کالا باغ و دیگر ڈیمز کی عدم تعمیر – عوامی رد عمل کا نتیجہ یا حکام کی مجرمانہ غفلت — سلمی جیلانی

0
  • 56
    Shares

کالا باغ ڈیم جسےانڈس واٹر ٹریٹی ١٩٦١ کے تحت تعمیر کیا جانا تھا شدث اختلاف رائے کے نتیجے میں التوا کا شکار ہوا جبکہ اس دوران بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں اسی دریا پر آدھے درجن سے زیادہ ڈیم تیار کر چکا ہے۔

میرے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آخر کالا باغ ڈیم بنانے کی اتنی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور کیا ضروری ہے کہ صرف کالا باغ ڈیم ہی بنایا جائے اگر لوگ منع کر رہے ہیں تو کچھ اور متبادل سوچا جائے کیونکہ بجلی کا بحران اور پانی کی قلت کے مسائل روز بروز گھمبیر تر ہوتے جا رہے ہیں،
میں نے نیٹ پر اس ڈیم سے متعلق لوگوں کی آراء اور حقائق کا مختصر جائزہ لیا یہ جاننے کے لئے کہ کیا واقعی ان کے اعترضات حقیقت پر مبنی ہیں۔

ذیل میں لوگوں کے اعتراضات ملاحظہ ہوں:

کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں صوبہ پختوں خواہ کا ستائیس ہزار ایکڑ زرعی علاقہ استعمال ہو گا جو کہ علاقے کی زراعت کے لئے ایک بڑا نقصان ہے اس کے علاوہ پانی کے بڑے ذخیرے سے اور پانی کی سطح میں اضافے سے زمیں کی نمی میں بھی اضافہ ہو گا جس سے اس کی زرخیزی متاثر ہو گی۔

اس کے ساتھ ہی دو لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو جایئں گے۔

یہ تو تھے مقامی لوگوں کے اعتراضات اب سنیں سندھ ڈیلٹا کے لوگ کیا کہتے ہیں۔

انڈس ڈیلٹا کا ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہو گا۔ دریا میں پانی کے کم دباؤ سےسمندر کے پانی کا الٹا بہاؤ زریں علاقے کی زرخیز زمیں ختم کر دے گا اور نہ صرف مقامی مینگرو کے جنگلات تباہ ہو جائیں گے بلکہ انڈس ڈولفن اور پلا مچھلی بھی ختم ہو جائے گی۔

کالا باغ ڈیم کی تعمیر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے وہ اس طرح کہ دریا کے زریں علاقوں کے لوگوں کی مرضی کے بغیر بالائی علاقوں کے لوگ دریا پر بند نہیں بنا سکتے۔

ایک اور اعتراض یہ ہے کہ دریا اپنے ساتھ جو زرخیز مٹی بہا کر لاتا ہے اس ڈیم کے بننے سے کم ہو جائے گی جس سے علاقے کی زمین بنجر ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ دریا کے ساتھ واقع جنگلات بھی متاثر ہو گے۔

١٩٩١ کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

یہ تمام اعتراضات معقول اور لوگوں کے تجربات پر مبنی معلوم ہوتے ہیں اسی لئے ان کو سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کے برخلاف ڈیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم کسی چھوٹے صوبے کے لئے نقصان دہ نہیں اور نہ کسی صوبے کے پانی کی فراہمی پر اثر انداز ہو گا۔

ان کے بقول پروجیکٹ کو اچھی طرح جانچا اور پرکھا جا چکا ہے جبھی ورلڈ بینک نے اسے بنانے کی منظوری دی ہے۔

اس ڈیم کی تعمیر سے ملک کو بے شمار فائدے ہو نگے جیسے:

بجلی کی پیداوار جو تین ہزار چھ سو میگا واٹ ہو گی اس طرح بجلی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی توازن پر منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ کم از کم دس ایم اے ایف پانی کا مستقل بہاؤ دریا میں موجود رهنے کی وجہ سے سمندر مخالف سمت میں اندر نہیں آ سکتا اور علاقے کی مچھلی کی پیداوار متاثر نہیں ہو گی۔

اس ڈیم کی تعمیر سے اضافی زمیں کاشت کے قابل ہو جائے گی جو پانی کی کمی کی وجہ سے بے کار پڑی ہے اور پانی کے ذخیرے دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں جو صرف ایک سو آٹھ ایم اے ایف رہ گئے ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ ڈیم مقررہ وقت پر بن جاتا تو پاکستان کو دو ہزار دس کے تباہ کن سیلاب کا اتنی شدت سے سامنا نہ کرنا پڑتا۔

جہاں تک لوگوں کے بے گھر ہونے کا سوال ہے تو یہ علاقے کی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی دوبارہ آباد کاری کا معقول انتظام کریں جو پاکستان کی فلاح اور بہبود کے لئے اپنی گھروں کی قربانی دیں گے۔

سرحد کے اس پار اگر پڑوسی ملک میں پانی کے ذخائر کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ انیس سو سینتالیس میں جب انڈیا کو آزادی ملی تو وہاں بمشکل تین سو ڈیم تھے اور سن دو ہزار تک یعنی اب سے اٹھارہ سال پہلے تک چار ہزار ڈیم بن چکے ہیں جن میں سے اکثر صرف سیلاب کو کنٹرول کرنے کے لئے، پانی کی فراہمی، پانی سے بجلی تیار کرنے کے لئے بنائے گئے، ان ڈیموں کا بنیادی مقصد آبپاشی ہے تو جب ہم سے کہیں زیادہ آبادی والا ملک پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر سکتا ہے تو ہمارے یہاں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا جبکہ ہمارے یہاں اپنے گلیشیئر تک موجود ہیں۔

ایشائی ترقیاتی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال چالیس کروڑ ایکڑ فٹ سے بھی زیادہ پانی ضائع کر دیتا ہے جبکہ یہاں ڈیم بنانے اور پانی ذخیرہ کرنے کی قدرتی گنجائش موجود ہے جو کہ بین الاقوامی پیمانے کے مطابق ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے لیکن کسی نئے ڈیم بنانے سے پہلے پرانے ڈیموں میں جمع ہونے والے گارے کو ہی صاف کر لیا جائے تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کیونکہ جون دو ہزار اٹھارہ کی ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کہہ رہی ہے کہ تربیلا ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کے صلاحیت تیس لاکھ ایکڑ فٹ تک کم ہو چکی ہے محض اس گارے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے تو کیا یہ سب کچھ حکام اور زمہ دار اداروں کی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں نہیں آتا۔ اور اس لاپرواہی کے نتیجے میں مستقبل میں ہونے والی تباہی سے جان بوجھ کر آنکھیں نہیں چرائی جا رہی ہیں۔

تو گویا نہ صرف نئے ڈیم بنانا ضروری ہیں بلکہ پرانے ڈیموں کی صفائی بھی اتنی ہی اہم ہے لاکھوں ایکڑ فٹ پانی کو سمندر برد ہونے سے بچانا ہے اگر مستقبل میں بوند بوند پانی سے ترسنے سے بچنا ہے۔ اگر ہنگامی سطح پر ان حالات سے نمٹنے کے لئے نہ سوچا گیا تو پاکستان کو صحرا میں تبدیل ہونے میں زیادہ دیر نہیں کیونکہ زیر زمین پانی کی سطح روز بروز ہزاروں فٹ گہری ہوتی جا رہی ہے اس لئے حکومت اور عوام دونوں ذرا سنجیدگی سے سوچیں کہ اپنے بچوں کو ایک ترقی یافتہ بجلی کی روشنی سے مزین اک ہنستا بستا ملک دینا ہے اور مون سون سیزن میں آنے والی تباہی سے ایک انتہائی بڑے علاقے کو محفوظ کرنا ہے کیونکہ قدرت سنبھلنے کا دوسرا چانس بڑی مشکل سے دیتی ہے۔ مزید برآں حکمرانوں کی طرف سے کالا باغ ڈیم نہ بننے کی دہائی کی تاویل عوام کی سوکھی پانی کے لئے ترستی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: