنزلی کی جانب ہے اور انہیں اب اپنی باری آتی نظر نہیں آرہی تو وہ مختلف قسم کے حربے استعمال کر رہے ہیں، ذاتیات پر حملہ، نجی معاملات پر تنقید وغیرہ اس قسم کی باتیں سیاسی ماحول کو پراگندہ کرتی ہیں۔ پاکستان کے ہر محب وطن شہری کی خواہش اور دلی تمنا ہے کہ انتخابات پرامن، شفاف طریقے سے ہوں، جو جماعت بھی اکثریت حاصل کرے اسے حق حکمرانی حاصل ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: