تیرا چور، میرا چور —- شہزاد حسین

0
  • 20
    Shares

اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں اس سے پوچھ ہی بیٹھا۔

“اور تمھاری دوست کا کیا حال ہے؟ معاملہ کہاں تک پہنچا؟”

“یار میرا اس سے بریک اپ ہوچکا ہے۔”
اسکا لہجہ حتمی سا تھا۔۔۔

مجھے حیرانی کا ایک جھٹکا سا لگا۔۔۔

“لیکن اچانک ایسا کیا ہوگیا؟”
کچھ نہ سمجھتے ہوئے میں نے پوچھا

“یار وہ کہا کرتی تھی کہ میں اجنبی لڑکوں سے دوستی کی قائل نہیں۔ اب گروپ اسٹڈی اور گیدرنگ کے بہانے وہ اور اسکی کچھ سہیلیاں عموماً لڑکوں کے جھرمٹ میں نظر آتیں ہیں۔ میں ایسی بیہودگی و بےشرمی کیسے براداشت کرتا یار؟ کئی بار اس معاملے پر ہمارا جھگڑا ہوا۔ کہتی ہے کہ یونیورسٹی کا ماحول ہی ایسا ہے۔ میں اکیلی ایسا نہیں کرتی۔ سالہاسال سے یہ کلچر چلا آرہا ہے۔ پروجیکٹس و اسائنمنٹ کے لیے سب لڑکے لڑکیاں مل کر گروپ بناتے ہیں۔ مجبوری ہے یہ۔ میں نے کبھی کوئی غلط حرکت کی نہ ہی میری نیت میں کوئی کھوٹ ہے تو پھر مجھ پر الزام کیسا؟ غرض کہ اسے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔”

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔۔۔

میں نے موقع دیکھ کر سوال داغا،

“کیا تم نے اسے کبھی کوئی غلط حرکت کرتے دیکھا؟”

کہنے لگا، “نہیں تو”

“پھر؟”
میں نے حیرت سے استفسار کیا۔۔۔

“یار، زبان کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ جس کو اپنی کہی ہوئی بات کا پاس نہیں، مستقبل میں پتا نہیں وہ کیا گل کھلائے”

کچھ لوگ اصولوں کے بہت پکے ہوتے ہیں۔ بس یہی سوچ کر میں نے ٹاپک کو تبدیل کرنے کا سوچتے ہوئے اس سے پوچھا کہ،

“اب آئندہ کا کیا ارادہ ہے حضرت؟ آپ کے معیار پر پورا اترنے والی لڑکی کا تو ملنا انتہائی مشکل ہے۔۔۔”

یہ سننا تھا کہ اسکے گالوں پر لالی سی نمودار ہوگئی۔ شرماتے ہوئے گویا ہوا٬

“یار وہ یونیورسٹی یونین کی کلچرل سیکریٹری یاد ہے نا، آج کل اسکے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہورہا ہے۔ بڑی باغ و بہار قسم کی لڑکی ہے۔ پسند کرنے لگا ہوں اسے۔ شاید جلد ہی ہم۔۔۔”

اسکے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔

یہ سن کر ایک لمحے کو میں چکرا گیا۔ کانوں پر یقین نہ آیا۔ تصدیق کے واسطے تقریباً چلاتے ہوئے پوچھا،

“یار تو موجودہ کلچرل سیکریٹری کی بات کررہا ہے؟؟؟”

“ابے، ہاں نا۔۔۔”
وہ بدستور مسکراتا ہوا بولا

“لیکن یار، وہ تو یونیورسٹی میں ایک درجن سے زائد معاشقے چلا چکی ہے۔ اسکے کرتوتوں کی پوری یونیورسٹی کو خبر ہے۔ اسکی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی “وفا” کے چکر میں کئی لڑکے ایک دوسرے کا سر پھاڑ چکے ہیں پھر تو اسکے ساتھ کیسے۔۔۔؟؟؟ میری سمجھ سے باہر ہے یار۔۔۔۔!!!”
میں ابھی بھی، بول کم، چیخ زیادہ رہا تھا۔۔۔

وہ کسی فلاسفر کی طرح، گلا کھنکار کر بولا٬

“یار، بات یہ ہے کہ اس نے پہلی والی کی طرح پارسائی کے دعوے کبھی نہیں کیے. بس اسی لیے میں نے اسے جیون ساتھی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔”

یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنی قمیض جھاڑی اور مجھے حیران و پریشان چھوڑ کر چل پڑا۔ اسکی خودساختہ “اصول پسندی” مجھے چیونٹیوں کی طرح کاٹ رہی تھی۔ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ یہ شعور کی ابتداء ہے یا جہالت کی انتہا۔۔۔!!!

پسِ تحریر:

ایک صاحب سے سیاسی معاملات پر بحث ہورہی تھی۔ عمران خان سے شدید نالاں تھے۔ کہنے لگے کہ عمران خان نے پورے ملک سے کرپٹ اور چور تحریک انصاف میں جمع کرکے سخت مایوس کیا۔ کیا ایسے آئے گی تبدیلی؟

میں نے کہا کہ پوائنٹ درست ہے آپکا۔ آپ جیسے باضمیر لوگ شاید اب کسی سیاسی جماعت پر اعتبار نہیں کرپائیں گے، کسی کو ووٹ نہیں ڈال پائیں گے۔

تڑخ کر کہنے لگے کہ یہ میں نے کب کہا؟ ووٹ تو ضرور ڈالوں گا میں!

“کسے ڈالیں گے”، میں نے حیرت سے استفسار کیا۔۔۔

نئی نویلی دلہن کی طرح شرما کر کہنے لگے،

“ن لیگ کو۔۔۔”

۔۔۔

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔!!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: