نعت خواں سید زبیب مسعود شاہ سے ایک گزارش —- کبیر علی

0
  • 59
    Shares

نعت خوانی کے اس دورِ انحطاط میں اگر اچھی نعت پڑھنے والے دو تین لوگ موجود ہیں تو سید زبیب مسعود ان میں سرِ فہرست ہیں۔  بہت چھوٹی عمر میں انھیں نعت خوانی کے امام سید منظور الکونین کی خدمت میں لایا گیا۔ منظور صاحب فرماتے ہیں کہ اس وقت زبیب کی آواز بہت فلیٹ تھی مگر محنت کی گئی تو آہستہ آہستہ اس میں بہتری آتی گئی۔ ایک پرانی ویڈیو یوٹیوب پہ بھی موجود ہے جس میں زبیب کی عمر شاید سولہ سترہ سال ہو گی، آدمی حیران ہوتا ہے کہ اس قدر سپاٹ اور بے رس آواز کا حامل لڑکا کس طرح آج کے بہترین نعت خواں میں ڈھل گیا۔ یہی زبیب، شاہ صاحب کا عزیز ترین شاگرد بن گیا۔ شاہ صاحب کی یا د میں منعقد کی گئی ایک محفل میں نورالحسن نے روایت کی کہ شاہ صاحب فرماتے تھے کہ “جب خدا پوچھے گا کہ منظور! کیا لے کر آئے ہو تو میں کہوں گا کہ زبیب کو لے کر آیا ہوں۔” شاہ صاحب اپنے شاگردوں پہ بجا طور پہ نازاں رہتے تھے ایک موقع پہ فرمانے لگے کہ “یہ نئے نعت خواں کہ نعت خوانی کے فن اور آداب دونوں سے نابلد ہیں، میرے شاگردوں کی طرح “آ” کر کے ہی دکھا دیں”۔ ظاہری بات ہے کہ شاہ صاحب کے شاگردوں میں سے اس ناز کے سب سے زیادہ حق دار زبیب مسعود ہی ہیں۔یہاں “آ” کی معنویت بھی وضاحت کی متقاضی ہے۔ دراصل موسیقی میں  کسی بھی شخص کی آواز کی قدرتی خوبی اور ریاضت دونوں کا پتہ اسی وقت لگ جاتا ہے جب وہ آواز لگانے کے لیے پہلی “آ” کرتا ہے۔ گویا کسی کو گھنٹوں سننے کی ضرورت نہیں پڑتی اور سُر شناس پہلی “آ” سے ہی فن کار کے فن کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔

زبیب مسعود سے میرا پہلا تعارف ان کی کم عمری کی نعتیں تھیں جو زیادہ متاثر نہیں کر سکیں مگر ایک روز نسبتا بعد کی ویڈیو سامنے آئی۔ ابھی زبیب نے پہلی آواز ہی لگائی تھی کہ میں چونک گیا۔ سبحان اللہ! یہ آواز کہاں سے آتی ہے۔ واللہ! ایسی عمدہ بیس اور ایسا کھرج تو خاندانی گویوں کی اولادوں میں سے بھی اکثر کو نصیب نہیں ہوتا۔  سہج اور ٹھہراؤ کے ساتھ اپنی مضبوط آواز کے جادو بکھیرتا یہ نوجوان، نعت خوانی کے آسمان کا نیا خورشید نظر آنے لگا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ میں یہی سمجھتا رہا کہ زبیب کی آواز نیچے کی سپتک کے لیے موزوں ہے۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ اپنی آواز کی خوبی کے بدولت بعض لوگ نیچے کی سپتک کے گانے کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں (مثلا مہدی حسن) اور بعض لوگ اوپر کی سپتک کے لیے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ ان دونوں سپتکوں  کا گانا کسی ایک فنکار میں جمع ہونا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ مگر ایک روز کیا دیکھتا ہوں کہ زبیب نے اپنے مخصوص چوڑے سُر سے نعت شروع کی اور جب کچھ رنگ جما تو ایک مصرعہ پڑھنا شروع کیا۔ آواز اوپر کی سپتک میں پہنچی تو ایک جگہ محسوس ہوا کہ اگر زبیب نے یہاں آواز لگانی بند نہ کی تو بے سُرے ہو جائیں گے مگر آفرین ہے اس نعت خواں پر کہ بے سُرا ہوئے بغیر اونچے سُروں تک اس انداز سے پہنچا۔ میں کہ سانس بند کیے بے سُرا ہونے کا انتظار کر رہا تھا حیران رہ گیا۔ یوسف میمن جیسے آشنائے فن نے زبیب کو نذر پیش کرتے ہوئے دست بوسی بھی کی۔ (نیچے ویڈیو میں سات منٹ سے ذرا قبل ملاحظہ کیجئے) اُس روز کے بعد سے مجھے اس بات کا قائل ہونا پڑا کہ زبیب کی آواز نہ صرف مندر سپتک کے لیے موزوں ہے بلکہ تار سپتک میں بھی نہایت عمدگی سے کھلتی ہے اور یہ ایک کمیاب  آواز کی خوبی ہے۔ چند ہی برسوں میں زبیب مسعود محافلِ نعت کے مرکزی نعت خواں بن چکے ہیں۔ بڑے بڑے جغادری جب ان کی موجودگی میں پڑھتے ہیں یا زبیب کے ساتھ آواز لگاتے ہیں تو میمنے لگتے ہیں۔

اس تمہید کا مقصد نعت خوانی کے ایک نئے انداز کی طرف توجہ دلانا ہے یعنی  محافل نعت میں جوڑی کی صورت پڑھنا جو پڑھنا کم اور مقابلے بازی زیادہ بن گیا ہے۔ مگر اس سے قبل ایک وضاحت ضروری ہے۔ کلاسیکی خیال گائیکی میں سُر مقدم ہے اور لفظوں کی حیثیت نہایت معمولی اور آلاتی ہے جس کی وجہ سے لفظوں کو بگاڑ کر گانا ایک معمول کی بات رہا ہے۔ ٹھمری اور کافی کی گائیکی میں لفظ اگرچہ تھوڑے ہوتے ہیں مگر خیال گائیکی کی بہ نسبت یہاں انھیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے  مگر لفظوں کو ان کا صحیح مقام دراصل غزل گائیکی میں ملا ہے ۔غزل گائیکی میں لفظوں کو بگاڑنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ لفظوں کے تلفظ کے ساتھ ساتھ اس بات کا مکمل لحاظ رکھا جاتا ہے کہ انھیں ایسے سُر دیے جائیں کہ جن سے لفظوں کا مفہوم واضح ہو کر سامنے آئے۔ حتیٰ کہ اگر کسی دوسرے راگ کے سُر بھی استعمال کرنا پڑیں تو کیے جائیں۔ جبکہ خیال گائیکی میں  ایک راگ میں دوسرے راگ کے سُر ملانا نہایت قابلِ ملامت سمجھا جاتا تھا اور راگ کی صحیح خوانی پہ زور دیا جاتا تھا۔ فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو نعت خوانی کا فن، غزل گائیکی سے کچھ مناسبت رکھتا ہے یعنی دونوں میں سب سے زیادہ اہمیت لفظوں کو دی جاتی ہے۔ نعت خوانی میں سُر کی اہمیت اتنی ہی ہے کہ ان کے ذریعے نعت کے صوتی حسن میں اضافہ کیا جائے تاکہ یہ کانوں کو بھلی معلوم ہو گویا یہاں سُر اصل مقصود نہیں ہے بلکہ سُر کا مقام ایک آلہ کار کا سا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیاری نعت خوانوں مثلا اعظم چشتی، سید منظور الکونین، نذیر حسین نظامی، قاری زبید رسول وغیرہ کے ہاں آپ کو یہ بات بہت کم ملے گی کہ انھوں نے نعت کے الفاظ کو ایک طرف رکھ کر خالی آکار کے ساتھ زیادہ دیر تک آواز لگائی ہو۔ ان حضرات کے یہاں اس بات کا اس قدر التزام ہے کہ سید منظور الکونین کے عروج کے زمانے کی ایک ویڈیو میں دیکھا کہ انھوں نے ایک مصرعہ پڑھنا شروع کیا مگر تکنیکی وجہ سے اسے ادھورا چھو ڑ کر دوبارہ شروع کرنا پڑا۔ اس وقفے میں وہ ایک تان اوپر اور پھر ایک تان نیچے آئے۔ ؎ اسٹیج پہ بیٹھے معروف نعت خواں خورشید احمد رحمانی کے چہرے پہ مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ لفظ کو چھوڑ کر اس طرح تان کہنا شاہ صاحب کی عادت نہیں تھی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: یہ کیسی نعت خوانی ہے؟ 

 

مگر اب بدقسمتی سے ایک نیا رواج چلا ہے کہ جس میں دو نعت خوان جوڑی کی شکل میں نعت پڑھنے بیٹھتے ہیں اور یوں مقابلے بازی کی ایک فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ آغاز میں تو یہ جوڑی سید زبیب مسعود اور خالد حسنین خالد ہی کی تھی مگر اب محفل میں موجود دیگر نعت خوانوں کے ساتھ بھی یہ دونوں حضرات جوڑی بنا کر پڑھنے لگے ہیں۔ اس فضا میں دونوں نعت خوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سُروں کا زیادہ سے زیادہ تنوع دکھا کر یہ ثابت کریں کہ وہ زیادہ اچھے فن کار ہیں اور یوں یہ ساری مقابلہ بازی، نعت کے میدان سے باہر نکل کر فن کے اکھاڑے میں میں جا پہنچتی ہے۔ جہاں فاتح کوئی بھی ہو نقصان ہمیشہ نعت کا ہوتا ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ طرفین کے شاگرد وں اور مداحوں کی ایک ایک ٹولی بھی ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ پہلے الاپ شروع ہوتا ہے جس میں دو تین منٹ فقط “آ” کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ پھر نعت شروع ہوتی ہے اور کئی دفعہ دوہڑوں ماہیوں تک بھی بات جا پہنچتی ہے۔ طرح طرح سے سُر لگا کر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اہلِ موسیقی کی طرح کسی مصرعے یا ٹکڑے کو تہائی کی طرح تین بار ادا کر کے سم پہ آیا جاتا ہے اور ایک مخصوص طریقے سے تال کا رنگ بھی پیدا کیا جاتا ہے۔ طرفین کے شاگر د، اپنے اپنے استاد کو آواز لگاتا دیکھ کر ایک فاتحانہ وفور کے ساتھ داد بھی دیتے جاتے ہیں۔ یہ فعل نعت خوانی  کے لیے نقصان دہ ہے۔ یوٹیوب پر ایسے نعتیہ مقابلوں کے عنوانات بھی دلچسپ اور عبرت ناک ہوتے ہیں۔ (اس مضمون کے ساتھ ایک ویڈیو لنک بھی دیا گیا ہے جس میں پانچ منٹ تک زبیب صاحب نے فقط الاپ کیا ہے)۔ اس انداز سے زبیب مسعود کی نعت  میں عوام کے لیے دلچسپی کا ایک سامان تو پیدا ہو گیا ہے مگر وہ سادگی رخصت ہو گئی ہے جو ان کے استاد کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ لہذا سید زبیب مسعود صاحب سے درخواست ہے کہ قبلہ! آپ کے استاد نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ مگر آپ نے جن عوام کے لیے اصولوں پہ سمجھوتا کیا ہے یہ وہی عوام ہیں جو ہر طرح کے شعبدہ باز نعت خوانوں  پہ داد کے ٹوکرے برساتے آئے ہیں لہذا عوامی پسندیدگی کو زیادہ ملحوظ خاطر رکھنا آپ ایسے نعت خواں کے شایانِ شان نہیں ہے۔ سید منظور الکونین شاہ صاحب کے انتقال کے بعد سنجیدہ اہلِ ذوق کی نظریں آپ ہی کی طرف اٹھتی ہیں اور بجا طور پہ اٹھتی ہیں تاہم اگر آپ بھی عوامی پسندیدگی کے اس سمندر میں بہ کر اصولوں پہ سمجھوتہ کرنے لگے تو نعت خوانی میں پھر وہی پھکڑ پن آنے کا مکان ہے جو آج سے چند برس قبل آیا تھا۔ پاکستان میں اس وقت نعت خوانی کی سب سے پختہ آواز آپ ہی کی ہے اس لیے آپ کے ہاں اگر ثقہ پن سے ذرا سا بھی انحراف نظر آتا ہے تو دکھ ہوتا ہے۔ ہم آپ کو نعت کے لیے سنتے ہیں الاپ یا تانیں سننے کے لیے نہیں۔ اس مقصد کے لیے درجنوں اساتذہء فن اور موسیقی کے پنڈتوں کا کام  آڈیو ویڈیو شکل میں دستیاب ہے اور یہ فن انھی کو زیبا ہے۔

امید ہے اگر یہ تحریر آپ تک پہنچے گی تو آپ غور فرمائیں گے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: