زبیر منصوری کے نام کھلا خط —- ضیاء الرحمن فاروق

0
  • 203
    Shares

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بركاتہ
امید ہے مزاج گرامی خیر و عافیت سے ہوں گے!
استاد محترم، آپ کی تحاریر ہمارے لئے حبس کے موسم میں تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوئے ہیں، آپ کے الفاظ کے انتخاب نے ہمیں سرور بخشا اور جسے پڑھ کر کچھ لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی۔

لیکن دیر میں جماعت اسلامی کی صورتحال پر، آپ کی حالیہ تحریر سے بصد احترام اختلاف کرتا ہوں۔ آپ نے جو کہا وہ تحریکی پیرائے میں بالکل تیر بہدف نشانے تھے لیکن آپ جس کیمپ، جس گروہ اور جن اشخاص کے طرف سے تیر اندازی کر رہے ہیں وہ ہمارے نظر میں تحریکی دستور کی بہت سے دفعات سے بار بار انحراف کرچکے ہیں، بارہا لوکل فورم سے لیکر مرکزی شوری تک کے علم میں لانے کے باوجود نہ تو مظفر علی سید صاحب کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی تحریک کے ساتھ ظلم روکنے کی کوشش کی گئی۔

میں اس مضمون میں جو لکھ رہا ہوں اعداد و شمار اور حقائق کے بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ یہاں ایک بات عرض کردوں، جب میں لوگوں کو حقائق بتانے کی کوشش کرتا ہوں تو دیر سے باہر کے لوگوں کو اس پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کیا جماعت کا ایسا حال اور ایسی بد ترین قسم کی بد نظمی بھی ممکن ہے؟؟ ہاں جی ایسا ہی ہے۔۔۔ اور اسی لئے ہم نے قلم و قرطاس کے زریعے تحریکی بھائیوں کو حقائق پہنچانے کی کوشش شروع کر رکھی ہیں۔

آپ نے لکھا کہ “ہم یہ کام صرف جہاد فی سبیل اللہ سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنی ذات کیلئے کوئی فائدہ، کوئی نوکری، پرمٹ کچھ نہیں چاہتے”۔ اگر واقعی جو آپ فرما رہے ہیں دیر میں جماعت کا اگر یہ مقصد ہوتا تو میرے منہ میں خاک، کہ میں کچھ کہوں۔۔۔ دیر میں ٹھیکدار مافیا کا راج ہے، ابھی ختم والے حکومت میں میرے حلقے کے “منتخب شدہ” ٹھیکدار صاحب کے پاس تو ٹھیکے اتنے زیادہ ہوچکے تھے کہ وہ خود کام کرنے کے بجائے اپنے پرمٹ پر ٹھیکے لیکر آگے 10 پرسنٹ پر فروخت کرتے تھے۔ اسی لئے ہمارے دل میں تحریک کیلئے ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔

مظفر علی سید

آپ نے متلعقہ فورم پر بات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میں مانتا ہوں فورم پر بات ہونی چاہئے لیکن جب مسلسل 3 سال، یونین کونسل سے لیکر مرکزی نظم تک ایک یا دو بار نہیں بار بار شواہد اور ثبوت پیش کر دیئے جائے لیکن اس کے باوجود اس شخص کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ مظفر سید کے خلاف 137 صفحات پر مشتمل اس کے کارستانیوں کی رپورٹ صوبائی نظم کے حوالے کی گئی، کاروائی ندارد۔۔۔ (اس موضوع پہ میری تحریر اس لنک پہ ملاحظہ فرمائیں) ضلعی شوری میں بار بار شواہد پیش کئے گئے لیکن دستور کو ٹٹولنے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔۔۔ تو کیا اب ہم خاموش ہوجائیں؟

ہم خاموش ہو جائیں گے تو تحریک کے رہے سہے بھرم کو بھی یہ مفاد پرست آگ لگا دینگے اسی لئے ہم اس کو تحریکی ذمہ داری سمجھ کر پوری دنیا میں موجود تحریکی ذمہ داران/ کارکنان/ متفقین/ حامیان پر اتمام حجت کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ ہر پڑھنے والا گواہ رہے کہ ہر فورم پر اواز اٹھانے کے بعد دنیا میں ہر کارکن کے سامنے حقائق بتا کر ہم نے اپنا ذمہ داری ادا کردی ہے۔

آپ نے کہا “جب تک قیادت اپنے نظریہ سے اعلانیہ غداری نہیں کرتی تب تک ہم اسکے پابند رہنے کی پابند ہیں”۔ منصوری صاحب! ضلعی امیر نے ارکان کی موجودگی میں اعتراف کیا کہ مظفر سید نظم کو نہیں مانتا۔۔۔ یہ کیا اعلانیہ بغاوت نہیں؟؟ غلطی بے شک انسان سے ہوتی ہے لیکن غلطی ایک بار ہوتی ہے یا کھبی کبھی کبھی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن یہ صاحب تو عام روٹین میں ایسا کررہے ہیں یعنی کہ وہ کسی دستور، کسی ضابطے اور تحریکی حدود کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔۔۔ سو یہ اعلانیہ بغاوت نہیں تو اور کیا ہے؟؟

آپ نے فرمایا کہ “حکمت عملیوں کے اختلاف پر تحریک کی اجتماعیت کو نقصان پہنچانا گناہ ہے” منصوری صاحب! معاشرے میں جس چیز کے خلاف سید مودودی نے یہ تحریک شروع کی تھی اگر ویسے ہی کردار والے لوگ اس تحریک میں گھس آئے اور عام کارکن نہ ہو بلکہ حکومت کے اعلی عہدوں پر براجماں ہو۔۔۔۔ تو یہ کونسی حکمت عملی ہوسکتی ہے؟؟ استاد محترم یہ کوئی حکمت عملی نہیں ہے یہ بد ترین قسم کی لاعلمی ہے اور یا حقائق سے آنکھیں چرانے کی روش۔۔۔۔ لیکن ہم چونکہ دیر کے باسی ہیں ہم پر بار بار اتمام حجت ہوچکا اور میرے خیال میں 3 سال خاموش رہنے پر بھی ہم سے باز پرس ہوگی لہذا اس جدوجہد کے ذریعہ ہم کفارہ ادا کر رہے ہیں۔

آپ نے کہا کہ الیکشن دعوت دین کا ایک زبردست زریعہ ہے۔ بالکل اتفاق رکھتا ہوں لیکن PK15 میں کوئی بھی کارکن ووٹ تو دور کسی کے سامنے یہ تک نہیں کہہ سکتا کہ ہم اسلامی نظام کے داعی ہیں کیونکہ عام عوام پھر انکھیں نکال نکال کر سوال کرتے ہیں۔۔ اچھا “اس” شخص کے سرکردگی میں اسلامی انقلاب لاو گے؟؟؟ اسی لیئے ہم خاموش رہتے ہیں۔۔۔کسی کے سامنے کچھ نہیں کہتے۔ یہ موقع ہم سے چھن گیا ہے کہ اس کمپین کے طفیل ہم اللہ کے نظام کی بات لوگوں کے سامنے کر سکیں۔۔۔ کاش رب کعبہ دوبارہ ہم کو اس عظیم منصب کے اہل سمجھیں۔۔ وہ کیا دن ہوگا جب ہم بلا جھجھک داعی حق بن کر لوگوں کے سامنے سینہ نکال کر اقامت دین کی بات کرسکیں۔

آپ نے لکھا ہے “تم نکلو گے تو شیطان بھی نکل آئے گا وہ تمہیں مایوس کرے گا، وہ شکوک و شبہات پیدا کرے گا”۔ استاد محترم بے شک ایسا ہی ہے لیکن کیا ہم زمینی حقائق سے انکھیں چرا کر اسے شیطان کے کھاتے میں ڈال دیں؟ کیا ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کرکے اسے شیطان کے وسوسوں سے تعبیر کریں؟؟

کیا ہم کسی ایسے شخص، کہ جس نے بار ہا جماعت کو منافقین کا ٹولہ اور امیر جماعت کو “رئیس المنافقین” قرار دیا ہو، کی سرکر دگی میں قصر سلطانی کے گنبد پر اسلامی انقلاب کا جھنڈا لہرائینگے؟

ادینزئی (ضلع دیر لوئیر) کے حلقے میں ڈاکٹر ذاکر اللہ نے کچھ عرصہ پہلے جماعت میں شمولیت اختیار کی، 2008 میں جماعت کے بائیکاٹ کی وجے سے وہ پی پی پی کے طرف اڑان بھر چکے تھے۔ وہ انتہا درجے اعتماد کے ساتھ اپنے جلسوں میں جماعت کے ارکان کو “منافقین” اور امیر جماعت کو “رئیس المنافقین” کہا کرتے تھے۔۔ لیکن اب وہ جماعت میں شمولیت اختیار کرکے ایک مرتبہ پھر اقامت دین کا داعی قرار پائے ہیں۔ 2018 کے الیکشن کیلئے اس حلقے کے ارکان کی کثرت رائے ان کے خلاف آئی لیکن اس کے باوجود نظم نے ان صاحب کو تحریک کے حق کا مقدمہ لڑنے کیلئے اسمبلی میں بھیجنے کی پرچی تھما دی۔

کیا ہم کسی ایسے شخص، کہ جس نے بار ہا جماعت کو منافقین کا ٹولہ اور امیر جماعت کو “رئیس المنافقین” قرار دیا ہو، کی سرکر دگی میں قصر سلطانی کے گنبد پر اسلامی انقلاب کا جھنڈا لہرائینگے؟

کیا ہمارے اسلامی انقلاب کے معیشی نظام کا داعی کوئی ایسا شخص ہوگا جس کے بارے میں اسی کے حلقے کے 75 ارکان بلیک اینڈ وائٹ میں یہ لکھ کر دے دیں کہ “موصوف مالی لحاظ سے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ایم پی اے اور منسٹر بننے کے بعد اس نے بلامبٹ میں ایک 6 منزلہ کالج بنا رکھا ہے جس کا تخمینہ تقریبا 10 کروڑ ہے، پشاور میڈیکل کالج میں شئیر ہے، لیڈذ یونیورسٹی لاہور میں شئیر، تیمرگرہ میڈیکل انسٹیٹوٹ میں شئیر، سمارٹ سکول بلامبٹ میں ایک کروڑ کا شئیر اور نہ جانے اور کتنی پراپرٹی بنایا ہوگا”۔

کیا ایسے معیشت دان کی سرکردگی میں کرپشن سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا جو کہ بقول ان 75 ارکان کے، بد دیانت ہے۔ انہیں ارکان نے لکھا ہے کہ بارہا دستور توڑا گیا لیکن کوئی کاروائی نہیں ہورہی، بلکہ دوبارہ اس شخص کو ٹکٹ دیا گیا۔۔۔

ان وجوھات کے بناء پر ہم “لما تقولون ما لا تفعلون” کے زندہ و تابندہ مثال نہیں؟؟

منصوری صاحب!! آپ کے تحریک کیلئے اخلاص کے حوالے میں مکمل یکسوئی رکھتا ہوں اور آپ پر میرا پورا پورا اعتماد ہے۔ میرا حسن ظن یہی کہتا ہے کہ آپ کو جو معلومات اور حقائق بتائے جا رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ اگر آپ موزوں سمجھتے ہیں تو آج ہی دیر کے طرف خاموشی سے رخت سفر باندھ لیجئے۔ میں آپ کو ضلعی شوری کے سفید ریش اکابر سے لیکر (جنہوں نے اپنی زندگیاں تحریک کیلئے وقف کی ہیں) نوجواں کونسلرز، جمیعت کے عہدے دار و اراکین، زندگی کےاہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے جمعیت کے سابقین و تحریک کے متفقین سے ملواوں گا، جن سے آپ ایسے ایسے حقائق سنیں گے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہونگے۔ کیونکہ بہت سی ایسی باتیں ابھی بھی حقائق کا حصہ ہیں جہاں پہنچ کر میرا قلم رک جاتا ہے۔ ہم دونوں مل کر تیمرگرہ، تالاش، چکدرہ، خال اور میدان کے بازاروں سمیت گلی کوچوں میں عام عوام سے پوچھیں گے۔۔۔ علاقے کے سنجیدہ مشران و عمائدین سے اس بابت جاننے کی کوشش کریں گے۔
اگر میری کہی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوئی۔۔۔ تو پھر میں حاضر، جیسے آپ کہیں گے مجھے منظور ہوگا!!!

لیکن ہمیں الفاظ کی مالا پرونا نہیں آتی، ہم دیر کے بھولے بسرے، سادہ لوح عوام ہیں ہم شہروں کی رونق اور الفاظ کی سجاوٹ میں گم ہوجاتے ہیں۔ خدارا ہمارے دکھوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کی جستجو کیجئے، ہم آپ کے اپنے ہیں ہمیں پرائے ہونے سے بچایئے۔ آج کل اہلیان دیر محسن نقوی کے ان اشعار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں:

کہاں ہے ارض و سما کا مالک کہ چاہتوں کی رگیں کریدے
ہوس کی سُرخی رُخِ بشر کا حسیں غازہ بنی ہوئی ہے
کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے، کوئی تو چارہ گری کو اُترے
اُفق کا چہرہ لہو میں تر ہے، زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے

مجھے امید ہے آپ میری اس کاوش کو مثبت نظر سے دیکھیں گے اور اس درد مندانہ درخواست پر اپنی تمام تر توانائی مرکوز کرینگے!!

آپ کا ادنی شاگرد
ضیاء الرحمن فاروق


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سیاسی جماعت اسلامی اور “اصلی” جماعت اسلامی — ضیاء الرحمن فاروق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: