محبت کے بدلتے معیار —- رقیہ اکبر

0
  • 34
    Shares

میری تحریر کی زد میں ابھی تک کچھ نہیں آیا
ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتی ہوں

محبت کے عنوان پر لکھتے ہوئے ’’کرب‘‘ کا لفظ آئے تو عمومی خیال ہجر و فراق کا ہی آتا ہے کیونکہ محبت میں وصال مسرت کا اور فراق کرب کا دوسرا نام ہے۔ اپنی محبوب ہستی سے ملنا اس کی محبت میں رہنا اس کے ساتھ وقت بتانا یقینا باعثِ مسرت اور اس سے بچھڑجانا اذیت و کرب کا موجب بنتا ہے۔ مگر آج میں محبت میں جس کرب کا ذکر کرنا چاہتی ہوں وہ ہجر و فراق نہیں بلکہ وصل ہے۔ ہے ناں عجیب بات بھلا محبوب سے ملنے میں کرب کیسا محبوب کی سنگت میں درد کیسا؟؟

مگر ایسا ہی ہے انسان کبھی کبھار کسی ایک جملے سے ایسا گرفتارِ اذیت ہوتا ہے کہ وہ جملہ آپ کے بہت قیمتی خوشگوار لمحوں کو نگل جاتا ہے۔ مجھے بھی ایک ایسے ہی جملے نے بلکہ شعر نے گرفتارِ اذیت کر دیا کہ زندگی کے بیتے خوشگوار لمحے اس کی نذر ہو گئے شعر ملاحظہ ہو۔

یہ رانجھا اس صدی کا ہے زرا محتاط رہنا تم
اٹھا کر فائدہ تیرا یہ پھر سے ہیر بدلے گا

اس  Caption کے ساتھ ایک تصویر بھی تھی جس کی وضاحت لفظوں میں ممکن نہیں مگر اس کا اثر یقینا ہر دیکھنے والے اور پڑھنے والے کے دماغ پر بہت گہرا ہوا ہو گا۔ یہ شعر دل پر ہتھوڑے کی طرح برستا ہے اور سوچ کو ایک نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔ یہ آج کے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

شاعر نے انتہائی کڑوے سچ کو کسی میٹھی گولی میں مسل کر کھلانے کا تردد نہیں کیا سیدھا کھرا سچ ہی لکھ مارا۔ بہت سے لوگوں کو بالخصوص نوجوان طبقے کو پڑھ کر مرچیں بھی لگی ہونگی، دل و دماغ میں آندھیاں سی چلی ہوں گی تلملائے ہوں گے، بلبلا اٹھے ہوں گے مگر جو زرا بالغ نظری سے اپنے ارد گرد کے حالات کا جائزہ لیں گے تو تلملاہٹ شرمندگی میں اور بلبلا ہٹ اذیت میں بدل جائے گی۔

محبت رانجھے کی پہچان اور رانجھا محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے محبت کی لازوال داستانوں میں سے ایک داستان، انمول کہانیوں میں سے ایک کہانی، ’’ہیر رانجھا‘‘ ہے۔ خاص طور پر وارث شاہ کی منظوم ’’ہیر‘‘ نے تو اس کہانی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں، سسی پنوں، سو ہنی ماہیوال اور شیریں فرہاد ہماری لوک داستانوں کے وہ کردارہیں جن کی محبت کی لازوال داستانوں کی کہانیاں سنتے ہم بڑے ہوئے ہیں ہماری لوک کہانیوں کے لازوال کردار جو صرف رومانوی داستانوں کی بنیاد ہیں بلکہ محبت کی علامت بھی ہیں۔

قیس لیلیٰ کا لی کی محبت میں دیوانہ ہو گیا گلی گلی صحرا صحرا بھٹکتا رہا تڑپتا مچلتا رہا اور قیس سے مجنوں کا لقب پایا سو ہنی ماہیوال کی محبت میں کچے گھڑے پر راوی پارکرنے کی ٹھانی سسی پنوں ایک دوسرے کو بچانے کی خاطر جان سے گئے۔ مرزا صاحبا نے محبت کی کہانی کو نیا رخ دیا اور فرہاد نے تو گویا کمال ہی کر دیا سیدھی سیدھی دودھ کی نہر کھود نے نکل پڑا۔

کیا وقت تھا جب محبت عبادت کا درجہ رکھتی تھی محبت قربانی کی علامت تھی روحوں کا ملاپ دلوں کی کہانی پاکیزہ کھری اور سچی۔

ہمارے دور کی کہانیاں پڑھیں تو لوگ محبت کو بھی عبادت سمجھا کرتے تھے اوّل اوّل تو محبت کا اظہار کرنا ہی ایک جان جوکھم کا کام تھا۔ مہینوں دل میں دبا کر رکھا جاتا جیسے اظہار کیا تو گویا جان ہی نکل جائے گی دل کی دھڑکن سے بھی خوفزدہ، اِتنا کہ کوئی دل کا چور پکڑ ہی نا لے اور اگر اظہار کر دیا جاتا تو محبوب کا تو کیا اپنا سامنا کرنے سے بھی ڈر لگتا تھا اور کیوں نہ لگتا وہ محبتیں یوں آجکل کی بیباک محبت، سرِ عام دل ہتھلی پر لئے ہوئے نہ تھیں۔ سچی اور کھری ہونے کے ساتھ ساتھ پاکیزہ بھی تو تھیں۔ اپنے ناموس سے زیادہ محبوب کی عزت کا پاس ہوتا تھا خود سے زیادہ اسکی بقا اور وقار کی فکر لاحق ہوتی تھی دل سے دل تک کی داستان۔

ابھی محبت نے جسموں کا مزہ نہیں چکھا تھا۔ بے حیائی کا رنگ نہیں چڑھا تھا۔ ہجر و فراق کے قصے ہوں یاو صال یار کی داستان، غیر کی محفل میں دیدارِ یار کی کہانی یا خلوت میں رخ دلدار کے جلوے کا بیان۔ شاعر غزل سرائی کرتے یا کہانی کار لفظوں کے تار بنیں ہر دو صورتوں میں حیا، پاکیزگی اور لاج کے پردے نہیں اتارے جاتے تھے۔ محبت دل سے دل تک سفر کرنے کا نام تھا۔ محبت کرنے والے اور محبت پر لکھنے والے بھی اپنے قلم کی حرمت کا پاس اور نظر کے تقدس کا مان رکھنا جانتے تھے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی میں شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ پڑھ رہی تھی۔’’نامہ و پیام‘‘ کا باب پڑھتے محسوس ہوا کہ باوضو ہو کر پڑھنا چاہیے۔ ہجر و فراق کا احوال اور وصل کی خواہش کا بیان بھی ایسے خوبصورت الفاظ میں کیا گیا گویا کہ نامہ نہیں لکھا جا رہا دو رکعت نفل ادا کی جا رہی ہو۔ الفاظ و القاب سے لیکر محبوب کے لب و رخسار کی داستان جیسے حیا کے خریطے میں لپیٹ کر قاری کو پیش کی جا رہی ہو۔ لطیف جذبات کا اظہار ایسے لطیف اور نفیس پیرائے میں کہ دل کو شاد اور قلب و روح کو معطر کر دے۔ نہ باز اری جملے نہ رقیق اور ذو معنی گفتگو اور یقین جانئے یہ صرف ناولوں کہانیوں میں ہی نہیں ہوتا تھا، حقیقت میں بھی محبت کو لطیف جذبے کے طور پر برتا جاتا تھا مگر آج کی محبت۔۔۔۔۔۔

کسی نے کیا خوب لکھا ہے۔ ’’ آجکل کی محبت سردیوں میں چائے کے کپ کی طرح ہے پانچ منٹ میں ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔‘‘ اور کیوں نہ ہو اب یہ جذبات کی گرمی اور دل کی تپش سے نہیں پگھلتی! اب ان کا مسکن دل تو رہا ہی نہیں کب یہ پاکیزہ جذبہ دل سے نکل کر جسم کے گرد گھومنے لگا، پتہ ہی نہیں چلا کب حیا کے خربطے میں لپٹی محبت کی داستان نے بے حیائی کا لبادہ اوڑھا۔ معلوم ہی نہ ہو سکا آج کی محبت دل کا معاملہ نہیں رہا روحوں کا ملاپ نہیں رہا، اب یہ جسم کی پوجا اور لذت کا نام ہے اور بدقسمتی سے ہم اسے پھر بھی محبت کا نام دیتے ہیں۔ اب جبکہ یہ رشتہ دل سے کٹ کر جسم سے جڑ چکا تو یہ محبت نہیں ہوس ہے۔ محبت کا معیار بدل چکا اور یہ ایک المیہ بھی ہے اور لمحہ فکر بھی۔

درست کہا کسی نے کہ اب نوبت یہاں تک آئی ہے کہ کسی سے اپنی سچی محبت کو ثابت کرنے کے لیے اپنے جسم کو ننگا اور ضمیر کو برہنہ کرنا پڑتا ہے۔ محبت جو محبوب کو چلمن کے پیچھے سے دیکھنے کی عادی تھی اب بے لباس بوس و کنار ہیں بدل چکی۔ یہ کیسا انقلاب ہے؟ یہ کیسی تبدیلی ہے؟؟

محبت تو نام تھا ’’احساس‘‘ کا اسے ’’مجسم‘‘ کس نے کر دیا؟ محبت تو عالم ارواح کا پرندہ ہے اسے عالم اجسام میں کون لے آیا؟ خلیل جبران کہتا ہے ’’محبت ایک عبادت ہے اگر جسم اسے خود غرضی کے بستر پر لے آئے تو یہ ذبح ہو جاتی ہے‘‘۔

مگر اب کہانی بدل چکی کہانی کا متن بدل چکا نام تو وہی ہے مگر پلاٹ بدل دیاگیا واقعات بدل گئے حالات بدل گئے، معاملات بدل گئے کردار نئے سانچے میں ڈھل گئے۔ ہیر بے باک ہو گئی اور رانجھے کے دل تک پہنچنے کا راستہ نئی کھڑکیاں اور دروازے کھولنے لگا۔ محبت کے نام پر پلنے والے خیالات اور محبت کے نام پر استوار تعلقات میں سب کچھ ہے اگر نہیں تو محبت جیسی جنسِ نایاب چھٹانک بھر کو نہیں۔

پروفیسر فاروق سہیل کی ایک نظم ہے جو آجکل کی ہے بے باک محبت کی اصلیت بتلاتی ہے:

محبت نے مگر اب کے یہ کیسا رنگ ہے بدلا
کہ اس پاکیزہ جذبے کو بہت بے باک کر ڈالا
محبت نام کی بھی اب فقط لفظوں میں باقی
دکھوں کو بانٹی ہے اب نہ یہ ڈھارس بندھاتی ہے
بس اب تو جان لو یہ روگ اک جھوٹا فسانہ ہے
بس ایک بے نام سا رشتہ
ابھی ٹوٹا۔۔ ابھی ٹوٹا

وہ محبت جو سسی کو کچے گھڑے کی ناپائیداری اور بپھرتے دریا کی لہروں کے خوف سے آزاد کر گئی نجانے اب کس دیس سدھار گئی ہے۔ وہ محبت جس نے فرہاد سے دودھ کی نہر کھدوا دی اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ وہ محبت جو رنگ و نسل اور بدن کی کشش سے ماورا تھی اب محض کتابوں مین قصے کہانیوں میں ملتی ہے۔

اب محبت کے پیمانے بدل گئے رنگ و روپ بدل گئے۔ آج کی محبت در اصل جسمانی آسودگی اور لذت کے حصول کا بد نما طریقہ ہے جہاں قدم قدم پر محبت کو آزمانے کے لیے جسم نبرد آزماہے جو اس پل صراط سے گزرا سمجتا ہے محبت میں کامیاب ہو گیا جبکہ درحقیقت وہ پاتال کی گہرائیوں میں گر جاتا ہے جہاں سوائے ہوس کے اور کچھ بھی نہیں۔ مگر یہ کوتاہ نظر جسم کے اسیر شیطان کی چال کو نہیں سمجھتے یا شایدسمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ نام نہاد محبت تو دراصل ایک ایسا چکر ویو ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ یہاں ہر روز ہر پل نیا رانجھا پیدا ہوتا ہے جسے ہرگزرتے دن کے ساتھ ہیر بدلنے کا شوق ہے اور ہیر۔۔۔۔۔ اس کا بھی حال مت پوچھو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: