“خ” خدا حافظ “غ” غائب ——– نیر عباس

0
  • 78
    Shares

قومی زبان کسی بھی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم، ثقافت، آرٹ غرض تمام شعبہ ہائے زندگی میں قومی زبان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج تک کسی بھی قوم نے قومی زبان کو اہمیت دیئے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو قومی زبان کو اہمیت  اور اس کا جائز مقام دینا ہو گا۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے اور اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ لیکن اتنا کہنا ضروری ہے کہ ہمیں اس بات کا قومی سطح  پر تجزیہ ضرور کرنا چاہئے کہ ہم نے پچھلے ستر سال قومی زبان کو نظر انداز کر کے کتنا نقصان اٹھایا ہے۔ یہ بات بھی موضوع بحث بننی چاہئے کہ دوسری اقوام جنہوں نے قومی زبان کو کما حقہ اہمیت دی وہ آج کس مقام پر ہیں اور ہم کہاں تک پہنچے ہیں۔اگر ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ قومی زبان اہم ہے تو پھر اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے بھی اقدامات کرنا ہونگے۔یہ مضمون اسی موضوع کے حوالے سے ایک خاص مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانے کیلئے ہے۔

پاکستان میں ایسے اسکولوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے۔ ان سکولوں میں اردو کے علاوہ تمام مضامین انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بار بار انگریزی کے الفاظ سنتے اور بولتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اردو کے الفاظ سننے اور بولنے کی شرح انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان اسکولوں میں بچوں کو اردو کے بجائے انگریزی بولنے کی ترغیب دی جاتی ہے جس سے اردو بولنے میں مزید کمی آ جاتی ہے۔ انہی ترجیحات کی بنا پر بچوں میں اردو الفاظ کے تلفظ کے حوالے سے ایک مسئلہ پیدا ہو رہا ہے اور وہ ہے اردو کےدو حروف “خ” اور “غ” کو ادا نہ کر پانا۔ میرا تعلق تدریس کے شعبے سے ہے اور طلبہ کی گفتگو سننے کا موقع اکژ میسر آتا ہے۔ اردو کے وہ الفاظ جن میں “خ” اور “غ” استعمال ہوتے ہیں، بچے ان کی ادائیگی میں “خ” کی جگہ “ح” اور”غ” کی جگہ “گ” استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے “ح” اور “گ” کا تلفظ بلترتیب “خ” اور “غ” کے تلفظ سے قریب ہے اور ان دونوں حروف کا تلفظ انگریزی حروف میں بھی موجود ہے۔ بچے لفظ خدا  کو “حدا” اور لفظ غائب کو “گائب” بولتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچے قرآن کی آیات پڑھتے ہوئے بھی ان حروف کو ادا نہیں کر پاتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد پاکستانی اردو سے یہ دو حروف ختم ہو جائیں گے۔  صوتی اعتبار سے اردو  بہت سی دوسری زبانوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو عنقریب اپنی یہ انفرادیت کھو دے گی۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔

اردو کے اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ وہ اردو کی تدریس کے دوران بار بار ان دو حروف کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کریں اور بچے دہرائیں۔ یہ مشق بار بار کی جائے تا کہ طالبعلموں کو ان دو حروف کا تلفظ ازبر ہو جائے۔ اس کے علاوہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ سبق کی پڑھائی کا موقع  دیا جائے اور جب وہ ان حروف کی ادائیگی میں غلطی کریں تو درستی کی جائے۔ بچوں کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بولنے کی طرف بھی راغب کیا جائے۔اس کے علاوہ اردو تلفلظ سکھانے اور اس کی مشق کے لیے ہر  ہفتے ایک یا دو خصوصی کلاسوں کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے کو سکالر اپنے تحقیقی مقالہ جات کا موضوع بنائیں تا کہ اس مسئلے اور اس کے حل سے متعلق نئی تحقیق سامنے آ سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: