گھر جاندی نے ڈرنا ! —– شہزاد حنیف سجاول

0
  • 47
    Shares

یہ 19 دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح ہے ہلکے ہلکے بادل،تیز ہوا اور کبھی کبھی آسمان کی کوکھ سے ٹپکتی بوندیں۔ جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا تو چشم تخیل میں یادوں کے پے در پے دریچے کھلتے چلے گئے۔فروری 1979 کو جب گھر سے چلا تھا تو یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اب کی بار گھر واپسی کو 18 برس بیت جائیں گے۔ 11 فروری 1979،کی ایک ٹھٹھری ہوئی کہر آلود صبح تھی جب میں نے دو ہمراہیوں کے ساتھ پشاور کے راستے افغان بارڈر عبور کیا تھا۔ جب حالات کا سنگین پنجہ مجھے اپنی گرفت میں لے لینا چاہتا تھا اور آج دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح راولپنڈی کے ہوائی اڈے پر میرے استقبال کو آئی ہے۔ لیکن ہندسوں کے الٹ پھیر نے وقت کے کیلینڈر سے میری زیست کے 18سال نوچ لئے ہیں۔

اٹھارہ سال قبل جو آخری قدم مادر گیتی سے اٹھا تھا آج جب جہاز کے دروازے سے باہر رکھا تو مارگلہ کی یخ ہوائیں میرے گالوں کو چھو کر گلے کا ہار ہو گئیں۔ سر زمین وطن کو چھوتے ہی یوں لگا جیسے ماں نے اپنی آغوش میں لے لیا ہو اور اپنے آنچل سے میرے چہرے پر جمی ہوئی ہجرتوں کی گرد صاف کرتی ہو اور پوچھتی ہو کہاں مارے مارے پھرتے رہے ہو ذرا دیکھو تو کیا حال کر لیا ہے اپنا۔ طویل سفر کے نڈھال مسافر کے پاؤں جیسے زمین میں گڑھ گئے ہوں اور اٹھائے نہ اٹھتے ہوں۔ عقب سے کسی نے میرا کندھا چھو کر کہا یہاں رکنا مناسب نہیں براہ کرم چلتے رہیئے۔ میرے کانوں میں اٹھارہ سال قبل افغان سپاہی کے الفاظ گونج گئے جس نے انتہائی درشتگی سے دھکیلتے ہوئے کہا تھا، ”برو برو ایں جا اجازہ استادن نیست” تب میری اداس نگاہیں مادر وطن کو الوداعی سلام پیش کر رہی تھیں اور کھینچ کر ٹوٹ گئی تھیں۔ لیکن آج اس تھپکی میں اپنائیت اور پیار کا لمس رچا ہوا ہے اور نگاہیں سر زمین وطن پر سجدہ ریز ہیں۔

مصنف

18برسوں تک جلا وطنی کے سراب میں بھٹکنے، قیدوبند کا درد سہنے، اور موت کے خوفناک پنجوں سے زندہ بچ نکلنے کے بعد بالآخر میں اپنی پر نم آنکھوں کے ساتھ اس چھوٹے سے گمنام گاؤں درکالی شیر شاہی میں داخل ہوا جس کے گلی کوچوں میں کھیل کر میں جوان ہوا تھا۔زمانے کی رفتار نے ان برسوں کے دوران اس گاؤں کے خال و خد بھی سنوار دیۓ ہیں۔ کبھی جو ایک پگڈنڈی نما راستہ ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ باتیں کرتے ہماری مسافتیں کٹا کرتی تھیں اس کی جگہ آج ایک پختہ سڑک ہے جس کی روانی میں مسافتیں سمٹ آئی ہیں۔ تب گاؤں کے مکان مکینوں کے دلوں کی طرح ساتھ ساتھ ملے ہوئے تھے ان کی بیرونی دیواروں پرگارے کا لیپ ہوتا تھا اور اندورنی حصے پر کھریا مٹی میں ملائے ہوۓ نیل کا پوچا۔ جس کے سبب دیواریں ہلکے سمندری رنگ کی نظر آتی تھیں۔ مٹیالے رنگ کے ان مکانوں کی قطاریں زمین سے ابھرے ہوئے ٹیلے دکھائی دیتے تھے۔ گیٹ کے بغیر کچی دیواریں اور ہر گلی میں کھیلتے ہوئے بچے۔ ان کچے مکانوں کی جگہ اب بلند بام کوٹھیوں نے لے لی ہے گارے کے لیپ سفید انیمل پینٹ سےبدل گئے ہیں جہاں سر شام مٹی کے چراغ جلتے تھے اب بجلی کے قمقمے جگمگاتے ہیں کچے راستے پکی گلیوں کے پیٹ میں اتر گئے ہیں۔

وقت کی گاڑی درکالی شیر شاہی کے ٹوٹے پھوٹے قبرستان میں آ رکی ہے جس میں میری پوری کائنات تہ خاک آسودہ ہے کیا کیا دنیائیں تھیں جو اجڑ گئیں کیسی کیسی کہکشائیں تھیں جو عدم کی پہنائیوں میں اتر گئیں۔ ڈھیروں پیار کرنے والے بزرگ آج ڈھیروں مٹی اوڑھے محو خواب ہیں یہ میری بے (امی) کی قبر ہے کچی سی بے نام قبر تلے میری جنت دفن ہے اور میں اس کے قدموں میں کھڑا ہوں 1979 میں ان سے ملا تو یہ خیال بھی نہ آ سکا تھا کہ آخری ملاقات ہو گی اور بے دید بصارتیں یہ چہرہ بار دگر نہ دیکھ پائیں گی۔ 1981 میں میری پھانسی کی خبر سن کر صدمہ قلب سے چل بسیں انھیں میرے سر پر سہرا سجانے کی بڑی آرزو تھی اسی چہرے کو جب چشم تصور سے دار پر جھولتے دیکھا تو مارے خوف کے آنکھیں میچ لیں اور پھر کبھی نہ کھولیں۔ ان کی قبر دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ موت بھی کس اندھی بہری اور بے حس کیفیت کا نام ہے ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں ان کے قدم چھوتا اور وہ اٹھ کر مجھے گلے سے نہ لگا لیتیں اور کہتیں ”بہت دیر سے آئے ہو پتر”۔

یہ میرے جی (والد) کی قبر ہے راست گو اور راست باز، گاؤں کے پہلے فوجی آفسر تھے دو عالمی جنگوں میں گولیوں کی برسات میں بر سر پیکار رہے لیکن جان 90سال کی عمر میں بستر پر دی حالات کے جبر کے آگے سر نہ جھکانا میں نے انھیں سے سیکھا۔ یہ میری بُوا (پھوپھی) اور ماسی (خالہ) کی قبریں ہیں دونوں بے اولاد تھیں چنانچہ دونوں کا ممتا مجھ پر نچھاور رہتی تھی میں آنکھیں بند کئے کتنی ہی دیر ان کی یاد میں ڈوبا رہا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اب کی بار جب گاؤں لوٹ کر آؤں گا تو ان میں سے کسی کو بھی دیکھ نہ پاؤں گا۔ ماں کے ہاتھ چوم سکوں گا نہ والد کے گلے لگ سکوں گا خالہ اور پھوپھی کے بوسے بھی نصیب نہیں ہوں گے۔ وقت کا المیہ ہے وہ کب کسی کا انتظار کرتا ہے۔

یہاں میرے گاؤں کی تہذیب کا مرکز ایک کنواں ہوا کرتا تھا جہاں سر شام گاؤں کی عورتیں اور لڑکیاں پانی بھرنے آیا کرتی تھیں ایک دوسرے کے ساتھ گھر گرہستی کی باتوں کے علاوہ کچھ افواہوں پر بھی تبادلہ خیال کر لیا کرتی تھیں۔ مگر اب تو ہر گھر میں پانی کا نلکا موجود ہے سو یہ مرکز اب اپنی کشش کھو کر پیوند خاک ہو چکا۔ یہیں کہیں ان مکانوں کی بنیادوں کے نیچے اس چھتنار درخت کی جڑیں بھی دفن ہوں گی جس کی بلند شاخوں میں پینگیں ڈال کر گاؤں بھر کے لڑکے لڑکیاں اونچے اونچے الارے لیتے تھے میری سماعتوں میں ابھی تک اس شور کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو کسی کی اونچی اڑان پر مچتا تھا۔ کئی سال قبل جب میں نے اپنی پنڈلیوں کا سارا زور لگا کر اونچی اڑان بھری تھی تو خبر نہ تھی کہ پینگ جب واپس آئے گی تو وقت کی مٹھی سے میری زندگی کے 18سال سرک چکے ہوں گے۔

یہ گلی جو پلاسٹک کے پولی تھین بیگوں سے اٹی پڑی ہے میرے گھر کو جاتی ہے یہ ایسی تو نہ ہوا کرتی تھی یہ بڑی خوشدلی کے ساتھ میرا استقبال کیا کرتی تھی مگر آج یہ بہت کم آمیز ہے شائد اس کی سنگی پختگی میں میرے لئے کوئی لگاوٹ نہیں ہے۔یہ میرے گاؤں کی مسجد ہے اس کے درو دیوار میں مولوی فضل الہی کا عکس جھلملاتا ہے یہاں اس کے بالمقابل ”بُوا شاہی” کا مکان ہوا کرتا تھا جہاں سے ہر لمحہ بُوا کہ بلند آہنگی کا شور سنائی دیتا تھا لیکن اب خاموشی کا راج ہے مکان تو یہی ہے لیکن مکینوں نے ڈیرے بدل لیےہیں۔ بوجھل قدموں کے ساتھ میں اپنے گھر کی جانب بڑھتا ہوں لیکن میرا ماضی یاد یاد بن کر میرے قدموں سے لپٹ لپٹ جاتا ہے اور مجھے روک روک لیتا ہے کبھی میں اس گلی میں سے بے فکری۔ اور سر مستی کے ساتھ گزر جایا کرتا تھا لیکن آج ٹھہر ٹھہر کے چلتا ہوں۔

ہاں! یہیں اس مکان میں کوئی رہتا تھا۔ کون تھا؟ حریم دل میں اس کی یاد آج بھی گاہے کروٹیں بدلتی ہے۔ جھوٹے روپ کے درشن میں اس کا سچا روپ بھی شامل تھا اس کے سانسوں کی پھوار آج بھی میرے چہرے پر گرتی ہے اس لے لمس کی حرارت آج بھی میں اپنے بدن میں محسوس کرتا ہوں اس کی چاہت نے مجھے لڑکپن کی تنگنائے سے کھینچ کر جوانی کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا۔ میری ماں مجھے نہائت فکر مندی سے آوازیں دیتی تھی کہ یہ تم کن راستوں پہ چل نکلے ہو یہ موت کا رستہ ہے اور میں نے قدم روک لیے تھے موت کے ڈر سے نہیں ماں کے آنسوؤں کے خوف سے۔ اس میں میرے جوان لاشے پر رونے کی ہمت نہیں تھی۔ اس نے کہا تھا شہر جا کر خوب پڑھو اور بڑے آدمی بن جاؤ میں شہر چلا گیا اور بڑا آدمی بننے کی دوڑ میں جت گیا۔ اس نے اپنا گھر بسا لیا اور میرا گھر اجڑ گیا۔ میرے کان اس شیریں دہن کے منہ سے ”بابو” سننے کے طلبگار ہیں مگر خموشی بھی کیا گفتگو کرتی ہے؟ شہر خموشاں میں تو سبھی کے لب سلے ہوتے ہیں!

آنسو پونچھتے۔ بوجھل قدموں کے ساتھ میں گھر کی دہلیز کے اس پار اتر گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے سب کچھ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے ہمالہ بھی۔ سمندر بھی۔ ہوائیں بھی اور وہ محبت بھرا سماج بھی۔ زندگی کے سورج کو شام نے آ لیا ہے۔

میرا بچپن میرا پیش رو ہے اور میری راہ نمائی کرتا جاتا ہے میری دید اپنے گھر کے جس منظر سے شناسا تھی وہ آج وہاں نہیں ہے گھر گلیاں اور راستوں کے ساتھ دہلیز بھی بدلی ہوئی ہے کبھی یہاں ایک سنگی سیڑھی ہوا کرتی تھی حسے الانگ کر ہم اپنے ”ویہڑے” (صحن) میں داخل ہو جایا کرت تھے آج وہاں ایک آہنی گیٹ میرا راستہ روکے کھڑا ہے ویہڑے میں میری ماں میرے استقبال کو ہمیشہ موجود ہوا کرتی تھی لیکن آج نہیں ہے جو بزرگ میں چھوڑ کر گیا تھا وہ سب بہشت نشیں ہو چکے جو بچے تھے آج اپنے بچوں کو باز کراتے پھرتے ہیں میرے ہم سن اب بزرگی کے درجے پر فائز ہیں۔ یہ راجا تاج ہے ہم دونوں نے عملی زندگی کا آغاز ایک ساتھ کیا تھا لیکن چند قدم بعد ہمارے راستے جدا ہو گئے اب یہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہے۔ یہ حنیف قریشی ہے پرانی انار کلی لاہور میں صابر منہاس کے کوارٹر کتنی حسین شاموں کی یادیں اس کی آنکھوں میں جگمگا رہی ہیں۔ یہ میری بھتیجی ہے کبھی میرے کاندھوں پر کھیلا کرتی تھی اب اس کے بالوں میں بھی چاندی اتر آئی ہے۔ یہ چیٹو ہے۔ ننھا منا گول مٹول سا بچہ تھا اور اب بانکا سجیلا جوان ہے اسے دیکھ کر اپنی جوانی یاد آتی ہے جو دیار غیر میں جبری ہجرتوں نے چاٹ لی ہے۔

آنسو پونچھتے۔ بوجھل قدموں کے ساتھ میں گھر کی دہلیز کے اس پار اتر گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے سب کچھ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے ہمالہ بھی۔ سمندر بھی۔ ہوائیں بھی اور وہ محبت بھرا سماج بھی۔ زندگی کے سورج کو شام نے آ لیا ہے۔ میاں محمد بخش صاحب نے شاید اسی موقع کے لئے کہا تھا۔
شام پئی بن شام محمد، گھر جاندی نے ڈرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

پس نوشت۔
یہ کہانی معروف ترقی پسند اور انقلابی راہنما راجہ انور کی اٹھارہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کے پس منظر میں لکھی گئی ہے اس میں تمام واقعات اور کردار حقیقت پر مبنی ہیں اس تحریر مین بعض جملے راجہ صاحب کی مختلف تصانیف سے مستعار لئے گئے ہیں۔
راجہ صاحب کی عظیم جہدوجہد کے نام میرا سلام

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: