ایک ہندوستان کا فریب —– خرم علی شفیق

0
  • 53
    Shares

قائد اعظم محمد علی جناح کے مطابق برطانوی استعمار کے دو ستون تھے۔ پہلا ستون یہ غلط مفروضہ کہ ہندوستان ایک ملک ہے یا کبھی ایک ملک رہا ہے۔ دوسرا ستون مغربی جمہوریت تھی۔ یہ بات انہوں نے ۱۹۴۰ء کے اوائل میں لندن کے جریدے ٹائم اینڈ ٹائیڈ کے لیے ایک مضمون میں لکھی اور پھر بتدریج اسے مزید واضح کرتے گئے۔

ضمیر کی سچائی
یہ بات خود برطانوی ضمیر میں موجود تھی اور قائداعظم نے کئی دفعہ وکٹورین زمانے کے برطانوی سیاستداں جان برائٹ کا حوالہ بھی دیا۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ کس طرح انہوں نے برطانوی ضمیر کو برطانوی استعمار کے خلاف گواہ بنا یا لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

استعمار کا پہلا ستون
اس تحریر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قائداعظم نے کہا کہ ہندوستان کی وحدت ایک فریب ہے جس کے ذریعے انگریز اپنی حکومت کو طُول دے رہے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں یہ بات کچھ اس طرح تھی:

“وہ ایک چیز جو انگریزوں کو ہندوستان میں رکھے ہوئے ہیں وہ ایک متحدہ ہندوستان کا غلط مفروضہ ہے، جس کی ترویج گاندھی کر رہے ہیں۔ مَیں پھر کہوں گا، ایک متحدہ ہندوستان ایک برطانوی تخلیق ہے – ایک جھوٹی کہانی، اور ایک خطرناک جھوٹی کہانی جو ختم نہ ہونے والے فساد کو جنم دیتی رہے گی۔ جب تک یہ فساد موجود ہے، انگریزوں کے پاس یہاں رہنے کا جواز موجود ہے۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کا اصول اس دفعہ لاگو نہیں ہوتا۔”

قائداعظم نے فرمایا
قائداعظم نے بالکل صاف الفاظ میں، بار بار اور بہت زور دے دے کر کہا کہ ہندوستان کی وحدت وہ فریب ہے جس کے ذریعے انگریز اپنے غلبے اور حکومت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس موضوع پر اُن کے درجنوں واضح بیانات میں سے کچھ اقتباسات دیکھیے:

  • “ایک متحدہ ہندوستان کا مطلب یہ جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے، اُن کی کوئی آواز نہیں ہے اور صرف حکمران ہی اپنے داؤ پیچ کے ذریعے حکومت کرتے رہیں گے۔ یہ وہ نظام ہے جس پر ہندوستان میں برطانوی حکومت چل رہی ہے جسے وہ چلاتے رہنا چاہتی ہے۔” (بمبئی، ۲۴ جنوری ۱۹۴۳)

  • “ہندوستان کی جغرافیائی وحدت کا برطانوی تصوّر یہ ہے کہ ہندوستان پر برطانوی قبضہ اور تسلط غیرمعینہ طور پر جاری رہے۔” (علیگڑھ، ۹ مارچ ۱۹۴۴)

  • “انگریزوں کا مقصد کوئی ایسا نظامِ حکومت ہے جس کے ذریعے وہ خود سب کے اوپر بیٹھے رہ سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ متحدہ ہندوستان آزاد کبھی نہیں ہو سکتا اگرچہ نوجوان بڑی آسانی سے ایک متحدہ ہندوستان کی تصویر پر فریفہ ہو جاتے ہیں، جس کی ایک اپنی قومی حکومت ہو۔ یہ ایک ناممکن بات ہے۔” (لاہور، ۳۱ مارچ ۱۹۴۴)

  • “[۱۸۵۸ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں] جب انڈیا بل پیش ہوا تھا اور تاجِ برطانیہ نے ہندوستان کی حکومت سنبھالی تھی، اُس وقت سے وہ [یعنی انگریز] اپنے خفیہ مراسلوں، بیانوں اور دستاویز ات میں یہ بات صاف کر چکے ہیں کہ جب وہ متحدہ ہندوستان کہتے ہیں تو اُن کا مطلب برطانوی استعماری تسط کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے ہمیں قریباً ایک صدی تک اِس لائن پر لگا رکھا ہے۔” (بمبئی، ۱۴ اکتوبر ۱۹۴۴)

  • “برطانوی سیاستدانوں نے۔۔۔ ایک متحدہ ہندوستان کی دلیل اس لیے پیش کی کہ وہ جانتے تھے کہ یہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ پورے برصغیر ہندوستان پر اپنی چودھراہٹ کی مدت میں اضافہ کر کے اسے طُول سکتے ہیں۔” (احمدآباد، ۱۵ جنوری ۱۹۴۵)

  • “۔۔۔اور جسے ایک ہندوستان کہا جاتا ہے وہ محض برطانوی تسلط اور برطانوی حکومت کا ذریعہ ہے۔۔۔” (قاہرہ، ۱۹ دسمبر ۱۹۴۶)

  • ’’میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ [متحدہ ہندوستان کا] خیال کس نے ہمارے ذہن میں ڈالا۔ یہ انگریز ہیں۔ برطانیہ کا اس سے کیا تعلق کہ ہندوستان تقسیم ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ برطانیہ کو کیوں فکر ہو؟ وہ کیوں [متحدہ ہندوستان کی] جھوٹی اُمیدیں دلا رہے ہیں اور ملکی قیادت کو کچھ راستے دکھا رہے ہیں؟ برطانیہ جا رہا ہے، اسے جانا ہے۔ لیکن وہ کیوں ایک متحدہ ہندوستان کی بات کیے جا رہے ہیں؟ کیونکہ ہندوستانیوں سے بہتر طور پر وہ سمجھتے ہیں [کہ] اسی میں اُن کی [یعنی انگریزوں کی] نجات ہے۔ کیونکہ جب تک یہ اصرار کیا جائے گا کہ ہندوستان ایک ہے، تباہی اور خون خرابے کے سوا اور کچھ نہ ہو گا۔ یہ انگریزوں کا خیال رہا ہے اور ملک سے جاتے ہوئے انگریز جنگ جویانہ جذبات اُبھار رہے ہیں۔‘‘ (۲۷؍مارچ ۱۹۴۷ء )

  • ’’درحقیقت اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ہندوستان کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ کوئی طاقت ایک دوسری قوم کو، اور خاص طور پر چالیس کروڑ نفوس کی قوم کو، غلام نہیں رکھ سکتی۔ کوئی آپ کو فتح نہیں کر سکتا تھا، اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کوئی آپ پر اپنا تسلط کسی طویل مدّت تک نہیں رکھ سکتا تھا سوائے اِس سبب کے۔‘‘ (پاکستان کی دستورساز اسمبلی میں تقریر، ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء)

چنانچہ مارچ ۱۹۴۰ء میں قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان) کے ذریعے اِس جھوٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور پھر دہلی میں اپریل ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ لیجسلیٹرز کی قرارداد نے اس کی تکذیب مکمل کر دی۔

سوال یہ نہیں ہے کہ قائداعظم کی بات درست تھی یا نہیں تھی۔ بات یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ قائداعظم نے یہ بات واضح طور پر بار بار بڑے اصرار کے ساتھ کہی تھی۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات اور
علامہ اقبال کی شاعری سے دلچسپی رکھنے والے غور کر سکتے ہیں قائداعظم کے یہ اقوال کس حد تک علامہ کے اُن مشہور شعروں کی تشریح کرتے ہیں جن میں “وطنیت بحیثیت ایک سیاسی تصور” کے مندرجہ ذیل نقصانات گنوائے گئے تھے:

اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اِسی سے
تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اِسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اِسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اِسی سے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اِس سے
قومیتِ اسلام کی جَڑ کٹتی ہے اِس سے

ہم بھول گئے ہر بات
قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے  ہم نے جن ذرائع پر کافی انحصار کیا، اُنہوں نے ہمیں قائداعظم کی اِس بنیادی دلیل سے بیخبر بر رکھا۔ بعض مہربانوں نے اس کی بجائے کوئی اور چیز قائداعظم کے سر تھوپ  دی۔ ہم سے ہمارا حافظہ ہی نہیں چھینا بلکہ ہمیں ایک جھوٹا حافظہ بھی عنایت فرمایا۔

۱۔ چیف جسٹس محمد منیر: جب اکتوبر ۱۹۵۴ء میں کچھ خودغرض بیوروکریٹس نے پاکستان کی دستورساز اسمبلی توڑی تو مئی ۱۹۵۵ء میں چیف جسٹس محمد منیر نے ایک لمبا چوڑا فیصلہ صادر کر کے ان کی مدد کی۔

یہ فیصلہ اس غلط بنیاد پر دیا گیا کہ ۱۹۴۷ء میں تاجِ برطانیہ نے اقتدارِ اعلیٰ پاکستان کے سپرد نہیں کیا تھا۔ اس لیے پاکستان پر وہی ضابطے لاگو ہوتے ہیں جو “قبضے، تحویل یا فتح” کے ذریعے حاصل کیے ہوئے علاقوں کے لیے ہیں۔

جسٹس منیر نے قائداعظم کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء والی تقریر کا حوالہ دینے کی زحمت نہیں کی جس میں اس قسم کی ہر گھٹیا دلیل کی پہلے سے نفی کر دی گئی تھی۔

۲۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی: ان کی “جدوجہدِ پاکستان” پہلی دفعہ ۱۹۶۷ء میں انگریزی میں شائع ہوئی اور اُردو میں بھی ترجمہ ہو چکی ہے۔ تب سے حوالے کی کتاب کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

اس کتاب کی بنیاد اِس نظریے پر ہے کہ مسلمان بادشاہوں کے زمانے میں پورا ہندوستان “بعض معمولی مستثنیات کے ساتھ” ایک مرکزی حکومت کے ماتحت آ گیا تھا اور “اس طرح یورپی اور خود ہندوستانی اس خیال کے عادی ہو گئے تھے کہ ہندوستان حقیقتاً یا بالقوہ ایک واحد سیاسی وحدت ہے۔” (دیکھیے انگریزی کتاب کا صفحہ ۲ یا اُردو ترجمے کے صفحات ۳-۲)

ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نظریہ قراردادِ پاکستان کی تردید کرتا ہے اور کانگرسی لیڈر راج گوپال اچاریہ نے قراردادِ پاکستان کے صرف چند روز بعد اُس کے خلاف ایک دلیل کے طور پر پیش کیا تھا۔ اچاریہ نے کہا تھا، “بیشک ٹیپو سلطان، حیدر علی، اورنگزیب یا اکبر نے بھی ہندوستان کو ہمیشہ واحد اور ناقابلِ تقسیم ہی سمجھا۔”

اس کے جواب میں قائداعظم نے بیان دیا تھا،”جی ہاں، یہ ظاہر ہے کہ انہوں نے فاتح اور موروثی حکمران ہونے کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔ کیا ایسی حکومت ہے جس کا راج گوپال اچاریہ صاحب ابھی تک خواب دیکھ رہے ہیں؟” (دیکھیے قائداعظم کا بیان یکم اپریل ۱۹۴۰ء۔ سول ینڈ ملٹری گزٹ، ۲ اپریل ۱۹۴۰)

وہ دلیل جو کانگرسی رہنما نے پاکستان کے خلاف پیش کی تھی اور جسے قائداعظم نے سختی کے ساتھ مسترد کیا تھا، وہی اُس کتاب کی بنیاد بن گئی جسے تحریکِ پاکستان پر بنیادی حوالے کے طور پر پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مدت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہی کانگرسی نظریہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی مدون کی ہوئی چار جلدوں پر مبنی مختصر تاریخِ پاکستان (انگریزی) کی اساس ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ جو شربت وہ ہمیں پلا رہے ہیں، وہ کانگرس نے ہمارے لیے تجویز کیا تھا اور قائداعظم نے اسے پینے سے منع کیا تھا۔

۳۔ اسٹینلے والپورٹ: ان کی جناح آف پاکستان (انگریزی) ۱۹۸۴ء میں شائع ہوئی اور بہت سے لوگوں کے نزدیک قائداعظم کی مستند سوانح سمجھی جاتی ہے۔

دستورساز اسمبلی میں ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کو قائداعظم کی تقریر کے حوالے سے والپورٹ صاحب نے بڑی تاریخی غلطیاں کی ہیں جو فی الحال ہمارے موضوع سے خارج ہیں۔ بہرحال قائداعظم نے اُس تقریر میں ہندومسلم جھگڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ “ہندوستان کے آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے، اور صرف یہ چیز نہ ہوتی تو ہم بہت مدت پہلے ہی آزاد قومیں ہوتے۔”

یہ جملے نقل کرنے کے بعد والپورٹ صاحب اچانک فرماتے ہیں، “یہ کتنی زبردست قلابازی تھی، جیسے وہ [جناح] راتوں رات پھر وہی پرانے ‘ہندومسلم اتحاد کے سفیر’ بن چکے ہوں جس سے سروجنی نائیڈو پیار کرتی تھی۔” (دیکھیے صفحہ ۳۳۸)

حقیقت میں یہ کوئی قلابازی نہیں تھی۔ قائداعظم بار بار واضح کر چکے تھے کہ جن دنوں انہیں “ہندو مسلم اتحاد کا سفیر” کہا جاتا تھا، اُن دنوں بھی وہ یہی سمجھتے تھے کہ مسلمان ایک علیحدہ وجود رکھتے ہیں (مثال کے طور پر دیکھیے مرکزی مجلسِ قانون ساز میں ۱۹ نومبر ۱۹۴۰ء کو قائداعظم کی تقریر)

اجلاس کی کاروائی کے ریکارڈ سے یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ قائداعظم پاکستانی دستورساز اسمبلی کے ایک کانگرسی رکن کی بات کا جواب دے رہے تھے جس نے کچھ ہی دیر پہلے کہا تھا، “صاف بات ہے کہ ہم خوش نہیں ہیں۔ ہم ہندوستان کی اِس تقسیم سے ناخوش ہیں۔”

جواب میں قائداعظم اپنی وہی بات دہرا سکتے تھے جسے برسوں سے کہتے آ رہے تھے اور سب جان گئے تھے کہ یہ اُن کا موقف ہے۔ یعنی ہندوستان کی وحدت کے فریب ہی کی وجہ سے اتنے عرصے غلامی رہی، “اور صرف یہ چیز نہ ہوتی تو ہم بہت مدت پہلے ہی آزاد قومیں ہوتے۔”

والپورٹ نے سستے جذباتی منطرنامے کی مدد سے قائد اعظم کے الفاظ کے معانی ہی اُلٹ کر رکھ دئیے ہیں۔

۴۔ عائشہ جلال: ان کی انگریزی کتاب ۱۹۸۵ء میں شائع ہوئی جس کے عنوان کا ترجمہ بنتا ہے، “واحد نمایندہ: جناح، مسلم لیگاور مطالبۂ پاکستان”(The Sole Spokesman: Jinnah, the Muslim League and the demand for Pakistan)۔ قیامِ پاکستان کے موضوع پر سب سے زیادہ متاثر کرنے والی کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔

شروع میں مصنفہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتاب جناح کا نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ تعارف کے صفحہ ۵ پر لکھتی ہیں کہ اس کتاب میں “کانگرس۔۔۔ کو جناح کے زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے گا۔۔۔ برطانوی سیاست اور پالیسیوں۔۔۔ کو بھی جناح اور لیگ کے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے گا۔”

اس دعوے کے باوجود پوری کتاب میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہندوستان کی وحدت کا تصوّر فریب ہے جس کے ذریعے انگریز اپنی حکومت کو طُول دے رہے ہیں۔

۵۔ اعتزاز احسن: ان کی انگریزی کتاب ۱۹۹۶ء میں آئی جس کا اُردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے، “سندھ ساگر اور قیامِ پاکستان” (The Indus Saga and the Making of Pakistan)، اور یہ بھی ایک مقبول کتاب ہے جس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اِس میں قائداعظم کی اُس دلیل کا کوئی ذکر نہیں۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے بارے میں معلومات کے لیے سب سے زیادہ جن ذرائع پر انحصار کیا انہوں نے نہ صرف ہمیں قائداعظم کی بنیادی دلیل سے بیخبر رکھا بلکہ عملاً اس دلیل کو کسی دوسری چیز سے بدل دیا۔

آخری بات

اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ قائداعظم نے کہا کہ پاکستان کا اصل اصول یہ ہے کہ “مسلمان ایک قوم ہیں۔” لیکن یہ اصل اصول بھی اسی دلیل کی وجہ سے ایک آزاد ریاست کی بنیاد ٹھہرا کہ ہندوستان پہلے سے ایک ملک نہیں۔ ورنہ ہندو مہاسبھا بھی مانتی تھی کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں، لیکن وہ اس لیے ہندوستان کی تقسیم پر راضی نہیں ہوئی کہ وہ ہندوستان کو ایک ملک سمجھتی تھی۔

مسلم لیگ کے منتخب نمایندوں نے دہلی میں اپریل ۱۹۴۶ء میں وہ قرارداد منظور کی جس کے ذریعے قراردادِ پاکستان کی توثیق ہوئی۔ دوسری طرف کانگرس اور ہندو مہاسبھا نے تقسیمِ ہند کا منصوبہ قبول کرنے کے بعد بھی اپنی قراردادوں میں اکھنڈ ہندوستان کا نظریہ دہرایا۔

قائداعظم کے نقطۂ نظر سے یہی بنیادی وجہ قرار پاتی ہے اُس ” ختم نہ ہونے والے فساد” کی جو خطے میں جاری ہے اور جاری رہے گا جب تک یہ غلط مفروضہ کہ پورا برصغیر کبھی ایک ملک تھا، اور اس مفروضے کی بنیاد پر چلنے والی پوری سوچ، ترک نہیں کی جائے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: