ایبٹ روڈ —– سبین علی کا فکر انگیز افسانہ

0
  • 108
    Shares

لاہور کی سردیوں میں منفی درجہ حرارت شاذونادرہی ہوتا ہے وہ بھی فروری کے مہینے میں لیکن اُس سال ایسا ہوا۔ فروری کی آٹھ تاریخ اور درجہ حرارت منفی دو ساتھ ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور شمالی علاقوں سے آنے والی سرد ہوائیں رگوں میں خون بھی منجمد کیے جا رہی تھیں۔ لیکن ایسے شدید موسم جو کہرے اور برف سے ڈھکے ہوں کچھ رنگوں اور انسانوں کو بہت نمایاں کر دیتے ہیں۔ جیسے برفیلے موسم میں کافی کی خوشبو دور تک پھیلتی ہے۔جیسے سرد موسم میں سانس کی حدت بھاپ کی مانند نظر آتی ہے۔ وہ بھی کچھ ایسی ہی مختلف تھی بیک وقت بولڈ اور خوف زدہ۔ زندہ دل اور دلیر شہر لاہور کے در و دیوار بھی سرد ہواؤں اور بارشوں کے سبب نم آلود سے تھے۔ دن کے وقت سکولوں کالجوں کے طلباء کا ازدحام ہوتا تو رات گئے تک شہر بھر کی فوڈ سٹریٹ اور روایتی کھابوں کی دکانیں پر رونق رہتیں۔ حالانکہ فروری میں ہی بسنت کا تہوار آتا ہے مگر پتنگ بازی پر سخت پابندی عائد تھی۔ ڈور پر مانجھا پھیرنے والوں، دو تاوا ڈھائی تاوا گڈا، پری اور پتنگ بنانے والوں کے کاروبار میں شدید مندی تھی۔ان کاریگروں میں سے کوئی انارکلی اور لبرٹی کے باہر ازار بند اور بنیانیں فروخت کرنے لگا تھا تو کوئی پرانے بازاروں میں موم بتیوں کے پیکٹ بیچ رہا تھا۔ اس شہر کے باسی لوڈ شیڈنگ کے باوجود اپنے دِیوں کی لو اونچی رکھتے ہیں۔ یو پی ایس، ایمرجنسی لائیٹس چائنہ سے درآمد شدہ نازک سی لالٹینوں اور موم بتیوں تک کا بڑا اسٹاک شہر کی دکانوں میں موجود تھا۔ راوی اپنے طویل دو رویہ پلوں کے نیچے ریت اور کیچڑ میں لتھڑا اس طرح پیٹ کے بل رینگتا تھا گویا وہ دریا نہیں کیچڑ میں دھنسی سول مچھلی ہو جو زندگی کی تگ و دو کے لیے ہر طرح کے حالات سے سمجھوتا کرنا جانتی ہے۔ جس کی سانسیں سائفن کے اُس پار کسی ہرجائی نے نیلم کے عوض زبردستی گروی رکھ لی ہیں لیکن اسے کسی نہ کسی طرح پنجند تک پہنچنا ہے۔

Painting image Sarfraz Musawir

مجھے بھی راوی کی مانند سست روی سے اپنے کام نپٹاتے ہی سہی مگر سمندر پار جانا تھا۔ جہاں راوی کے پانیوں پر سندھ طاس کے ایگزٹ ایمیگریشن کی مہر مسلط یے وہاں ہم انسان بنا ان سرکاری مہروں کے خشکی یا تری کی سرحد کس طرح پار کر سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے ڈھائی ماہ کے بیٹے کا کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ بنوانا بھی اتنا ہی اہم تھا جتنا راوی کا پنجند کی طرف یا شمالی ہواؤں کا لاہور کی جانب سفر۔ مُنے کو پیدائش کے فقط بیس دن بعد ہوئے نمونیے نے مجھے ایسا ہلا کر رکھ دیا تھا کہ دسمبر جنوری کی سردی میں اسے پاسپورٹ آفس تک لیجانے کی ہمت نہ ہوئی۔ آج کل کرتے کرتے فروری کا مہینہ آن پہنچا اور ہماری واپس کے دن شروع ہوئے تو بھاگم بھاگ کاغذی کاروائیاں مکمل کرنا شروع کیں۔ تب ایبٹ روڈ کے پاسپورٹ مرکز کے گرد عوام کا ہجوم اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ لوگ منہ اندھیرے آ کر ٹوکن لینا شروع کر دیتے تھے۔ بنک کی فیس کا ٹوکن تو مل گیا تھا اور میں فارم کے حصول کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ ساتھ کی نشستوں پر کئی خواتین اور لڑکیاں براجمان تھیں کئی دور دراز شہروں سے آئے لوگ بھی تھے ان میں سے لاہور کی خواتین اور لڑکیاں اپنے لہجے، خوش لباسی اور اعتماد سے صاف پہچانی جا رہی تھیں۔ میرا اور اسکا ٹوکن نمبر آگے پیچھے تھا اس لیے وہ متوحش سی لڑکی کافی دیر سے میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھی تھی وہ وقفے وقفے سے چوکنی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتی اور پھر کچھوے کی مانند اپنے نادیدہ خول میں سمٹ جاتی۔

فارم کے حصول کے بعد کاغذات کی جانچ پڑتال کے مرحلے تک پہنچتے کافی وقت بیت چکا تھا سورج کی کرنیں گہرے بادلوں سے جھانکنے کی ہمت صبح دس بجے کے بعد ہی کر سکی تھیں۔ دفتری عملے کی میزوں پر چائے کے بھرے کپ ٹھٹھرے ہوئے پڑے تھے۔ سگریٹ کا بدبودار دھواں اور لوگوں کی ملی جلی آوازوں کا شور فضا میں مسلسل آلودگی پیدا کر رہا تھا۔

اتنے میں میرے بیٹے نے زپ لگے بے بی بلینکٹ میں کسمساتے ہوئے بھوک سے رونا شروع کردیا۔ بچوں کی کارٹ میں لیٹنا تو اسے گوارا ہی نہیں تھا۔ اسے گود میں لیے الٹے ہاتھ سے قریب پڑے بیگ میں سے خشک دودھ کا ڈبہ نکالا اور گرم پانی کی فلاسک میں سے ابلا ہوا پانی بوتل میں انڈیلنے کی کوشش کی مگر منا سنبھلنے میں نہ آ رہا تھا۔۔
سُنیں پلیز۔۔۔۔ کیا ایک منٹ کے لیے میرے بے بی کو اٹھائیں گی میں اسکا فیڈر تیار کر لوں۔
کیا۔۔۔۔۔
وہ کمبل میں لپٹے منے کو دیکھتے ہوئے گھبرا سی گئی۔۔۔۔
بے بی کو۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ ؟ مجھے۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔
مگر اسکی بات مکمل ہونے سے پیشتر ہی میں نے کمبل میں لپٹا منا اسکی طرف بڑھا دیا۔
ایک دم اسکا رنگ فق ہو گیا اور اس نے منے کو ایسے پکڑا جیسے کوئی جرم سرزد ہو گیا ہو۔
پھر کھڑکی سے چھن کر آتی چند کرنوں کی طرف منے کو کیے خود سایے میں ہو گئی۔ جیسے اپنا سایہ اس پر پڑنے سے بچانا چاہتی ہو۔
تیزی سے ہاتھ چلاتے میں نے فیڈر میں تین اونس پانی ڈالا پھر تین چمچ خشک دودھ کے ڈال کر ڈھکن بند کیا اور بوتل ہلا کر پاؤڈر پانی میں حل کرنے لگی۔
اسی دوران اس لڑکی کے پریشان تاثرات اور منے کی طرف سے گریز کی وجہ سے میرا ذہن خیالات اور شکوک کے تانے بانے میں الجھنے لگا۔ منے کے چِھلے میں اس کی دادی اجنبی اور اپنے تئیں مشکوک خواتین کو اُسے دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ بے اولادی کے لیے ٹوٹکے یا جادو ٹونے کرنے والیوں اور تعویذ پہننے والی عورتوں کا پرچھاواں لگ جاتا ہے میرا پہلا پوتا ہے اس پر کسی کی بری نظر یا برا سایہ نہ پڑے۔۔ اور تب مجھے لگ رہا تھا اوپر اوپر سے ان کی بات سے ہزار اختلاف رکھنے کے باوجود میں بالکل ویسی ہی دل میں واہموں کو جگہ دینے والی روایتی ماں بنتی جا رہی ہوں۔
کہیں اس لڑکی نے میری ساس کے الفاظ تو نہیں سن رکھے۔ کیسے گھبرا کر اپنے سایے سے بھی بچا رہی تھی۔ جانے کون ہے بیچاری شادی شدہ ہے بھی یا نہیں بچے ہیں یا کوکھ جلی ہے؟

منا فیڈر پینے کے بعد پھر سو گیا۔ میں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا۔ اور پہلی بار غور سے اسکا حلیہ دیکھا۔ وہ کافی خوش شکل تھی مگرجلد میں پیلاہٹ گھلی تھی۔ عمدہ تراش خراش سے سلے شلوار قمیض میں ملبوس اسکا جسم قدرے فربہی مائل تھا۔ گردن اور چہرے پر چھائیوں کے نشانات فاؤنڈیشن سے چھپانے کی کوشش کافی حد تک کامیاب تھی۔
آپ کس ملک کا سفر کرنے والی ہیں۔
دبئی کا۔۔۔
اس نے دھیمی سی آواز میں جواب دیا
اتنے میں اس نے پھر ہال کے باہر کھڑکی کے قریب کھڑے کسی سایے کی جانب دیکھا۔
جاب کرتی ہیں وہاں ؟
میں نے دوسرا سوال داغا
نہیں
کام کی تلاش میں جا رہی ہوں۔
اصل میں۔۔۔ آج کل یہاں مندا بہت ہے۔
پہلے میں لان کے کپڑوں کے لیے ماڈلنگ کرتی تھی۔ اب کام نہیں مل رہا تو۔۔۔۔ وہاں دبئی میں۔۔۔ ماڈلنگ کا کوئی کام تلاش کروں گی۔
میں نے اچھنبے سے اسکی جانب دیکھا اسکا فربہی مائل جسم یقیناً ماڈلنگ کے شعبے میں رکاوٹ بن رہا ہوگا۔
دبئی میں کافی اپورچیونٹیز ہیں آپ کو اچھی جاب مل جائے گی۔
جی شاید۔
اس کے چہرے پر گریز اور ہچکچاہٹ کے واضح تاثرات جھلکنے لگے۔

سورج دوبارہ دبیز بادلوں کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ تیز ہوا کے ساتھ پھر سے خنکی بڑھنے لگی اور کچھ دیر پہلے پڑنے والی دھوپ کی ساری حدت ایک دم ختم ہو گئی تھی۔
کھڑکی کے باہر وہ شخص دوبارہ دکھائی دینے لگا جو سایے کی مانند اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس نے بیزاری سے اس کے اشاروں کا آنکھوں ہی انکھوں میں کوئی جواب دیا اور آگے سے اس شخص نے ایک ہوائی بوسہ اس کی طرف اچھال دیا۔ اس آدمی کی ہوس بھری نظریں اور للچائی سی شکل واضح نظر آ رہی تھی۔ ہال میں موجود کئی لوگوں نے ناگواری سے ان دونوں کی جانب دیکھا۔ ماڈل کے تاثرات ایسے تھے گویا کسی نے اسے بھرے بازار میں عریاں کر دیا ہو۔ وہ پہلے سے ہی کئی مردوں کی نظروں کے حصار میں تھی اور اس کے بعد عورتوں نے بھی اسے بغور دیکھنا شروع کر دیا گویا وہ کوئی عجوبہ ہے۔

سکول، کالج، باغات، سیرگاہیں، تاریخی عمارتیں، مصور، فنکار، ادیب، شاعر،ولی، گناہگار،راگ رنگ اور بازار حسن کونسا ایسا رنگ ہے جو اس شہر کے رنگوں میں شامل نہ ہو۔ اور تب یہ اندازہ لگانے میں کوئی شبہ نہ رہا کہ اسکا تعلق لاہور کی زندگی کے کس رنگ سے تھا۔
اس کے چہرے پر اپنا راز فاش ہونے کی تکلیف تھی۔ آخر ایسا بھی کیا ہے چند پل اگر کسی کو اپنے دائرے سے فرار کے میسر آ جائیں۔ پردہ پوشی نصیب ہو جانا یا پردہ پوشی کرنا بھی تو بہت بڑی بات ہے۔

اپنی اپنی باری پر آگے پیچھے ہماری تصویریں بن چکی تھیں کاغذات کی جانچ بھی ہو گئی تھی اور بس آخری کاؤنٹر کا کام رہ گیا تھا۔ اپنے ساتھ آئے اس آدمی کی مسلسل اشارہ بازی کے بعد وہ بہت سنبھل کر بیٹھ گئی تھی۔
کچھ دیر سے ایک خوش شکل اور نک سک سے تیار لڑکی ہماری دوسری جانب کھڑی مسلسل اپنے سیل فون پر مصروف تھی۔ بیچ بیچ میں اس کی آواز سنائی دیتی اور کبھی وہ ٹیکسٹ لکھنے لگتی۔ کچھ بعد وہ لڑکی اُس کے ساتھ والی خالی نشست پر بیٹھ گئی۔

ہاں کروں گی بات اب رات کو
اگر نیا فون آج مل گیا تو۔ یہ والا سیٹ تو بالکل ہی بیکار ہو گیا ہے۔
اج ہی ایزی پیسہ کروا دینا
ہمارا ٹوکن نمبر آنے والا ہے
بائے۔۔۔۔
سنو۔۔۔
چیٹ یاد سے ڈیلیٹ کر دینا۔۔۔۔۔ ابھی اسی وقت
تمھاری ببل گم نے پڑھ لی تو پھر ہنگامہ ہوگا
اوکے
لو یو ٹو ہنی بائے۔۔۔

ماڈل نے حسرت بھری نظروں سے اس لڑکی کی جانب دیکھا۔
ماہم ادھر آؤ
غالباً وہ اُس لڑکی کی والدہ تھی جو خفگی سے بلا رہی تھی
وہاں کیوں جا کے بیٹھی گئی ہو ؟
کیوں ماما کیا ہو گیا۔
حد ہی ہوگئی ہے بے عقلی کی
کیوں بیٹھی تھی وہاں۔۔۔۔۔ شریف گھروں کی لڑکیاں کسی ایسی ویسی عورت کے ساتھ سیٹ پر نہیں بیٹھتیں۔
ایسی ویسی عورت کون ماما ؟
وووہ۔۔۔
وہ حرافہ بازار کی عورت میں تو پہلی نظر میں ہی اسے پہچان گئی تھی۔ کیوں بیٹھی تو اُدھر۔۔۔۔

اس کا وجود بڑی پتنگ سے بَو ہوئی پری کی مانند لرزنے لگا۔ لیکن اُسی وقت کاغذات مکمل ہونے کے بعد رسید دینے کے لیے اس کا نام پکارا گیا تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے بعد میں نے پاسپورٹ کی رسید لی اور باہر آ گئی۔ رکشے کی تلاش میں سڑک کے دونوں جانب نظر دوڑائی۔ ایبٹ روڈ پر شام سے پہلے ہی گہری دھند اترنے لگی تھی۔ اب تو سنا ہے وہاں پر خالی دھند نہیں سموگ اترتی ہے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک اور فضا میں رویوں کا سیاہ دھواں جو اتنا بڑھ گیا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: