فاٹا، جمعیت علماء اور جمہوریت نواز گروہ — جاوید اقبال

0
  • 14
    Shares

قبائلی علاقوں میں جمہوریت کو فروغ دیدیا گیا۔ ساتھ میں عدالتی دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا۔ اب جبکہ تمام خطرات و مسائل سے کامیابی کیساتھ نمٹ لیا گیا ہے، اس فیصلے کے حسن و قبح پر تبصرے سے شاید کچھ معاملات واضح ہوجائیں۔ اس فیصلے سے کچھ پہلے میڈیا میں بڑی مہم چلائی گئی۔ اسی تناظر میں ڈان کے ایک کالم میں جناب زاہد حسین صاحب نے فاٹا کے معاملے میں افواج، علماء اور کچھ لیگی عہدیداروں کو رگیدا۔ کچھ لوگ تنہا یا خاندان سمیت کسی بھی طرح رگیدے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات بلاوجہ بھی رگیدے جاتے ہیں۔ ویسے تو ہر پاکستانی شہری آزاد اور عاقل و بالغ ہے۔ اسے آزادیء اظہار کا حق حاصل ہے۔ جب چاہے استعمال کرے اور جیسے چاہے استعمال کرے۔ مگر یہاں مسلم لیگ پر فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں دیر کا عجیب و غریب الزام عائد کیا گیا۔ پھر سیاست میں ووٹ کم پانے کا خوف دلایا گیا۔ بعد ازاں کچھ سمجھداروں نے عالمی مداخلت کا شوشہ ڈالا اور قبائل کے جلد از جلد انضمام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر یہ الزاماتی مہم اور خوف کی فضاء رنگ لائی۔ لیگی حکومت جھک گئی اور بھاگتے میں قبائل کو آزادی کا پروانہ و جمہوری حق ودیعت کردیا۔

ہمارے یہاں کچھ دیسی جمہوریت نواز خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور شاید یونانی کی شہری حکومتوں کے جمہوری ماڈل کے جدید انداز کو تمام مسائل کا واحد اور آخری حل تصور کرتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے کچھ دوست اس جمہوریت اور قبائل کی آزادی کا مکمل سہرا قاضی حسین احمد کے سر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ قاضی صاحب جہاد، آزادی، اسلام، جمہوریت اور اقبالیات سب کے باشعور طالبعلم بھی تھے۔ ان سے یکطرفہ فیصلے اور نام نہاد جمہوری تجربے کی توقع ناممکن تھی۔ پاکستان میں موجودہ جمہوری توشہ بڑے محدود مقاصد پر مبنی ہے۔ عالمی دباؤ نے اسکے فوائد کو محدود تر کر دیا ہے۔ سرحد پار جنگ نے اس جمہوریت پر بہت سی قدغن لگائی ہے۔ ملکی سیاسی گروہوں اور حکمرانوں نے جمہوریت کا گھٹیا ترین استعمال کرکے پارلیمان کو بدنام کر چھوڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی و معاشرتی طلباء جمہوریت کو یکے از اندازِ حکمرانی ہی سمجھتے ہیں۔ شاید نئے جمہوریت نوازوں میں اس دنیا سے باہر دیکھنے کی استطاعت نہیں۔ عالم میں بہت سے نظریات اور نظام ہائے کار زیرِ بحث رہتے ہیں۔ لیکن اس سے ہمارے جمہوریت پسندوں کا کوئی خاص بھلا نہیں ہوگا۔ جہاں چین نے اپنے سوشلسٹ نظریات کو کامیاب کرکے دکھا دیا اور معاشی میدان میں دنیا بھر کو دہلا کر رکھدیا ہے، وہاں ہم کسی محدود تر اور آسان ترین سیاسی تجربے سے بھی گریزاں ہیں۔ جمہورئیے بری طرح بوکھلائے ہوئے ہیں اور شدید غصے میں بھی ہیں۔ لیگیوں کے خلاف درجہ حرارت بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ شاید موسم کا اثر ہے۔ جمہوریت نواز جب بوکھلا جائیں تو پاکستان آرمی کو بھی ساتھ میں رگڑتے ہیں جہسا کہ مضمون میں کیا گیا۔ یہ تو آجکل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا خاصہ بن کر رہ گیا ہے۔ تحریر کنندہ کے خیال میں لیگی حکومت اپنی پارٹی کو بھی اعتماد میں نہیں لے رہی اور علماء کی بات سن کر یکطرفہ فیصلے کررہے تھی۔

جمعیت علماء فاٹا پر ریفرنڈم کی حامی ہے۔ عوام کو حق دینے کی قائل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔ یہ ایک جمہوری طرزِعمل ہے۔ کچھ لوگوں کو ریفرنڈم کے نتیجے میں جمعیت علماء کے مخصوص مفادات پورے ہوتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ انکے خیال میں ریفرنڈم عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔ اس پر کوئی وضاحت نہیں کہ ریفرنڈم کیوں ممکن نہ تھا اور غیر عملی کیوں تھا۔ سرتاج عزیز صاحب کی کمیٹی نے بھی ریفرنڈم کو اس بناء پر مسترد کیا کہ 90 فیصدی قبائلی جرگوں میں انضمام کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ معدودے چند جرگوں میں سے 90 فیصد کی اہمیت پر کوئی علمی دستاویز بھی موجود نہیں۔ علمی دستاویز کا تو ذکر ہی حرام ہے کیونکہ اس معاملے پر کسی علمی کانفرنس کا انعقاد تک نہیں کیا گیا۔ کوئی ایک باقاعدہ کتاب تک نہیں لکھی گئی۔ اس سے قبل عالمی مشاورت کا اہتمام کیا جاتا اور دنیا بھر سے قبائلی عمائدین و تحقیقاتی دانشوروں کو بلایا جاتا تو کمال کا نظم و نسق سامنے آتا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں پاکستانیوں کی فہم و فراست پر گفتگو ہوتی۔ لیکن ایسا ہونےسے شاید پاکستان نیک نام ہوجاتا۔ ریفرنڈم موجودہ تناظر میں اہم تھا۔ اس کے حامی علماء غلط نہیں تھے۔ پاکستان کے علماء ویسے بھی عوامی رائے کو اہمیت دیتے آئے ہیں۔ ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں جمعیت علماء کی اعلانیہ شمولیت سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے۔ لیکین نام نہاد جمہوریت نوازوں کو اس کا ذکر کرتے ہوئے خاصا افسوس ہوتا ہے۔ کچھ دانشوروں کے خیال میں علماء منفی سیاست کے قائل ہیں۔ ایسے لوگ فاٹا میں شاید جمہوری عمل سے بالا ہی بالا وزیرِ اعظمی حکمناموں کے ذریعے سے جمہوری حقوق عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ اور انیس صد تہتر کے آئین کا اطلاق قبائلی علاقوں تک بڑھ گیا ہے۔ شاید نئی نسل کے آزاد خیالوں کو اس آئین سے کچھ اچھی توقعات ہیں وگرنہ اس سے قبل پرانے آزاد خیال تو اس فریم ورک میں خاصی دقت محسوس کرتے رہے ہیں اور اسے صبحِ بے نور قرار دیتے رہے ہیں۔ یا پھر پشاوری انتظامیہ سے انہیں کچھ انسیت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ ناچیز بالکل معلوم نہیں کرپایا کہ کابینہ کی منظوری سے نافذ ہونے والے وزیرِ اعظمی احکامات میں کونسی جمہوریت ہے۔ میڈیا میں پارلیمانی فیصلوں کو تو ہمیشہ ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسی آزادیء رائے ہے۔ فریڈم کا یہ کونسا پرتو ہے جس کی جلوہ انگیزی سے قبائل اور پاکستانی یا پشتون اور مسلمان مزید مستفید ہونگے۔ کیا عوامی رائے کا احترام اہم ہے یا عوام پر وزیرِاعظم کے یکبارگی احکامات ؟ اس کارِخیر سے ڈان جیسے جناح پرست اخبار کے توسط سے دنیا بھر میں پاکستانیوں کی جمہوریت نوازی اور جناح کی اصول پسندی کو کیسے مشتہر کیا جارہا ہے؟ یا للعجب۔۔۔۔

اسلام پسندوں کو بھی جمہوریت نوازی کا علم ہے۔ جہوری روایات پر عمل کے عادی بھی رہے ہیں۔ کچھ اسلام پسندوں کو جمہوریت نوازی کے دورے بھی پڑتے ہیں اگرچہ بعد ازاں وہ اس پر پچھتاتے بھی ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں جمہوریت نوازی کا خوب مظاہرہ کیا۔ مارشل لاء کی بی ٹیم کہلانے کے باوجود اسلام پسندوں نے کسی کو حکمران کے طور پر قبول نہیں کیا۔ لیکن دوسری جانب کچھ ایسے بھی جمہوریت نواز آزاد خیال جمہورئیے تھے جنہوں نے مشرف کو سجدے کئے اور مارشل لاء کے تحت امن کی آشا چلائی۔ تمام دنیا سے بھاری رقوم وصول کیں۔ وہ آج تک اپنی حرکات پر کسی جمہوری عدالت میں جوابدہ نہیں۔ ایسی جمہوری عدالت آجتک اس لئے وجود میں نہیں آئی کہ کسی جمہوریت پسند گروہ کا اس میں فائدہ نہیں۔ شاید مستقبل میں ایسی کسی عدالت میں مشرف کو جوابدہ کیا جاسکے۔ لیکن جمہوریت نواز اور انسانی حقوق کے دعویدار کسی عدالت میں پیش نہیں کئے جاسکیں گے۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ کسی کا میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہوگا۔

دراصل پاکستان میں کسی نے جمہوریت کو اپنایا بھی تو فقط اپنے وقتی فائدے کیلئے۔ اسے بطور اصول و قانون اپنانے میں کسی کو بھلا نظر نہیں آیا۔ کسی نے ذاتی اقتدار کیلئے اپنایا تو کسی نے سوشلزم کے نفاذ کیلئے سیڑھی بنایا۔ کس نے پارٹی کے وقتی فوائد حاصل کئے۔ لیکن جمہوریت کو بطور خود مکمل اصول کے طور پر اپنانے میں گھاٹا ہی گھاٹا ہے کیونکہ اس طرح نظریاتی انداز اختیار کرکے قربانی دینا پڑتی ہے اور وقتی مفادات پر زد پڑتی ہے۔ تمام لوگ وقتی فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں طویل مدتی سرمایہ کاری سے کسی کو فائدہ نظر نہیں آتا۔

دارالحکومت سے مشتہر ہونے والا یہ فیصلہ دنیا بھر میں عوامی رائے کی توہین کیلئے یاد رکھا جائیگا۔ اس سے یہ سمجھا جائیگا کہ قبائلی عوام شاید ابھی تک اپنے حقِ خود ارادیت کے قابل نہیں۔ وہاں ڈنڈے کے ذریعے سے کوئی بھی نظام نافذ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی اپنے ملک میں بھی ذلیل و رسوا ہیں اور انکی آواز اسلام آباد میں بھی نہیں سنی جاتی۔ امریکہ سے برسنے والے میزائل اور وہاں اڑنے والے ڈرون ہی درست ذریعہ تھے۔ ایسے لوگوں کا اسکے سوا کوئی علاج نہیں۔ یہ بالکل غلط پیغام ہے۔ شاید جمہوریت نوازوں کو خطرہ ہے کہ فاٹا میں کسی نئے طور کا درست سیاسی تجربہ نہ کرلیا جائے۔ کسی ایک پارٹی کا مینڈیٹ زیادہ نہ آجائے جس سے کسی مخصوص گروہ کے مفادات کو نقصان پہنچ جائے۔ کیا یہی جناح کی اصول پسندی ہے جسے ڈان سے مشتہر کیا جائے اور دباؤ ڈال کر لیگیوں کو جھکا لیا جائے؟

پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں پاکستان کے مفاد کیلئے آپریشن کئے۔ اگرچہ ان آپریشنوں کے نتائج اور طریقہ کار پر مجھے اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود ان آپریشنوں کو آزاد خیال لبرل جمہوریت نوازوں نے سراہا۔ ایسے ڈونگرے بجائے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ ان کے خیال میں یہ اسلام پسندوں پر ایک فتح تھی۔ امن کی فاختہ کا پھریرا لہرانے پر پاک فوج کو تعریف و توصیف حاصل ہوئی۔ لیکن زیرِ نظر مضمون میں جنرل عبدالقادر کے بیان پر ہونے والا ایک نامناسب کمنٹ حیران کن ہے۔ جس میں یہ کہا گیا کہ فوج فاٹا کے صوبے کے ساتھ انضمام کے خلاف ہے۔ اس پر براہِ راست تبصرہ تفصیل کیساتھ تو موجود نہیں۔ لیکن باقی تمام مضمون میں انضمام کے حق میں لکھے گئے دلائل کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مضمون نگار کیا لکھنا چاہتے ہیں۔ مجھ ایسے ناچیز کو اس پر کوئی خاص اعتراض نہیں کہ فاٹا کا کیا فیصلہ ٹھہرا۔ مگر جس طریق پر اطلاعاتی مہمات جاری تھیں، اس سے معلوم پڑتا تھا کہ ہمارے سیانے کچھ نہ کچھ کروا کر رہیں گے۔ اب شاید اطمینان نصیب ہوجائے بھلے پاکستان کے عوام، ریاستی مقاصد اور اسلامی و سماجی اداروں پر قیامت ہی کیوں نہ بیت جائے۔

ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ملک کے دیہاتی اور دور دراز کے علاقوں کو ڈنڈے کے زور پر درست کیا جائے۔ انکی ایسی گوشمالی کی جائے کہ دن میں تارے نظر آئیں۔ ایسے لوگوں کو ایک حکمنامے کے ذریعے سے قانون کا پابند بنا کر ان پر جدید تعلیمی دوا کا استعمال کیا جائے جس سے یہ لوگ انسان بن جائیں۔ لیکن یہ تمام تاثر کم از کم جمہوری روایات کے بالکل خلاف ہے۔ ہر ایک پاکستانی برابر کا شہری ہے۔ اس کے حقوق و فرائض برابر ہیں۔ ہر شہری کو اپنے لئے رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ کچھ شہری اعلیٰ اور دوسرے کمتر نہیں ہیں۔ یہی سماجی عدل ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئیے۔ جمعیت عماء کے علاوہ باقی پارٹیوں اور گروہوں کے علاوہ دانشوروں کو بھی اسے موقع سمجھ کر قبائلی عوام کو رہنمائی دینے کیلئے پہنچ جانا چاہئیے تھا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور نہ ہی کرنے دیا گیا۔ حالانکہ یہ وہ علاقہ ہے جس نے برطانویوں کو شکست دی۔ روسیوں کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی پسندوں کو درست طور پر تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا تو کوئی درست انداز اختیار کیا جاتا۔ اسلام پسندوں کو مکمل اعتماد میں لیا جاتا۔ اب ایک جانب امریکیوں کیساتھ محاذ آرائی موجود ہے تو دوسری جانب اسلام پسندوں کیساتھ بھی مکمل ہم آہنگی نہیں لائی جاسکی۔ ملک اس دو طرفہ دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ سیاسی فیصلوں میں دانش و حکمت کیساتھ ان معاملات کو حل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن بہت سا خلاء اور بہت سے سوالات کیساتھ ایسے فیصلے مسائل میں اضافے کا سبب ہوسکتے ہیں۔

کیا معدودے چند لیگی اور نامعلوم دانشور اس معاملے کی گہرائی کو پاٹ سکتے ہیں۔ اس موقع کو 1973 ء کے آئین کیلئے بھی لٹمس ٹیسٹ کے طور پر دیکھا جاسکتا تھا کہ آئین و قانون اور اسکا نفاذ کرنے والی مشینری سے عوام کا وہ طبقہ کس قدر مطمئن ہے جس پر یہ براہِ راست نافذ نہیں۔ اگر کوئی متبادل اندازِ فکر اور نظامِ عمل موجود ہے جیسا کہ فاٹا میں جرگے کا عملی نظام موجود تھا اور اسکے حق میں رائے عامہ اب بھی موجود ہے۔ اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں تھا بشرطیکہ عوام اس کے حق میں رائے دیتے۔ کم از کم جمہوریت کا بنیادی مقصد و مقصود یہی تھا۔ اس کیلئے عالمی اداروں اور جمہوری و علمی اداروں کیساتھ گفت و شنید کرکے نیا اندازِ کار اپنانا ممکن تھا۔ اسلامی اداروں اور گروہوں کو شامل کرکے نمائندگی دیجاتی تو شاید کامیاب تجربات کئے جاسکتے۔ لیکن ہمارے یہاں اقدامات کا انداز آج بھی حاکمانہ ہے۔ اسلامی انداز کی مشاورت یا گہری جمہوری و علمی بیباکی ناپید ہے۔ اس کیلئے کسی نوآموز کی بجائے زیادہ پختہ کار علیگڑھ کی نمائندہ تنظیم سے امید تھی۔

ہمارے سیانے اور بااثر گروہوں کو سمجھانا مشکل ہے کہ فاٹا کا فیصلہ کرنے سے قبل عقل و ہوش اور علم و دانش کا استعمال مناسب تھا۔ ایسے ہی جلد بازی بھی کسی طور کام نہ آئیگی۔ اس علاقے کے بارے میں تعلیم یافتہ تحقیق دانوں اور علماء کو اعتماد میں لئے بغیر اور مشاورت کے عمل کو مکمل کئے بغیر کوئی بھلائی نصیب ہونا مشکل ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کی تاریخی اہمیت کو ایک طرف رکھ دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ قبائلی علاقی کو فقہ حنفی کے بیس کیمپ کے طور پر مانا اور جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں سے مزاحمتی تحریکوں کو بڑی پذیرائی حاصل ہوتی رہی ہے۔ اس لحاظ سے وہ انقلابی ہیں۔ ایسے علاقوں پر جلد بازی میں نافذ کئے گئے فیصلوں کا نقصان تادیر ملک و ملت کے سر پر سوار رہے گا۔ ایک چھوٹے سے فیصلے سے انہیں ملت کے میں ضم کرنا مشکل ہوگا۔ فوج شاید اس بناء پر بھی محتاط ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے حالات دوبارہ بگڑ جائیں اور پھر میدان گرم ہوجائے۔ آخر کار میدان میں لڑنے والے کو حقائق زیادہ معلوم ہیں۔ دور بیٹھ کر خواہشات کی دلفریب دنیا میں خواب دیکھنا آسان ہے۔

یہ سمجھنا آسان ہے کہ فقہ حنفی کا حوالہ صرف سیکولر ہی نہیں اسلام پسندوں کے مجتمع کرنے والے گروہوں کو بھی کچھ نامناسب لگے گا۔ جمعیت علماء آج بھی فقہ حنفی کی داعی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن قبائلی علاقوں میں انگریزی قانون کا اسلامی متبادل صرف فقہ حنفی ہی کو مانا جاتا ہے۔ اس پر زور اس لئے کہ سرحد پار اسی اثر و رسوخ کی بناء پر افغان و عالمی قانون سازوں کو آئین کی شق 130 میں فقہ حنفی کے واضح الفاظ شامل کرنا پڑے۔ افغان تاریخ کے کسی بھی حقیقی طالبعلم پر یہ معاملہ روزِ روشن کی طرح واضح ہونا چاہیئے۔ ایسے میں اگر قبائلی علاقوں میں فقہ حنفی نہ سہی، اسلامی قوانین کا شعوری و مکمل اطلاق نہ ہؤا تو شاید مسائل بڑھ جائیں۔ اگر جمہوری و آئینی حقوق دینے کے باوجود وہاں مسائل قابو میں نہ رہے تو کس کو دوش دیا جائے؟ کیا اسلامی جمہوریوں کو جنہوں نے اپنے موجودہ اتحاد کے ساتھیوں تک کو نہ سمجھایا۔ یا اخباری کالم نگاروں کو جنہیں عوام کم اور مالکان زیادہ جانتے ہیں۔ یا کسی ایسے علمی تجزیہ نگار کو جسے جرگے کی حقیقت پر ایک کتاب پڑھنا نصیب نہ ہوئی۔ یا اس کمیٹی کو جس نے خود ریفرنڈم کا ذکر کیا اور پھر اس سے انحراف کیا۔ سفارشات میں بھی ریفرنڈم کا واضح ذکر موجود ہے۔ ڈیورنڈ لائن جیسے اہم معاملے کی بناء پر یہ بہترین موقع تھا کہ لوگوں سے رائے لیجاتی۔ اس سے فیصلوں کو مؤقر کرنے میں مزید مدد حاصل ہوتی۔ ریفرنڈم جسقدر شفاف ہوتا، اسی قدر عالمی پذیرائی حاصل ہوتی اور مستقبل میں کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ یہ صرف ایک علاقے یا صوبے کا معاملہ نہ تھا بلکہ ایک عالمی اہمیت کے خطے کا تھا۔ عالمی اہمیت کے خطوں کی قانونی حیثیت کو ممکن حد تک غیر متنازع بنانے کیلئے اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔ اس کیلئے کئے گئے فیصلوں میں زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انتظامی معاملات کو شفاف رکھا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ احتیاط کی جاتی ہے۔ عجلت میں کئے گئے فیصلے کو واپس لینا پڑا، مکمل صوبہ بنانا پڑا یا اسے مؤقر بنانے کیلئے ریفرنڈم کرنا پڑگیا تو بڑی مشکل ہوگی۔ اس سے فیصلہ کرنے والوں پر حرف آئیگا اور فیصلوں کی کمزوری صاف ظاہر ہوجائیگی۔

یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے خلاف بے تحاشا علمی و سماجی طوفان اٹھے گا۔ علمی سے مراد اسلامی علوم و سماجیات کے علاوہ قبائلیات مراد ہیں۔ تہذیبی علوم پر لکھنے لکھانے والے اور جرگوں پر تحقیق کرنے والے اس فیصلے کے خلاف طومار کھڑا کردیں گے۔ افغانی تہذیب تو قائم ہی جرگے پر ہے۔ موجودہ انتظام کے ذریعے اسکا علمی توڑ کرنا مشکل ہوگا۔ اس اقدام کو جمہوری تسلیم کروانا مزید مشکل ہوجائیگا۔ اگر موجودہ نظام ناکام رہا تو علماء صاف ایک جانب ہوجائیں گے۔ قبائلی جرگے دار پہلے ہی بے طاقت ہوچکے۔ سیاسی مجمع باز کچھ دن تو اچھے لگیں گے لیکن حقیقی معاملات میں کسی کام نہ آسکیں گے۔ مقامی انتظامیہ کو اپنے فیصلے نافذ کروانے کیلئے دوبارہ فوجی طاقت کے استعمال کی ضرورت پڑی تو سول انتظامیہ کا بستر لپٹ جائیگا۔ قبائلیوں کو تھانے کچہری، دفاتر اور عدالتوں کے دھکے کھانے پڑے تو عملی اقدام کرنے پر نہ تل جائیں جیسے پہلے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔ ہمیشہ حالات اچھے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہمیشہ سمجھدار حکمران نصیب ہوتے ہیں۔ سرحد پار کے عناصر کو برتری حاصل ہوجائیگی۔ کچھ کو جواز میسر آئیگا۔ ان خدشات کے خلاف صرف ایک ریفرنڈم تمام جواز فراہم کرسکتا تھا۔ اب بھی نئی حکومت کے آتے ہی آئینی قرارداد لاکر ریفرنڈم کرلیا جائے تو شاید معاملات خراب ہونے سے قبل ہی سدھار لئے جائیں۔ صوبے بنانے کا معاملہ قانون و آئین اور حقائق کی روشنی میں دیکھ لیاجائے اور عالمی قانون یا سماجیات کے ماہرین کے علاوہ علماء کیساتھ مخلصانہ مشاورت کرلی جائے۔ درست کام کیلئے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ لیکن عوامی نظاموں کو سماجی اداروں اور مذہبی قوانین کے تحت چلانا ہی سمجھداری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: