نہیں انتخابات میں کچھ بھی اچھا —– احمد اقبال

0
  • 158
    Shares

نہیں انتخابات میں کچھ بھی اچھا۔ (۔ مولانا خالی)
ڈرو وقت سے جو کہ ہے آنے والا۔ (مولانا حالی)
مصرع اول (راقم الحروف) مولانا خالی کا۔ دوسرا مولانا حالی کا۔

کچھ لوگ ناقابل اصلاح حد تک رجائیت کے مریض ہوتے ہیں اور خواب بھی دیکھتے ہیں تو کچھ ایسے کہ دنیا بالکل مثالی ہوگئ ہے۔ ۔ ۔ جیسا کہ اسے ہونا چا ہیے۔ ۔ آخر معجزوں پر یقین نہ رکھنا بھی کفر تو ہے۔ ۔ قباحت یہ ہے کہ دو افراد مثالی انسان یا دنیا کی بات کرتے ہیں تو ان کے تصور میں مماثلت نہیں ہوتی۔ ۔ انسان مختلف ہوتے ہیں تو ان کی سوچ کے پیمانے، حسن کےمعیار، پسند سب الگ ہوتے ہیں۔ بھنڈی گوشت سے حسن محبوب تک اور مونچھ کے اسٹائل سے ملکی سیاست تک۔ ۔ ۔ ۔

دو دن قبل رات بارہ بجے غیب سے ایک پوسٹ نازل ہوئی کہ بھارت کے اور پاکستان کی سیکرٹ سروس کے دو سابق سیکرٹ سروس چیف کہیں مل کر بیٹھے اور انہوں نے کسی الہامی کیفیت میں طے کیا کہ اپنے وقت میں ہم نے دو ملکوں کے گدھوں کو الو بنا کے بڑاکما یا لیکن اب ہم دونوں کو ضمیرکی بواسیر ہوگئی ہے تو علاج اس کا ایک ہی ہے کہ اب سچ بولا جائے۔ دنیا میں جھوٹ با افراط ہے اور سچ سلاجیت کی طرح نایاب تو اس کی طلب کے اعتبار سے قیمت بھی وائٹ گولڈ جیسی ملتی ہے۔ ۔ ہم خرما و ہم ثواب۔ اس وقت تو ناچیز بھی ایک چٹکلہ بریکنگ نیوز کی طرح چھوڑ کے سوگیا لیکن اس کے بعد سے جومیڈیا پر اظہار خیال کی گھڑ دوڑ شروع ہوئی تو وہ کہ ؎ حد نگاہ تک یہاں غبار ہی غبار ہے۔ ۔ ۔ ایسے میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانا تربیلا ڈیم میں ایک لوٹا پانی ڈالنا پوتا کہ سطح بہت گر گئی ہے۔

دو دن میں نے فیس بک پرعلما سے حمقا تک کی۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ بہت با وزن اور بالکل بے وزن شعرکہنے والی خواتین کی قیمتی آراء کے علاوہ اخبارات کے دو زبانوں میں کچھ مستند خاندانی صحافیوں کے اداریئے ملاحظہ فرمائے۔ برادر عارف نظامی اور مجاہد بریلوی ایک خیال پرتو متفق نظر آئے کہ اس قسم کی جسارت کسی (بلڈی ) سویلین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اٹلکچول۔ ملحد کمیونسٹ جیسی ڈگریاں رکھنے والے) نے کی ہوتی تو اسے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ۔ غدار۔ وطن فروش۔ دشمن بھارتی ایجنٹ وغیرہ جیسے خطابات سے نوازا جا چکا ہوتا۔ ۔ ۔ پھر وطن عزیز میں تھوک کے بھاو دستیاب۔ نوع نوع کی نورانی کاسٹیوم والے شارحین و مفسرین کے ساتھ اسلام کے سیاسی سول ایجنٹ اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نے۔ ۔ ہر سمت سے آلہ مکبرالصوت پروہ شور محشر برپا کیا ہوتا کہ مامتا کو اولاد نرینہ کی پکار اور ہجراں نصیب کو مژدہ وصل سنائی نہ دیتا۔ لیکن سب کو محاورے کے مطابق سانپ ورنہ بھوکا شیر سونگھ گیا ہے۔

اپنے مجاہد بریلوی بھائی کے خیال کی شوخی پرواز نے البتہ ایک بات ایسی کی ہے کہ ان کی صحافیانہ دور اندیشی کا قایل ہونا پڑتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ؔ حادثہ سخت ہے اور جان عزیز۔ ۔ اور ایسا وقت ٹالنے کا ایک مجرب اور آزمودہ نسخہ اسلامی جمہوریہ مملکت خداداد کے کارکنان قضا و قدر کے پاس یہ رہا ہے کہ فورا” اس سے بھی بڑا کچھ حادثہ کر دیا جائے اوروہ اکثریتی چ۔ ۔ ۔ مخلوق جن کے لئے سقراط ہو کہ منصور۔ ۔ سب کا قتل تماشائے مرگ ہی ہوتا ہے۔ ۔ پہلے کو یکسر بھول کر اس دوسرے حادثے کے ماہرانہ پوسٹ مارٹم میں مگن ہو جائے گی۔ ۔ سو میں نے بھی سوچا کہ فورا” کچھ فرمادوں۔

پہلے تو ایک طویل پوسٹ کے خالق۔ ۔ اپنے فیس بکی عالم فاضل دوست کی ارسال کردہ مصنف الباکستانی مسمی اسد درانی کی سوانح حیات کا خلاصہ پیش کردوں۔ ان اطلاعات کا منبع بیشتر تو دوران ملازمت اتفاقیہ حاصل ہونے والی معلومت ہیں۔ 1976 تک عرصہ تقریبا” پندرہ سال کا میں نے ایک بے مقصد محکمے کی بے وجہ ملازمت میں گزارا جس کا عنوان بھی بڑا گمراہ کرنے والا تھا یعنی “ڈیفنس آڈٹ”۔ ۔ اول تو ڈیفنس کا آڈٹ سے اتنا بھی تعلق نہیں جتنا کعبے کو صنم خانے سے۔ ۔ اور شاید کسی بھی بھی محکمے کا نہیں۔ ۔ یہ خالس سویلین محکمہ تھا جس میں آڈٹ کے نام پر اس ناچیز نے بھی خوب سیر سپاٹاکیا۔ ۔ مال بنانے کا خیال نہیں ایا ورنہ امکانات روشن تھے۔ قید شریعت میں انے سے قبل میں نے 10 ماہ کیمبلپور (اب اٹک) کے آرٹلری سنٹر۔ ۔ اتنا ہی وقت ایبٹ آباد کے ایف ایف آر۔ ۔ میوزک اسکول اور اے ایم سی وغیرہ۔ دو دو ماہ نوشہرہ سے جہلم اور ڈیرہ اسماعیل خان تک مختلف آرمی یونٹس میں رہ کے گزارا۔ زمانہ مابعد از نکاح میں ہنی مون تک یوں منایا کہ زوجہ کے ساتھ دو ماہ حیدرآ باد۔ ۔ ایک ماہ نواب شاہ اور پھر دو ماہ کوئٹہ میں خوب”آڈٹ” کیا۔ ۔ گویا بقول غالب

گو وہاں نہیں پہ واں سے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دورکی

تو یہ سب سنی سنائی مگر مستند ہے کہ جنرل اسد درانی نےغالبا” 1970 میں اسٹاف کالج کویٹہ کا متحان پاس کیا اور وہاں انسٹرکٹر بھی رہے۔ پھر جرمن زبان سے واقفیت کی بنا پر جرمنی میں ملٹری اتاشی ہو گئے۔ ۔ عہدہ بڑھا تو یہاں آئی ایس آئی میں پہنچ گے جس کے ڈائریکٹر جنرل مشہور زمانہ جنرل حمید گل تھے۔ موصوف طبعا” مذہبی انتہا پسند تھے اور سنا ہے سرکاری خرچ پر تبلیغی اجتماع وغیرہ میں بھی شریک ہوتے تھے، اس پر ان کو وارن بھی کیا گیا اور بالاخر آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے ان کو ھیوی مکینیکل کمپلیکس کا سربراہ بنا کے “آنریبل ڈسپوزل” کی کوشش کی لیکن حمید گل نے انکار کر دیا اور فوج سے نکالے گئے۔ اب اچانک ضرورت پڑی تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا قرعہ فال اسد درانی کے نام نکل آیا۔ غالبا”موصوف پیپلز پارٹی سے بڑی عقیدت رکھتے تھے کہ اولیں فرصت میں وہ بے نظیر کی خدمت میں حاضر ہوے اور اسے تفصیلا” بتایا کہ کس طرح اسلم بیگ کے کہنے پر آئی جے آئی بنائی اور اس کے لئے کتنا پیسہ کس کس کو دیا۔ بےنظیر نے کہا کہ “جنرل صاحب یہ بیاں آپ پارلیمنٹ میں دے سکتے ہیں؟”۔ ۔ ۔ اسد درانی نے کہا کہ بالکل دے سکتا ہوں۔ ۔ اس پر پیپلز پارٹی نے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا اور اسد درانی نے جو بے نظیر کو بتایا تھا وہاں بھی کہہ دیا۔ بعد میں یہ اعتراف گل حمید نے ٹی وی پر بارہا کیا۔ ۔ لیکن اس وقت اسلم بیگ بہت جز بز ہوئے کہ درانی نے پیسہ تقسیم کر کے سیاست میں فوج کی براہ راست مداخلت کرنے کے چکر میں ان کا نام بھی لیا، بات اسی پر ختم نہیں ہوئی۔ ۔ بعد میں جنرل درانی نے دو بار پیپلز پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جس کی خبر فوج کی اعلیٰ کمان تک پہنچی تو اسد درانی کو ایک غیر ملکی دورے۔ ۔ ۔ غالبا” جرمنی۔ ۔ سے واپسی پر ایرپورٹ پر ہی بتا دیا گیا کہ آپ کو ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ ۔ آپ اپنے آفس نہیں جاسکتے۔ ۔ وہ فریاد لے کر بینظیر کے پاس پہنچے تو ان کو جرمن زبان سے واقفیت کی آڑ میں جرمنی میں سفیر بنادیا گیا، اس کے بعد وہ سعودی عرب میں بھی سفیر رہے۔ مجھے کچھ معلومات ایبٹ آباد کی جدون فیملی میں اپنے ایک قریبی دوست سے بھی ملیں جس کے اسکواڈرن لیڈر بیٹے سے درانی صاحب کی ایک بیٹی کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی۔

“ڈان لیک” فیم والے سیرل المیڈا نے 27 مئی کے ادارے میں بڑا آتش فشاں جملہ لکھ مارا کہ بیس افراد قطارمیں ہیں کہ نواز کو گرا کے ان کو وزیر اعظم بنایا جائے اور اس کیلئے وہ “اپنی ماں کو بیچ سکتے ہیں”۔ اب گالی کی بات تو اصولی طور پر ہے ہی غلط لیکن ترس مجھے ان سیاسی “یتیموں کی فریاد سن لیجئے” کی بے چارگی کے ساتھ احتجاج کرنے والوں پر آیا جو کہہ رہے تھے کہ یہ تو پاکستانی قوم کے منہ پر تھپڑ ہے۔ ۔ اور وہاں ایڈیٹر کیوں نہیں دیکھتا آخر۔ ۔ لیکن ایڈیٹر تو ایک اور موقعے پر اپنے ‘مسل’ در جواب آں غزل دکھا چکا ہے جب ‘ڈان لیکس’ کا واویلا سن کے اس نے کہا تھا کہ آجاو عدالت میں۔ ۔ ؎ دیکھنا ہے زور کتنا ‘بازوئے قاتل’ میں ہے۔ ۔ چیلنج کسی نے قبول نہیں کیا تھا۔ ۔ لیکن اس تھپڑ پرپاکستانی قوم کو ایک اور امریکی تھپڑ یاد کرنا چاہیے۔ جب امریکی ڈیرہ غازی خان سے ایک پاکستانی شہری ایمل کانسی کو زر خرید مال کی طرح اٹھا کے لے گئے تھے۔ ۔ کیونکہ وہ واقعی زر خرید تھا۔ ۔ اور اپنے ملک لے جاکے اسے زہر کا ٹیکا لگا کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا تو ایک امریکن سینیٹر نے بیان دیا تھا کہ “پاکستانی ہزار ڈالر میں اپنی ماں کو بیچ سکتے ہیں”ّ (۔ ۔ مجھے 50 ڈالر یاد پڑتا تھا لیکن ایک دوست نے کہا کہ امریکی اتنی بے وقعت چیزنہیں خریدتے تھے۔ ۔ ایڈ میں دیتے تھے)۔ ۔ اس پر بھی بڑی ہا ہا کارمچی تھی مگر سچ کےتھپڑ اتنے پڑ چکے ہیں کہ اب یہ قوم “سرخ رو” ہے۔

تازہ ترین تھپڑ اسد درانی نے مارا ہےکہ ہم نے اسامہ بن لادن کو کتنے میں بیچا۔ سنا تھا ہم نے تو اسے بڑی محبت سے پالا پوسا اور کلیجےسے لگا کے رکھا، پاکستان ملٹری اکیڈمی جیسے ادارے کو آپ قوم کا کلیجہ ہی سمجھۓ جس کے در خاص پر اسامہ کا مرجع تھا جہاں مچھرجیسا پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔ ۔ ایک کہانی سنی تھی دادی اماں سے کہ “سفید دیو اڑتا آیا اور قلعے کے سات دروازوں والے تہہ خانے میں قید شہزادی کو اڑا لے گیا” اسی طرح امریکی میرین ہیلی کوپٹرز میں آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” جناب بڑی دھواں دھار لڑائی ہوئی جس میں اسامہ شہید/ہلاک ہوا۔ ۔ اور وہ امریکی میرین لاش لے کر خیرو عافیت سے سات سمندر پار لوٹ گئے” ہم تو آمنا و صدقنا کے سوا کچھ بولتے ہی نہیں۔ کچھ شر پسندوں نے سر کھجا کے زیر لب کہا تھا ہیلی کوپٹر؟ جہازوں کی مال گاڑی۔ ۔ اتنا اندر بخیر و عافیت کیسے پہنچی۔ ۔ وہ جو ہمارے پرندے مشہور ہیں کہ 7 سیکنڈ میں دشمن کی گولی کو بھی گرادیں وہ کہاں تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ہیروئنچی نے کہا کہ یار وہ آرام کا وقت تھا سورہے تھے ہم بھی۔ ۔ بد تمیز امریکی ایسے وقت کیوں آئے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: قصہ ایک غیر متوازن جرنیل سے ملاقات کا — شاہد اعوان

 

مگر اب درانی نے لکھ کر دے دیا ہے کہ ہم نے تو اسے نقد قیمت لے کر بیچا تھا اور 45 لاکھ امریکی ڈالر میں آئی ایس آئی کے فلاں کرنل کی معرفت سودا ہوا تو ہم نے کہا کہ چاند سی بنو اب تیرے حوالے۔ ۔ غلاموں کی خریدو فروخت قانونا” تو ممنوع ہے لیکن کہاں نہیں ہوتی۔ ہمارے کرتا دھرتا بھی غلام بیچنے کے دستور کو زیادہ مانتے ہیں۔ ۔ ملکی دستورکو خود جنرل مشرف نے گٹر میں ڈال دیا اور کمانڈو ڈرتا نہیں تھا تو سینہ ٹھونک کے کتاب میں لکھ بھی دیا کہ ہاں میں نے 4 ہزار پاکستانی بیچے اور زر مبادلہ کمایا۔ ۔ اب کھجایئے سر کہ کیا اسد درانی سچ کہتا ہے؟ ان میں اسامہ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ آخر 4ہزار کے نام تو نہیں تھے کتاب میں۔ ۔ اسد درانی کوئی ایرا غیرا تو نہیں۔ ۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ تھا۔

(ایک دخل درمعقولات کرنےوالے وارد ہوئے۔ ۔ میرا لکھا ملاحظہ کیا اور چائے پیتے ہوئے گویا ہوئے۔ “ابے تو بڑا افلاطون بنتاہے۔ ایک بات بتا۔ ۔ یہ سالے ہندو اتنے چالاک کیوں ہیں؟” عرض کی کہ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ ۔ ؟ کہنے لگے “کام ایک ہی ہے مگر دیکھ انہوں نے نام رکھا “را” RESEARCH AND ANALYSIS WING اس میں نہ کسی فوج کا نام نہ نسب۔ لگتا ہے سائنسی تحقیق کا محکمہ ہوگا۔ ۔ پھر ہم نے INTER SERVICES INTELLIGENCE جیسا نام رکھ کے بری بحری اور فضائی فوج کی عسکری صلاحیت کو کیوں گنہگار کیا کہ یہ جاسوسی بھی کرتے ہیں”۔ ۔ میں نے کہا کہ معلوم کرکے مجھے بھی بتانا اور ان کو باہر نکال دیا)۔

اوپر کی چند سطور کو خارج از بحث سمجھا جائے لیکن بعد میں ایک سوال ہی جواب بھی بنا۔ ۔ دشمن اعظم بھارت میں درانی کا ہم منصب عسکری حریف جس کے ساتھ مل کر اس نے کتاب لکھنے جیسا سنگین جرم کیا۔ ۔ (جرم کتاب لکھنا اور شاید اب پڑھنا بھی ہو جائے)۔ ۔ وہ تو فوجی ہے ہی نہیں۔ ۔ سال بھر پہلے اے۔ ایس دلت پولیس چیف تھا۔ گویا غیر فوجی۔ ۔ واقعی بڑی عیار چیز ہے بنیا۔ ۔ ہم اپنے ایٹمی ساینسداں کو لا کے ٹی وی کیمروں۔ فلیش لائٹس اور فائرنگ اسکواڈ کے سامنے بٹھا کے کہتے ہیں “کہو میں چور ہوں” اور الباکستانی اس زرد رنگت اور زبان کی لکنت والے بوڑھے سائنسدان ڈاکٹر عبدا لقدیر کا اعتراف جرم سن کے کہتے ہیں۔ ۔ سالا چور۔ ۔ اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ ۔ نہیں گردن جیسے اسلامی مملکت سعودی عربیہ کا طریقہ ہے۔ ۔ نہیں چوک میں پھانسی دو۔ ۔ اور ہم اسے نظر بند کرتے ہیں تو صرف ہمیں نیچا دکھانے کیلے بھارت اپنے ایٹمی سائنسدان کو بینڈ باجوں کے ساتھ ملک کا صدر بنا دیتا ہے۔

اب یوں تو عسکری قیادت نے اسد درانی کو ” کتاب لکھنے کےجرم” میں طلب کر کے ان کے باہر جانے پر قدغن بھی لگادی ہے۔ ان کاایک وضاحتی نوٹ میں نے بھی اپنی فیس پر لگا دیا ہے جو بزبان غالب یہ ہے کہ

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالب
تم کو بے مہری ارباب وطن یاد نہیں

انہوں نے بھی گلہ ہی کیا ہےکہ ان کی فرض شناسی کا یہ کیسا صلہ ہے، میں اس سے قبل جنرل شاہد عزیز کی کتاب “یہ خاموشی کہاں تک” پر تفصیلی تبصرہ اپنی فیس بک پر لکھ چکا تھا جس کے مندرجات میرے نقطہ نظر سے تو زیادہ “چونکانے” والے ہیں۔ ۔ (ان کے حال ہی میں افغانستان میں شہید ہونے کی خبر کی تردید خود ان کے صاحبزادے کر چکے ہیں)۔ چند سال قبل انگریزی مین شایع ہونے والی یہ کتاب اس وقت بھی 1500 کی یعنی امرا کے پڑھنے کی تھی۔ جو بنک اسٹیٹمنٹ یا اسٹاک مارکیٹ رپورٹ کے سوا کچھ پڑھنا چاہتے ہی نہیں چنانچہ اس کتاب کی آمد سے عوام بے خبر ہی رہے اور محاورے کے مطابق “چائے کی پیالی” میں بھی طوفان نہیں اٹھا۔ اب اس کا اردو ایڈیشن آیا تو کچھ واویلا ہوا کیونکہ سقراط والا سچ تو اس میں کافی تھا۔ اب یہ بحث بھی اٹھی کہ شاہد عزیز پر تو کوئی جرم نہیں بنا تھا۔ ۔ پھر درانی مجرم کیوں؟ اس پر کمیشن بنانے کی بات بھی ہوئی اور اس بار دوسرے جرم میں پھر گھسیٹ کر چیف جسٹس کے پاس لے جاو کہ یہ سچ بھی بولتا ہے۔ ۔ پہلے بولا تو اصغر خان نے سپرہم کورٹ سے شکایت کی تھی اور سابق سپہ سالار اسلم بیگ خفا تھا کہ مجھے بھی مروایا۔ ۔ تو عدالت نے کچھ کارروائی کی لیکن 14 سال تک کچھ نہ ہوا۔ ۔ اب نظریہ ضرورت (ستم ظریف اسے جھرلو بھی کہتے ہیں)۔ ۔ کے تحت پھر وہ کیس فایل جھاڑ پونچھ کے نکالی تھی تو اس نے یہ نیا گل کھلا دیا۔ ۔ گل اب کھلا ہے۔ ۔ آبیاری نہ جانے کب سے جاری تھی۔

نہرو جانتا تھا کہ جنگ رشوت اور عورت کی مدد سے بھی جیتی جاتی ہے۔ اس نے ولایتی شوہر سے اتفاق کیا اور اس کی ولایتی بیوی سے عشق۔ ۔ وہ حسینہ نازنیں تھی تو نہرو بھی ذہین کے ساتھ وجیہہ تھا۔ اس نے بیوی کو استعمال کیا اور بیوی نے شوہرکو اور اس سے ہر بات منوالی۔

کتاب لکھنے کا ‘جرم’ فوجی بھی کربیٹھتا ہے۔ اب تک مزاح کا جرم جنرل شفیق الرحمان نے کپتانی کے وقت سے کیا جب شاعری میں کا پلیٹ فارم ضمیر جعفری کے پاس تھا مگر اس کے بعد کرنل آ گئے۔ ۔ محمد خان “بجنگ آمد”۔ ۔ کرنل اشفاق حسین “جنٹلمین بسم اللہ” حال ہی میں کرنل خاقان ساجد اور ایک کرنل ضیا شہزاد ابھی 8000 فٹ پر وزیرستان میں بیٹھے 24 خالص مزاحیہ مضامین آنے والی کتاب کے مجھے بھیج چکے ہیں جس کا نام میں افشا نہیں کر سکتا۔ ۔ اب اس سے پیچھے جاوں تو اپنے واحد اور خود ساختہ فیلڈ مارشل نے بھی کتاب لکھی جو سیاسی تھی۔ ۔ لیکن اور پیچھے جاوں تو ایک معتوب و مقہور جنرل اختر علی ملک تھے جنہوں نے راولپنڈی سازش کیس میں فیض کے ساتھ جیل کاٹنے کا اعزاز حاصل کیا۔ کشمیر کی جنگ آزادی کی سب سے پہلے قیادت کر چکے تھے اور ان کو سخت شکوہ تھا کہ ؎ دوچار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا۔ ۔ توہم جنگ بندی پر راضی ہوگئے ورنہ آنے والی صبح “اکھنور” پر فاتحانہ قبضے کے ساتھ کشمیر کی صبح ازادی ہوتی۔ ۔ ان کی دو کتابیں “حدیث دفاع” اور “ہمارا دفاع” تھیں جو بہت بعد میں لکھی گئیں مگر میں نے پڑھی نہیں تو تبصرہ کیا کروں۔ اس نام کے دوسرے جنرل اکبر کراچی میں ‘لال کوٹھی’ کی شہرت والے تھے۔ ان کی ایک بہت دراز قد حسین صاحبزادی نگہت اکبر 50 سال قبل ٹی وی کے غیر رنگین دور میں سفید ساری کے ساتھ لہک لہک کے نغمہ سرا ہوتی تھیں۔ اب کو نہ جانے کیا سوجھی کہ ‘جنگ’ میں رنگین بیک پیج پر لیاقت علی خان مرڈر کیس پر 9 سوال شایع کرادئیے کہ ہے کوئی جو جواب دے؟ ان کے انجام کی مجھے خبر نہیں مگر سوالات کا جواب کوئی آج بھی دے نہیں سکتا۔

لیکن بغاوت کے جرم میں سزا یافتہ جنرل اکبر پہلے سے سوال کرنے والا مزاج رکھتے تھے اور تقسیم کے وقت کرنل تھے اور کپٹن گل حسن کے ساتھ قائد اعظم کے پرسنل اسٹاف کا حصہ تھے۔ اس کو بھٹو نے عہدہ سنبھالتے ہی بر طرف کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تقسیم کے فارمولے کے مطابق یہ تجویز تھی کہ لارڈ ماونٹ بیٹن دونوں ممالک کا مشترکہ گورنر جنرل رہے۔ ۔ تا وقتیکہ دونوں طرف سے آبادی اور وسایل کی تقسیم کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے۔ اب سب ہی جانتے ہیں کہ جناح صاحب نے صاف انکار کیا۔ دوسری طرف تھا نہرو جیسا “ہسٹری آف دی ورلڈ” لکھنے والا۔ وہ جانتا تھا کہ جنگ رشوت اور عورت کی مدد سے بھی جیتی جاتی ہے۔ اس نے ولایتی شوہر سے اتفاق کیا اوراس کی ولایتی بیوی سے عشق۔ ۔ وہ حسینہ نازنیں تھی تو نہرو بھی ذہین کے ساتھ وجیہہ تھا۔ اس نے بیوی کو استعمال کیا اور بیوی نے شوہرکو اور اس سے ہر بات منوالی۔ کہتے ہیں فیروز پور اور گورداسپور اسی طرح ہمیں نہیں ملے۔ ۔ پھر بھارت نے “ریزرو بینک” آف انڈیا سے ہمارے حصے کے ایک چوتھائی دے کے کہا کہ چلوجاو، باقی پھر کبھی دیں گے۔

ڈاکٹر طاہر مسعود کی بات تو سچ ہے کہ پہلا انتخاب ہوا تو ملک ٹوٹا۔ ۔ دوسرا ہوا تو منتخب وزیرا عظم پھانسی چڑھا۔ ۔ تیسرے میں دو وزیر اعظم عدالت نے بر طرف کئے۔ ۔ رو رو کے یہ دوسری نیم جاں حکومت عمرطبعی تک پہنچی۔ جو آج نصف شب کو داغ مفارقت دے جائے گی۔ ۔ پس انتخابات سے ڈر ہی لگتا ہے۔

لیکن اس وقت ہم یہ مان گئے کہ دونوں ممالک کی افواج کا کمانڈر ان چیف ایک ہی ہو جو فوجی سازو سامان کی ترسیل و تقسیم کا عمل مکمل ہونے تک ایک ہی رہے،۔ ۔ ۔ ۔ جنگ عظیم دوسال پہلے ہی ختم ہوئی تھی اور انڈیا کی فوج بھی سب واپس نہیں لوٹی تھی۔ یہ کمانڈر ان چیف فیلڈ مارشل آکن لک بنا۔ ۔ ۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ فیلڈ مارشل کسی ملک کی آرمی کا رینک نہیں۔ ۔ جہاں دو یا زیادہ ملکوں کو ایک کمانڈر ان چیف کی ضرورت ہو وہاں سب سے سینیر کو فیلڈ مارشل بنادیا جاتا ہے جیسےجرمنی اٹلی کا فیلڈ مارشل رومیل اور مقابلے پربرطانیہ فرانس کا فیلڈ مارشل منٹگمری۔ (ایوب خان کو معاف کردیں جو من کی موج میں بن گیا)۔

کہا یہ بھی جاتا ہے کہ جب قائد اعظم کی طرف سے پہلے برٹش جنرل کو جو ہمارا کمانڈر ان چیف تھا کشمیر پر حملے کا حکم ملا تو اس نے تعمیل سے انکار کر دیا اور کہا “انڈیا پاکستان ایک آرمی ہیں۔ مجھ پر حکم چلے گا فیلڈ مارشل اکن لک کا”۔ ۔ اصولی طور پر وہ ڈسپلن کی پابندی کر رہا تھا۔ ۔ جب ایک تقریب میں کرنل اکبر خاں نے قاید اعظم سے سوال کیا کہ “سر۔ ۔ ہمارے برٹش پارلیمانی نظام میں گورنر جنرل تو علامتی سربراہ ہوتا ہے۔ ۔ وہ آپ بن گئے۔ ۔ لیکن فوج کی کمان آپ نے بدستور ایک گورے کے پاس رکھی۔ ۔ اس میں کیا مصلحت تھی؟” تو قائد اعظم سے اس کو سخت جھاڑ پڑی کہ “تم اپنے کام سے کام رکھو اور اپنی لمٹ میں”۔ ۔ لگتا ہے اکبر خان کی تشفی نہیں ہوئی۔ ۔ وہ فوج کے سیاسی معاملات میں بڑھتے کردارکی مخالفت کرتا رہا اور جیل جا کے دم لیا۔ اب معلوم نہیں اس نے بعد میں اپنی کتابوں میں کیا لکھا۔ بدقسمتی سے وہ میں نہیں دیکھ سکا کوئی صاحب علم ہوں تو مجھے بتائیں اور کتابیں پڑھوا دیں تو سبحان اللہ۔

لیکن اب صورت احوال کچھ امید افزا بن گئی ہے۔ ۔ ٹی وی پر کچھ دانشوران ملت نے ایک سوچ کی سمت دی ہے کہ جنوبی افریقہ کے۔ ۔ اور دنیا کے۔ ۔ بہت بڑے لیڈر نیلسن منڈیلا نے 23 سال جیل کی صعوبت جھیلی لیکن جب آزاد ہو کے اسے اقتدار ملا تو اس نے قوم سےکہا کہ بابا اب کیا تم برے کے ساتھ برا کروگے؟ بند کرو یہ خان خرابہ اور جبر۔ ۔ چنانچہ ایک TRUTH AND RECONCILIATION COMMISSION بنایا گیا۔ ۔ گویا “حق گوئی و عفو و درگزر” کی پالیسی اپنائی گئی جہاں سب نے “عبرتناک سزا” سے تحفظ پا کےاپنے اپنے جرائم کا اقرار کیا اوراس کے بعد مصالحت و مفاہمت کی قومی پالیسی بنا لی گئی کہ بس اب ایسی غلطیوں کا اعادہ نہیں ہوگا اور سب مل جل کے جو کریں گے ملکی و قومی مفاد میں کریں گے۔ ۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے تو یہ بات یوں کرتے تھے کہ “لڑائی لڑائی معاف کرو۔ ۔ کتے کی۔ ۔ ۔ ۔ صاف کرو”۔ ۔ ۔ خالی جگہ میں “حاصل نظام اخراج” ادبی معیار پر پورا اترتا ہے۔

آج صبح میرے جیسے بزرگ لیکن انتہائی معتبر کالم نگار ڈاکٹر طاہر مسعود کا نوشتہ پڑھا تو چونکا کہ بات تو سچ ہے۔ ۔ پہلا انتخاب ہوا تو ملک ٹوٹا۔ ۔ دوسرا ہوا تو منتخب وزیرا عظم پھانسی چڑھا۔ ۔ تیسرے میں دو وزیر اعظم عدالت نے بر طرف کئے۔ ۔ رو رو کے یہ دوسری نیم جاں حکومت عمرطبعی تک پہنچی۔ جو آج نصف شب کو داغ مفارقت دے جائے گی۔ ۔ پس انتخابات سے ڈر ہی لگتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی بات پر میرا بھی ڈرنا بر حق ہے۔ ۔ انتخابات ہمارے مسائل کا حل نہیں۔

 

انتخابات ہمارے مسائل کا حل نہیں لگتے کیونکہ ملک میں جو پر تعصب انتشارکی سوچ اور فضا ہے اس کو ووٹ کیلئے ہوا دی جارہی ہے۔۔ پوسٹوں کے ساتھ تصاویر لگاکے بتایا جارہا ہے کہ کون کیسے سنگین اخلاقی جرم میں ملوث تھا۔۔حد یہ ہے کہ آج ہی مجھ پر انکشاف کیا گیا کہ ایک بھت سینئر صحافی اور کالمسٹ بھی اسی جرم میں ملوث ہونے کی بنا پر پارٹی سے نکالے گئے تھے لیکن اب ان کا نام بطور نگراں وزیر اعلیٰ لیا جارہا ہے۔۔اللہ اکبر۔۔۔ کیا میں باقی مستقبل کی حکومت کے امید واروں کو محض اس لئے فرشتہ تسلیم کرلوں کہ ان کا راز افشا نہیں ہوا۔۔ مجھ سمیت ہم سب کا پردہ دار اللہ ہے ورنہ ہم ایک حمام کے ننگے ہیں۔۔ لیکن ان سب کی کتاب زندگی کے اوراق میرے بھی پڑھے ہوئے ہیں جو مستقبل میں اس ملک کی زمام حکومت سنبھالیں گے۔۔ میں کس خام خیالی میں یہ آس لگا لوں کہ مستقبل بہت روشن ہوگا؟ دیوانہ ہون لیکن اب اتنا بھی نہیں۔۔جب میں ملکی افق کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت نابغہ روزگار افراد نظر اتے ہیں۔۔ معاشی معاملات میں ڈاکٹر عشرت جیسے۔۔ ساینس اور ٹیکنالوجی یا تعلیم میں متعدد ریٹائرڈ وائس چانسلراور انتظامی سربراہ۔۔جو انتطامی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں۔۔ اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او میں سردار نشتر کی پوتی ثانیہ نشترغالبا’ سربراہ ہے۔۔ امور خارجہ میں کچھ پروفیسر۔۔ لیکن یہ وہ نہیں جو “الیکٹ ایبلز” کہلاتے ہیں۔۔ ایسی صورت میں ہر وہ (یہاں اپنی من پسند گالی پڑھیں) منتخب کر کے لایا جائے گا جو جیت سے حریف جماعت کی ایسی تیسی کردے۔۔۔ ملک کی اس کے بعد 5 سال تک کرے۔۔ کی باتTRUTH AND RECONCILEATION COMMISSION مجاہد بریلوی کے ساتھ ایک قانون دان تجزیہ نگار نے بھی کی کہ موجودہ حالات میں اس کی اشد ضرورت ہے اور یہ ایک امید کی کرن فراہم کر سکتا ہے کہ باہمی اندرونی تعلقات مزید خراب نہیں ہوں گے اور ملکی مفاد میں ریاستی ڈھانچے کے چار بنیادی ستون، آج کی اصطلاح میں ایک ہی ‘پیج’ پر ہونگے۔ اگر پانچ بھی ہوں تو مزید سبحان اللہ۔

یہی نہیں۔۔ موجودہ یعنی 31 مئ کے وزیر اعظم نے اسمبلی کے الوداعی خطاب میں بھی اسی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہؑ زوال نہ ہو
وہ دن ہم سب دیکھ پائیں جب کسی کو غدار۔۔وطن دشمن۔ کافر۔۔دشمن کا ایجنٹ وغیرہ کہنا۔ لکھنا یا سمجھنا قابل تعزیر جرم ہو

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عسکری کاروبار اور رئیل اسٹیٹ کی بحث: کچھ پہلو —- محمد خان قلندر

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: