کشمیر: موسم مذاکرات کا —— شاہ عباس

0
  • 7
    Shares

پاکستان اور کشمیر کی علیحدگی پسندی کیخلاف انتہائی سخت مؤقف رکھنے والے نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کے سیاسی حالات ایکدم تبدیل ہوگئے یہاں تک کہ سخت گیر قوم پرست ہندئوں کا ماننا ہے کہ ــ’’ملک پہلی بار‘‘ داخلی اور خارجی معاملات میں اُن کے مزاج کے مطابق چلنے لگا ہے۔مودی اسی گھوڑے پر سوار ہر ایک کو پیچھے چھوڑنے کی دُھن میں تھے کہ کئی ریاستوں میں بادمخالف کی بھنک پاتے ہی مودی کے طور طریقوں میں تبدیلی نمایاں ہوگئی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھارت میں جنرل الیکشن سے قبل مودی کی کوئی سٹریٹیجک تبدیلی ہو، لیکن زمینی سطح پر جس فیصلے نے سیاسی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا وہ کشمیر کے سبھی ’’سٹیک ہولڈرس‘‘ کے ساتھ بات کرنے کیلئے سابق جاسوس، دنیشور شرما کی تقرری تھی۔ 23 اکتوبر کو جب بھارت سرکار نے ’’مرکزی نمائندے‘‘ کی تقرری عمل میں لائی تبھی سے ریاستی سرکار بھی ’’ایجنڈا آف الائنس‘‘ کے اُس حصے کی ورد کرنے لگی جو ’’مذاکرات‘‘ سے متعلق ہے اور جس میں پاکستان اور علیحدگی پسند،دونوں شامل ہیں۔ یوں شورش زدہ کشمیر کی سیاسی فضائیں ایک طرف ’’آپریشن آل آئوٹ‘‘ کی گن گرج سے گونجتی رہیں اور دوسری طرف ’’مذاکرات‘‘ کی ہوائوں سے ایک موہوم سی اُمید بھی نظر آنے لگی۔ اسی اثناء میں بھارت سرکار نے ماہ رمضان کی مناسبت سے جنگجوئوں کیخلاف کارروائیاں یکطرفہ طور روکنے کا اعلان کرکے محبوبہ مفتی کی ریاستی سرکار کی لاج رکھی جس کو لگاتار نئی دلی کی طرف سے خاطر میں نہیں لایا جارہا تھا۔ حالانکہ حکمران پارٹی ذرائع کے مطابق ’’محبوبہ کسی شور شرابے کے بغیر مرکز کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی تاکہ امن کی کوئی راہ نکالی جاسکے اور بات چیت کا ماحول قائم کیا جا سکے‘‘۔ بہر حال بات یہاں تک پہنچی کہ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے مودی سرکار کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر، 26 مئی کو علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کی آمادگی کا اظہار کرکے اُمید کے اُس چراغ کو روشن کردیا جو ٹمٹما رہا تھا اور لگ رہا تھا کہ لگاتار ہلاکتوں، زخمی ہونے اور گرفتاریوں کی زور دار ہوائیں اُسے کسی بھی وقت بجھادیں گی۔

یہ خوش آئند ہے کہ نئی دلی کی طرف سے جب ’’بات چیت‘‘ کی بات چلی توعلیحدگی پسندوں نے اس میںشامل ہونے کا کی حامی بھرلی۔ اس سے کچھ عرصہ قبل ہی علیحدگی پسند حلقوں کی جانب سے اس ضمن میں مثبت رجحان سامنے آرہا تھا۔ حریت کے دونوں دھڑوں کی طرف سے ماضی قریب میں ایسے بیانات منظر عام پر آئے ہیں جن میں مذاکرات کی اہمیت اور افادیت اُجاگر ہوتی ہے۔ سینئر ترین علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے کیلئے بات چیت ایک مہذب راستہ ہے۔ اسی طرح میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بھی ہمیشہ سے ہی مذاکراتی عمل کے حامی رہے ہیں۔ لیکن یہ بات باعث فکر مندی ہے کہ جونہی فریقین کے مابین مذاکرات کی باتیں چلتی ہیں تو دونوں طرف سے ساتھ پیشگی شرائط بھی پیش کی جاتی ہیں۔ بھارت کی وزیر داخلہ سشما سوراج کے بیان کو ہی لیجئے جس میں اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ بات چیت اُسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب وہ ’’دہشت گردی‘‘ سے انحراف کرے گا۔ حالانکہ سشما نے مذاکرات کی افادیت کو بھی تسلیم کرلیا۔ اسی طرح بھارت کے نائب صدر ونکیا نائڈو نے بھی اپنے جموں دورے کے دوران اگر چہ کشمیر کے بارے میں مذاکرات کی حامی بھر لی لیکن اُنہوں نے بھی پاکستان پر الزامات کی بارش کی۔نئی دلی کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بات چیت کا راستہ مسائل کے حل کیلئے اختیار کیا جاتا ہے،کسی پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کیلئے نہیں۔ بصورت دیگر علیحدگی پسندوں کا یہ آرگیومنٹ کافی وزن دار معلوم ہوتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ بھارت جموں کشمیر کی متنازع حیثیت کو سر عام قبول کرلے۔ عقل و شعور کا بھی یہی ماننا ہے کہ بات چیت سے قبل فریقین کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کیوں میز پر بیٹھے ہیں۔ اگر نئی دلی کشمیر کو ’’اپنا‘‘ اور کشمیریوں کو ’’اپنے‘‘ کہنے کے خول سے باہر نہیں نکلے گی تو پھر حل کی کیا صورت ہے، بلکہ پھر بھارت کا ’’مذاکرات کیلئے تیار‘‘ہونے کا اعلان کہاں مخلصانہ ہے؟ اسی طرح اگر علیحدگی پسندوں کی جانب سے بھی ’’پہلے وہ کرو اور پہلے یہ کرو‘‘ کی شرائط عاید ہونگی تو پھر تنازع حل ہونے سے رہ گیا۔ مذاکرات کا حصہ بننے سے قبل قیدیوں اور کالے قوانین سے متعلق علیحدگی پسندوں کا مؤقف کافی وز ن دار ہے لیکن حل کا عمل شروع کرانے کیلئے اُنہیں بھی دو قدم آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ اُن پراپنے انسانی و دیگر وسائل کو بچانے کی ذمہ داری بھی عاید ہوتی ہے۔ ایک بار حل کا عمل پٹری پر چل پڑے تو اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ دی جاسکتی ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مذاکراتی سلسلے کا آغاز ہی قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات سے کیا جائے۔ لیکن اس سب کیلئے بات چیت کے عمل کا آغاز ضروری ہے۔ ہاں،علیحدگی پسندوں کی طرف سے مذاکراتی دعوت میں’’ ابہام ‘‘کو دور کرنے کی بات کو لیکر نئی دلی کو ضرور کچھ کرنا چاہئے۔ اگر یہ’’ ابہام‘‘ وزیر داخلہ کے ایک بیان سے دور ہوسکتا ہے تو راجناتھ سنگھ کو دور اندیش سیاست دان کی طرح وقت ضائع کئے بغیر ایسا کرنا چاہئے۔ کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں آئے دنوں کی بیان بازیاں روکنا بھی ماحول کو مکدر ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے۔ کشمیر جیسے حساس خطے کے بارے میں بیان جاری کرتے وقت نئی دلی کو چاہئے کہ وہ استعمال کی جانے والی اصطلاحا ت کا خاص خیال رکھے۔

کسی بھی تنازع کو نپٹانے کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حل کا ایک عمل شروع کیا جائے اورحصول مقصد کیلئے فریقین کو آخر کار بات چیت کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعد ازاں مزید کئی اقدامات کو ملاکر اسی کو حل کا عمل کہتے ہیں۔ اس کے بغیر کوئی دوسری راہ نہیں ہے جس سے مسائل کے حل کی راہ نکل آئے۔ جب تنازع کا ایک فریق لفظ ’’مذاکرات‘‘ کا استعمال کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ تنازع یا اس سے متعلق سارے یا بعض حقائق کوتسلیم کرچکا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی سیاسی سائنسدان اس بات کا قائل نہیں ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو پیشگی شرائط پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔ ’’ڈائیلاگ‘‘ کا یہی خاصا اس کو ایک ’’انسٹی چیوشن‘‘ بناتا ہے اور اگر اس انسٹی چیوشن کو من و عن تسلیم کرکے اس کو پنپنے دیا جائے تو مثبت نتائج کسی بھی وقت متوقع ہوتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی ایک فطری حقیقت ہے کہ آپ کوئی جد و جہد، کوئی جنگ یا کوئی تحریک اسی لئے شروع کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرکے اس کو ختم کیا جائے۔اس لئے جب بھی اسے ختم کرنے کا موقع (یعنی مقصد حاصل کرنے کا موقع) فراہم ہو، اُس کا بھر پور استعمال عقل و شعور کے عین مطابق ہوتا ہے۔ بصورت دیگر جذبات کا سہارا لیکر یا کسی اور بہانے وقتی طورنام تو کمایا جاسکتا ہے لیکن اس سے مسئلے کے حل کی کوئی اُمید نہیں ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: