محمد اظہار الحق کے زمان و مکاں —– فتح محمد ملک

0
  • 33
    Shares

ہمیشہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے کے خُوگر، نامور شاعر ظفر اقبال کے نزدیک

’’محمد اظہار الحق کے ہاں جدید اردو غزل کا موسم یکسر تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کی ہوائیں پھل پھول اور گھاس پات تک مختلف ہیں۔۱‘‘

جس زمانے میں محمد اظہار الحق ہماری بزمِ شعر و ادب میں وارد ہوئے تھے وہ زمانہ پیرویٔ مغربی پر نازاں تھا۔ ہمارے ادیب کارل مارکس اور سگمنڈ فرائیڈ کے پیروکار ادیب اشتراکیت اور جدیدیت کی مغربی دُھنوں پر رقصاں تھے۔ یہ زمانہ اقبال کے ہاں تجدید و ارتقاء کے نئے مراحل طے کرتی ہوئی مسلمانوں کی ادبی روایت سے انحراف کا زمانہ تھا۔ ایسے میں محمد اظہار الحق نے انحراف کی بجائے اثبات کا روّیہ اپنایا۔ نتیجہ یہ کہ بقول ظفر اقبال ہماری شاعری کا موسم یکسر تبدیل ہو کر رہ گیا اور ہم شاعری کی نئی آب و ہوا میں سانس لینے لگے۔ یہ موسم اُن دیار و امصار کے ہیں جہاں مسلمانوں کی تہذیب اوّل اوّل پھلی پھولی تھی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ مرجھانے لگی تھی۔ بہار و خزاں کے یہ موسم اظہار الحق کی تخلیقی ذات میں یوں جلوہ گر ہیں جیسے اُس کا حقیقی وطن اسلام ہو اور وہ اپنے اسی دیس میں زندہ اور سرگرمِ عمل ہو۔ قمر جمیل نے کیا خوب لکھاہے کہ:

’’اس کی انفرادی سوچ اسلام کی زمانی اور مکانی حکایت سے ایک گہرا رشتہ رکھتی ہے۔ اس دیوار پر جو گھڑی نصب ہے اس میں منفرد سوچ اور منفرد احساس سوئیوں کی طرح حرکت پذیر ہے اور اس کے ڈائل پر سمر قند و بخارا کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔ اظہار الحق نے قرطبہ میں آنکھ کھولی ہے اسلامی لشکروں میں جوان ہوا ہے اور اس کے سخنِ تازہ میں اس کے آباء کی رُوح اپنی لازمانیت کا اعلان کرنا چاہتی ہے۔۲‘‘

جہاں تک اُن کے آباو اجداد کا تعلق ہے وہ ضلع اٹک سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں اُن کے ’’جدِ امجد نے ساٹھ سال مسجد کے فرش پر بیٹھ کر ہدایہ، کنزالدقائق، جلالین، سکندر نامہ، مطلع انوار اور بہت کچھ اور پڑھایا۔ شاید ہی کوئی ایسا وقت ہو جب دُرِ مختار اور فتاویٰ عالمگیری ان کے بازؤں کی رسائی میں نہ ہو! پھر بزرگوں سے سعدیٔ ثانی کا خطاب پایا۔ اس کالم نگار کے والد، خدا اُن کی لحد کو منور کرے، اُن چند متقدمین میں سے تھے جو جاہلی شاعری پڑھانا جانتے تھے۔ مدتوں مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے مدرسہ تعلیم القرآن میں حماسہ، متبنی، سبع معلقات، مقامات حریری پڑھاتے رہے اور عربی انشا سکھاتے رہے۔ جس دن اپنے طلبہ کو اپنی جیب سے چائے نہ پلاتے، بے چین رہتے۔ جسٹس افضل چیمہ مرحوم کہ ان کے نصف صدی پرانے دوست تھے، گھر آئے اور اصرار کر کے رابطہ عالم اسلامی میں مترجم اور ترجمان بنا کر لے گئے۔ کچھ عرصہ بعد وہاں سے فارغ ہوئے تو سیدھے مدرسہ پہنچے اور اسی دن تدریس شروع کر دی! ۳‘‘۔ ان بزرگوں کے فیضانِ تربیت نے اٹک، غرناطہ، سِسلی، بصرہ، بغداد، قرطبہ، استنبول اورسمرقند کو ایک کر دیا ہے:

دریچے کاخِ دل کے وا ہوئے ناگاہ میرے
میں تنہا تھا مگر تھے رفتگاں ہمراہ میرے

سمرقند دھرتی پہ اک آسماں زاد سب سے الگ
فلک دیکھ کر اس کو للچایا تھا اور میَں اس میں تھا

سمرقند اِک پرچمِ زرفشاں تھا افق تا افق
یہ پرچم زمانوں پہ لہرایا تھا اور میں اس میں تھا

نئی دنیا کی ساری سطوتیں پھوٹی ہیں مجھ سے
اروپا کا فسانہ میرے میناروں میں گم ہے

مسلمانوں کے عروج و زوال کی کہانی جن جن شہروں سے ہوتی ہوئی نئی دنیا میں آ تمام ہوئی، محمد اظہار الحق اُن میں سانس لیتے ہیں اور اُن کی واردات کو اپنی ذاتی واردات سمجھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح وہ پاکستان کے زخم زخم نظریاتی اور جغرافیائی وجود کے لیے مرہمِ اندمال کی تلاش و تمنا میں سرگرداں ہیں۔ اُن کی ’’۱۴۔اگست‘‘ اور ’’وطن آشوب‘‘ کی سی نظمیں درد آشوب کی سی دلسوزی اور دردمندی کی عکاس ہیں۔ حکمران طبقات کی آدرش فراموشی سے پیدا ہونے والے ابتذال نے ہمیں جس ابتلا میں مبتلا کر رکھا ہے وہ نظم ’’وطن آشوب‘‘ میں نمایاں ہے:

ذرا اُٹھ
یہ مشروب اور خشک میوے تپائی پہ رکھ
دختر نیک اختر سے کہہ لمحہ بھر کے لیے مغربی دھن میں گایا ہوا
گیت مدہم کرے
اور بیگم کی آدھی کُھلی چھاتیوں پر اگر گھر میں چادر نہیں ہے تو اپنا
لہکتا ہوا ریشمی گاؤن ہی ڈال دے
اور خود، تھوتھنی ناز و نعمت سے پروردہ کتّے کی گردن سے
بالوں سے باہر نکال
ذرا اُٹھ
لان کو پار کر اور پھاٹک پہ آ
مرا باپ اور میں جو خون
جلاتے رہے
وہ اب میرے بیٹے کی آنکھوں میں ہے

اس کربناک شدتِ احساس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ اپنے ’’رفتگاں‘‘ کا ہم نفس ہے۔ مسلمانوں کا رفتہ و آئندہ اُن کا اولین تخلیقی محرک ہے۔ مسلمانوں کے عروج و زوال کے زمانے اور زمینیں اُن کے فکر و تخیل کے آفاق ہیں:

عہد در عہد وہ صدیاں ہوئیں زندہ مجھ میں
جن میں ہم کارکن و کارکشا تھے پیہم

 اس آفاق نوردی کے دوران اُن کے قدم اپنی مٹی پر قائم رہتے ہیں۔ اپنے جغرافیائی وطن سے یہ جبلّی محبت انھیں اپنی روحانی قلمرو سے کچھ اور بھی قریب لے آتی ہے:

یہی مٹی سونا چاندی ہے جیسی بھی ہے
یہی مٹی اپنی مٹی ہے جیسی بھی ہے

اسی مٹی سے زیتون کے باغ اُگائیں گے
یہی غرناطہ یہی سِسلی ہے جیسی بھی ہے

چنانچہ وہ اپنے اسی خطۂ خاک پر اپنے ملّی خوابوں کی سرزمینِ پاک کی تلاش و جستجو میں نغمہ زن ہے اور یوں ہم اقبال سے انحراف کی بجائے اقبال کے اثبا ت کی شاہراہ پر گامزن اور اس سوچ میں گُم ہو جاتے ہیں:

اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں!

———-

حواشی

۱۔        محمد اظہار الحق کی حیران کن شاعری، مطبوعہ روزنامہ دنیا، ۲۷جولائی ۲۰۱۳ء۔

۲۔       سنہری زمین پرروشنی کا ایک پھول، قمر جمیل، کئی موسم گزرگئے مجھ پر،اسلام آباد، ۲۰۱۲ء، ص۲۳۳۔

۳۔       روزنامہ دنیا، ۲۷۔جون۲۰۱۶ء۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: