اسلام : ثقافت، نظام یا تمدنی اصول؟ احمد الیاس

0
  • 33
    Shares

اسلام کے حوالے سے دو نکتہ ہائے نظر سننے کو ملتے ہیں۔

ایک یہ ہے کہ اسلام نے مسلم ممالک کی ثقافت سے جنم لیا اور یہ ثقافت کی فقط ایک شاخ ہے جس کا موضوع روحانیت اور مذہبیات ہیں۔۔ یہ سیکولرسٹ طبقات (قوم پرست، اشتراکی، دیگر) کا بنیادی نکتہ نظر ہے۔

دوسرا نکتہ نظر وہ ہے جسے اسلامی سیاسی تحریکوں نے اختیار کیا۔ اسلامسٹ طبقات کے مطابق اسلام ایک سیاسی و معاشی نظریہ اور نظام حیات ہے۔ اس تحریر میں ہم اسی گُتھی کا سلجھانے کی کوشش کر یں گے۔

آپ غالباً یہ تحریر موبائل فون سیٹ پر پڑھ رہے ہیں۔ اس سیٹ کی باڈی غالباً پلاسٹک یا میٹل کی بنی ہوئی ہے۔ اس پلاسٹک اور میٹل کو تراش خراش کر موبائل فون سیٹ کی شکل دی گئی ہے۔ گویا اس سیٹ کی تشکیل کے دو پہلو ہیں: ایک اس کا مادہ (substance) اور دوسرا اس کی شکل (form)۔ مادہ ایک ٹھوس شئے ہے مگر شکل کی اصل ایک خیال کی ہے۔ اگرچہ مادہ بھی اہمیت رکھتا ہے مگر اس موبائل فون سیٹ کی پہلی پہچان اس کا ایک خاص انداز اور اصول پر تراشا گیا موبائل فون سیٹ ہونا یعنی شکل ہے۔

انسانی اجتماعیت کی تشکیل کے بھی یہی دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو اس کے مادہ کا ہے جو جغرافیے، وسائل، آب و ہوا اور تاریخ جیسے عوامل سے جنم لیتا ہے اور اس پر ہمارا اختیار محدود ہے۔ اسے ہم اپنی سہولت کے لیے ثقافت کہیں گے۔ پنجابی ثقافت، چینی ثقافت، جرمن ثقافت وغیرہ وغیرہ۔ ثقافت ایک ٹھوس یا Tangible شئے ہے۔ اجتماع کی شکل میں رہنے والے جانوروں کی بھی ایک ثقافت ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی قدرتی عوامل کے پابند ہوکر ایک خاص انداز میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

انسانی اجتماعیت کا دوسرا اور پہچان عطاء کرنے والا پہلو (form) اس کی وہ تراش خراش، کانٹ چھانٹ یا اپ گریڈیشن ہے جس کی بنیاد سوچ، خیالات یا تصورات پر ہوتی ہے۔ اس تصوراتی نظام کو افراد کی ایک کثیر گروہ کی رائے عامہ خدا، کائنات، انسان اور ان کے باہمی تعلق کے حوالے سے سوالوں کا جواب دینے کے لیے اختیار کرتی ہے۔ ان جوابات پر مشتمل تصوراتی نظام سے روزمرہ زندگی کے کئی مسائل بہتر طریقے سے حل کرنے میں مدد یا رہنمائی ملتی ہے۔ گویا پہلا پہلو (ثقافت) اگر طرزِ حیات ہے تو یہ دوسرا پہلو ذوقِ حیات۔ یہی ذوقِ حیات اصل میں ‘انسانی تہذیب’ ہے جو ہمیں شعور اور اختیار دے کر جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ اسی لیے مہذب کا لفظ جانوروں یا وحشیوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا کیونکہ ان کی ثقافت سوچ اور تصوراتی نظام سے عاری ہوتی ہے۔ لفظِ تہذیب کا مطلب ہی تراش خراش ہے اور تراش خراش ہمیشہ کسی اصول یا idea کے مطابق ہوتی ہے۔

نظریات اور نظام ثقافت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں مگر ان کے مسلسل تعامل سے جو تصوراتی نظام (تہذیبی اصول) وجود میں آتا ہے وہ ثقافت کی تراش خراش کرتا ہے۔ یوں یہ سائیکل چلتا رہتا ہے۔

اسلام اجتماعی سطح پر نہ تو ثقافت ہے اور نہ اس سے پیدا ہونے والا مخصوص نظریہ یا نظامِ سیاست و معیشت۔ اسلام دراصل ایک جامع اور انتہائی بنیادی تہذیبی اصول یا وسیع تمدنی آئیڈیل ہے اور امت اس آئیڈیل کے حصول کی کاوش کا عہد اور دعویٰ کرنے والی جماعت۔ گویا اسلام اجتماعیت کی سطح پر ایسا تصوراتی نظام یا انتہائی بنیادی اصولوں کا ایسا مجموعہ ہے جن کی مدد سے ایک ایسی اجتماعی زندگی کی تہذیب کی جاسکتی ہے جس میں بہت سے ثقافتوں، نظریات اور نظاموں کی گنجائش ہے۔ جبکہ امت ایک تہذیبی وجود ہے جو مختلف ثقافتیں اور مختلف زمان و مکان میں مختلف نظریات اور نظام رکھنے کے باوجود اپنے ذوقِ حیات اور تہذیب کی تخلیق کرنے والے سوالات کے جوابات پر متفق ہے۔

اسلامی تہذیبی آئیڈیل جس کی مدد سے کئی علاقائی ثقافتوں نے اپنے آپ کو اپ گریڈ کیا یا اپنی کانٹ چھانٹ کی ایک سڑک ہے۔ امت یا اسلامی تہذیب ایک گاڑی کی مانند ہے۔ جب تک یہ گاڑی اس سڑک پر چل رہی ہے اسے اس سڑک پر ہی رہنا چاہیے، جب جب وہ دائیں بائیں ہوکر سڑک سے نیچے اترے گے تو مسئلہ پیدا ہوگا۔

اسلام کو ایک نظریہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے اسلام کو ایک سڑک کی ایک لین مان لینا کیونکہ جماعت مسلمین انتہائی آغاز سے توحید و رسالت کی حدود میں رہ کر کثیر النوع نظریات رکھتی آئی ہے۔ اسلام کو ایک نظام کہنا اسے اسلام کی سڑک پر آنے والا فقط موڑ تصور کرلینا ہے کیونکہ نظام اپنی فطرت میں ارتقاء پذیر ہوتے ہیں جبکہ اسلام ازلی و ابدی اور عالمی ہے۔ اسلامی تہذیب میں موجود مختلف نظریات، مسالک اور مختلف مخصوص نظامات پر اصرار کرنا امت کو ایک خاص لین میں محدود کرنا یا ایک مخصوص موڑ پر روک دینے کے مترادف ہے۔

اسلام کے تہذیبی آئیڈیل کی وسعت کو سمجھ کر اپنے اپنے زمانی و مکانی تقاضوں، اپنی اپنی ثقافت اور سیاسی و معاشی نظریات میں رہتے ہوئے اس آئیڈیل سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتے رہیں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

اور جہاں تک تہذیب یا تہذیبی آئیڈیل بدلنے کی بات ہے تو اول تو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پوٹینشل کے اعتبار سے اسلامی تہذیبی آئیڈیل سے زیادہ بہتر، مضبوط بنیادیں مگر لچکدار فطرت اور عالمی و خالص انسانی مزاج رکھنے والا کوئی آئیڈیل دستیاب ہی نہیں۔ وسیع النظری کے ساتھ اسے ہی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے اکثر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر تہذیب بدلنی بھی ہو تو اس کے لیے تین عوامل درکار ہوتے ہیں:-

1) سیاسی و فکری اشرافیہ کی حمایت
2) عامۃ الناس کی حمایت
3) جس تہذیب کا حصہ بننا ہے اس کی قبولیت

ہمارے ہاں اسلامی تہذیب سے مغربی یا ہندو تہذیب میں شفٹ کرنے کے لیے پہلا عامل تو موجود ہے یا ہوسکتا ہے مگر دوسرے دونوں عوامل موجود نہیں ہیں۔ عالمِ اسلام میں تہذیب تبدیل کرنے کی سب سے بڑی کوشش اب تک ترکی نے کی ہے مگر وہاں بھی دوسرے اور تیسرے عوامل کی غیر موجودگی نے اسے ناکام بنادیا۔ تاریخ بھی گواہ ہے کہ جس خطہِ زمین میں ایک مرتبہ اسلامی تہذیب داخل ہوئی، اسے وہاں سے صرف بزور بربریت ہی نکالا جاسکا جیسا کہ سپین اور سسلی میں ہوا۔ پرامن طریقے سے اور برضا و رغبت کسی خطے میں اسلامی تہذیب کے خاتمے کی مثال ہمیں نہیں ملتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: