سنتے کانوں کا قحط —— فوار رضا

0
  • 48
    Shares

مجھے اور مجھ ایسے بہت سے فیس بک دانشور اکثر اوقات یہاں بہت کچھ لکھتے نظر آتے ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ ہم سب بہت زیادہ فارغ ہیں یا پھر ہمیں بہت زیادہ لکھنے کی ہوس ہے۔۔

پاکستان کے علاوہ تو معاشرے کے نباض ایسا کہیں نہیں کرتے کہ اپنے خیالات فیس بک پر انڈیلتے رہیں، پھر یہاں کیا مسئلہ ہے۔۔۔

مسئلہ سماعتوں کا کال ہے جو اس ملک میں ہے، ہم وہ لوگ ہیں جن میں آوازیں چیختی ہیں، غل مچاتی ہیں، کہرام برپا کرتی ہیں کہ اٹھو اور لوگوں کو بتاؤ کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب غلط ہو رہا ہے۔۔

یہ آوازیں تقاضا کرتی ہیں کہ ہم عوام کو آگاہ کریں کہ وہ روشنی کے مغالطے میں اندھیرے خرید رہے ہیں۔۔ لیکن عوام! افسوس یہ اکیس کروڑ، کاش میں انہیں جالب کی طرح گدھے کہہ سکتا۔ تو یہ جو اکیس کروڑ ہیں یہ سننے پر آمادہ ہی نہیں۔۔۔

ان میں سے اکثریت جون ایلیا نامی اس پاگل بوڑھے کو رد کرتی ہے جو عظمتِ انساں کا خواب دیکھا کرتا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ جون کے اس مقولےپر بھی سختی سے کاربند ہیں کہ ”میں اگر اپنےجھوٹ کے ساتھ خوش ہوں تو تم مجھ پر اپنا سچ مسلط کرنے والے کون ہوتے ہو”.

تو میں کہہ رہا تھا، ہاں! میں کہہ رہا تھا کہ یہ سب اپنے اس دھوکے میں خوش ہیں۔ مسئلہ تو ہم آسمانوں سے رد کیے گئے نابغوں کا ہے کہ جنہیں دن رات رد ہونے کی ملامت سہنا پڑتی ہے۔۔ یہ اکیس کروڑ ہمیں سنے بغیر ہی رد کردیتے ہہں اورہم ہونقوں کی طرح منہ تکتے رہ جاتے ہیں کہ ہم نے تو انہی کے فائدے کی بات کی ہے اس میں نقصان کہاں ہے؟؟؟…

ابھی کچھ دیر پہلے ہی اقبال خورشید کی وال پر ایک تحریر دیکھ رہا تھا جس کاعنوان تھا کہ ‘مہاجر صوبہ ایک گمراہ کن نعرہ ہے’… غیر ملکی ادب کا دلدادہ یہ شخص سمجھتا ہے کہ مہاجر صوبہ سندھ میں نفرتوں کی آگ جلائے گا سو وہ ان مسائل کا حل انتظامی بنیادوں پر تجویز کرتا ہے، ایسی تجویز جس میں کراچی کے بھی تین حصے ہوں گے۔۔۔۔

مجھے 101فیصد یقین تھاکہ مہاجر صوبے کی حامی یہ بات کبھی نہیں مانیں گے سو کمنٹس پڑھنا شروع کیے۔۔۔ یہاں میرے لیے حیرت سے مرجانے کامقام تھا کہ وہ تحریر جن لوگوں کے موقف کی نشاندہی کررہی تھی، وہی لوگ اقبال کو معطون کررہے تھے۔۔

سر تھام کر بیٹھ گیاکہ یہ خدا یہ ماجرا کیا ہے، کیا یہ لوگ اندھے بہرے اور گونگے ہیں؟ یا انکے دلوں پر مہر لگ چکی کہ اب کچھ بھی سمجھ نہیں سکتے۔۔ یقیناً مسئلہ وہی ہے جو مجھے اور مجھے جیسے ہر شخص کو درپیش ہے کہ سننے والے کان اب نایاب ہیں۔۔ اب تو بس زبانیں ہیں جو آگ برسارہی ہیں اور اس آگ کی تپش میں ہم قلم قبیلے کے لوگ جھلسے جارہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: